دہشت گردی، رد الفساد اور پشتون قوم


افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کی موجودہ پاکستان دشمن خیالات سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی سیاست میں ان کا خاندان ساٹھ کی دہائی سے ہی اثر و رسوخ کا حامل ہے ان کے والد عبدالاحد خان کرزئی افغان پارلیمنٹ کے نائب سربراہ رہیں اور اس کے بعد افغانستان میں کمیونسٹ انقلاب اور پھر روسی جارحیت کے بعد بھی افغانستان کے سیاست میں ان کی دلچسپی اور سرگرمی بدستور برقرار رہی۔ قندھار کے طاقتور پوپلزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والا نوجوان اور تعلیم یافتہ حامدکرزئی جہادی تنظیموں کی رابطہ کار کے طور پر روس کے خلاف جنگ کے دوران بھرپور فعالیت رکھتے تھے اس وجہ سے جب روسی افواج کی انخلا کے بعد مجاہدین کی عبوری حکومت تشکیل دے دی گئی تو حامدکرزئی کو اس حکومت میں نائب وزیر خارجہ کا منصب ملا مگر جب اس عبوری گورنمنٹ کی تشکیل کے بعد بھی جہادی تنظیمیں اتحاد کا مظاہرہ نہ کرسکیں اور ملک طوائف الملوکی اور انتشار کا شکار ہوگیا توحامد کرزئی کوئٹہ آکر یہاں مقیم ہوگئے اس دوران وہ کوئٹہ میں ایک پرائیوٹ انگلش لینگویج سینٹر میں بطور ٹیچر کام کرنے لگے اور کوئٹہ میں ہی پریکٹس کرنے والی ایک افغان ڈاکٹر زینت سے شادی کرلی۔ 1999 میں ان کے والد عبدالاحد کرزئی کوئٹہ میں قتل کردیے گئے۔

افغانستان میں جاری فساد اور انارکی کے خلاف اٹھنے والے تحریک طالبان کو دوسرے عام افغانوں کی طرح حامد کرزئی نے بھی تازہ ہوا کا جھونکا سمجھا اور طوائف الملوکی اور بدامنی کی خاتمے کے لئے ان سے امیدیں وابستہ کیں مگر بقول حامد کرزئی ان کی یہ خوش فہمی اس وقت دور ہوگئی جب خود تحریک طالبان سے وابستہ حاجی ملا محمد ربانی ایک مریض کے لئے جرمنی میں علاج کرانے کی غرض سے جرمن ویزے کی حصول میں مدد کے لئے کوئٹہ میں ان کے رہائش گاہ آگئے اور ملاقات کے آخر میں رازدارانہ طور پر ان کے سامنے یہ انکشاف کرنے لگ گئے کہ ہم اپنا واک اور اختیار کھوچکے ہیں لہذا افغانستان کے مستقبل کے لئے آپ سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرلیں شاید یہی وجہ تھی کہ کابل فتح کرنے کے بعد جب طالبان نے کرزئی کو امریکہ میں غیر رسمی سفارتکار کے طور پرتعیناتی کی پیشکش کی تو کرزئی نے اس پیشکش کوقبول کرنے سے معذرت کرلی۔

نائن الیون کے رونما ہونے سے پہلے ہی کرزئی امریکہ میں اپنی ذات کے لئے لابنگ میں مصروف تھے اس لئے نائن الیون اور افغانستان سے طالبان حکومت کی خاتمے کے بعد بون میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس میں امریکہ کی نظر انتخاب حامد کرزئی پر ٹھہرگئی۔ کرزئی اس کے عبوری دور کے بعد دو مرتبہ افغانستان کے صدر منتخب ہوگئے اور یوں 13 سال تک افغانستان پر ان کی حکمرانی رہی ان 13 سالوں کے دوران افغانستان اور دہشت گردی سے تعلق رکھنے والے تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ ان کو ڈیلینگ کا موقع ملا۔ امریکہ، نیٹو، پاکستان، ایران، انڈیا اور خود افغانستان کے اندر موجود سیاسی اور جہادی راہنماؤں سمیت سب کے ساتھ انہیں ایک عشرے سے زیادہ بھی زیادہ عرصے تک بہت نزدیک سے رابطوں، ملاقاتوں، مذاکرات اور فیصلوں کا موقع ملا، ان تمام حالات اور تجربات سے گذرنے کے بعد حامد کرزئی کی خطے کی صورتحال اور اس سے متعلق عالمی قوتوں کی اہداف ومقاصد سے متعلق ان کی جو رائے اور وژن بنی وہی اس تحریر کا اصل موضوع ہے۔

حامد کرزئی کہتے ہیں کہ ان تیرہ سالوں کے تجربات کے بعد میں دو نتائج تک پہنچا ہوں۔ پہلا نتیجہ یہ کہ امریکہ اس خطے میں امن نہیں جنگ چاہتاہے اس جنگ کو طول اور دوام دینے کے لئے خطے کی کوئی قوت امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم نہیں کھیل رہی بلکہ خود امریکہ اس خطے کے ساتھ ڈبل گیم کھیل رہا ہے۔ کرزئی کہتے ہیں کہ 2007 تک میں خود اس غلط فہمی میں مبتلا رہا کہ امریکہ کو واقعی دہشت گردی کے مسئلے کا سامنا ہے اور اس مسئلے کا حل ہی ان کا ایجنڈہ ہے ہمیں بھی افغانستان میں امریکی مداخلت اور ان کی باقاعدہ فوجی موجودگی اس مجبوری کے ساتھ گوارا تھی کہ امریکی تسلط کو قبول کرنے کی نتیجے میں کم از کم افغانستان کو اس کے ہمسایوں کی مداخلت سے نجات مل جائے گی، خطے میں دیرپا امن قائم ہوگا اور شاید جنگ زدہ افغانستان ترقی کی راہ پر گامزن اور اپنے پاؤں پرکھڑا ہونے کی سکت حاصل کرسکے گا۔

اس دوران کرزئی افغانستان کی بدامنی کے عوامل کو خالصتاً بیرونی مداخلت اور پاکستان میں تشکیل پانے والی ”تصورجہاد“ اور ”شریعت کی سیاسی تشریح“ کا نتیجہ سمجھتا رہا اس سلسلے میں 2006 میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ ان کی مراسلت ہوئی جس میں انہوں نے مولانا سے طالبان کو سمجھانے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے مسائل کی حل کے لئے آمادہ کرنے کے خاطر اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لانے کی درخواست کی تھی جس کے جواب میں مولانا فضل الرحمن نے مسئلے کی اصل نوعیت کو مد نظر رکھتے ہوئے انہیں جواب دیا کہ میں اگر اپنے ملک میں امن چاہتاہوں تو افغانستان میں بھی امن چاہتا ہوں آپ میرے بھائی ہیں لیکن میں اتنا ہی بے بس ہوں جتنا کہ آپ بے بس ہیں اور پرویز مشرف بھی اتنا ہی بے بس ہے جتنا کہ میں بے بس ہوں۔

حامد کرزئی کہتے ہیں کہ 2007 تک اسی خیال سے امریکہ کے ساتھ معاملات آگے بڑھانے کے بعد 2007 میں بالآخرہ میں اس نتیجے تک پہنچ گیا کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو ہم سمجھتے آرہے تھے بلکہ تصویر کا دوسرا رخ جو اس سے بہت مختلف اورانتہائی بھیانک ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ خود جنگ کی صورتحال کو جاری اور باقی رکھنا چاہتا ہے۔ اگرچہ حامد کرزئی اب بھی افغانستان کی بدامنی کی ذمہ داری امریکہ پر ڈالتے ہوئے پاکستان کانام بھی اس کے ساتھ شامل کرلیتا ہے مگر پاکستان کانام شامل کردینا ان کی اسی طرح ”مجبوری“ ہے جیساکہ ہمارے طرف سے افغانستان کی سرزمین کی پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی الزام بھارت پر لگاتے ہوئے امریکہ کا ذکر گول کردینے کی ”مجبوری“ پائی جاتی ہے حالآنکہ یہ کوئی چھپی ہوئی حقیقت نہیں ہے کہ افغانستان اور اس پورے خطے میں حقیقی اور اصل حکمرانی امریکہ کی ہے اورکوئی بھی قوت امریکہ کی مرضی کے بغیر امریکہ کے مقبوضہ ملک کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال نہیں کرسکتا۔

اپنے 13 سالہ حکمرانی کے نتیجے میں جس دوسرے نتیجے تک حامد کرزئی پہنچے ہیں وہ یہ ہے کہ اس خطے میں جاری جنگ میں پشتون بحیثیت قوم ٹارگٹ ہیں۔ دہشت گردی کانشانہ بننے والے بھی اکثریت پشتون ہیں اورانسداد دہشت گردی کی عمل میں بھی زیادہ تر نقصان پشتونوں کو ہی اٹھانا پڑتاہے گو کہ افغانستان اور پاکستان دونوں میں ہی آباد دوسری قومیتوں اور زبانوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی یکسر محفوظ نہیں رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر اگر اعداد وشمار کے تناظر میں دیکھا جائے یا بظاہر نظر آنے والی صورتحال کو۔ اس خدشے کو تقویت مل رہی ہے کہ کرزئی کی یہ رائے کوئی زیادہ بے محل نہیں ہے

پاکستان کے پشتون علاقوں میں ہونے والے ڈرون اٹیکس، خود کش حملوں، بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور فوجی آپریشنز کی ایک طویل سلسلے کے بعد اب دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد صورتحال پھر وہاں پہنچ گئی جہاں 2009 میں تھی۔ اسی دوران ریاست کے خلاف بلوچوں کی باغیانہ تحریکوں کو بہت آسانی اور خاموشی کے ساتھ کچل دیا گیا پاکستان کے اقتصادی شہ رگ کراچی میں موجود طاقتور سماج اور ریاست مخالف عناصر کی طاقتور مافیاز کو فوج کی ضرورت پڑے بغیر صرف رینجرز کے ذریعے بہت مختصر وقت میں سو فیصد کامیابی کے ساتھ کچل دیا گیا لیکن پشتونوں سے متعلق صورتحال دن بہ دن بہتری کے بجائے ابتری کی جانب جارہی ہے۔ دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد تو دہشت گردوں کے بجائے باقاعدہ پشتونوں کانام لے کر ان کی پروفائلنگ کی جارہی ہے۔

پنجاب کے عوام لسانی عصبیت سے ہمیشہ کنارہ کش رہے ہیں اگرچہ بلوچستان میں پیش آنے والے کئی واقعات میں انہیں صرف پنجابی زبان کی بنیاد پر بسوں سے اتار کر گولیوں سے بھون دیا گیا کوئٹہ شہر میں ان کی ٹارگٹ کلنگ کی باقاعدہ سیریل چلی لیکن اس کے باوجود اہل پنجاب کی سماجی رویوں پر دوسری زبانیں بولنے والوں خصوصا پشتونوں سے متعلق تعصب اور امتیاز برتنے کی کوئی چھاپ نظر نہیں آئی لیکن اب آپریشن ردالفساد لانچ ہونے کے بعد باقاعدہ سرکاری حکمناموں میں پشتونوں کا نام لے کر حفاظتی نقطہ نظر سے پشتونوں کو مشکوک اور مشتبہ سمجھنے اور بالجبر ان کے ساتھ تعصب برتنے کا راستہ دکھایا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے جہاں حامد کرزئی کی ظاہر کردہ پشتونوں کی بحیثیت قوم ٹارگٹ ہونے کی خدشے کوتقویت ملتی ہے تو دوسری طرف یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آپریشن ردالفساد شروع کرنے سے پہلے قوم کو ان وجوہات سے تو آگاہ کیاجائے جن کی وجہ سے آپریشن ضرب عضب ناکام ہو گیا اور یہ کہ ناکامی کے ان اسباب کا ازالہ کس صورت میں کیا جارہا ہے؟ لفظی طور پر“ردالفساد“ انسداد دہشتگردی کا عربی ترجمہ ہی ہے لیکن شاید اس طویل اور تھکا دینے والے کھیل میں لوگوں کی دلچسپی برقرار رکھنے کے لئے مارکیٹینگ کے اصولوں کے مطابق پیکنگ اور برانڈ نام چینج کرکے ہر مرتبہ عوام کو یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ صورتحال نے اب ”نئی شکل“ اختیار کرلی ہے۔ اسی چیز کا اہتمام دوسرے جانب سے بھی کیا جا رہا ہے چنانچہ صرف القاعدہ نامی تنظیم کے خلاف امریکہ کی شروع کردہ انسداد دہشت گردی مہم کے بعد اب خود امریکہ کے دہشت گرد قرار دیے جانے والی دہشت گرد تنظیموں کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی ہے اور حیرت انگیز طور پر افغانستان میں براہ راست امریکہ کے ساتھ برسر پیکار طالبان تنظیم کانام اس لسٹ میں شامل ہی نہیں ہے۔

دہشت گردی اور اس کے خلاف جاری جنگ کا دورانیہ ہمارے توقعات سے مزید بھی زیادہ بڑھے گا مگر اس دوران اپنی قربانیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے جب یہ کہا جاتا ہے کہ ہم نے پچاس ہزار سے زیادہ انسانوں کی قربانی دی ہے اوردوسری طرف اس قربانی میں سب سے زیادہ حصہ ڈالنے والے پشتون کو صرف پشتو زبان بولنے کی وجہ سے مشتبہ اور مشکوک سمجھاجاتاہے توپھر اس ”ہم“ کاتجزیہ کرناضروری ہوجاتا ہے کہ اس میں پاکستان میں آباد دوسری قوموں اور کولیشن سپورٹ فنڈ حاصل کرنے والی برادری کاحصہ کتنا ہے؟ یہ تونہیں ہوسکتا کہ پاکستان کے جیٹ طیاروں کا ہدف بھی پشتون، امریکہ کے ڈرونز کا نشانہ بھی پشتون، خودکش حملوں کی اکثریت کانشانہ بھی پشتون، بم دھماکوں کانشانہ بھی پشتون، ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے سینکڑوں قبائلی ملکان، مشران اورعلماء بھی پشتون، کراچی میں سالہاسال تک ”نامعلوم افراد کانشانہ بھی پشتون اور یہ سب زخم خاموشی سے سہنے کے بعد اب نفرت کانشانہ بھی پشتون؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔