​فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ از بلال رائد


بلال رائد

اسلامی جمہوریہ پاکستان شاید دُنیا کا وہ واحد ملک ہے جہاں اپنے ہی شہریوں کو طرح طرح کے مختلف آئینوں میں جکڑ کر درجہ بندی پیدا کی جاچکی ہے۔ ہم اگر ایک طرف پورے پاکستان پہ 1973 کے آئین کا نفازکررہے ہیں، تو دوسری طرف فاٹا کے عوام پہ پچھلے 69 سالوں سے ایف سی آر جیسا کالا قانون مسلط کیے ہوئے ہیں۔ جہاں اپیل، دلیل اور وکیل جیسے بنیادی انسانی حقوق سے بھی قبائلیوں کو محروم رکھا گیا ہے۔ ایف سی آر فاٹا پہ مسلط ہونے والی وہ آکاس بیل ہے جنھیں گاہے بگاہے مفاد پرستوں اور طاقتور ٹولے نے دوام بخشا ہے۔ پچھلے کئی سالوں سے اگر کبھی کہیں کسی قبائلی نے اس ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی بھی، تو اُس آواز کو دبا دیا گیا یا نقارخانے میں طوطی کی آواز بنا دیا گیا۔

فاٹا کو پسماندہ، جرائم کا گڑھ اور علاقہ غیر بنانے میں اور بہت سے عوامل کے ساتھ ساتھ ایف سی آر کا بھی ایک کلیدی کردار رہا ہے۔ فاٹا کے قبائلی جو کسی زمانے میں اچھے خاصے روشن خیال اور امن پسند تصورکیے جاتے تھے، آجکل اپنے ہی ملک میں یتیموں کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اِن دہشت زدہ لوگوں کیساتھ دہشت گردی کو رج رج کر نتھی کیا گیا ہے۔ یقین نہ آئے تو کبھی فاٹا کو تعارف بنا کر بڑے شہروں میں کسی سے گھر کرائے پہ لینے کی کوشش کریں یا کسی بھی کینٹ ایریا میں جھانک کر ہی دکھا دیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی آڑ میں بے گھر قبائلیوں کے لئے ہم نے پاکستان کے کئی بڑے شہروں کے دروازے بند پائے۔ پے در پے آپریشنز، بدامنی اور بنیادی سہولتوں کی فقدان کی وجہ سے تاحال 20 لاکھ قبائلی بےگھر ہے؛ جن میں سے ایک لاکھ سے زائد قبائلی افغانستان کے مختلف علاقوں جیسے کہ خوست وغیرہ میں پناہ گزیں ہیں۔

فاٹا بنیادی طور پر سات ایجنسیوں اور چھ ایف آرز پر مشتمل زمینی پٹی ہے، جس کے بیشتر علاقے ایک دوسرے سے منقطع اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ضم ہیں۔ انفراسٹرکچر، تعلیم اور حتی کہ ہسپتال وغیرہ کے معاملے میں بھی فاٹا کی مجموعی آبادی خیبر پختونخوا پر انحصار کرتی ہیں۔

فاٹا کے نوجوانوں میں ایف سی آر کے خلاف کمر بستہ ہونے کی تحریک نے ابھی حالیہ دنوں میں ہی زور پکڑا ہے، جو اس بات کی غماز ہے کہ فاٹا کا یہی نوجوان طبقہ ترقی یافتہ دُنیا میں جینے کے گُر جان گیا ہے۔ وہ فکر جو فاٹا بارے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں کو کرنی چاہیے تھی، اب ان نوجوانوں نے اپنے ذمہ لے لی ہیں۔ مئی 2013 کے عام انتخابات میں فاٹا کے عوام کو تاریخ میں پہلی بار سیاسی نمائندگی کا حق دیا گیا۔ جس کے نتیجے میں گیارہ امیدوار رُکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ ان میں سے اکثر اراکین اسمبلی، بلا کسی تفریق اور سیاسی وابستگی کے فاٹا کے خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام کے حق میں فیصلہ دے چکے ہیں۔ میری ذاتی رائے میں فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے خطے پہ دُور رس نتائج پڑیں گے۔ یہ نہ صرف آپریشن ضرب عضب کی کامیابی پر مہر ثابت ہوگی بلکہ دہشت گردی کے روک تھام میں بھی ایک دانشمندانہ پیش رفت ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار ملٹری کی جانب سے بھی بارہا کی گئی ہے۔

مگر دوسری طرف ملک کے سیاسی حالات جس ڈگر پر جا رہے ہیں اس سے یہ اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف کی حکومت کچھ عرصہ قبل اس مسئلے کے حل کے لئے کافی سنجیدہ تھی۔ اس سنجیدگی کا اندازہ آپ سرتاج عزیز کی زیر صدارت بننے والی فاٹا کمیٹی کے دس ماہ کے ریکارڈ وقت میں مرتب ہونے والے سفارشات سے لگا سکتے ہیں۔ لیکن پانامہ کیس پہ عدالتی کارروائی سے اب لگتا ہے کہ نواز شریف حکومت فاٹا بارے اپنےارادوں اور  وعدوں سے مُنہ موڑنے کے قریب ہے۔ یہاں سے رہی سہی کسر مرکز میں مسلم لیگ ن کے اتحادی جناب مولانا فضل الرحمان اور ”لر او بر پختون“ کا نعرہ لگانے والے محمود خان اچکزئی صاحب پوری کرتے ہیں، جو فاٹا کو ایک الگ صوبہ بنانے یا ریفرنڈم کے ذریعہ فاٹا کے مستقبل کا فیصلہ کرانے کا راگ الاپتے ہیں۔

کچھ سیاسی مبصرین کے مطابق فاٹا کو ایک الگ صوبہ بنانے کا مطالبہ یا ریفرنڈم مولانا اور اچکزئی کا مسلم لیگ ن کیساتھ بیک چینل ڈپلومیسی کا نتیجہ ہے۔ جس کا مقصد فاٹا ریفارمز کو ایک خاص مدت کے لئے ملتوی کرنا ہے۔ ایک الگ صوبے کے قیام کا مطالبہ فی الحال یوں بھی پورا نہیں ہوسکتا کہ اسی طرح صوبہ ہزارہ اور سرائیکستان کی تحریکیں دوبارہ سرگرم ہونے کے قوی امکانات ہوں گے۔ جس سے اگلے سال ہونے والے الیکشن کمپین میں مسلم لیگ ن کو اچھا خاصا ٹف ٹائم مل سکتا ہے۔ یہاں یہ چہ مگوئیاں بھی کی جا رہی ہے کہ وفاق کے ذمہ فاٹا کو این۔ ایف۔ سی اور فاٹا ریفارمز کی مد میں 280 بلین روپے واجب الاد ہے جسے وزارت خزانہ کسی صورت دینے کو تیار نہیں، جس کی وجہ سے یہ معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ معروف صحافی وسعت اللہ خان صاحب اپنے ایک حالیہ کالم میں شاید تبھی فاٹا کے مسئلے کو ”بنی اسرائیل کے بچھڑے“ سے تشبیح دیتے ہیں۔

نواز شریف حکومت کو آئین میں اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ پہلا موقع ہاتھ آیا ہے کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں ایف سی آر کا خاتمہ کرکے اس خطے میں اپنی حکومت کو مقبول بنائیں۔ یوُں وہ قوم کو آئین میں ایک بڑی ترمیم دینے والے حالیہ ربعہ صدی میں آصف زرداری کے بعد دوسرے بڑے راہنما بن جائیں گے۔ بصورت دیگر ذاتی مفادات کی اس دوڑ میں لاقانینیت اور دہشت گردی ہمیشہ کے لئے جیت جائے گی، فاٹا اور پاکستان ہار جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔