ناصر کاظمی کی آخری رات


   (1)

[سرگنگارام ہسپتال، لاہور۔ کمرہ نمبر 9۔ 28مئی 1949ء۔ محمد سلطان کاظمی (عمر 55۔56سال، گندمی رنگ، درمیانہ بدن) بستر پہ نیم دراز۔ ان کا نوجوان پسر ناصررضا کاظمی (عمر 24 سال، سانولا رنگ، بڑی بڑی روشن آنکھیں، گٹھا ہوا جسم) کرسی پر۔]

محمد سلطان:           ناصر، اپنی کوئی غزل تو سناﺅ۔

ناصر: (خوشگوار حیرت سے) غزل؟ یہ غزل کا خیال کیسے آیا آپ کو؟

محمد سلطان:           کیوں؟ پہلے کبھی نہیں سنی تم سے؟

ناصر: جی، سنی تو، لیکن کم ہی اور اس وقت آپ کی طبیعت بھی تو ٹھیک نہیں۔

محمد سلطان:           شاید اسی لیے سننا چاہتا ہوں(وقفہ) ہاں جیسے تم سناتے ہو، ترنم سے۔

(طویل وقفہ، جس کے بعد ناصر ترنم سے یہ غزل سناتا ہے)

ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی

برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

محمد سلطان:           اللہ تیری عمر دراز کرے اور تیری شاعری دنیا میں تیرا نام کرے۔

 (2)

میرے دادا کی دعا قبول ہوئی۔ پاپا نے طبعی عمر تو مختصر پائی لیکن ان کی شاعری آج بھی دنیا میں ہر جگہ پڑھی اور سنی جاتی ہے۔ ویسے طبعی عمر تو سب کی کم ہوتی ہے، اصل عمر کام ہی کی ہوتی ہے۔ کون سوچ سکتا تھا کہ اس واقعے کے صرف 23 برس بعد ناصر کاظمی اپنے والد کی جگہ بستر مرگ پر ہوگا اور اپنے بیٹے کو اپنے آخری مجموعہ کلام کی اشاعت کے سلسلے میں ہدایات دے رہا ہوگا۔

یکم مارچ 1972ء کی شام کو جو پاپا کی زندگی کی آخری شام ثابت ہوئی، جب میں ہسپتال (البرٹ وکٹر، لاہور) گیا تو دیکھا کہ ان کے دائیں ہاتھ کی پشت پر گلوکوز کی ڈرپ لگی ہوئی ہے۔ باجی (ہم اپنی والدہ کو باجی کہتے تھے) ایک کرسی پر مغموم اور متفکر بیٹھی تھیں۔ پاپا نے مجھ سے کہا: ”مشتاق دیوان کا مسودہ دے گیا ہے۔ فہرست بنانا باقی ہے۔ ایسا کرو کہ غزلوں کے پہلے مصرعے پڑھتے جاﺅ، میں بتاتا جاﺅں گا کہ کونسی غزل کس غزل سے پہلے اور کس کے بعد آئے گی۔“

پاپا نے الگ الگ ڈائریوں میں ”دیوان“، ”پہلی بارش“ اور ”نشاطِ خواب“ کے مکمل متن خوشخط نقل کیے ہوئے تھے۔ جب ”دیوان“ کا شائع ہونا طے پا گیا تو اس ڈائری کو بڑے صفحات پر منتقل کرنے کا کام انہوں نے احمد مشتاق کے سپرد کیا۔ اشاعت کی ذمہ داری احمد ندیم قاسمی صاحب کی وساطت سے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کو سونپی گئی۔ کتاب کے نام کے بارے میں پاپا کئی ماہ سوچ بچار کرتے رہے تھے۔ ایک نام رکھا، کچھ دن اس سے مطمئن رہے، پھر بدل دیا۔ کچھ دن نئے نام سے خوش رہے، پھر وہ بھی مسترد کر دیا۔ آخر ان کے ذہن میں ”دیوان“ آیا۔ کئی دن اس کا موازنہ دیگر ناموں سے کرتے رہے۔ کئی بار اسے بھی ترک کیا۔ جس طرح ہم شطرنج کھیلتے تھے، اسی طرح کتاب کے نام پر بھی بحث کرتے۔ مجھے ”دیوان“ نام بہت پسند تھا لیکن بحث کی خاطر میں نے کہا:

ہر شعری مجموعہ دیوان کہلاتا ہے۔ لوگ پوچھیں گے، آپ کے دیوان کا نام کیا ہے؟ یہ تو ایسے ہی جیسے کوئی اپنی کتاب کا نام کتاب رکھ دے۔

پاپا نے مسکرا کے کہا:

ایک کتاب ایسی ہے جس کا نام کتاب ہی ہے (ان کا اشارہ قرآنِ کریم کی طرف تھا)۔ گوئٹے کے مجموعے کا نام ”مغربی دیوان“ ہے جو اس نے حافظ سے متاثر ہو کے رکھا۔ باقی جتنے بھی دیوان ہیں، ان کے ناموں میں شعراءکے نام بھی شامل ہیں جیسے ”دیوان حافظ“، ”دیوان غالب“۔

بالآخر ”دیوان“ کے حق میں فیصلہ ہوا۔ یہ بھی سوچا گیا کہ اس سے مشرق اور مغرب میں رابطے کی صورت بھی نظر آتی تھی۔

سو فہرست بننی شروع ہوئی۔ اس دوران میں پاپا کبھی تکیے پر سر رکھ لیتے، کبھی کہنیوں کے بل اٹھ جاتے اور اپنے ہاتھ اس سٹینڈ پر رکھ دیتے جو پلنگ کے آرپار اس لیے رکھا گیا تھا کہ بوقت ضرورت انہیں سہارا مہیا کر سکے۔ ان کی بے چینی بڑھتی گئی۔ میں نے کہا، ”یہ کام کل کر لیں گے۔“ ”کل“ وہ کچھ کھو سے گئے، پھر بولے، ”نہیں، آج، ابھی۔“ میں نے پاپا میں، جو اب تک اپنی بیماری کے خلاف انتہائی بہادری سے لڑتے رہے تھے، پہلی بار مایوسی کی جھلک دیکھی۔

”نہیں کل۔ کل کیوں نہیں ہو سکتا یہ کام؟“ میں نے ضد کی۔ میری یہ ضد دراصل ان وسوسوں کو دبانے کی کوشش تھی جو میرے دل میں سر اٹھا رہے تھے۔ پاپا نے میری طرف پوری آنکھیں کھول کے دیکھا لیکن اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے، میں نے جذباتی ہو کر کہا:

”میں تو آپ کی طبیعت کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ مجھے تو چاہے ساری رات ایک ٹانگ پر کھڑا رہنے کو کہہ دیں۔“

”میں بھی اپنی طبیعت کی وجہ سے کہہ رہا ہوں۔ کل اور بھی خراب ہو سکتی ہے۔“ انہوں نے کہا۔

جب یہ غزل سامنے آئی ”یوں ترے حسن کی تصویر غزل میں آئے“ تو مجھے یہ شعر یاد آگیا جو مسودے میں نہیں تھا:

اٹھ کے اک بار الٹ دوں غم دنیا کی بساط

اتنی طاقت تو مرے بازوئے شل میں آئے

میں نے انتہائی رنج کے ساتھ پاپا کے بازو کو دیکھا۔ اب تو وہ واقعی شل ہو چکا تھا۔ پھر یہ مطلع آیا:

جب تک نہ لہو دیدہ انجم سے ٹپک لے

اے دل قفس جاں میں ذرا اور پھڑک لے

میری آنکھیں آنسوﺅں سے بھر گئیں۔ جب انہوں نے کہا ”اگلی غزل“ تو میں نے ورق پلٹا لیکن مجھ سے کچھ پڑھا نہ گیا۔ انہوں نے پوچھا، ”اتنی دیر کیوں لگا رہے ہو؟“ میں نے جانے کس طرح اپنے آپ پر قابو پایا اور کام کا سلسلہ جاری رکھا۔ میں اپنے بائیں ہاتھ کی کسی انگلی سے اپنی آنکھیں خشک کرتا اور پھر پڑھتا۔ میری پوری کوشش تھی کہ میری کیفیت پاپا پر ظاہر نہ ہو۔ اسی لیے میں نے جیب سے رومال نہیں نکالا۔

میری انگلیاں بھیگیں تو کاغذ بھی نم ہو گیا اور بعض حروف کی سیاہی پھیل گئی۔ پاپا کی طبیعت اور بگڑ گئی۔ ہچکیاں سی آنے لگیں۔ انہوں نے دو گھونٹ پانی پیا اور پھر غزلوں کی طرف متوجہ ہوئے۔ جب یہ مقطع سامنے آیا: ہچکی تھمتی ہی نہیں ناصر/ آج کسی نے یاد کیا ہے، تو میرا حوصلہ جواب دے گیا۔ میں نے کہا ،”کچھ دیر آرام کرنے سے آپ بہتر ہو جائیں گے۔ ہم یہ کام آج ہی کریں گے۔“ باجی نے میری حمایت کی اور پاپا نے ہماری بات مان لی۔

کچھ دیر بعد ان کی طبیعت واقعی سنبھل گئی۔ اتنے میں ڈاکٹر ماجد نوروز بھی آگئے۔ اس دن ذوالفقار علی بھٹو نے، جنہیں صدر بنے ابھی ڈھائی مہینے ہی ہوئے تھے، زرعی اصلاحات کا اعلان کرنا تھا۔ اس کے بعد تعلیمی اصلاحات آنا تھیں۔ بھٹو صاحب نے کسانوں، مزدوروں اور طلبہ کی حمایت سے عام انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کی تھی۔ ہر شخص کی نظریں ان کی اس روز کی تقریر پر تھیں۔ تقریر شروع ہوا چاہتی تھی اور پاپا سننا چاہتے تھے۔ فوری طورپر ٹرانزسٹر کا انتظام نہیں ہو سکتا تھا۔ انہوں نے کہا، ”اس وقت تو میں اس کمرے کی بجائے کسی وارڈ میں ہوتا تو ٹی وی پر تقریر سن سکتا۔“ پھرانہوں نے ڈاکٹر ماجد سے اور مجھے کہا کہ تقریر سن کے آئیں اور انہیں اہم نکات سے مطلع کریں۔ ہم نے کہا کہ تقریر لمبی ہوگی، ہمیں دیر لگ جائے گی۔ ٹرانزسٹر لے آتے ہیں اور یہیں خبریں سن لیں گے۔ لیکن ان کے اصرار پر ہمیں جانا پڑا۔

ہم واپس آئے تو انہوں نے سب سے پہلے یہ پوچھا کہ بھٹو نے بڑی جاگیروں کا کیا کیا؟ اس کے بعد انہوں نے تقریر کے اہم نکات سنے اور پھر مسکراتے ہوئے خوشگوار موڈ میں ڈاکٹرماجد سے کہا:

”مجھ جیسے چھوٹے چھوٹے زمینداروں کے بارے میں بھٹو صاحب کا کیا ارشاد ہے؟ میرا مطلب ہے فیروزوالہ میں جو ہمارے چار چھ ایکڑ ہیں، ان کا کیا بنے گا؟“

”وہ آپ سے کوئی نہیں لے گا۔“ ڈاکٹر ماجد نے ہنستے ہوئے کہا۔

”نہیں۔ اگر سب لوگ اپنی زمینیں کاشتکاروں کو دے دیں تو میں بھی خوشی سے ایسا کروں گا۔ بھائی، آپ کو پتہ ہے، یہ کسان اور مزدور میرے قبیلے کے لوگ ہیں۔“

پاپا نے کہا اور مجھے کچھ دیر پہلے دیکھا ہوا ان کا یہ شعر یاد آگیا:

خدا اگر کبھی کچھ اختیار دے ہم کو

تو پہلے خاک نشینوں کا انتظام کریں

اسی اثنا میں عنصر چچا اور میرا چھوٹا بھائی حسن بھی آگئے۔ پاپا کی طبیعت سنبھلی رہی اور ہم رات گئے تک ان کے پاس بیٹھے رہے۔ پھر انہوں نے ہمیں گھر بھیج دیا۔ باجی حسب معمول ان کے پاس رکیں۔ ہمارا وہم وہم نہ تھا، وہ ”کل“ نہیں آئی جب ہم’دیوان‘ کی فہرست مکمل کرتے۔ یہ کام بعد میں احمد مشتاق اور محبوب خزاں نے کیا۔

] اقتباس از’ ناصر کاظمی کا دیوان‘ مشمولہ ”ہجر کی رات کا ستارا“ ، مرتبہ احمد مشتاق، باصر سلطان کاظمی، سنگ میل پبلیکیشنز، لاہور، 2013ء]


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔