جنت کی تلاش میں


husnain jamal (2)

اس تصویر میں آپ دو ننھے بچے دیکھ رہے ہیں۔ یہ بچے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑے باہر، روشنی کی طرف جا رہے ہیں۔ تصویر بنانے والا شخص ان بچوں کا باپ تھا۔ وہ زخمی تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران لائف میگزین کی طرف سے جنگ کی کوریج کرتا تھا۔ تو ایک دن ایسا آ ہی گیا جب وہ خود بھی جنگ کی ہولناکیوں کا شکار بن گیا۔ زخم ایسے گہرے تھے کہ تقریباً دو سال کے بعد وہ علاج معالجے سے فارغ ہوا۔ اسے پلاسٹک سرجری کروانی پڑی۔ ان دو برسوں میں اس نے ایک بھی تصویر نہیں بنائی۔ یہ کہنا بہت مشکل تھا کہ وہ کبھی دوبارہ فوٹوگرافی کر بھی سکے گا یا نہیں۔
دو سال گزر گئے۔ 1946ءمیں ایک دن وہ اپنے بچوں کے ساتھ گھر سے باہر نکلا۔ وہ دھوپ کو محسوس کرنا چاہتا تھا۔ رنگ دیکھنا چاہتا تھا۔ بچوں کو بھی دکھانا چاہتا تھا۔ اب یوں ہوا کہ بچے جس طرح خوشی محسوس کر رہے تھے اور ہر نئی چیز کو دیکھ کر بہت دل چسپی سے اس کے چکر گرد لگاتے تھے تو باپ کو بھی دھوپ اور رنگ بھول گئے وہ بھی بچوں کی مستی میں مست ہو گیا۔
بچے نے درختوں کے پار کوئی دل چسپ چیز دیکھی۔ بھائی نے بہن کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر وہاں روانہ ہو گیا۔ باپ پیچھے پیچھے انہیں مزے میں دیکھتا ہوا آتا جا رہا تھا۔ جیسے ہی بڑے درختوں کے سائے سے بچے نکلے، باپ کا بڑی شدت سے ان کی تصویر کھینچنے کا جی چاہا۔ بازو کی تمام تر تکلیف کے باوجود اس نے کیمرہ فٹ کیا اور درد بہت مشکل سے برداشت کرتے ہوئے بچوں کی ایک تصویر بنا لی۔
دو سال کے بعد یہ اس کی پہلی تصویر تھی۔
اس کے خیال میں باقی دنیا کے لیے یہ ایک عام سی تصویر تھی، لیکن اس کے اپنے لیے ان تکلیف دہ برسوں سے رہائی کا پہلا قدم تھا۔ تو یہ تصویر اس کے لیے بہت اہم تھی۔ یہاں اس سے اندازہ لگانے میں تھوڑی غلطی ہو گئی۔
1955ءمیں The Family of Man (انسانی گھرانہ) کے نام سے نیویارک کے میوزیم آف ماڈرن آرٹ میں ایک تصویری نمائش شروع کی جاتی ہے۔ ایڈورڈ اسٹائخن اسے منعقد کرواتے ہیں۔ دنیا بھر کی 68 اقوام کی 503 تصویریں منتخب کر کے یہاں لگائی جاتی ہیں اور انہی میں سے ایک تصویر ہمارے زخمی فوٹو گرافر بھائی کی بنائی ہوئی ہے۔ تصویر کو عنوان دیا جاتا ہے A Walk to Paradise Garden (باغ بہشت کی طرف بڑھتے ہوئے) اور زخمی یوجین سمتھ اس تصویر کے ساتھ نمائش میں پہلے انعام کے حق دار ٹھہرائے جاتے ہیں۔
اس تصویر میں ایسا کیا تھا جو باقی پانچ سو دو تصویروں میں نہیں تھا۔ وہ بھی بلاشبہ اپنی اپنی جگہ شاہ کار تھیں۔ آئیے جانتے ہیں۔ بلکہ ایسا کیجیے کہ پہلے ہی جان لیں، باقی تفصیل بعد میں ہوتی رہے گی۔ یہ تصویر اس نمائش کے فلسفے کو ایک کوزے میں سمو رہی تھی۔ یہ امن کی خواہش اور تمام تر انسانی محبتوں، لطیف جذبوں کو خود میں سموئے ہوئے تھی۔ اس نمائش کا مقصد بھی یہی تھا۔
دنیا میں صرف ایک مرد ہے۔ اور اس کا نام ’تمام مرد‘ ہے۔
دنیا میں صرف ایک عورت ہے۔ اور اس کا نام ’تمام عورتیں‘ ہے۔

دنیا میں صرف ایک بچہ ہے۔ اور اس کا نام ’تمام بچے‘ ہے۔

eugene1
کسی بھی نوزائیدہ بچے کی پہلی چیخ، قطع نظر اس امر سے کہ وہ کہاں پیدا ہوا ہے، شکاگو میں، ایمسٹرڈم میں یا رنگون میں، وہ چیخ ایک ہی جیسی آواز کے ساتھ یہ اعلان کرتی ہے؛ ”میں موجود ہوں، میری آمد ہو چکی…. اور میں اب تمہارے خاندان کا ایک حصہ ہوں۔ میں انسان ہوں، میں انسانیت ہوں۔“
یہ الفاظ کارل سینڈبرگ صاحب کے تھے۔ جنہوں نے یہ تمام تصاویر شائع کی اور دیباچے میں ایسی خوب صورت باتیں کہیں۔ تو یہ سب اس نمائش کا مقصد تھا۔
1955ءوہ سال تھا جب دوسری جنگ عظیم ختم ہونے کر بعد سرد جنگ اپنے عروج پر تھی۔ دنیا ایٹمی جنگ کی ہولناکیاں جان چکی تھی۔ انسانیت پر خون کے دھبے لگ چکے تھے۔ امریکہ اور روس ایک دوسرے سے خوف زدہ تھے۔ تمام تر جنگی خواہشات کے باوجود اندر اندر سے انسانیت بچانا بھی چاہتے تھے۔ دنیا کو انسانیت کی بھلائی کے پیغام دئیے جاتے تھے۔ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد ہی یہ طے پا چکا تھا کہ اب برطانیہ اپنے زیر نگیں تمام ملک آہستہ آہستہ آزاد کر دے گا۔ نو آبادیاتی دور اپنے اختتام کو تھا۔ فرانس، برطانیہ، ہالینڈ یا ہسپانوی تمام زیر تسلط علاقوں کی آزادی نوشتہ دیوار تھی۔ انسانیت کا خواب، مساوات کا خواب، نسلی برابری کا خواب اور صنفی برابری کا خواب دیکھا جا رہا تھا۔ سیٹو اور سینٹو کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی۔
عارف نے نیا سگریٹ سلگایا اور انگریزی میں گویا ہوا۔
“حسنین میاں 1955ءعین وہی سال تھا کہ جب رسل-آئن سٹائن اعلامیے کے تحت دنیا بھر میں ایٹمی ہتھیاروں اور مکمل انسانی تباہی کے ہتھیاروں میں کمی کرنے کی تحریک “پگ واش موومنٹ” کی داغ بیل ڈالی جا رہی تھی۔ جنگوں سے بے حال دنیا امن چاہتی تھی۔ میکارتھی ازم (McCarthyism) اپنے عروج پر تھا لیکن امریکہ ہی میں آرتھر ملر ڈرامہ لکھ رہا تھا اور لوگ کہتے تھے کہ مارلین منرو کے محبوب کو کیسے سزا دی جا سکتی ہے؟ ایڈورڈ مرو (Edwrad Murrow) ریڈیو پر سینیٹر میکارتھی کی دھجیاں بکھیر رہا تھا …. اور ایذرا پاﺅنڈ ایک پاگل خانے میں بند تھا۔ ولہم رائخ زنداں میں تھا۔ یہ اندھیرے اجالے کا کھیل تھا اور خواب دیکھا جا رہا تھا ….“
” 1955ءوہی سال تھا جب مانع حمل گولیاں متعارف کرائی گئیں ۔ تاریخ میں پہلی بار عورت کو ان چاہے حمل کے خطرے سے نجات ملنے کا امکان پیدا ہو رہا تھا۔ جنسی فعل کو تولیدی عمل سے الگ کیا جا رہا تھا۔ اب اخلاقی قدروں کا نیا نصاب لکھا جانا تھا۔ یہ وہی سال تھا جب یکم دسمبر کو ایک بلیک امریکی خاتون روزا پارکس نے بس میں سوار ایک گورے امریکی کے لیے سیٹ خالی کرنے پر انکار کیا اور گرفتار کر لی گئیں اور یوں سول رائٹس تحریک شروع ہوئی۔ انسانیت نسلی تعصبات کے خاتمے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ “
عارف پورے جوش میں بات کر رہا تھا، سگریٹ کی راکھ میز پر بکھر گئی۔ عارف نے کہا، “فن دستاویز ہے اپنے عہد کی، بقول فیض، ہم پہ جو گزری ہے، اجداد پہ جو گزری تھی، تو یہ فوٹو گرافی کی نمائش اس عہد کی دستاویز تھی۔ پاکستان جب بنا تو ہمارا خواب ذات پات اور مذہبی تفرقے سے آزاد جمہوری ملک تھا۔ لیکن چار سال بعد ہی فیض راولپنڈی سازش کیس بھگت رہے تھے، 1955ءمیں ون یونٹ سسٹم کو اسمبلی پاس کر چکی تھی اور جمہوریت کے خلاف ایک نہیں کئی قدم اٹھائے جا چکے تھے۔ آج ستر سال بعد ہم جہاں کھڑے ہیں یہ ہمارا خواب نہیں تھا۔ اسی فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہے۔ مذہبی بنیادوں پر قتل ہوتے ہیں۔ بے روزگاری ہے، نوجوان طبقہ ملک سے باہر جانے کو بے چین ہے۔ کمزور سیاسی نظام ہے۔ لیکن یہ تصویر ہمیں آج بھی امید کی ایک کرن دکھا رہی ہے۔ وہ خواب جو 1955ءمیں ایڈورڈ اسٹائخن اور یوجین سمتھ نے دیکھا تھاہم اب بھی دیکھ رہے ہیں۔”
تو صاحبان علم، یہ نمائش دراصل دنیا کے سر پر لٹکتے ایٹمی خوف میں نرمی کے لیے امریکیوں کی جانب سے ایک مہذب پیغام بھی تھا۔ سرد جنگ کے بھی صاحب اپنے اصول تھے۔ دشمن کو اس حد تک دیوار سے نہیں لگایا جاتا تھا کہ وہ ناخنوں سمیت آپ پر جھپٹ پڑے۔ آپ اس تصویر کو نیا سویرا کا نام دے دیجیے۔ امن کی آشا کہہ لیجیے۔ آزادی کا خواب کہہ لیجیے۔ انسانیت پر یقین کہہ لیجیے۔ صنفی برابری جان لیجیے۔ نسلی مساوات کا خواب سمجھ لیجیے۔ خوب صورت دنیا کی امید کہہ لیجیے۔ اچھے مستقبل کی نوید مان لیجیے۔ روشن صبح سمجھ لیجیے یا…. یا اس سب کو دیوانے کی بڑ جان لیجیے۔ تصویر بہرحال بہت خوب ہے اور بہت کچھ کہتی ہے ….


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 145 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “جنت کی تلاش میں

  • 13-02-2016 at 12:13 am
    Permalink

    Bahut khub

  • 13-02-2016 at 2:19 pm
    Permalink

    عمدہ تحریر، امید افزا، زندگی بخش ۔۔۔۔۔ کاش دنیا شاعروں، ادیبوں، مصوروں، آرٹسٹوں، سنگ تراشوں، فوٹو گرافروں کے ہاتھ میں ہوتی، شاید وہ اسے اپنے تخیل کے مطابق بنا لیتے ۔۔۔۔۔۔ لیکن
    “فلیکا ! فلیکا!
    مِرے غم کی منزل نہ جانے کہاں ہے
    بڑی خوبصورت ہے دنیا
    مگر بے اماں ہے !!”

Comments are closed.