خون کے دھبے ، دیوار برلن اور گلاب کے پھول


wajahatفروری کا وسط آن پہنچا ہے۔ درختوں کی شاخوں پر کونپلیں دیکھی گئی ہیں۔ کوئی دن جاتا ہے کہ روش روش پر رنگ رنگ کے پھول کھلیں گے۔ فیض نے کہا تھا، پھول کھلتے ہیں ان مہینوں میں…. مگر بہت پہلے میر نے کہا تھا ۔ نہ ہوا کہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں…. کیوں نہ ناصر کاظمی کو یاد کر لیا جائے ۔ خبر بہار کی لایا ہے کوئی گل پارہ…. تو بات یہ ٹھہری کہ واقعے کی خبر رکھی جائے اور امید سے وابستہ رہا جائے۔ تو واقعہ یہ ہے کہ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان نے ایک اہم بریفنگ دی ہے۔ آفتاب سلطان ایک باخبر اور ذمہ دار افسر ہیں۔ ایک بہت پتے کی بات انہوں نے یہ کہی کہ ضیاالحق کی پالیسیوں کے زیر اثر دو نسلوں کا ذہن تبدیل ہوا ہے اور اسے بدلنے میں آٹھ سے دس برس لگیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ذرائع ابلاغ کے ادارے اور تعلیمی ادارے دہشت گردوں کے نشانے پر ہیں۔ ان بنیادی حقائق کو بیان کرنے سے ہمیں برس ہا برس گریز رہا۔ آفتاب سلطان کی عقاب نگاہی سے حافظ عبدالمجید یاد آگئے۔ حافظ صاحب قیام پاکستان کے بعد مغربی پنجاب کے پہلے چیف سیکرٹری تھے۔ کئی برس تک ارباب حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ سستی سیاسی مقبولیت کے لیے مذہبی نعرے بازی سے ریاست کمزور ہو گی اور معاشرت کے خدوخال بگڑ جائیں گے۔ تقدیس کے نام پر اشتعال انگیزی کے رجحان کو لگام دینی چاہیے۔ حافظ عبدالمجید کی آواز پر کان نہیں دھرا گیا اور ہم پچاس کی دہائی میں اس ذہنیت کے اسیر ہو گئے جو آج تک چلی آتی ہے ۔ ضیاالحق کا عہد ہماری تاریخ کا سیاہ باب ہے لیکن تاریخ کے کسی ایک نقطے پر کسی فکری دھارے کا بوجھ ڈالنے کا مطلب تاریخ کے پورے شعور سے انکار کرنا ہوتا ہے۔ جاننا چاہیے کہ انسانی معاشرے میں اقدام کے لیے معین فعل پر توجہ دی جاتی ہے لیکن تفہیم میں پوری تصویر کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں آج ہم ایک دفعہ پھر اس دوراہے پر ہیں جہاں ماضی کی غلطیوں کے ازالے کا ایک نادر موقع ہمیں نصیب ہو رہا ہے۔ جو آج کی صورت حال میں پرامید نہیں غالباً اس کی نیت میں کچھ کھوٹ ہے۔ جمہوری حکومت کی کارکردگی مثالی نہیں ہے لیکن معیشت اور سیاسی عمل میں استحکام کے زاویے نمودار ہو رہے ہیں۔ دہشت گردی کو مکمل شکست نہیں دی جا سکی لیکن فوج کے دو ٹوک عزم سے اہل پاکستان کے ہاتھ مضبوط ہوئے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں بہت سی پرانی خرابیاں بدستور موجود ہیں لیکن ہمارے جمہوری مکالمے میں بلوغت کے آثار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ یہاں سے آگے کون سا راستہ پکڑنا ہے اور کس منزل کی طرف بڑھنا ہے۔ اس ضمن میں تاریخ کی کچھ منتخب بازآفرینی مناسب ہو گی۔

مکرمی مشتاق احمد یوسفی کوئی بیس برس پہلے کراچی کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ فرمایا کہ جرمنی کے لوگوں نے 1961 ءمیں ایک دیوار کھڑی کی تھی جس نے ان کے جسد اجتماعی کو دولخت کر دیا، قومی ضمیر میں رخنے ڈال دیے۔ایک دیوار ندامت کا ایک باب بن گئی۔ بالآخر تیس برس بعد وہ دیوار گرانا پڑی۔ یہ بتا کر مشتاق احمد یوسفی رکے اور پھر کہا۔ عزیزو ”ہم نے تو بہت سی دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔ اتنی دیواریں گرانے میں کے برس لگیں گے“۔ مشتاق احمد یوسفی مزاح لکھتے ہیں۔ مزاح کے لیے دیوار قہقہہ کی ضرورت پیش نہیں آتی، حساس اور درد مند دل بروئے کار آتا ہے۔ ہمارے فیض صاحب کا دل بھی حساس تھا۔ اتفاق سے آج ان کا یوم پیدائش ہے۔ فیض صاحب نے یوسفی صاحب کے دیواری تلازمے سے بہت پہلے لکھا تھا۔ ”یہاں سے شہر کو دیکھو تو حلقہ در حلقہ، کھنچی ہے جیل کی صورت ہر ایک سمت فصیل“۔1974 ءمیں بھٹو صاحب نے بنگلہ دیش کا دورہ کیا تو ان کے وفد میں فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔ شاعر تو کدورت کا بیوپار نہیں کرتا۔ فیض صاحب پرانے احباب سے ملاقات اور ڈھاکہ کی گلیوں میں رم کرنے کی آرزو لے کر روانہ ہوئے تھے ۔ وہاں ابھی زخم تازہ تھے ۔ فیض صاحب دل گرفتہ ہوئے اور لکھا ۔ ’ہم کہ ٹھہرے اجنبی….‘۔ کئی برس بعد لندن کی ایک تقریب میں فیض صاحب سے یہی غزل سنانے کی فرمائش کی گئی۔ جسٹس عبدالستار میر مجلس تھے جو بعد کو بنگلہ دیش کے صدر بھی رہے۔ فیض صاحب نے شعر پڑھا۔

کب نظر میں آئے گی بے داغ سبزے کی بہار
خون کے دھبے دھلیں گے کتنی برساتوں کے بعد

جسٹس ستار نے باآواز بلند کہا۔ ”فیض صاحب خون کے دھبے برساتوں سے نہیں دھلتے“۔ خون کا دھبہ واقعی بہت ظالم چیز ہے۔ بارش کے نرم اور ٹھنڈے قطروں سے نہیں دھلتا۔اس کے لیے لہو کا سراغ لگانا پڑتا ہے اور ہنسی کا احترام قائم کرنا پڑتا ہے۔ تو آئیے آفتاب سلطان کی بات پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ضیاالحق کے بعد دو نسلوں کا ذہن تبدیل ہوا ہے اور اس ذہن کو مخالف سمت میں بدلنے کے لیے آٹھ سے دس برس درکار ہوں گے۔ تو پہلا سوال تو یہی ہے کہ اس پہ غور کیا جائے کہ ضیاالحق نے جو ذہن پیدا کیا تھا اس کی خصوصیات کیا تھیں اور اگر اس ذہن کو بدلنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تو اس کی بھی ٹھیک ٹھیک نشان دہی ہونی چاہیے کہ ضیاالحق کے بیانئے سے کون سے مسائل پیدا ہوئے۔ نیز یہ کہ اگر پھر سے ایک مختلف اور نیا ذہن تشکیل دینا ہے تو اس کی مطلوبہ خصوصیات کیا ہوں گی۔ قوم کا ذہن کنونشن سنٹر کی تقریب نہیں ہے کہ مقرر نے اچھی بات کہی ، تالیاں بجیں اور ’سب اچھا ہے‘ کا پرچہ لگ گیا۔

ضیاالحق نے قوم کے نامیاتی تشخص کو مسخ کر کے ایک مصنوعی تشخص مسلط کرنے کی کوشش کی۔ ہماری زمین پر زبان ، ثقافت اور مذہب کا تنوع پایا جاتا ہے۔ اس رنگا رنگی کا احترام کیا جاتا تو یہ تنوع رواداری کی طرف لے کر جاتا۔ قوم کے لیے تمدنی توانائی کا ایک نہ ختم ہونے والا معدن قرار پاتا۔ ضیاالحق کی سوچ نے دھرتی سے پھوٹنے والی شناخت کو جھٹلایا اور ایک خارجی تصور مسلط کیا جو ہمارے ملک کے سیاسی ، معاشرتی اور معاشی حقائق سے ہم آہنگ نہیں تھا۔ رنگا رنگی کے احترام کے لیے مساوات ایک ضروری شرط ہے یعنی کسی ایک گروہ کو دوسرے گروہوں اور مکاتب فکر پر اجارہ نہ بخشا جائے۔ ضیاالحق نے نصاب ، ذرائع ابلاغ اور اجتماعی مکالمے میں ایک گروہ کو اجارہ بخش دیا اور اس کے ہاتھ میں تقدیس کا ڈنڈا تھما دیا۔نتیجہ یہ کہ منافقت ، جہالت اور عدم برداشت پیدا ہوئی۔ انتہا پسندی کا مطلب ہی یہ ہے کہ کچھ افراد جواب دہی کے خوف سے بے نیاز ہو کر اپنی رائے کے اس حد تک اسیر ہو جائیں کہ اختلاف رائے کو گردن زدنی قرار دے دیں۔ ضیاالحق کے بیانئے کا ایک زاویہ یہ تھا کہ عوام اپنا مفاد نہیں سمجھتے۔ ریاست ان معاملات میں بھی مداخلت کرے گی جو شہری کی بدیہی آزادیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضیاالحق ایک آمر تھے۔ غاصبانہ اقتدار میں حکومت اور ریاست کا فرق مٹ جاتا ہے۔ شہری اور اقتدار کے درمیان اعتماد کا بحران پیدا ہو جاتا ہے۔ سرکاری اہلکار ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ہمیں کیا پڑھنا چاہیے، کیا پہننا چاہیے اور کیا بولنا چاہیے۔ قوم اپنی حقیقی آواز میں بات کرتی ہے تو رائے عامہ کی تان میں سچا سُر لگتا ہے۔ ضیاالحق کے بیانئے نے ہمیں سُر سے محروم کر کے تحکم کی کڑک نافذ کر دی۔ ضیاالحق کے بیانئے میں تیسرا زاویہ آج کی دنیا سے مخاصمت تھا ۔ ایک بند معاشرے میں آواز سے محروم انسانوں کی اہلیت میں کمی کا ناگزیر نتیجہ تھا کہ وہ مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں اور انہیں پے در پے ناکامیاں ملیں۔ حل یہ نکالا گیا کہ جب ہمیں ہزیمت اٹھانا پڑے تو سازش کی دہائی دیں، مصنوعی برتری کی پناہ لے لیں اور اعلان کریں کہ ساری دنیا ہماری دشمن ہو رہی ہے اور ہم میں سے جو ریاستی بیانئے سے اختلاف کرتا ہے، وہ غدار اور قابل گردن زدنی ہے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ آفتاب سلطان صاحب نے آٹھ سے دس برس کا جو عرصہ تجویز کیا ہے کیا وہ قوم کی بحالی کے لیے کافی ہو گا؟ یہ البتہ واضح ہے کہ 22.6 برس کی اوسط عمر رکھنے والی پاکستانی قوم میں نوجوانوں کو ہنسی کا موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ اور صحافی کے ہاتھوں میں بندوق دے کر پرامن پاکستان کا خواب پورا نہیں کیا جا سکتا۔ لاہور کی چھتوں پر پتنگ کے رنگ اڑنے چاہئیں۔ کراچی کے ساحلوں سے ٹکراتی لہروں کی روشنیوں سے ملاقات ضروری ہے۔ اسلام آباد کی سڑک پر نوجوانوں کو گلاب کا پھول پکڑے دیکھ کر اعصابی تشنج میں مبتلا ہونے والوں کو بتانا چاہیے کہ نئے پاکستان میں نفرت اور بارود ممنوع ہے۔ علم، محبت، تحفظ اور خوشی کا فروغ ہمارا قومی نصب العین ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “خون کے دھبے ، دیوار برلن اور گلاب کے پھول

  • 13-02-2016 at 3:15 pm
    Permalink

    محترم مجھے اپنی قوم کی منافقت سمجھ نہیں آتی، ایک طرف اس قوم کے “اہم علم” کو دل کے دورہ پڑتے ہیں کہ خدا حافظ سے اللہ حافظ کا ماحول پیدا کرکے پاکستان کو الباکستان بنایا جارہا ہے دوسری طرف سینٹ ویلنٹائن کی چودہ فروری کو ہمارے “ترقی پنسد” یوم ویلنٹائن منارہے ہیں؟ ایں چکر است؟ کیا صوفی ویلنٹائن گجرانوالہ میں پیدا ہوئے تھے کہ ہمارے لبرل حضرات اپنا شجرہ نصب ان سے ملانے کے درپے ہیں یا کوئ اور بات ہے؟ امید کہ تبصرہ کو کسی فتوی کی نظر کرکے برقی ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا جائے گا

  • 13-02-2016 at 3:25 pm
    Permalink

    دلچسپ۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ ویلنٹائن ڈے کی مخالفت کرنے والوں کا شجرہ نسب، ویلنٹائن کو قتل کرنے والے رومی بت پرستوں سے ملتا ہے؟

    اپنے تئیں زیادہ نیک بنے لوگ شجروں پر اتر آتے ہیں، اور وہ حدیث مبارکہ بھول جاتے ہیں جس میں اس شخص کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے، اور صحابہ کے پوچھنے پر وضاحت فرمائی جاتی ہے کہ جو دوسروں کے شجرے اچھالنا شروع کرتا ہے، اس کا اپنا شجرہ بھی اچھل جاتا ہے۔

  • 13-02-2016 at 3:55 pm
    Permalink

    کاکڑ صاحب، یہ سمجھا جائے کہ جو “گولی” مخالف کو چپ کرانے کے لئے دی جائے تو وہ آپ کو بھی کھانی پڑسکتی ہے۔ اگر سمجھ نہ آئے تو بندہ اسکی تشریح کردے گا۔

Comments are closed.