دلوں پر پہرے کس نے بٹھائے؟


sabookh syedرفاہ یونی ورسٹی میں ایک اشتہار دیوار پہ چسپاں دیکھا جس پر لکھا ہوا تھا
ہم ویلنٹائن ڈے نہیں مناتے کیونکہ ہم مسلمان ہیں۔
اوپر لکھا تھا کہ 14 فروری یوم حیا ،

اب جو سمجھ آرہا ہے وہ بیان کئے دیتا ہوں کہ اول مسلمان ویلنٹان ڈے نہیں مناتے کیونکہ ویلنٹائن ڈے منانے سے مسلمان کافر ہوجاتا ہے یعنی جو لوگ ویلنٹائن ڈے منارہے ہیں ،وہ سیدھے سادے کافر ہو گئے۔

اب جب میں نے بات کی کھال ادھیڑی تو اندر والی بات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا کہ بھارت میں ہندو بھی ویلنٹائن ڈے منا رہے ہیں اور ان کے پنڈت انہیں کہہ رہے ہیں کہ تم ہندو دھرم کو بھرشٹ کر دیا ہے۔ یعنی کہ وہاں ویلنٹائن منانے والے ہندو اور یہاں کے ویلنٹائن منانے والے مسلمان دونوں اپنے مذہبوں سے نکل گئے۔ جب دونوں اپنے مذہبوں سے نکل گئے تو اب کیا وہ ویلنٹائن ڈے منا سکتے ہیں ؟

انڈیا میں بے جی پی کے لٹھ بردار ہمارے مذہبی جنگجووں کی طرح ساری رات پارکوں میں گذارتے ہیں تاکہ صبح شکار پکڑ کر اسے پھینٹی لگائی جا سکے، ، ویلنٹائن ڈے منانے والوں کو انڈیا میں ہندو مارتے ہیں اور پاکستان میں مسلمان ، یوں ایک قوم کی دوسری قوم سے مشابہت کھل کر سامنے آگئی ہے ، کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلے کے کہ اس واضح مشابہت کے بعد کیا ان کا حشر ، محشر میں اکٹھا ہو گا ، میری ان سے گذارش ہے کہ ہندوؤں کی نقالی چھوڑ دیں تاکہ آپ ان کے ساتھ محشور نہ ہوں۔

دوسری بات

جو 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے مناتا ہے وہ کیا باقی پورا سال بولے تو باحیا رہتا ہے اور جو 14 فروری کو یوم حیا مناتا ہے تو کیا باقی پورا سال وہ بے حیا رہتا ہے کیا۔ لاحول ولا قوة….

تیسری بات یہ ہے کہ اللہ خیر کرے یہ جو بابا سینٹ ویلنتائن تھا نا ، یہ ایک مذہبی پیشوا تھا ، راوی لکھتا ہے کہ فطری تقاضوں سے مجبور ہو کرجرم محبت کر بیٹھا اور پھر وہی ہوا جو ہمارے ہاں آج کل ہو رہا ہے۔ اس دور کے مشک و کافور سے دھلے وزیر داخلہ نے صوفی بزرگ سینٹ ویلنٹائن کو سزائے موت دے دی۔

اصولا سینٹ ویلنٹائن تو اہل مذہب کا پیٹی بند بھائی ہوا نا جسے اسٹیبلشمنٹ نے جیل میں سولی پہ جھلا دیا۔ کم از کم اس کی استقامت کو سلام عقیدت پیش کرنے کے لیے اہل جبہ و دستار کو یہ دن ضرور منانا چاہیے۔

میں تو کل سے یہ سوچ سوچ کے ہلکان ہو رہا ہوں کہ مولانا عزیز نے معافی مانگ لی اور ویلنٹائن ڈے بھی ختم ہو جائے گا تو پھر ہم کس ایشو پر لکھا کریں گے۔ ہاں یاد آیا کہ 14 فروری کو یوم حیا منانے والی قوم گذشتہ تین برسوں سے پورن موویز انٹر نیٹ پر سرچ کرنے میں پہلے نمبر پر آ رہی ہے۔ انسان سے محبت کی یہ انتہا کسی اور قوم میں ڈھونڈے سے نہیں ملتی۔ پورن موویز کو گوگل پر سرچ کرنے میں نمبر ون آنے والی قوم تین برس پہلے پورے ملک میں احتجاج کر رہی تھی کہ وینا ملک نے انڈیا میں برہنہ تصویریں کیوں بنوائیں۔

ہائے میرے اللہ
اس عمر میں انسانی ذہن کے نہاں خانوں گندے خیالات کس وافر مقدار میں آتے ہیں۔استغفراللہ

سندھ حکومت نے ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ساحل سمندر پر دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے نہانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ کہا گیا کہ نوجوان نہانے کے دوران اونچی لہروں میں ڈوب سکتے ہیں۔ یہ پابندی 13 اور 15 فروری کو نہیں ہو گی کیونکہ ان ایام میں سائیں قائم علی شاہ لہروں کو بھنگ پلا کر اٹھنے سے روک دیں گے۔سبحان اللہ کہیں اور اونچی آواز سے کہیں

کوہاٹ اور اسلام آباد میں ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی ہے جبکہ باقی پورے ملک میں نہیں ہے۔ اس لیے اسلام آباد والے راولپنڈی میں جبکہ کوہاٹ والے پشاور میں ویلنٹائن ڈے منا سکتے ہیں، حکومت نے شاید سمجھا تھا کہ پشاور اور پنڈی جانے کے لیے ویزے کی ضرورت ہوتی ہے ؟ حیرت ہے ، اسلام آباد والے تو میٹرو میں بیٹھیں اور فیض آباد کراس کرتے ہی ویلنٹائن ڈے منانا شروع کردیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کی ہوئی ہے تاہم دوسری جانب تمام ٹی وی چینلز ویلنٹائن ڈے منانے کی تیاریوں میں مگن ہیں ، مارننگ شوز ہو رہے ہیں اور رپورٹس بن رہی ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ چودھری نثار اور پرویز رشید میں شدید اختلافات ہیں۔

نوجوان جوڑوں کے بقول ویلنٹائن ڈے اس بار ویسے بھی نہیں منایا جا سکتا تھا کیونکہ 14 فروری کو اتوار ہے اور اتوار کو چھٹی ہوتی ہے اور چھٹی کے روز کوئی وہ بہانہ کر کے ماہی سے نہیں مل سکتے اس لیے چاندنی راتوں میں تڑپتے رہو۔

اب ذرا کان قریب کیجئے ،
میں بتاتا ہوں اندر کی بات ،
اندر کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے ویلنٹائن ڈے منانا تھا ، انہوں نے کسی کو بتائے بغیر جمعے کے روز ہی منا لیا تھا۔ جمعے کی نماز کے بعد مسلمانان اسلام آباد کی بڑی تعداد پیر سوہاہ ، ایف نائن پارک سمیت کئی مقامات پر ایک دوسرے کو سرخ گلاب کے پھول اور گفٹ دیتی میں نے اپنی ان باحیاآنکھوں سے دیکھی۔

ایک دوست اپنی منگیتر کے ساتھ ملا ،دونوں اسلام آباد میں دو مختلف دفاتر میں کام کرتے ہیں۔
میں نے کہا کہ آج دونوں بڑے لش پش دکھتے ہو ،کہیں آج ہی ویلنٹائن ڈے تو نہیں منا رہے ، کہنے لگے ، صرف ہم نہیں ، سبھی آج ہی منا رہے ہیں۔
یقین نہیںآیا تو اسلام آباد میں ریستورانوں اور گلاب بیچنے والوں سے پوچھ لیں۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “دلوں پر پہرے کس نے بٹھائے؟

  • 13-02-2016 at 10:49 am
    Permalink

    متوازن و مناسب، بلا طنز، غیر متعصب

  • 14-02-2016 at 11:09 am
    Permalink

    بہت اچھا مضمون ہے۔ اللہ کرے اورزورقلم زیادہ۔

Comments are closed.