امواجِ ثقل، لبرل ازم اور بوسے کی مابعدالطبیعات


aasimتین دلچسپ تحریریں اور ان پر اختلافی تبصرے نظر سے گزرے۔ یوں تو موضوعات کا آپس میں کوئی واضح تعلق نہ تھا لیکن بیچ سے گزرتی ایک مشترکہ فکری زنجیر نے قدم جکڑ لئے۔برادرم ذیشان ہاشم نے اپنے پرمغز مضمون میں لبرل ازم کی مبسوط روایات کا احاطہ کرتے ہوئے اسے آزاد فرد، آزاد معاشرے اور آزاد معیشت کی مربوط مثلث قرار دیا۔ ان کا مرکزی دعویٰ یہ تھا کہ لبرل ازم کی روایت سماجی خاکہ بندی کے دوران کسی بھی مابعد الطبیعاتی تناظر سے باہر کھڑا رہنے پر اصرار کرتی ہے اور اس وجہ سے کسی بھی قسم کے مذہبی مفروضوں کے بارے میں لب بستہ رہتی ہے۔ محترمہ رامش فاطمہ نے اپنے فکاہیہ مضمون میں آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کی پیشین گوئیوں کے تجرباتی مشاہدے کا جشن مناتے ہوئے امت مسلمہ کے” فرزندانِ توحید“ کو عقل کے دشمن نقال بندروں سے تشبیہ دی جس سے شاید یہ ثابت کرنا مقصود تھا کہ آئن سٹائن کی تحقیق ایک سائنسی دریافت نہیں بلکہ تیسری دنیا کے مذہب پسند طبقات کے منہ پر ایک کرارا طمانچہ ہے۔ مت پوچھئے ہمیں تیسری دنیا کے ایک مسلمان سائنسی محقق کے طور پر کتنی شرمساری ہوئی۔ فوراً جی چاہا کہ فاضل مصنفہ سے اس دریافت کی بابت مزید تفصیلات دریافت کی جائیں اور پوچھا جائے کہ اگربالفرض اس دریافت کا سہرا کسی ’فرزندانِ توحید‘ نامی معتوب ہجوم کے سر بندھ جاتا تو سماجی طور پر کونسی خوشگوار تبدیلیاں متوقع تھیں؟ ہمارے عزیز دوست تصنیف حیدر نے اپنے مدلل مضمون میں ہمیں دو محبت کرنےوالوں کے درمیان برسرِعام بوس و کنارکے انسانی حقوق کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے یہ باور کرایا کہ تہذیب، مذہب، روایت، اقدار وغیرہ سب بے معنی موضوعی باتیں ہیں اور واحد معروضی حقیقت انسانی عقل ہے۔ ان کا استدلال یہ ہے کہ انسان اب ارتقا کی اس منزل پر ہے جہاں خوبصورتی، بدصورتی ، حیا، بے حیائی کی تعریف اپنی مرضی سے کر سکتا ہے لہٰذا جو بھی برسرِعام اظہارِ عشق کے کسی بھی مخصوص طریقے کے خلاف ہے وہ روشن خیالی اور ترقی پسندی کے اعتبار سے ترقی یافتہ اقوامِ عالم سے دوڑ میں کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

چونکہ ہمیں ان تینوں محترم دوستوں سے مختلف درجوں میں اختلاف ہے لہٰذا اس طویل تحریر کے ذریعے یہی کوشش ہو گی کہ کسی نہ کسی حد تک ان سے کلی اختلاف کرنے والے دوستوں کی نمائندگی کا فرض بھی ادا ہو جائے اور یہ بھی واضح ہو جائے کہ سمجھوتے کی معقول صورتیں کیا ہیں۔خوش گمانی کہہ لیجئے لیکن ہمیں ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ سماج میں ہر ذی شعور اور متوازن شخص کی بنیادی ترجیح بہرحال یہی ہوتی ہے کہ سماج مزید انتہاو¿ں میں تقسیم نہ ہو، تاکہ خوشگوار ماحول میں مثبت مکالمے کا عمل جاری رہ سکے۔اس ذیل میں ہمیں اپنے مذہب پسند دوستوں سے یہی گلہ ہے کہ وہ اس مکالمے میں کچھ اس قسم کے کلیشوں کی تکرار سے آگے نہیں بڑھتے نظر نہیں آ رہے کہ فلاں مذہب مخالف ہے اور فلاں خدا بیزار، فلاں سیکولر انتہا پسند ہے اور فلاں لبرل فاشسٹ یا پھر فلاں مغربیت زدہ ہے اور ہماری روایات و اقدار اور نظریات کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑا ہے۔ جہاں ہم کھڑے ہیں وہاں سے منظر کچھ یوں نظر آتا ہے کہ مذہبی انتہا پسندی کے مظاہر تو ہم سب کے سامنے ہیں لیکن یہ لبرل انتہا پسندی کی تکرار محض الزام ہی معلوم ہوتی ہے۔ پرانے بادہ کش تو خیر کب کے اٹھے جاتے ہیں اور جہاں تک ہماری نسل کا سوال ہے تو یارانِ قدح خوار کبھی جبراً جام ہماری طرف نہیں بڑھاتے۔دوسری طرف جہاں تک وطنِ عزیز کی بات ہے تو مسجد میں بارہا ایسا ہوا کہ کسی معصوم اور بے ضرر’انتہا پسند‘ نے اپنی نیک نیتی سے مجبور ہو کر شیطان کو بساط جمانے سے روکنے کے لئے عین نماز کے دوران ہمارے سر پر ٹوپی رکھ دی جو ہم نے اگلے ہی سجدے میں جوابی وار کی خاطر جان بوجھ کر الٹ دی۔ جہاں تک امتِ مسلمہ کا سوال ہے تو ایامِ حج میں عین حرم کے بیچ ایک ایک باریش جلالی بزرگ غصے میں لال بھبھوکا ہوتے ہوئے ہماری بیگم کے چہرے کی طرف بار بار اشارہ کرتے ہوئے ہمیں ( اپنے بقول) خدا کا یہ حکم سنا چکے ہیں کہ ہمیں بطور ”قوام علی النسا “ انہیں وہی پردہ کرانا چاہئے جسے وطنِ عزیز کی رائج مذہبی بھاشا میں ’شرعی پردہ‘ کہا جاتا ہے۔

قصہ مختصر ،لے دے کہ ہمارے مذہب پسند دوستوں کے پاس اپنے لڑکھڑاتے ہوئے مبہم اظہار کے لئے فحاشی، بے حیائی، بے راہ روی جیسے الزامات کی علامتی بیساکھیاں ہیں جن کے سہارے چلنے کو وہ استدلال سے تعبیر کرتے ہیں۔ ہاں وطن عزیز میں یہ روایت ضرور ہے کہ اگر کچھ بھی کام نہ آئے تو اپنے مخالف پر نظریہ پاکستان کی مخالفت کا الزام بطور ترپ کاپتہ استعمال کیا جا سکتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ استدلال کی بنیادیں یہی ہیں کہ ایک ایسا سماجی خاکہ متصور کیا جا رہا ہے جو ایک خاص طبقے کے ذہن میں موجود روایات و اقدار کو جبر و استبداد سے نافذ کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ دوسری طرف ہمارے ذہن میں موجود متبادل خاکہ دلیل پر مبنی مکالمے کی روایت کو اس طرح زندہ کرنا چاہتا ہے ایک طرف توسماجی رویوں پر مسلسل مثبت نظر ثانی کا عمل جاری رہے اور دوسری طرف کسی الزام و دشنام کے بغیر ہر مکتبہ فکر کو اپنی بات دو ٹوک کہنے کا موقع ملے۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس سماجی کشمکش میں بحالتِ مجبوری( بشمول ہمارے) دونوں اطراف کے شریکِ مکالمہ دوستوں کو نہ صرف کچھ رائج سیاسی و سماجی اصطلاحات کا سہارا لینا پڑ رہا ہے بلکہ اپنے سماجی تناظر میں ان کی تعریف کا مسئلہ بھی درپیش ہے۔ ایسے میں دیانت داری کا تقاضا یہ ہے کہ فریقین میں جہاں کہیں بھی ہمیں اپنے تئیں استدلال میں سقم نظر آئے تو اس کی نشاندہی میں دیر نہ کی جائے ورنہ خلطِ مبحث کا اندیشہ ہے۔

اس سلسلے میں مذکورہ بالا تینوں تحریریں ہمیں جس نادیدہ زنجیر میں پروئی نظر آتی ہیں وہ کچھ ایسے مابعد الطبیعاتی مفروضے ہیں جنہیں فاضل مصنفین کسی بھی وجہ سے مکالمے میں واضح نہیں کر پائے۔ جہاں تک لبرل ازم کی بات ہے تو ہماری رائے میں لبرل ازم کی مابعدالطبیعاتی غیرجانبداری (metaphysical neutrality) پر کافی تنقیدی مواد موجود ہے جس کا سرسری سا مطالعہ بھی کم ازکم ہم جیسے کسی سرگرداں طفلِ مکتب کو یہ سمجھانے کے لئے کافی ہے کہ غیرجانبداری کا یہ دعوی بذات خود ایک مابعدالطبیعاتی دعوی ٰ ہے۔ جہاں تک آزاد معیشت کا سوال ہے تو خیر ہم طفلِ مکتب بھی نہیں لیکن بہرحال یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہیں کہ ا نسان کے شعور و وجود کی ماہیت کو دلیل بناتے ، اس کی آزادی کو ماورائے حدود مانتے، ا س کی معروضیت پسندی کو کامل قرار دیتے دعوے اگر مابعدالطبیعاتی نہیں تو اور کیا ہیں؟ ظاہر ہے ان تمام مفروضوں سے جزوی اختلاف اور اتفاق کی راہیں کھلی ہیں اور فی الوقت لبرل ازم پر تنقید ہمارا موضوع نہیں بلکہ صرف اتنا واضح کرنا مقصود ہے کہ دنیا کا کوئی بھی سماجی نظریہ مابعدالطبیعاتی غیرجانبداری کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب نہیں ہو سکتا۔ اور اگر کرے گا تو اس پر جلد یا بدیر وہی الزم لگے کا جو کسی بھی بے لچک کٹر سماجی فرقے پر لگ سکتا ہے۔ ہماری رائے میں ہر سماج اپنے مخصوص تناظر میں کسی بھی ’ازم‘ کی تشریح کچھ ناگزیر مابعدالطبیعاتی مفروضوں کی بنیاد پر ہی کرتا ہے۔ ان مابعدالطبیعاتی مفروضوں کو قدم قدم پر اس طرح واضح کرنا ضروری ہے کہ رتی برابر ابہام بھی باقی نہ رہے۔مابعدالطبیعات کا انکار شاعری کا انکار ہے، حسن کا انکار ہے، سچائی اور محبت کی آفاقیت کا انکار ہے۔ انسان سے محبت کے بغیر کونسا سماجی و سیاسی و معاشی نظریہ قائم کیا جا سکتا ہے؟

اسے ہرگز راقم کا مبنی بر علم حتمی دعویٰ نہ سمجھا جائے لیکن اگر صرف جان لاک ہی کو مثال مان لیا جائے تو باآسانی دیکھا جا سکتا ہے کہ لبرل از م کے گرد گھومتی اس کی کل فکر میں کون کون سے اہم مابعد الطبیعاتی مفروضے شامل ہیں۔ ان ذہنی میلانات کی بنیاد عیسائیت میں بھی ہے اور لاک کے فلسفہ علم اور انسانی فہم کی ماہیت میں بھی۔ مثال کے طورپر وہ جابجا کلیسا سے اپنے مکالمات میں روحِ انسانی کی نجات کے بارے میں اپنی مذہبی اعتقادات کی بنیادوں پر کچھ نظریہ بندی پیش کرتا نظر آتا ہے۔ جب وہ روح و بدن کی دوئی کے مابعدالطبیعاتی مفروضے کا اطلاق کلیسا اور ریاست کے متوازی اور جداگانہ اداروں میں کرتا ہے تو ملحدین کے لئے ویسی ہی رواداری کا تقاضا نہیں کرتا کیوں کہ اس کی رائے میں ملحدین سماجی بندھنوں سے آزادی کے باعث افراتفری کا باعث ہیں۔ اس تناظر میں جہاں ہمارے لبرل ازم کی وکالت کرتے دوستوں کو مخصوص سماجی مظاہر کی ذیل میں مزید وضاحت کی ضرورت ہے، وہیں ہمارے مذہب پسند دوستوں کو اپنی بے جا تکرار کی بجائے آگے بڑھنا چاہئے اور ہمارے سماج میں حریت فکر اور برابری کی بنیاد پر رواداری کو فروغ دینے کی روایت میں ہمارا ہاتھ بٹانا چاہئے۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اگر آپ کی نفسیاتی الجھنیں اس حریت ِ فکر کو’ لبرل ازم ‘کہنے میں مانع ہیں۔ آپ بے شک ان فکری زاویوں کو کسی بھی نام سے پکار لیجئے لیکن کم از کم مکالمہ تو آگے بڑھائیے۔ ہمیں بار بار مذہب مخالف اور روایت بیزار کہنے سے تو مزید کام نہیں چلے گا۔

امواجِ ثقل کی دریافت سے جڑے سماجی رویے اپنے اندر بڑی دلچسپ پیچیدگیاں لئے ہیں۔ ان پیچیدگیوں کی ایک جہت تو سماج میں سائنس اور انسانی ترقی کے متعلق کچھ ایسے اٹل مابعد الطبیعاتی دعووں سے متعلق ہے جنہیں طبیعاتی کہنے پر اصرار کیا جا رہا ہے۔ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ وطنِ عزیز میں اب تک شدت پسندوں کے علاوہ کس مذہب پسند نے سائنسی علوم پر پابندی کا مطالبہ کیا ہے؟ پاکستانی مدرسوں پر تو تنقید کے دفتر لکھے جا چکے ہیں لیکن جامعات میں علمی رویوں اور نوجوانوں کی بے سمتی کے بارے میں تاحال اسی زور و شور سے تنقید ہونا باقی ہے۔ کیا سائنسی دریافت اور ایجادِ علمی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے پر مذہب پسندوں کو نشانہ بنا کر فکاہیہ سینہ کوبی سے بہتر یہ نہیں کہ فکاہیہ انداز میں ہی سہی سیکولر جامعات کے نصاب اور تدریسی رویوں پر آوازے کسے جائیں؟ امت مسلمہ کو دہائیاں دینے میں ہم آپ کے ساتھ ہیں لیکن کم ازکم ا±س درویش اور فقیر کو بھی اس خطہ زمین پر سر اٹھا کر جینے کا حق دیا جائے جو انسانی ترقی کے دوڑ میں آپ کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی بجائے صرف تسبیح پھیرتے ہوئے اپنی موت کا منتظر ہے۔ اگر امواجِ ثقل کی دریافت سے ترقی کے کسی ایسے تصور کو تقویت ملتی ہے جو انسانیت کا عالمگیر کا تصور ہے تو ہمیں بھی بتائیے تاکہ ہم بھی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر سینہ کوبی کا فریضہ انجام دیں۔ آپ جانتے ہیں کہ مسلم ذہن میں علم کی دوئی اور فلسفہ و سائنس اور مذہب کو ایک دوسرے کے مخالف گرداننے میں ہم اپنے متشدد مذہب پسند دوستوں کو ہدف بناتے ہی رہتے ہیں۔

اس سلسلے میں دوسری جہت سائنس کے مابعدالطبیعاتی مفروضوں سے متعلق ہے جن پر بات کا یہ موقع نہیں لیکن اتنا عرض کرنا ناگزیر ہے کہ سائنسدانوں کے درمیان سائنسی دریافت کی عالمگیر تشنگی کی بنیادوں میں موجود سب سے بڑا مابعدالطبیعاتی مفروضہ یہی ہے کہ فطرت نے کائنات کا کل نظام ایک آفاقی نظم میں باندھا ہےاور انسان ایک نہ ایک دن وہ نظم دریافت کر ہی لے گا۔ ایک سائنسدان جب صبح اپنی تجربہ گاہ میں داخل ہوتا ہے تو اس کے پیش نظر یہی مفروضہ ہوتا ہے کہ آج میں اس مابعدالطبیعاتی آدرش کی طرف ایک قدم اور آگے بڑھوں گا۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ دنیا کے تمام انسان بالکل ایک ہی قسم کی پیاس محسوس کرنے پر قادر ہوں۔ کچھ کے نزدیک یہ ایک فضول سے خواہش ہے جس پر وقت اور پیسہ برباد کیا جا رہا ہے۔حریت فکر ہی کا تقاضا ہے کہ بلاوجہ ان کا ٹھٹھا اڑانے کے جواز تلاش نہ کئے جائیں۔ اس سے نفرتیں اور بیزاری تو ضرور بڑھ سکتی ہے لیکن کسی مثبت مکالمے کی امید نہیں۔ ہاں انہیں دلیل سے قائل کیا جائے کہ انسان کا کششِ ثقل کی حتمی علت دریافت کر لینا کتنا اہم ترین مسئلہ ہے۔ سو کچھ انسانوں کو یہ کام عبادت سمجھ کر کرنا چاہئے کیوں کہ ا س پیاس کے ثمر پوری انسانیت کے مشترکہ ثمر ہیں۔ آپ کو سن کر خوشی ہو گی کہ امواجِ ثقل کو دریافت کرنے والی ٹیم میں سرفہرست کراچی سے تعلق رکھنے والی ایک پاکستانی خاتون ہی ہیں جن کا نام پروفیسر نرگس ماول والا ہے۔

بوسے کا مسئلہ نہایت اہم اور فوری توجہ کا مستحق ہے۔ اس کی وجہ فی نفسہ سرعام بوسہ لینے والوں کے انسانی حقوق میں ہماری غیر معمولی دلچسپی نہیں بلکہ اس کو ایک فلسفیانہ قضیے کے طور پر بحث کے دائرے میں لا کر ہمارے سماج میں سرِ عام اظہار عشق و قربت کے اختیاری دائروں کے محیط کی پیمائش اور اخلاقیات سے جڑے کئی اہم مابعدالطبیعاتی مفروضوں کا تجزیہ ہے۔ ہمارے کئی متوازن اور محترم مذہب پسند دوستوں کا خیال ہے اس قسم کے سوال اٹھانا خدا بیزاری، روایت و اقدار کی مخالفت اور مذہب دشمنی ہے۔ ان کے رائے میں یہ استدلال بے وقعت ہے کہ سب کو اپنے اپنے اخلاقی معیارات کے تحت زندگی گزارنے کی اجازت ہونی چاہیے کیوں کہ کچھ اٹل اور مسلمہ اخلاقی معیارات جو موجود ہیں۔ اگر سڑک کے کنارے پیشاب کرنے والے کو کوئی نہیں ٹوکتا تو اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ سرعام جنسی تعلقات قائم کرنے کی حمایت میں دلائل دینے شروع کر دئیے جائیں۔ اس منطق کی ر±و سے تو خودکشی کی حمایت میں بھی دلائل دئیے جا سکتے ہیں۔ ہماری رائے میں ان کی بات میں یقیناً اس حد تک تو وزن ہے کہ اس ذیل میں کوئی نہ کوئی پیمانے ہونے چاہئیں لیکن ہمیں اس سے اتفاق نہیں کہ ایسے پیمانے موجود ہیں جنہیں ہمارے سماج کی حد تک ہی عالمگیر کہا جا سکے۔ ہماری رائے میں یہ ایک کافی کھلا دائرہ ہے جس کا محیط بتدریج بڑھ رہا ہے۔ آپ کی بات سے ہم کلی طور پر متفق ہیں کہ شرم و حیا بہرحال لغت میں موجود ایسے الفاظ ہیں جن کے کوئی نہ کوئی خوبصورت معنی ضرور ہیں لیکن اتنی بات پھر بھی واضح ہے کہ پیشاب کی بو سونگھنے کے لئے تو سب کے نتھنے یکساں ہیں لیکن شرم وحیا کی ’خوشبو‘ سونگھنے کے روحانی نتھنے یکساں نہیں۔ سماج میں ان حوالوں سے ایک سے زیادہ طبقات موجود ہیں اور ان میں سے ایک کثیر تعداد اخلاق کے مسلمہ معیارات کی تعریف میں باہم مختلف ہے۔

لہٰذا یہ ایک کثیرجہتی مسئلہ ہے جس کاحل تو درکنار تاحال اس کی تفہیم کی گرہیں ابھی کھلنا باقی ہیں۔مذہب پسند دوستوں کو ہمارا جواب یہی ہے کہ ہماری رائے میں یہ مغربی روایات کی نقالی کانہیں بلکہ اپنی روایت کے ناگزیرابہام کامسئلہ ہے۔برسرِ عام اظہارِ قرب کے حوالے سے دنیا کی متنوع سماجی روایات پر یکساں انداز میں بات نہیں کی جا سکتی لیکن عمومی سماجی دھاروں میں کافی مطابقت تلاش کی جا سکتی ہے کیوں کہ یہ انسانیت کے مشترکہ جذبات ہیں۔ انیسویں صدی کے آخرمیں جس وقت امریکہ میں پردہ اسکرین پرایک مرداورعورت کے درمیان یہ منظر پیش کرنے کا مسئلہ اٹھا تو ہماری روایت میں شعروسخن کی لطیف گدگداہٹ اور کھلم کھلا اظہار، دونوں طریقوں سے اس انسانی جذبے کی نت نئی تصویریں بنانے سنوارنے کا عمل جاری تھا۔ ہمارے سماج میں موجود اس وقت کے جمالیاتی پیمانوں کی روسےاس شعری تصویر پر برسرعام واہ واہ حاصل کرنا نہ صرف قابل ِقبول بلکہ کسی حد تک قابلِ تعریف عمل تھا۔ سماج کے اخلاقی پیمانوں کی رو سے عورت و مرد کے درمیان تعلقات کی ’قبیح‘ صورتوں کو شہری سماج میں ایک علیحدہ جگہ دی گئی تھی اور سماج کے شرفاء ادھر جا کر رات کے ا ندھیرے میں اپنی انسانی ضرورت پوری کر سکتے تھے۔ یہاں سے سماجی رویوں کی دم پکڑئیے اور تلاش کیجئے کہ ہم جن روایات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ کیا کہیں منجمد ہیں یا ایک غیرمحسوس طریقے سے تبدیل ہو رہی ہیں؟ اپنے ارد گرد دیکھئے تو کیا ان ’غیر مقدس ‘ بلکہ ہمارے سماج میں ’مذموم‘ انسانی رشتوں کی ’قباحت‘ کسی حد تک قلبِ ماہیت سے نہیں گزر چکی؟ کیا ہمارے تمام مذہب پسند طبقات جو کسی تصوراتی اخلاقی روایات کا رونا روتے نہیں تھکتے، انسانوں کے اس جم غفیر سے ناواقف ہیں جو تھیٹرز میں فحش ناچ اور فلموں میں آئٹم گانوں کو شدت سے پسند کرتا ہے ؟ بہت آسانی سے مشاہدہ کیا جا سکتا ہے کہ ہمارا سماج ایک سست رفتاری سے بدل رہا ہے اور ان سماجی رویوں کو صرف پابندیوں اور جبر سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس مسئلے کو مذہب پسندی اور مذہب بیزاری کے درمیان جنگ تک محدود کر دینا تو نہایت سطحی سی فکری سہل پسندی ہے۔

ہماری رائے میں متوازن صورت یہی بنتی ہے کہ اپنی اپنی تعبیر کے مطابق اخلاقی فلسفوں سے کشید کئے گئے مسلمہ اخلاقی اصولوں اور سماج میں ان کے عملی اطلاق کی صورتوں کی پرامن تبلیغ جاری رکھی جائے ،لیکن ساتھ ہی ایک باہمی سمجھوتے کے ذریعے گناہ اور جرم میں حدِ فاصل قائم کی جائے۔ سرعام اظہارِ عشق کے طریقے متنوع ہیں اور بہرحال افراد کے دائرے کسی نہ کسی حد تک سماج کے دائرے میں پیوست ہوتے ہی ہیں۔ تمام انسان مختلف لباس پہننا چاہتے ہیں اور ان کی اخلاقی و جمالیاتی ترجیحات مختلف ہیں۔ کسی ایک دو یا چند انسانوں کے ہاتھوں پورے سماج کو یرغمال نہیں بنائے جا سکتا۔ وہ ایک دو انسان سرعام اظہارِ عشق کرنے والے بھی ہو سکتے ہیں،سرعام برہنہ ہونے والے بھی اور ان کو پتھر مارنے والے بھی۔ دونوں جانب سے دیکھئے تو ہدف مختلف ہے لیکن فضا سے جائزہ لیجئے تو بہرحال پورا سماج ہی نشانے پر ہے۔ پھر اظہارِ عشق کے مظاہر بھی متنوع ہیں اور کون فیصلہ کرے گا کہ اب سماج کی اخلاقی حدود پامال ہو رہی ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ قانون کا مسئلہ ہے اور اس کی بنیاد یہی ہے کہ کسی فرد کے عمل سے ماحول میں بے حد اضطراب ، بے چینی یا نقصِ امن کا اندیشہ تو نہیں۔ لیکن یہ سب پیمانے بھی موضوعی ہیں۔ کسی جوڑے کے راہ چلتے ہاتھ پکڑ کر ہنسنے کا منظر بھی کسی ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے والے فرشتہ سیرت پارسا کے لئے باعث ایذا ہو سکتا ہے۔ کچھ بہت محترم نیک سیرت دوست جن کو معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حیائی چین نہیں لینے دیتی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ پھر کیا کیا جائے؟ ہمارا جواب یہی ہے کہ بہرحال سماج میں کسی نہ کسی حد تک جبر پر تو ایک ناگزیر سمجھوتہ کرنا ہی پڑے گا۔ یہ ایک ایسا جبر ہے جو سماج خود اپنی مرضی سے اپنے اوپر لاگو کرے گا۔ ظاہر ہے کہ یہاں ایک نہایت اہم مابعدالطبیعاتی مفروضہ یہی ہے کہ اکثریت کا جبر اقلیت کو تسلیم کر لینے ہی میں سماجی تبدیلی کی پرامن راہوں پر چلا جا سکتا ہے۔ سو اقلیت کے لئے یہ راہیں کھلی ہیں کہ اپنے استدلالی وسائل کے زور پر اکثریت میں تبدیل ہو جائے۔

اس طویل نظر خراشی کی ضرورت اس لئے پیش آئی تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ ہم سب انسان استدلال کی کوئی مافوق الفطرت قوت نہیں رکھتے بلکہ ہمارا استدلال اپنی گہری ترین تہوں میں کچھ مخصوص ذہنی میلانات کی بنیاد پر چند مابعدالطبیعاتی مفروضے قائم کر کے ہی آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ سفر مشاہدے اور تجربے سے عبارت ہے۔ مشاہدے اور تجربے کے نتیجے میں ذہنی میلانات میں تبدیلی آتی ہے اور مفروضے بدلتے رہتے ہیں۔ان مفروضوں پر کسی بھی قسم کے اٹل اصرار سے پرہیز کیجئے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

5 thoughts on “امواجِ ثقل، لبرل ازم اور بوسے کی مابعدالطبیعات

  • 13-02-2016 at 4:38 pm
    Permalink

    بہترین عاصم صاحب!
    رامش صاحبہ کی تحریر میری سمجھ سے بالاتر تھی اور سچ مانیں ہنسی چھوٹ گئ تھی۔ ان کی کوشش وہی تھی جو آغا وقار کی پانی کی ذریعہ گاڑی چلانے کی۔ میں نے اپنی دانست میں انکی تحریر پر تبصرہ چھوڑا ہےاور انکو یاد دلایا کے کافر آئن آسٹائن ماضی کے بہت سے مولویوں کی ایجادات کا محتاج تھا۔
    بہرحال بہت ہی اعلی بات کہ اگر آئن آسٹائن کوئ شیخ ناص بن الہیان ہوتا تو کیا فرق پڑنا تھا، فرق تو اسوقت پڑتا ہے جب بندہ خود ہاتھ پاوں چلائے۔

  • 13-02-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    ھمیشہ کی طرح سوچ کے نۓ در واہ کرتی ھوءی تحریر۔ عاصم صاحب! آپ کا گلہ بھی خوب رھا۔ مذھب پسندوں پر تو تہمت کہ کلیشوں سے آگے نہیں بڑھتے مگر یارانِ بوسہ پسندِ بےحجاباں کی تحریر میں “مذھب کے کسی بھی حوالے کا نہ ھونا” بھی کوءی کلیشہ ہے یا نہیں؟ کیا اب اس معاشرے میں مذھب اِک پاِمال حوالہ ٹھرا ھے؟ 

    • 14-02-2016 at 9:25 am
      Permalink

      محترم عابد صاحب، آپ کے تبصرے کا بے حد شکریہ۔ معاشرے میں مذہب ہرگز پامال حوالہ نہیں لیکن بہرحال تمام شہری اسے ایک بامعنی حوالہ ماننے یا نہ ماننے کے لئے تو آزاد ہی ہیں۔ جن دوستوں کا آپ نے ذکر کیا ان کے نزدیک اگر مذہب وہی دلچسپی نہیں رکھتا جو آپ کے یا میرے لئے ہے تو بہرحال انہیں اس بات پر مجبور تو نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں بہرحال کوئی نہ کوئی مشترک حوالے تو تلاش کرنے ہی ہوں گے۔ ہمارا گلہ یہ ہے کہ جب مذہب پسندوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ مشترک حوالے کیا ہوں تو ان کے پاس اس سوال کا جواب نہ ہونے کے باعث صرف کچھ الزام ہی بچتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ فقط ان مشترک حوالوں کی ضرورت کا مطالبہ تسلیم کرنے سے ہی وہ مذہب پسند نہیں رہتے یا یوں کہئے کہ انہیں سماج میں مذہبی تعبیر کے جبری نفاذ کے مطالبے سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ اس تناظر میں اب آپ دوبارہ مضمون دیکھئے تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ ہماری جدید معاشرت میں خلا ایک مشترکہ منطق کا ہے۔ میری رائے میں فی الحال یہ منطق ابھی ایجاد ہی نہیں ہوئی اور مکالمہ اس سمت میں اس وجہ سے آگے نہیں بڑھ پا رہا کہ دونوں جانب سے عدم تحفظات ہیں۔ آداب و سلام۔

  • 14-02-2016 at 6:30 pm
    Permalink

    عاصم صاحب شکراً, آپ کی بات سے جزواً اتفاق کرتے ہوے یہ ضرور کہوں گا کہ تینوں مضامین, محض مذہبی حوالے کے علاوہ بھی قابلِ تنقید ہو سکتے ہیں.
    لبرل ازم کوئ غیر اقداری value nutral ) نظامِ عمل نہیں جس طرح کچھ دوست پیش کر رہے ہیں. دوسرا سایئنس کی بحیثیت علم کہیں کوئ مخالفت ٹھیٹ مذہبی حلقے میں بھی میرے علم کے مطابق کہیں نہیں ہے.. اگر کوئ دوست میرے علم میں اضافہ کرے تو ممنون ہوں گا. محترمہ رامش صاحبہ غالباً “میرے مطابق” کی باقاعدہ ناظر ہیں کہ اپنے مضمون میں الفاظ و اصطلاحات تک وہی استعمال کی ہیں. تیسرے بے حجاب اظہارِعشق کی حدود پر کلام کیا جائے تو اس کے لیے یہی دلیل کافی ہے کہ مغرب کے ہر ملک میں اس کی حدود و قیود مختلف جگہوں و اوقات میں مختلف ہیں تو اسی نقطے پر ہم اپنے ملک میں اس پر کم یا زیادہ تحدید کیوں نہیں لگا سکتے یا کم سے کم اس کا مطالبہ بھی کیوں نہیں کر سکتے.
    سلام عرض ہے.

Comments are closed.