فہمیدہ ریاض سے ایک ملاقات


سوال: فہمیدہ کیا آپ ہمیں بتائیں گی: فہمیدہ ریاض کون ہے؟

فہمیدہ ریاض: یہ تو آپ مشکل سوال کر رہے ہیں۔ میں فہمیدہ ریاض سے بالکل واقف نہیں اور میں ان کے بارے بہت کم سوچتی ہوں۔ اس لیے میں انہیں نہیں جانتی زیادہ۔ (قہقہہ) میرٹھ میں کہتے ہیں کہ پیدا ہوئی تھی۔ نائنٹین فورٹی فائیو جولائی ٹوئنٹی ایٹ۔ (اٹھائیس جولائی انیس سو پینتالیس) یہ ہے ڈیٹ آف برتھ۔ والدین آزادی سے پہلے ہی آ گئے تھے، سندھ میں رہتے تھے۔ تو یہیں پر پڑھی تمام تعلیم یہیں پر حاصل کی۔ تمام تو کیا ایک حد تک۔ کالج میں یہاں پڑھی۔ یونیورسٹی میں یہاں تھی، پھر سکسٹی سیون میں میں انگلینڈ چلی گئی۔ وہاں کچھ عرصے بعد میں نے بی بی سی میں کام کیا تھا۔ وہاں میں رہی ہوں سیونٹی ٹو کے آخر تک۔ اس زمانے میں وہاں لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ہوتا تھا، اس میں فلم ٹیکنیک کا کورس کیا تھا۔ اس وقت وہ بڑا پرسٹیجس ادارہ تھا۔ سیونٹی تھری میں میں پھر واپس آ گئی۔ میری بڑی بیٹی وہاں پیدا ہوئی سارہ۔ یہاں آنے کے بعد پاکستان کے حالات میں مصروف و مشغول ہوگئے۔ یہاں سے ایک رسالہ پبلش کرنا شروع کیا جس کا نام تھا: ’آواز‘۔ ضیاالحق کے زمانے میں، اس پر بڑے مقدمات وغیرہ قائم کیے گئے تھے۔ اس وقت بہت سے (لوگ) ملک چھوڑ کر جا رہے تھے میں بھی چلی گئی۔ ہندوستان رہی۔ مارچ ایٹی ون میں گئی تھی ایٹی سیون دسمبر میں واپس آئی۔ سات برس ہندوستان میں رہی۔ پہلے وہاں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ’پوئٹ ان ریذیڈنس‘ تھی۔ پھر سینئر ریسرچ فیلو رہی ’آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف سوشل ریسرچ‘ کی اور آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل ریسرچ کی۔ اس کے بعد پاکستان میں تھی۔ پاکستان میں جب تبدیلی آئی تھی تو اسلام آباد میں تھی میں چئر پرسن نیشنل بک کونسل آف پاکستان۔ اس کے بعد منسٹری آف کلچر کی کنسلٹنٹ رہی کچھ عرصے۔ پھر نائنٹی سکس، نائنٹی سیون میں اپنی ایک این جی او رجسٹرڈ کروائی۔ ’وعدہ‘ اس کا نام تھا۔ ویمن اینڈ ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن۔ بنیادی طور پر تو میں یہ چاہتی تھی کہ یہ ایک پبلشنگ ہاؤس بنے جو بچوں اور عورتوں کے لیے کتابیں چھاپے۔ مگر ساتھ ساتھ پھر دوسری چیزیں بھی تھیں، کانفرنسیں کروانا۔ سیمینار منعقد کرنا۔ یعنی کتابیں بنانے کے سلسلے میں دوسری بھی بہت ساری سرگرمیاں تھیں، وہ جاری رہیں۔ وہ ادارہ ہے اپنی جگہ۔

سوال: کب شروع کیا آپ نے لکھنا؟

ف ر: سمجھیے شروع کیا سکول کے زمانے سے۔ پہلی نظم تو تبھی لکھی تھی۔

س: یاد ہے پہلی نظم کیا تھی؟ کیسے اس کی تحریک ہوئی؟

ف ر: پہلی نظم کیوں ہوئی؟ کیسے ہوئی مجھے بالکل یاد ہے۔ حالانکہ وہ نظم اب مجھے نہیں یاد ہے۔ ایسا تھا کہ سندھ یونیورسٹی کی ڈیبیٹ تھی، اس میں لڑکے اور لڑکیں بھی لے جائے گئے تھے۔ یہ دکھانے کے لیے کہ انٹر کالجیٹ ڈیبیٹ کیسی ہوتی ہیں۔ تو بس وہاں پر ایک مجمع تھا لوگوں کا جو ہنس رہے تھے۔ اسی نے مجھ پر بڑا گہرا اثر چھوڑا۔ وہی میں نے پہلی نظم میں لکھا تھا۔ سب لوگوں کا اکٹھا مل کر ہنسنا۔ یہ اس کا موضوع تھا شاید۔

س: آپ کے بہن بھائی، والدین، دادا، دادی۔ کیا نام تھے کیسے رہتے تھے؟ کچھ ان کی یادیں؟

ف ر: انور، مجھے اپنے باپ اور ماں کا نام تو بے شک یاد ہے کافی مشکل ہوتا ہے بھولنا۔ میرے والد کا نام تھا ریاض الدین۔ جن کی وجہ سے میرا نام فہمیدہ ریاض ہے۔ میری والدہ کے دو نام تھے۔ ہمارے گھر میں سب کے دو نام رکھے جاتے تھے۔ان کا نام تھا حسنہ بیگم۔ جب میں پانچ سال کی تھی تو میرے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔میری والدہ نے ہم بہنوں کی پرورش کی۔ میرے والد جب یہاں آئے سندھ تو نور محمد ہائی سکول بنا تھا اس وقت۔ وہ تو تھرٹیز میں آ گئے تھے۔ تو وہ اس میں پڑھاتے تھے۔ اب مجھے ٹھیک سال تو یاد نہیں۔ اس وقت چھوٹے گیج کی ٹرین چلا کرتی تھی جسے اب یہ دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اجمیر سے ہوتی ہوئی یو پی تک چلی جاتی تھی۔ دہلی سے شاید بدلتے تھے اور پھر میرٹھ چلے جاتے تھے۔ مگر اس زمانے میں بھی یہ بہت ہی دور سمجھا جاتا تھا۔ باقاعدہ پردیس۔ تو وہ پڑھاتے تھے پہلے سکول میں پھر وارڈن تھے اور آخری زمانے میں اپنے انتقال سے کچھ عرصے پہلے وہ ٹریننگ کالج میں پڑھانے لگے تھے۔ انہوں نے بہت لمبا عرصہ گزارا تھا یہاں۔

سوال: پھر باقاعدہ شاعری کب سے شروع کی؟

 ف ر: وہ تو کالج کے زمانے ہی میں۔ زبیدہ گورنمنٹ کالج حیدرآباد۔ سب کو نیشنلائیز کر لیا گیا تھا لیکن وہ تو شاید تھا ہی سرکاری کالج۔ بڑی اچھی جگہ تھا اور بڑا سا آسمان تھا اس پر۔ خاصا کھلا ہوا تھا اب تو نا جانے کیسا ہو گیا ہو؟ کالج کے زمانے میں نظمیں لکھنے لگی تھی۔ کبھی کبھی کسی کو سنا بھی دیں۔ کسی نے مجھ سے کہا کہ آپ بھیج دیں۔ اس زمانے میں ’فنون‘ شروع ہوا تھا یہ سکسٹی تھری کی بات ہے یا سکسٹی فور ہو گا۔ تو میں نے نظمیں بھیجیں اور وہ شائع ہو گئیں بس اس طرح آغاز ہوا۔

سوال: پہلی نظم کون سی شائع ہوئی؟

ف ر: یہ تو مجھے اب یاد نہیں ہے ’پتھر کی زباں‘ پہلے مجموعے کا نام تھا۔ سکسٹی سیون میں شائع ہوا۔ اس میں وہ نظم ہے۔ فنون میں وہ ایک نہیں تین چار نظمیں اکٹھی شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد میں فنون میں ہی لکھتی رہی۔ اب تو کچھ عرصے سے میں نثر زیادہ لکھ رہی ہوں۔ سات آٹھ سال سے۔

سوال: بنیادی تشخص آپ کا شاعرہ کا ہے۔ اور اتنے عرصے سے شعر کہہ رہی ہیں آپ کو کیا لگتا ہے کیا بنیادی بات آپ نے کہنے کی کوشش کی؟

ف ر: دیکھیے کبھی کبھار تو آپ کچھ کہنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن زیادہ تر تو آپ وہ لکھتے ہیں جو آپ کے دل پر گزر رہی ہوتی ہے۔ یا تو کوئی چیز جو آپ کو بہت اچھی لگے یا کسی چیز سے آپ کو بہت گہرا دکھ ہو۔ تو رسمی طریقے سے وہ ایک شعر بن جاتا ہے اور آپ اسے لکھ ڈالتے ہیں۔

سوال: کیسے آتی ہے نظم اور کیسے پھر وہ صفحے تک جاتی ہے؟

ف ر: یہ بڑا ہی مسٹیریس عمل ہے۔ بعض اوقات تو کوئی صورتِ حال ہے اور ایک لفظ آپ کے دماغ میں آتا ہے، اور بعض اوقات تو ایک لفظ کے گرد ایک نظم بن جاتی ہے۔ ایسا کبھی کبھار ہوتا ہے کہ کچھ الفاظ ہوتے ہیں جو آتے ہیں آپ ان کے گرد بناتے ہیں سارا تانا بانا۔

سوال: کچھ نظمیں آپ کی سیاسی ہیں۔ کچھ واقعاتی بھی ہیں؟

ف ر: سیاست ایسا نہیں ہے کہ آپ کی ذاتی زندگی سے الگ کوئی چیز ہو۔ خود میری نسل جس دور میں پلی بڑھی، آپ ساٹھ کی دہائی لے لیجیے، تو وہ دور خود پاکستان میں ایک تبدیلی کا دور تھا۔ وہ ایوب خان کا دور تھا۔ ایوب خان کے خلاف ایک سٹوڈنٹ موومنٹ شروع ہوئی تھی۔ کراچی سے شروع ہوئی تھی اور اس وقت ہم سٹوڈنٹ تھے اور ہم بھی اس میں شامل تھے ایک نئی دنیا بنانے کا ولولہ سا تھا جو صرف پاکستان ہی میں نہیں تھا۔ ساری دنیا ہی میں تھا۔ لوگوں کی جدوجہد کا ایک دور۔ نظام تبدیل ہو رہے تھے، حکومتوں کے تختے الٹے جا رہے تھے۔ خصوصاً ان ملکوں میں پوسٹ کالونیل جنہیں آپ کہہ سکتے ہیں۔ چاہے وہ فرانس، چاہے جرمنی اور چاہے وہ انگلینڈ ہو انہوں نے اپنی کالونیز (نوآبادیات) چھوڑی تھیں اور ان کے معاشروں میں ایک اتھل پتھل تھی ایک ایسی تبدیلی کی خواہش جو آ رہی تھی اور آنا چاہتی تھی۔ نوآبادیاتی نظام سے نکلنے والی دنیا میں ایک نئے نظام کا خواب تھا۔ جو سماجی برابری کا اور انصاف کا اور وہ قابلِ حصول لگ رہا تھا اس وقت کیونکہ چند ایک ممالک تھے جن میں تبدیلیاں آئی تھیں اور یہ ایک بڑی انسپریشن تھی، تو ان حالات میں بہت سوچ سمجھ رکھنے والا پڑھا لکھا شخص کوئی نہ کوئی سٹینڈ لے رہا تھا۔ گو کہ اس وقت یہ تحریکیں اتنی مضبوط نہیں تھیں لیکن ان میں ایسے بھی تھے جو مذہبی تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا مطمعِ نظر ہونا چاہیے۔ اس میں جو نمایاں فکری عنصر تھا وہ سوشلسٹ معاشرہ قائم کرنا چاہتا تھا۔ میں بھی اس میں شامل تھی یقیناً، اور صرف میں ہی کیوں، بلاشبہ میں نے سیاسی نظمیں لکھی ہیں، جیسے کہ میں تمہیں بتایا ہے کہ میری جو پہلی نظم تھی وہ بھی کوئی ایسی رومان پرور نہیں تھی۔ حالانکہ عشق بہت بڑا محرک ہوتا ہے شاعری کے لیے، آپ سے شعر کہلوانا شروع کر دیتا ہے عشق لیکن اس وقت ہمارے پس منظر میں آپ دیکھیں تو فیض صاحب تھے۔قاسمی صاحب کی شاعری تھی، مجاز کی بھی شاعری تھی۔ مجروح سلطان پوری کی شاعری تھی، ساحر لدھیانوی کی شاعری تھی۔ یہ تھا وہ پس منظر جس میں ہم نے لکھنا شروع کیا۔ تو اس میں گہری سیاسی وابستگی تھی اور اب بھی رہتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  نااہل محبت کرنے والے کی سزا

سوال: ایک تو یہ ہوتا ہے کہ جو کچھ بھی آپ کے ارد گرد ہو رہا ہوتا ہے چاہے وہ سیاسی ہو غیر سیاسی ہو، سماجی نوعیت کا ہو، ذاتی نوعیت کا ہو، اجتماعی ہو انفرادی ہو، آپ کو متاثر کرتا ہے لیکن کچھ ایسے سیاسی واقعات بھی ہوتے ہیں، آپ ایک ملک میں رہ رہے ہوتے ہیں اس میں جو کچھ ہوتا ہے وہ دنیا کے دوسرے واقعات سے زیادہ آپ کو متاثر کرتا ہے اور یہ کوئی عجیب بات نہیں ہے لیکن جیسے آپ نے بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں ایک نظم لکھی تھی، حلقے میں پڑھی تھی، تو ایسے واقعات آپ کے ہاں شعری شکل کیسے اختیار کرتے ہیں؟

  ف ر: سیاسی واقعات میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ آپ کو بہت گہرے طور پر متاثر کرتے ہیں۔ ایک بے چینی پیدا کرتے ہیں اور آپ ٹہلنے لگتے ہیں اور لکھنے لگتے ہیں جب تک پورا تصور بن کر سامنے نہ آ جائے اور پھر آپ اسے تھوڑا بہت سجا سنوار نہ لیں۔ یعنی یہ دوسرا مرحلہ کہ آپ اس کی تراش خراش کرتے ہیں۔ لیکن پہلا تو بہت ہی پُراسرار ہے اور سچ تو یہ ہے کہ شاعر اس کے بارے میں بہت کم جانتا ہے۔ اور ہر بار یہ ایک طرح سے ہوتا بھی نہیں ہے۔ ہر مرتبہ کوئی نئی ہی چیز ہوتی ہے لیکن یہ درست ہے کہ مجھے نظم لکھنے کےلیے کبھی اس طرح کی چیزوں کی ضرورت نہیں ہوئی۔ میں نے ایک دو نظمیں تو رکشہ میں بھی بیٹھ کر لکھی ہیں کیونکہ وہ اسی وقت خیال آ رہے تھے اور اسی وقت لکھیں۔ یہ میں نے محسوس کیا ہے کہ جو پہلا پہلا امپیکٹ ہوتا ہے آپ کے ذہن پر آپ کے دل پر وہ بہت اہم ہوتا ہے۔ اسے اگر اسی وقت نہ لکھ نہ لیا جائے نہ تو بعد میں آپ اسے پکڑ نہیں پاتے۔ ایسے ہی ہے کوئی وقت ہوتا ہے، کوئی آن، کوئی پل جو آپ کےساتھ کچھ کر رہا ہے، کچھ الفاظ ہیں جو آپ کے ذہن میں آ رہے ہیں اور ایک طرح سے آ رہے ہیں۔ کچھ امیجز ہیں جو آ رہے ہیں، آپ اس وقت انہیں لکھ نہیں دیں گے تو پھر وہ بھاگ جائیں گے۔ آپ کے ہاتھ پھر نہیں آنے والے۔

سوال: ساری نظمیں آپ نے ایک نشست میں لکھیں؟

ف ر: میں نے اکثر نظمیں ایک نشست میں لکھیں، نہیں، پھر میں بعد میں ان پر کام بھی کرتی ہوں۔ تم جانتے ہو کہ میں پابند نظمیں لکھتی ہوں۔ آزاد نظمیں بھی ایک طرح کی پابند ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہماری جو اردو میں روایت ہے جیسے فیض نے یا راشد نے لکھی ہیں تو ان میں ایک بحر ہوتی ہے لیکن وہ مختلف ٹکڑوں اور لائنوں میں آتی ہے یعنی جیسے آپ دیکھیں: یہ رات اس درد کا شجر ہے، فیض کی نظم ہے:

’یہ رات اس درد کا شجر ہے

جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے

تو آپ دیکھیں گے کہ: فعول فعلن فعول فعلن، پھر اگلی لائن بہت لمبی ہے:

عظیم تر ہے کہ اس کی شاخوں میں لاکھ مشعل بکف ستاروں کے کارواں گھر کے کھو گئے ہیں‘

لیکن یہ سب کچھ ’فعول فعلن‘ ہی میں ہے۔ تو یہ بھی پابند ہوتی ہے تو میں اس طرح کی نظمیں لکھتی ہوں۔ تو اس میں جو نظم بنی اس کو بحر میں لانے کے لیے بعد میں اس پر کام کرتا ہے آدمی۔ تو اس میں نشست الفاظ کی ادھر اُدھر کر سکتا ہے ہے وہ اور بھی بہت کچھ کرتا ہے۔

سوال: یہ آپ ہر نظم کے ساتھ کرتی ہیں آپ یا کچھ نظمیں ایسی ہوتی ہیں جو ایسے آ جاتی ہیں کہ ان میں کچھ نہ کرنا پڑے؟

ف ر: بالکل ہر نظم کی ایڈٹنگ ضرور کرتی ہوں کیونکہ کوشش تو انسان کی ہوتی ہے نا، پھر یہ آپ کی ذمہ داری بھی ہے، اپنے پڑھنے والوں کی طرف سے کہ آپ انہیں ایک سب سٹینڈرڈ یاناقص چیز نہ دیں۔ ان کی توقعات کو بہت زیادہ مجروح نہ کریں لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ بہت ساری ایڈٹنگ کے بعد آدمی کہتا ہے کہ پہلا والا مصرع ہی بہتر تھا۔ تو میرے لکھنے میں یہ ہے کہ میرا جو پہلا ڈرافٹ ہوتا ہے میں اس کی طرف کافی لوٹتی ہوں۔ بہت سی ترکیبوں کے بعد پہلے ڈرافٹ کو ہی ترجیح دیتی ہوں۔

سوال: آپ بہت عرصے تک لندن میں بھی رہی ہیں، تو کیا محسوس کرتی ہیں کہ وہاں رہنے کا آپ کی سوچ اور شاعری پر کیا اثر پڑا جو یہاں رہنے سے مختلف تھا؟

ف ر: میں نے وہاں بہت سے نظمیں لکھی تھیں ’بدن دریدہ‘ کی بہت سے نظمیں تو وہاں ہی لکھی تھیں۔ دیکھیے نا باسٹھ میں چلی گئی تھی باہتر کے آخر میں واپس آئی تہتر میں ’بدن دریدہ‘ شائع ہوئی تو اس کی زیادہ تر نظمیں وہیں لکھی گئی تھیں۔ تو یہ کہ ایک نیا ملک تھا اور ایسا نہیں ہوتا کہ آپ مغرب میں چلے گئے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم پاکستان کے ایک گھر سے اٹھ دوسرے گھر میں چلے گئے۔ ہمارا انٹریکشن بہت کم ہوتا ہے ویسٹ سے، میرا تو ہوا کیونکہ میں وہاں فلم سکول میں ایڈمیشن لیا تو وہاں ہندوستان کے لوگوں سے مجھے پہلی بار ملنے کا موقع ملا، اس سے پہلے میں ہندوستان نہیں گئی تھی بلکہ میرا پہلا امپریشن جو لندن ائرپورٹ پر تھا ہیتھرو پر، وہ یہ تھا کہ میں نے ایک سکھ کو دیکھا، جو میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا۔ وہ حیرت انگیز تھا گوروں کو تو میں بھول گئی تھی میں تو اس سکھ کو دیکھ رہی تھی۔کیونکہ اردو ادب کی وجہ سے ان لوگوں کے بارہ میں پڑھا تو بہت کچھ تھا، آپ کو پتہ ہے ہمارے، مہندر سنگھ اور راجندر سنگھ بیدی اور بلونت سنگھ جن کے بغیر تو اردو ادب کچھ بھی نہیں، تو ہندو اور سکھ معاشرے کے بارے میں پڑھ تو رکھا تھا لیکن اسے دیکھنے کا فرسٹ ہینڈ ایکسپیرئنس نہیں تھا۔ پھر دوسرے ملکوں کے لوگوں سے ملنے کا موقع ملا۔ عرب لوگوں سے، ایرانیوں سے، مصریوں سے، لندن سکول آف فلم ٹیکنیک ایک بہت ہی کاسمو پولیٹن جگہ تھی، ایک تو کامن ویلتھ ممالک سے آتے تھے اور یورپ سے بھی آتے تھے، لاطینی امریکہ سے آتے تھے۔ یہ ایک بہت ہی اچھا ایکسپوژر تھا پھر میں نے بی بی سی میں کام کیا۔ اس کے علاوہ ذاتی اور میرڈ زندگی کا آغاز لندن سے ہوا تھا۔ لندن میں میری پہلی بیٹی ہوئی تو ایک طرح یہ بہت بھرپور تجربہ تھا جو مجھے حاصل ہوا۔ لیکن چھ سات برس میں آدمی کوئی ایسا تبدیل نہیں ہو جاتا ہے اور میں نے کبھی بھی لندن میں ہمیشہ رہنے یا سیٹل ہونے کا خیال نہیں کیا تھا۔ ہمیشہ میں واپس ہی آنا چاہتی تھی۔ ہم اپنے ملک کو مختلف بنانا چاہتے تھے۔ لہٰذا یہاں پہ آنے کا فیصلہ ایک بہت ہی شعوری اور عزم کے ساتھ کیا ہوا فیصلہ تھا۔

سوال: جو کچھ یہاں آ کر ہوا اس سے آپ کو خوشی ہوئی، مایوسی ہوئی، اطمینان ہوا؟

ف ر: دیکھو، انور! انسان کی ذات بہت عجیب ہے۔وہ اگر اپنی مرضی سے تکلیفوں سے گذرتا ہے تو خوش ہوتا ہے۔ یہاں آنے کے بعد میرے ذہن سے قریب جو تحریکیں اور جدوجہد تھی میں ان میں شامل رہی اور وہ زندگی کا ایک بہت ہی ثمردار حصہ ہے۔ مشکلیں تو پڑتی ہیں لیکن بہت سی چیزوں کو آپ فار گو کرتے ہیں اور یہ آپ کی اپنی چوائس ہے یعنی ایک خاص طرح کی زندگی جو ہو سکتی تھی اس کے بارے میں آپ نے کہا کہ نہیں یہ نہیں ہے آپ کا راستہ۔

سوال: انگلینڈ جانا اور پھر یہاں سے ہندوستان جانا ان دونوں کو آپ کن لفظوں میں بیان کریں گی؟

ف ر: ہندوستان تو ایک مجبوری تھی۔ میں مارچ اکیاسی میں گئی ہوں اس وقت ضیاالحق کا مارشل لا بہت ہی سخت تھا۔ اس حد تک کہ انہوں نے یہاں گلیوں تک میں ٹینک لا کر کھڑے کیے ہوئے تھے، لوگوں کو سرِ عام کوڑے مارے جا رہے تھے، جسے دیکھو اٹھا کر جیل میں ٹھونس دیا۔ مجھ پر مقدمات، اس لیے کہ میں ایک رسالہ ’آواز‘ شائع کرتی تھی، تو پبلشر اور ایڈیٹر کی حیثیت سے چودہ مقدمات تھے بلکہ ان میں سے ایک تو ہم جیت بھی گئے تھے۔ فخرالدین جی ابراہیم تھے اس وقت جج، ایک مقدمہ ان میں سے ون ٹوئنٹی فور اے کے تحت تھا ایک سڈیشن کے تحت مقدمہ تھا۔ جس کی سزا پھانسی یا عمر قید بھی ہو سکتی تھی۔ میں ضمانت پر رہا تھی۔ بچے چھوٹے چھوٹے تھے، جیل جانے کا نہ مجھے پہلے شوق تھا نہ اب ہے۔ مثلاً بہت لوگ کہتے ہیں آپ جیل کیوں نہیں چلی گئیں ’بھئی مجھے نہیں اچھا لگتا ہے بند جگہ پر رہنا، میں کھلی جگہ پر رہنا پسند کرتی ہوں‘۔ یہی وجوہ تھیں جن کی وجہ سے ہم نکل گئے تھے اور ہندوستان ہی پہنچ سکے تھے۔ لیکن ہندوستان جا کر رہنا، اس کے لوگوں کو دیکھنا اور اس کے بے حد پُر فسوں تنوع اور ڈائیورسٹی کو دیکھنا۔ یہ سب بہت اچھا لگا۔ بہر حال ہندوستان کوئی اتنا غیر ملک تو ہے نہیں۔ اردو ادب کا آغاز وہیں سے ہوا جیسے میں جب بمبئی گئی تو میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ یہیں کرشن چندر رہتے تھے، عصمت رہتی تھیں، یہیں جذبی ہوتے تھے، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی اور ان سب کو پناہ ملی تھی بمبئی میں یا منٹو بمبئی میں رہے۔ تو ہمارے ذہنوں میں یہ ہندوستان ہمیشہ سے تھا۔

اسی بارے میں: ۔  اقبال اور روئے زمین پر سب سے زیادہ دلکش عورت

سوال: کتنا مختلف پایا آپ نے ہندوستان کو پاکستان سے، جیسا کہ آپ نے کہا کہ واحد راستہ بچا تھا لیکن پھر بھی زندگی یہاں کے مقابلے میں کیسی لگی؟

ف ر: بہت بڑا فرق تھا، کیونکہ انیس سو اکیاسی سے انیس سو ستاسی تک وہاں تھی۔ وہاں جاکر، دلی پہنچتے ہی دلی جاکر مجھے سب سے پہلے یہ ہی خیال آیا تھا کہ یہ جو آل انڈیا ریڈیو ہے اردو کے کتنے ادیب وابستہ رہے ہیں اس سے، کتنی چیزیں ان کی لکھی ہوئی تھیں جو کہ ریڈیو کے ذریعے لوگوں تک پہنچتی تھیں۔ ایک تو لگتا ہے کہ آدمی تاریخ کے اچانک روبرو آ گیا ہے۔ وہاں جاکر احساس ہوتا ہے کہ انگریز کو گئے ہوئے اتنا عرصہ نہیں گذرا یہ احساس پاکستان میں ہوتے ہوئے نہیں تھا۔ کیوں نہیں تھا؟ اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے انگریز کی جو سیٹ آف پاور (مرکزی علاقۂ اقتدار) اس علاقے میں نہیں تھی جن میں پاکستان بنا۔ پھر ان کی بنائی ہو سب چیزیں سامنے آجاتی ہیں۔ انہوں نے جو پورا سسٹم قائم کیا تھا کالونیل سسٹم، ایڈ منسٹریشن کا سسٹم وہ سب کچھ جوں کا توں تو نہیں ہے مگر تھوڑی بہت تبدیلی کے ساتھ آپ ابھی تک دیکھ سکتے ہیں (ہنستے ہوئے) یہاں تو وہ سسٹم تھا ہی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کوئی سسٹم رہا ہی نہیں ہے۔ لہذا اس کا یہاں احساس نہیں ہوتا تھا، وہاں پر سب سے بڑا احساس ایک تو یہ ہوا، دوسرا اکثریت دوسرے مذہب کی تھی جو یہاں پر تو نہیں ہے۔یہاں تو آپ ایک پتھر بھی اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ نیچے سے کئی مسلمان نکل آئے ہیں۔ یہاں پر تو صرف مسلمانوں سے ہی واسطہ پڑتا تھا، وہاں بالکل یہ نئی چیز تھی یہ ایک طرح سے مختلف بھی تھا۔ مگر یہ سچی بات ہے وہاں مارشل لا نہیں لگتے رہے ہیں۔ ایک کھلا ہوا ماحول ہے۔ لوگ ریلیکس نظر آتے ہیں۔ سڑک پر آپ کسی چہرے کو دیکھتے تو ریلیکس نظر آتا تھا۔ پاکستان کے مقابلے میں ایک تو یہ بڑا فرق تھا اور دوسرا یہ کہ بہت سے چیزوں کا آپ کو اندازہ ہوتا ہے۔ آپ کو یہ اندازہ وہاں جاکر اور رہ کر ہوتا ہے کہ خود پاکستان کی تحریک کیوں چلی ہوگی۔ دیکھیں ہندو اور مسلمان وہاں بڑے تواتر کے ساتھ چھوٹے پیمانے پر لیکن کافی تواتر کے ساتھ چھوٹے موٹے کمیونل فسادات تو ہوتے رہتے تھے۔ نزدیک یا دور، آپ سوچتے ہیں کہ بھئی یہ مسئلہ اس وقت بھی ہوگا، اس کے لیے لوگوں نے کیا سوچا کیا نہیں سوچا، کیا محسوس کیا، کیا نہیں محسوس کیا۔ یہ سب چیزیں پتہ چلتی ہیں۔ بات یہ ہے کہ یہاں ہم گرفتار ہونے والے تھے۔ (مسکراتے ہوئے) اس طرح سے سوچیں آپ کہ گرفتاری سے بچنے کے لیے کہیں گئے لیکن ذہنی اور جذباتی طور پر جس تحریک کا آپ حصہ ہوتے ہیں، آپ اس سے جڑے ہی رہتے ہیں۔ اس کے بارے میں سوچتے ہی رہتے ہیں۔ اسی کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھتے ہی رہتے ہیں۔اول دن ہی سے وہاں سے واپس آنے کا ارادہ تھا۔ بھئی واپس آئیں گے، جب بھی موقعہ ملا۔

سوال : پہلی ملازمت آپ نے کب کی؟

ف ر : پہلی ملازمت میں نے ریڈیو پر کی تھی اور فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام پیش کیا کرتی تھی حیدرآباد میں۔

سوال: پریزینٹر کے طور پر؟

ف ر : ہاں پریزینٹر کے طور پر، لکھتی بھی تھی ریڈیو کے لیے۔

سوال : اسٹاف آرٹسٹ کے طور ؟

ف ر: حقیقت میں ہوتی تو وہ تنخواہ ہی تھی، مگر کنٹریکٹ تھا۔ آرٹسٹ کی حیثیت سے تو نہیں شاید ابھی اسے آؤٹ سائیڈ کنٹری بیوٹر سمجھا جاتا ہے۔ لیکن وہ ایک تنخواہ والی ملازمت تھی تب میں شاید انٹر میں پڑھتی تھی۔

سوال : یہ تو ایک طرح کا جزوی کام تھا شاید، پہلی ملازمت کہاں اختیار کی؟

ف ر : پہلی ملازمت میں نے لندن میں کی تھی، ایک میرین انشورنس کمپنی میں ایک کلیریکل جاب تھی، بینک کے ایریا میں۔ پاکستان آنے کے بعد میں نے آر لنٹاس میں کام کیا۔ وہاں فلمیں بناتی تھی اور ہیڈ آف کریٹیو ڈیپارٹمنٹ تھی۔ یہ تھا میرا عہدہ وہاں پر۔ کیوں کہ میں فلم ٹیکنیک کا کورس کرکے آئی تھی لندن سے۔ یہ ایک سینئر انتظامی عہدہ تھا۔ یہاں اس قابلیت کا اور کوئی شخص ہی نہیں تھا۔ سوائے ایک کے، وہ تھے مشتاق گزدر۔ انہوں نے اسی سکول سے پڑھا تھا لندن سکول آف فلم ٹیکنیک سے۔

سوال : آپ نے آر لناٹس کے علاوہ کیا ملازمت کی؟

ف ر : لنٹاس کے بعد میں نے دوسری اور کوئی ملازمت نہیں کی تھی اور وہ چھوڑ دی تھی۔ کیوں کہ ہم نے سوچا تھا کہ ہم سرمایہ داروں کی خدمت تو نہیں کریں گے۔ مگر بہرالحال نوکری تو کہیں کرنی تھی، تو پھر میں ایس کے این ایف جو فارماسیوٹیکل کمپنی ہے، وہاں میں نے کچھ عرصے کام کیا تھا۔

سوال : آپ رسالہ نکالنا چاہتی تھیں، وہ تجربہ کیسا رہا، ’آواز‘ کا خیال کیسے آیا؟

ف ر : ایسے آیا کہ ایک فورم بنایا جائے۔ کیا کریں بھئی ہیں تو ہم لکھنے والے، اس طرح کی نوکری کرنا نہیں چاہتے جس میں اپنے نظریات پر کمپرومائز کرنا پڑے، لہٰذا کیا کیا جاسکتا ہے۔ تو یہ صورت نظر آئی تھی کہ ایک رسالا نکالا جائے اور جو کچھ کہنا چاہتے ہیں اس میں کہا جائے۔ ساتھ ساتھ یہ ہے کہ گھر بھی چلائیں اپنا۔

سوال : اس کے بعد اب صورتحال کیسے نظر آتی ہے؟

ف ر : یہ تو بہت لمبی چھلانگ لگا رہے ہیں ہم، اس کے بعد تو بہت کچھ ہوا، ضیاالحق صاحب کا دور آیا پھروہ دور تقریباً ختم ہوگیا، ضیاالحق صاحب نہیں رہے۔ پھر بینظیر صاحبہ کی حکومت آئی، پھر وہ ختم ہوئی۔ جس میں میں نے نیشنل بک کونسل میں کام کیا تو پتہ چلا کہ سرکاری ادراوں کی کتنی بڑی پہنچ ہے۔ وہاں ہرگز کچھ نہیں ہوسکتا، کیونکہ ہماری بیورو کریسی کو تربیت ہی اس طرح سے دی گئی ہے کہ کچھ بھی نہ کیا جائے۔ ایک افسوسناک قسم کی صورتحال ہے۔ اس کا فرق مجھے ہندوستان میں بھی لگا تھا مجھے لگا تھا کہ ہندوستان کی بیورو کریسی میں اس حد تک چیزیں نہ ہونے دینے کا مادہ کم ہے، لیکن وہ کچھ کرنا چاہتے ہیں، ایک طرح کی آئیڈیل ازم ان لوگوں میں موجود ہے۔ کہیں نہ کہیں یہ بات محسوس ہوتی تھی وہاں پر۔ لیکن یہاں پر تو اس طرح کی کوئی چیز نہیں۔ اس کے بعد پھر نواز شریف کا دور آیا جس میں انہوں نے مجھے ’را ‘ کی ایجنٹ ڈکلیئر کیا تھا۔ میرا پاسپورٹ ضبط کر لیا گیا تھا۔ یہ مسئلہ قومی اسمبلی میں اٹھا تھا، بینظیر پر جو سات الزامات لگائے گئے تھے ان میں سے ایک یہ بھی تھا، کہ آپ نے فہمیدہ ریاض کو ایک اہم عہدہ دے دیا حالانکہ وہ کوئی خاص اہم عہدہ نہیں تھا۔ لیکن ان پر یہ ایک الزام تھا۔ وہ دور بھی ختم ہوا اور ایک دن پتہ لگا کہ پرویز مشرف صاحب آ گئے ہیں۔ تو تب سے اب تک فرق تو آیا نہ کافی۔ رسالے کے حوالے سے جو تم پوچھ رہے تو، تب سے اب تک فرق تو آیا ہے نا۔ اب جو انفارمیشن میں ٹیکنالوجی کے حوالے سے تبدیلیاں آئی ہیں اور اس کا جو ایک ریولوشن بڑا زبردست آیا ہے۔ اس نے دنیا ہی کو نہیں پاکستان کو بھی بدل دیا ہے بہت کچھ۔ اب یہ دیکھیں بہت سے ٹیلی ویژن آ گئے ہیں


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔