معطل آدمی کے خواب


 یادوں کے کینوس پر بچپن کی اس سرد رات کی موہوم سی تصویر اب بھی قائم ہے۔ باہر برف گر رہی تھی۔ اندر کمرے میں گھی کے کنستر سے بنی انگیٹھی جل رہی تھی جس کا پیندا کاٹا گیا تھا۔اس کے باوجود خنکی رگوں میں اتر کر خون جما دینے والی تھی۔کچی چھت کے شہتیر سے ایک تار لٹکی ہوئی تھی جس کا دوسرا سرا نانا  کے چہرے کے عین سامنے آنکڑا بنا کرختم ہو رہا تھا۔ اس آنکڑے سے مٹی کے تیل کی ایک زنگ آلود لالٹین لٹک رہی تھی۔ نانا کوئی بوسیدہ سی کتاب پڑھ رہے تھے اور میں کہانی کے انتظار میں تھا۔ بہت دیر بعد نانا نے کتاب بند کی اور سر اٹھا کر مجھے دیکھا۔ تورو! تم ابھی تک سوئے نہیں؟ نہیں نانا مجھے کہانی سننی ہے۔اچھا سناتا ہوں صبر کرو۔ نانا نے چمٹے سے انگیٹھی پکڑ کر ہٹا دی۔ دسپنے سے بڑے بڑے انگاروں کو آہستہ آہستہ توڑ دیا۔ انگاروں میں سرخی دوڑ گئی اور تپش تیز ہو گئی۔ نانا نیم دراز ہوئے۔ بھیڑ کے اون سے بنی رضائی پاﺅں پر پھیلائی اور کہانی سنانے لگے۔ اطلس دیوتا کی کہانی۔ اطلس دیوتاجوسمندروں کی گہرائی کا رازدان تھا اور آسمان کو زمین سے جدا رکھنے والے ستونوں کا رکھوالا تھا۔پھر اس نے دیوتاﺅں کے بادشاہ زیوس کی نافرمانی کی۔ زیوس جس کے قبضے میں طوفان اور آسمانی بجلیاں تھیں۔زیوس نے سزا کے طور پر اطلس کو کرہ ارض کاندھے پر اٹھانے کی سزا دی۔ مدتوں بعد پرسیس کی درخواست پر زیوس نے اطلس کو پتھر میں تبدیل کیا تاکہ وہ اذیت نہ سہے۔کہانی ختم ہو چکی تھی۔

نانا! کیا دھرتی اب بھی اطلس کے کاندھوں پر ہے؟ ہا ں اب بھی ہے۔ اطلس تھکتا نہیں ہے؟ کیوں نہیں تھکتا، اطلس کے کاندھے دھرتی کے بوجھ سے ڈھلک چکے ہیں۔ اطلس نے دھرتی کو کیوں اٹھا رکھا ہے؟ اطلس کو دھرتی کے انسانوں سے پیار ہے۔ اس نے دھرتی کو ہوا میں تھام رکھا ہے تاکہ ہوائیں چلیں اور انسان سانس لے سکیں۔ بارشیں برسیں تاکہ پھول کھلیں، بہار آئے، تتلیاں ناچیں، برف گرے۔ وہ دھرتی کو گرائے گا تو قیامت آ جائے گی۔ نانا !اطلس دھرتی کو کہیں رکھتا کیوں نہیں ہے؟ کیونکہ وہ پتھر کا ہے۔ اب نہیں رکھ سکتا کہیں۔ من میں بہت سے سوال تھے مگر نانا کو نیند آ رہی تھی۔ اطلس نے آسمانی ستونوں کو کیسے تھاما ہو گا؟ دھرتی کیسے اٹھائی ہو گی؟کیا زیوس کو اطلس پر ترس نہیں آیا؟ اگر ترس آ ہی گیا تو اطلس کو پتھر کیوں بنایا؟پے درپے سوالوں پر نانا نے کل کے وعدہ پر ٹال دیا اور سونے کا حکم سنایا۔ اچھا نانا بات سنیں۔ جی! آپ صبح مسجد جائیں گے ناں؟ جی جاوں گا۔ صبح سب گھر والوں کو کہیں کہ برف پر جگہ جگہ نہ چلا کریں۔ میری برف خراب نہ کریں۔ اچھا ٹھیک ہے اب سو جاﺅ۔

بچپن کے خیال بہت معصوم ہوتے ہیں اور خواب بڑے نازک۔ برف میں کھلے نرگس کے سفید پتوں پڑے شبنم کے قطروں کی مانند نازک۔ میں سوچتا تھا میں بڑا ہو کر اطلس بنوں گا۔دھرتی کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھاﺅں گا۔ انسانوں سے پیار کروں گا۔ دھرتی کے بوجھ سے جب کاندھے ڈھلک جائیں تو ایک بے نام پتھر کی مورت بنوں گا مگر دھرتی کو تھامے رکھوں گا تاکہ انسان سانس لے سکیں۔ بارشیں برس سکیں۔پھول کھل سکیں۔ تتلیاں ناچ سکیں۔مگر میں توبڑا ہی نہ ہو سکا۔

لامحدود وقت جو برسوں ، مہینوں، ہفتوں، دنوں اور گھنٹوں کی تقسیم میں مقید ہے، اس نے مجھے گزار دیا مگر بڑا نہ ہونے دیا۔ میں یونانی اساطیر کا اٹلس نہ بن سکا۔ بڑا نہ ہو سکا۔ نرگس کے پتوں پر شبنم کے قطرے ڈھلک کر پارہ پارہ ہو چکے تھے۔ صبح جب آنکھ کھلی تو شفاف برف پر قدموں کے بہت نشان تھے۔ میری بات کسی نے سنی ہی نہیں تھی۔

میری بات اب بھی شاید کوئی نہ سنتا ہو۔ اکثرسوچتا ہوں کہ میں کیوں لکھتا ہوں؟ کیا بدل جائے گا؟ ایسا کیا ہے جو پہلے لکھا نہ گیا ہو۔ اس دیس میں روز دو سو کالم چھپتے ہیں۔ ایک نہیں چھپے گا تو کیا کمی رہ جائے گی۔ اچھا جب چھپ جائے گا تو کیا تبدیلی آ جائے گی۔میرے اگلوں نے لکھ لکھ کر سماج کی جو تصویر بنائی تھی وہ تو ابھی تک ادھوری ہے۔ میں اس میں کتنے رنگ بھر لوں گا؟ ٹھیک ہے سماج کا نوحہ لکھنا چاہیے۔ درد کی بھٹی میں جھلستے گونگوں کی زبان بننا چاہیے مگر کیا منٹو سے کسی نے بہتر لکھا ہو گا اس سماج کا نوحہ؟ پھر کیا ہوا؟ کل منٹو پر فحاشی پھیلانے کے مقدمے بنے تھے آج ملک کی اعلی عدالت میں فحاشی کے خلاف مقدمے صحافی ہی لڑ رہے ہیں۔ ہم تو وہیں کھڑے ہیں۔ کل غلام احمد پرویز اور نیاز فتح پوری مجرم تھے، آج جاوید غامدی اور راشد شاز سوال کے کٹہرے میں ہیں۔ کل سبط حسن اور علی عباس جلالپوری غلط تھے، آج مبارک حیدر اور پرویز ہود بھائی غلط ہیں۔ یہاں سوال جرم ہے۔ خیال پر ادارتی بندش کا پہرہ ہے۔ کالم نگار سیاسی گماشتہ ہے۔ قلم کار نے خدا کے نام پر لوٹ سیل لگائی ہے۔ حب الوطنی کچھ مخصوص لوگ طے کرتے ہیں۔ ایمان کا ترازو کچھ پروہتوں کے ہاتھ میں ہے۔ سیاست کی نیو بدعنوانی کے گارے سے اٹھائی جاتی ہے۔احتساب انتقام بن چکا ہے۔ خرد کہیں زہد کے کھونٹے سے بندھا ہوا ہے اور کہیں افلاس کی مجبوری سے۔ خدا کے نام پر نفرت کے خنجر انسان نے انسان کے سینے میں پیوست کر رکھے ہیں۔ اس ماں کے سینے نے کتنے الاﺅ اگلے ہوں گے جسے اس کے بیٹے نے ایک موہوم سلطنت کے خواب میں قتل کر دیا۔ اسی موہوم خواب کے وابستگان نے پچھلے برسوں میں کتنی ماﺅں کے لخت جگر چھینے تھے۔ ہم روئے، ہم نے آنسو بہائے۔ دانشوروں نے عزم اور جنگ کے طبل بجا دیئے۔ اسی قبیل کے لوگوں نے جب کابل میں والی بال میچ میں چالیس افراد مار دیئے تو انسانیت سے لبریز دانشوروں نے زبان تالو سے لگا لی۔ وہ کون تھے اور ان کے پس پردہ مددگار کون تھے یہ میں اب بھی نہیں لکھ سکتا۔ اور کیوں لکھوں؟ مجھے معلوم ہے کہ میرے لکھے پر بس دو چار لوگ مجھے شاباش دیں گے باقی تو سب مجھے گالیاں دیں گے۔ دیسی لبرل کہیں گے۔ وہ مجھے بتائیں گے کہ وطن پرستی کی خاطر ہمیں ہمسائے کے گھر میں آگ جلائے رکھنی ہے۔ وہ مجھے سمجھائیں گے کہ اس میں ہمارے دیس کی بقا ہے۔ پھر وہ مجھے دیس کی مجبوری اور بقا کے نام پر خاموش کرا لیں گے اور دیس کی تکریم کے نام پر ضیا الحق کو قومی پرچم میں لپیٹ کر دفنا دیں گے۔ یہی ہوتا رہے گا۔

میں یونانی دیومالا کا اٹلس نہ بن سکا۔ مجھ میں دنیا سہارنے کی طاقت نہیںہے۔مگر میں’ معطل آدمی‘ تو بن سکتا ہوں۔ پراگ کے پرانے شہر میں ڈیوڈ سرنی کا بنایا ایک مجسمہ لٹک رہا ہے۔ اپنے پورے وجود کا بوجھ ایک ہاتھ سے تھامے پندرہ میٹر اونچائی پر لٹکتا ہوا فرائڈ کا مجسمہ جسے معطل آدمی کا نام دیا گیا ہے۔ میں لکھنا نہیں جانتا۔ بس ادراک کا بوجھ ہے جو بیان کرتا ہوں۔اپنا آئینہ ساتھ لئے گھومتا ہوں۔ روز دیکھتا ہوں مگر پھر بھی کھرچنا چاہتا ہوں۔ اس کھرچن کے سیاہ ذرات کاغذ پر بکھیرتا ہوں۔ اس خیال سے بکھیرتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی تو ہو گا جو اب بھی خواب دیکھتا ہو۔جو گرتے آنسوﺅں کو واپس اٹھا کر پلکوں پر سجانے کا آرزومند ہو۔ جسے شفاف برف پر قدموں کے نشان اچھے نہ لگتے ہوں۔ جسے برف پر پڑتے قدموں سے اٹھتی آواز میں چیخ سنائی دیتی ہو۔وہ چیخیں جن سے کونپلیں پھوٹتی ہیں۔کونپلیں پھوٹ پڑیں تو دوزخ میں بھی بہار آتی ہے۔مجھے آنے والی بہاروں کا نغمہ لکھنا ہے۔ کچھ الجھے خیال بکھیرنے ہیں جوشعور کے انگاروں پر دسپنے کی چوٹیں لگائیں تا کہ تپش بڑھ سکے۔ اس تپش میں نفرت جلانی ہے۔ کچھ سوال اٹھانے ہیں۔ کچھ خواب پرونے ہیں۔ یہ بتانا ہے کہ سوال کرنا جرم نہیں ہے۔ خواب دیکھنا جرم نہیں ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 154 posts and counting.See all posts by zafarullah