میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں…


’ردالفساد‘ کا نام سن کر ہی دماغ میں کچھ شخصیات اور ان کی غیر معمولی باتیں اور غیرمعمولی پیش گوئیاں یا د آتی ہیں۔خبر یہ ہے کہ جب 1945 ء میں دنیا دو بلاکس میں تقسیم ہوئی تو دو عالمی طاقتیں سامنے آئیں۔ ایک امریکہ اور دوسرا اس وقت کا یو ایس ایس آر یعنی روس۔دنیا پر ان دونوں ممالک کا بہت اثر رہا اور 1979ء میں جب روس نے افغانستان میں قد م رکھا تو امریکہ نے افغانستان میں مداخلت کی کیوں کہ امریکہ روس کوسرد جنگ میں شکست دینا چاہتا تھا۔ اس حوالے سے سرتوڑ کوشش کی گئی اور یوں امریکہ خود میدان میں نہیں آیا بلکہ روس کو افغانستان سے نکالنے کے لیے ایک علیحدہ پالیسی بنائی۔

وہ پالیسی یہ تھی کہ افغانستان میں افغان لوگوں کو مسلح کریں اوربالکل یہی فلسفہ پاکستان کے لیے بھی بنایا۔ پھر ہوا کیا؟ پھر ہوا یہ کہ امریکہ اپنی اور روس کی جنگ کو جہاد کانام دینے میں کامیاب ہوا اور یہی جہادی تصور افغانستان اور پاکستان کے مذہبی طبقوں میں پھیل گیا اور مذہب کو استعمال کیا گیا۔ امریکہ براہ راست اس جنگ سے دور رہا مگر پاکستان اور افغانستان کے لوگوں کے ذہنوں میں مذہبی جنونیت پیدا کی گئی اور بدقسمتی سے ہمارے بہت سے مذہبی طبقوں نے بھی ساتھ دیا اور یہ کہا کہ یہ جہاد ہی ہے اور ہمارا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ اپنے افغانستان مسلم بھائیوں کی مدد کریں اور روس کے خلاف جہاد کریں۔ چنانچہ پاکستان میں مجاہدین کی تربیت کی گئی اور پھر یہاں سے بھی مجاہدین بھیجے گئے تاکہ وہاں جہاد میں حصہ لے سکیں۔

پاکستان امریکہ اور روس کی اس جنگ میں کود گیا اور ہمارے لوگوں نے اسے کفر اور اسلام کی جنگ کا نام دیا۔ اسی کشمکش میں ایک سیدھا سادہ ، دوراندیش، حقیقت پسند اور عقل مند انسان سامنے آیا جو کہتا تھا۔ ’میں اب بوڑھا ہوگیا ہوں۔ گاوں گاوں گلی گلی نہیں گھوم سکتا تاکہ اپنی قوم کویہ بتا سکوں کہ اسلام کے نام پر جو یہ کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ یہ بربادی کے سوا اور کچھ نہیں‘۔

جی ہاں آپ ٹھیک سمجھ گئے ہیں، میں خان عبدالغفار خان کی بات کر رہا ہوں جنہوں نے کہا تھا کہ ’چند مفاد پرست سیاستدان دین فروش ملاوں کے ذریعے مذہب کو اس کے آفاقی اور روحانی مقام سے گرا کر دنیاوی سیاست میں گھسیٹ لائے ہیں۔ میں ان کو خبردار کرتا ہوں ایسا مت کرو ورنہ خدا کے نام پر اتنا خون بہے گا کہ ہم اور تم اس خون میں ڈوب جائیں گے‘۔

اسی شخصیت نے ایک نصیحت اور بھی کی کہ’یہ جنگ روس اور امریکہ کی جنگ ہے۔یہ جہاد نہیں بلکہ فساد ہے‘۔ اسی عدم تشدد کے علم بردار خان عبدالغفار خان کے صاحبزادے نے بھی کہا کہ’تم نے جو آگ افغانستان میں لگا رکھی ہے ایک دن اٹک کا پل پھلانگ کر پورے پاکستان میں پھیل جائے گی‘۔

خان عبدالولی خان لاہور اٹک کے اس پار رہے۔کیا یہ آگ پورے پاکستان میں نہیں پھیلی؟ بدقسمتی سے جب ان اشخاص نے کہا کہ ’یہ جہاد نہیں فساد ہے‘ تو مذہبی حلقوں نے ان پر کفر کے فتوے لگائے اور انہیں حسب روایت غدار وطن کہا گیا۔ آج’ ردالفساد ‘ کے نام سے جو جدوجہد جاری ہے ،سوچنے کی بات ہے کہ یہ وہی جہاد تھا جس کو اب فساد کہا جارہا ہے اور ان دونوں اشخاص پر ہم نے کفر کے فتوے لگائے۔ وقت نے خان عبدالغفار خان اور عبدالولی خان کے فلسفے کو درست ثابت کیا۔

آج اسی جہاد کو فساد کہا جارہا ہے۔اے کاش اس زمانے میں پاکستان اس جنگ میں نہ کودتا تو یہ حالات نہ ہوتے۔ ہمارا معاشرہ اس انتہا پسندی سے پاک ہوتا۔ہر طرف امن ہوتا۔اللہ پاک وطن عزیز کو امن کا گہوارہ بنائے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ٖفیاض الدین کی دیگر تحریریں
ٖفیاض الدین کی دیگر تحریریں