ہماری صحافت زوال پذیر ہے!


syed  پاکستان میں میڈیا کے متعلق مباحث روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں۔ عوام و خواص ٹیلی ویژن نشریات کے ذریعے معلومات حاصل کرنے کے لئے مجبور بھی ہیں لیکن ان ہر دو حلقوں کی جانب سے الیٹرانک میڈیا کی ادارتی حکمت عملی پر تنقید بھی سننے کو ملتی رہتی ہے۔ اگرچہ ہر طبقہ اپنے پس منظر اور نقطہ نظر سے ملک میں الیٹرانک میڈیا نشریات پر تبصرہ کرتا ہے لیکن یہ بات بہرحال طے ہے کہ متعدد ٹی وی چینل ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش میں غیر تصدیق شدہ خبر بھی نہایت سنسنی خیزی کے ساتھ پیش کرنے میں مضائقہ نہیں سمجھتے۔ خاص طور سے تشویش کا امر یہ بھی ہے کہ خبر غلط ثابت ہو جانے کے بعد غلطی تسلیم کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ اس صورتحال کا مظاہرہ گزشتہ دنوں لاہور ڈیفنس میں ہونے والے حادثہ کے بعد خاص طور سے دیکھنے میں آیا۔ اس دھماکہ نما حادثہ میں دس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ ابھی اس دھماکہ کی خبر سامنے ہی آئی تھی کہ اچانک گلبرگ میں دوسرے دھماکے کی خبر نے لاہور کے عوام کو خاص طور سے اور ملک بھر کے لوگوں کو عام طور سے شدید سراسیمگی اور خوف کا نشانہ بنایا۔ یہ خبر سوشل میڈیا پر کسی افواہ کی بنیاد پر ایک ٹیلی ویژن اسٹیشن نے نشر کی تھی اور تیزی سے بریکنگ نیوز سب سے پہلے اپنے ناظرین تک پہنچانے کی ذہنیت اور کوشش کی وجہ سے درجنوں دوسرے چینلز نے بھی کسی تصدیق کے بغیر اس خبر کو نشر کرنا شروع کر دیا۔ اب الیٹرانک میڈیا اتھارٹی ۔۔۔۔۔ پیمرا نے 30 چینلز کو اظہار وجوہ کے نوٹش جاری کئے ہیں۔ اس قضیہ کی وجہ سے ڈیفنس کے حادثہ کے بارے میں تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آ سکی۔ اور حکومت اسے جنریٹر پھٹنے سے ہونے والے دھماکہ کے بعد گیس سلنڈر پھٹنے سے ہونے والا دھماکہ قرار دے کر دہشت گردی کی بجائے حادثہ بتا چکی ہے۔

غیر تصدیق شدہ خبر کی تشہیر کے علاوہ مختلف ٹاک شوز میں فراہم کی جانے والی معلومات ، اختیار کیا جانے والا لب و لہجہ اور اشتعال انگیز مواد کی وجہ سے بھی صحافی اور صحافت پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ اس حوالے سے لے دے کے ایک ہی ادارے پیمرا سے تقاضہ کیا جاتا ہے کہ وہ ایسے پروگرواموں پر نظر رکھے اور ان کی روک تھام کا اہتمام کرے۔ یہ مطالبہ عام لوگوں کے علاوہ عامل صحافی بھی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مختلف میڈیا گروپ چونکہ مارکیٹ کا زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کرکے ملک کا نمبر ون چینل بننے کے لئے بے چین رہتے ہیں، اس لئے کسی مقابل چینل پر قابل اعتراض مواد یا پروگرام نشر ہونے کی صورت میں پیمرا پر لعن طعن کرنے میں دیر نہیں کی جاتی۔ یہ دلچسپ صورتحال بھی دیکھنے میں آتی ہے کہ عدالتوں میں میڈیا سے متعلق مختلف معاملات کی سماعت کے دوران بھی جج حضرات پیمرا کے نمائندوں سے استفسار کرتے ہیں کہ وہ اپنا فرض مناسب طریقے سے کیوں ادا نہیں کرتے اور قانون کی خلاف ورزی پر کسی چینل یا پروگروام کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جاتی۔ لیکن یوں بھی ہوتا ہے کہ پیمرا اگر کسی پروگروام یا اینکر کے خلاف کارروائی کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی عدالت اس فیصلہ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے میں دیر نہیں کرتی۔ اس طرح متعلقہ چینل اور اینکر پیمرا کو نیچا دکھانے کا اہتمام کر لیتا ہے۔ اس صورتحال میں صحافی کی آزادی اور صحافت کے دائرہ کار اور حدود کے تعین کے حوالے سے مباحث بے معنی ہو کر رہ گئے ہیں۔ اگرچہ پیمرا نیم سرکاری ادارہ ہے اور یہ حکومت اور مالکان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک انتطامی ادارہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن بد نصیبی سے اسے صحافیوں کو کنٹرول کرنے کا اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ بظاہر سب اس انتظام سے خوش ہیں۔ صحافی تنظیموں کی طرف سے بھی پیمرا کے اختیارات کے تعین کے بارے میں کوئی بحث سننے میں نہیں آتی۔ یوں ایک ایسا ادارہ جو ملک میں چینلز کو لائسنس جاری کرنے کا مجاز ہے، اسے صحافیانہ مواد پر کنٹرول کے بارے میں اختیار دیتے ہوئے کوئی حرف اعتراض سننے کو نہیں ملتا۔

ملک میں پیدا ہونے والی اس صورتحال کو صحافیوں کی ناکامی کے علاوہ کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا۔ پاکستان کے صحافی سابق آمر جنرل ضیا الحق کے دور میں نظریاتی بنیادوں پر تقسیم کئے گئے تھے۔ اس تقسیم کی وجہ سے صحافی تنظیموں میں پیشہ وارانہ ضرورتوں سے زیادہ اس بات کا خیال رکھا جانے لگا کہ ان کی صفوں میں کوئی ایسا شخص شامل نہ ہو جائے جو نظریاتی طور پر مختلف خیالات کا مالک ہے۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مختلف شہروں میں قائم پریس کلبوں کو حکومت نے گرانٹس اور صحافیوں کے لئے پلاٹ دینے جیسے منصوبوں کے ذریعے ممنون احسان کیا ہوا ہے۔ یوں تو پریس کلب کسی صحافی یونین یا تنظیم کا متبادل نہیں ہو سکتے لیکن پاکستان میں یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ پریس کلبوں کے نمائندے بھی صحافیوں کے نمائندوں کے طور پر بات کرنے اور اثر و رسوخ استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔ اس طرح ملک کے صحافی اس وقت کسی پیشہ وارانہ تنظیم سے تقریباً محروم ہیں۔ جو تنظیمیں موجود ہیں وہ ایک تو باہمی افتراق و انتشار کا شکار ہیں اور دوسرے ان کا اثر و رسوخ بے حد محدود ہو چکا ہے۔ اس صورتحال میں مالکان کی طاقت اور اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ وہ اپنے اداروں میں ناانصافی کے مرتکب ہوتے ہیں، نوجوان صحافیوں کو نہایت قلیل معاوضے پر کام دیا جاتا ہے اور یہ شکایت عام طور سے سننے میں آتی ہے کہ اکثر ادارے بروقت تنخواہ ادا نہیں کرتے۔ کوئی صحافی جب کام چھوڑ کر جاتا ہے تو اس کے بقایا جات ضبط کر لئے جاتے ہیں۔ ملک کا کوئی قانون ان مالکان کے اس ظالمانہ ہتھکنڈے کی روک تھام کرنے کا اہل ثابت نہیں ہوتا۔

ان حالات کی ایک وہم وجہ یہ بھی ہے کہ ملک کے بیشتر صحافتی اداروں میں مالکان ہی خود کو ایڈیٹر مقرر کر لیتے ہیں۔ یعنی ایک مالک جس کا بنیادی مقصد اپنے سرمایہ سے منافع حاصل کرنا ہوتا ہے بطور ایڈیٹر خبروں اور پروگراموں کی ترتیب و ہئیت کے بارے میں فیصلے کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ یہ طریقہ دنیا بھر میں مروج اصول و ضوابط کے برعکس ہے جہاں مالکان کو صحافیانہ امور میں مداخلت کا اختیار نہیں ہوتا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مالک کا کام معاشی و انتظامی امور تک محدود ہے کیوں کہ اسے ادارہ سے منافع حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ ایڈیٹر صحافتی امور کا نگران اور خبر کے تقدس اور غیر جانبداری کا ذمہ دار قرار پاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی مدیر کسی اشتہار کے مواد کو اپنے اخبار یا ادارے کی پالیسی سے متصادم یا صحافتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے شائع یا نشر کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور مالک کو مدیر کا یہ فیصلہ قبول کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں کسی بڑے سے بڑے ایڈیٹر کو یہ اختیار ملنے کا تصور بھی محال ہے۔ اول تو اس کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی کیونکہ کسی ایسی ہی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کیلئے مالکان خود ہی ایڈیٹر کی کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔ اسی مزاج اور ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ میڈیا ہاؤسز میں اب نیوز ایڈیٹر کی بجائے میڈیا منیجرز کو اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ صحافی ہر وہ خبر نشر اور شائع کرنے پر مجبور ہوتا ہے جو مالکان یا ان کے نمائندے ادارے کے تجارتی مفاد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔

اس بحث میں اگر بیرونی عوامل یعنی سیاسی پارٹیوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں یا طاقتور مذہبی گروہوں کے ہتھکنڈوں اور اثر استعمال کرنے کے طریقوں کو نظر انداز بھی کر دیا جائے تو بھی مالکان کی منافع کمانے کی حرص نے اکثر اداروں میں صحافی کو بے اختیار اور صحافت کو بے اثر کر دیا ہے۔ ایک تو عامل صحافی بیروزگاری اور کوئی طاقتور نمائندہ تنظیم نہ ہونے کی وجہ سے کمزور اور بے بس ہو چکا تھا۔ دوسرے مالکان نے بعض اینکرز اور صحافیوں کو منافع کمانے کے عمل میں اپنا حصہ دار بنا کر نام نہاد صحافیوں کے ایک ایلیٹ طبقہ کو جنم دیا ہے۔ عرف عام میں یہ لوگ اینکر ، تجزیہ کار یا سینئر صحافی کہلاتے ہیں۔ اس خصوصی گروہ میں شامل ہونے کے لئے صحافی ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ بلکہ اس میں کسی بھی شعبہ کا کوئی بھی ایسا شخص شامل کیا جا سکتا ہے جس کے ذریعے کاروبار کو فائدہ ہو سکے، زیادہ اشتہار مل سکیں اور سرکاری حلقوں میں رسوخ حاصل ہو سکے۔ صحافیوں کے اس اشرافیہ طبقہ کو مالکان تک رسائی ہوتی ہے اور انہیں منہ مانگا معاوضہ بھی ادا کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ مالک کو فائدہ پہنچانے کے لئے خبر اور اس کے لوازمات کو خاطر میں لانے کی بجائے ہر وہ ہتھکنڈہ اختیار کرنے میں آزاد ہوتے ہیں جو چینل کی ریٹنگ کو بڑھا سکے تاکہ اس پروگرام کے لئے زیادہ اشتہار حاصل ہو سکیں۔ اس وقت ملک میں ایسے ہی اینکرز کا طوطی بولتا ہے جو ادارے اور مالک کے لئے سونے کی چڑیا ثابت ہو سکتے ہیں۔ یہ لوگ اپنے بے پناہ وسائل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کوئی حجاب محسوس نہیں کرتے اور اپنی آمدنی پر ادا شدہ ٹیکس کا ذکر کرتے ہوئے وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستانی صحافت سے وابستہ اکثر کارکنوں کی اجرت ایک عام گھر کے مصارف برداشت کرنے کے قابل بھی نہیں ہے۔ اس رویہ کی وجہ صرف یہ ہے کہ یہ لوگ صحافیوں کے روز و شب سے آگاہ ہونے کی بجائے تجارتی مشینری کے کل پرزے بن چکے ہیں اور اس حیثیت میں ذاتی مفاد حاصل کرنے کو درست اور جائز سمجھ بیٹھے ہیں۔ اس طرز عمل سے صحافی اور صحافت پر کیا بیتتی ہے، ان لوگوں کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ اس طرح اس صحافی اشرافیہ نے اس اخلاقی قدر کو شدید نقصان پہنچایا ہے جو حرف کی حرمت اور قلم کی آبرو کو مقدم رکھتی تھی اور جس کے لئے باہمی اشتراک و یکجہتی اور سماجی انصاف بنیادی اصول ہوتا تھا۔

اگرچہ الیٹرانک میڈیا کی وجہ سے یہ صورتحال زیادہ دگرگوں ہوئی ہے لیکن پرنٹ میڈیا کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ مالک اور مدیر کے حوالے سے اخبارات میں بھی وہی صورتحال دیکھنے کو ملتی ہے جو ٹی وی چینلز میں نظر آتی ہے۔ مالک اپنے رپورٹروں اور نمائندوں سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ اخبار (یعنی مالک) کے لئے بزنس لائیں گے۔ وہی صحافی نمائندہ اہمیت حاصل کرتا ہے جو اخبار کو مالی فائدہ پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ ایک اخبار کے ایڈیٹر کا یہ تبصرہ صورتحال کو زیادہ واضح کرتا ہے کہ ’’رپورٹر کام پر آنے کے بعد دہاڑی کمانے کے لئے میدان میں نکل جاتے ہیں‘‘۔ مالکان یا تو ان دہاڑی دار رپورٹروں کا استحصال کرتے ہیں یعنی انہیں تنخواہ نہیں دیتے یا ان کے ذریعے اپنے منافع میں اضافہ کرنے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں خبر کی نوعیت اور صداقت اہم نہیں رہتی بلکہ اس کی کمرشل ویلیو کو تولا اور پرکھا جاتا ہے۔ عام عقل و فہم کا شخص بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ یہ صورتحال صحافت کے غیر جانبداری اور صداقت کے اصولوں سے متصادم ہے۔ اسی طرح الیٹرانک میڈیا کو جسے پیمرا کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ویسے ہی اخبارات اور پرنٹ میڈیا کو پریس کونسل کے ذریعے زیر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یعنی دونوں قسم کے اداروں میں کام کرنے والے صحافی اپنے پیشہ ورانہ کام کے لئے غیر پیشہ ورانہ اداروں اور افراد کے سامنے جوابدہ بنا دیئے گئے ہیں۔

پاکستانی میڈیا کے لئے یہ ایک تشویشناک اور افسوسناک صورتحال ہے۔ ملک میں جوں جوں نئے تجارتی گروپ میڈیا کی صنعت میں ملوث ہو رہے ہیں، یہ صورتحال ابتر ہوتی جا رہی ہے۔ حالانکہ صنعت میں زیادہ سرمایہ آنے سے صحافی اور عام کارکن کے حالات کار بہتر ہونے کے ساتھ خبر اور تبصرہ کی حرمت بحال ہونے کی امید ہونی چاہئے تھی۔ لیکن تجارتی مفادات میں صحافی اشرافیہ کی شرکت کی وجہ سے عامل صحافی اور صحافت مجبور محض بن چکے ہیں۔ یہ صورتحال ملک کے صحافیوں کو ہی تبدیل کرنا ہوگی۔ بصورت دیگر ملک میں زوال پذیر صحافت کو مزید برے دن دیکھنا پڑیں گے۔ اور اس کا سب سے پہلا شکار صحافی ہی ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 624 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali