جب ڈپٹی صاحب نے جھنگ میں شریعت نافذ کی


پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ مظفر آباد کی جانب سے جاری کردہ تحریری بیان میں درج ہے کہ آزاد کشمیر کے نئے چیف جسٹس عزت مآب ابراہیم ضیا کا کہنا تھا کہ ’آج کے بعد سپریم کورٹ میں تعینات ہر کوئی آفیسر و اہلکار نماز کا پابند ہو گا۔ سالانہ ترقی نماز کی باقاعدگی سے مشروط ہو گی۔ دو گروپ بنائیں ایک گروپ کی امامت خود کرواؤں گا جبکہ دوسرے گروپ کی امامت امام مسجد کروائیں گے۔ ‘
چیف جسٹس چوہدری ابراہیم ضیا کا یہ بھی کہنا تھا کہ خفیہ طور پر چیک بھی کیا جائے گا کہ کون ملازم نماز کی پابندی نہیں کرتا۔

اس مستحسن اقدام کی تعریف کرنے کی بجائے ایک صاحب کہہ رہے ہیں کہ ’نماز ہر مسلمان پر فرض ہے لیکن ملازم کی ترقی کارکردگی اور ایمانداری سے مشروط ہونی چاہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی ملازم نماز پڑھے مگر وہ اپنے فرائضی منصبی دیانتداری سے ادا نہ کرے تو کیا وہ ترقی کا مستحق ہو گا۔ ‘

بہرحال یہ ناقدین تو ایسے اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں، ہم آپ کو پاکستان میں پہلی مرتبہ شرعی نظام کے نفاذ کی کہانی سناتے ہیں جو ایک ڈپٹی کمشنر صاحب نے اپنے زور بازو سے نافذ کر دیا تھا۔

جولائی 1948 کی ابتدا تھی۔ بمشکل سال بھر پہلے پاکستان بنا تھا۔ قائداعظم ملک میں اسلامی نظام نافذ کرتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ ایسے میں سول سروس کے ایک بااختیار ڈپٹی کمشنر صاحب کو خیال آیا کہ مرکزی حکومت کیا بیچتی ہے، اپنے ضلعے کے بادشاہ تو وہ خود ہیں۔

جولائی کے دوسرے ہفتے میں ضلع جھنگ کے ڈپٹی کمشنر نواب زادہ فتح اللہ خان نے ایک سرکلر کے ذریعے اپنے ضلعے میں شرعی نظام نافذ کر دیا۔ اس سرکلر کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر کسی سرکاری ملازم نے نماز جمعہ کچہری کی مسجد میں نوابزادہ صاحب کی اقتدا میں ادا نہ کی تو اس ملازم پر ایک روپیہ جرمانہ کیا جائے گا۔ نوابزادہ صاحب کی غیر موجودگی میں پولیس لائن کے مولوی صاحب امامت کریں گے۔

نوائے وقت کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسٹر عزیز مسعود کپتان پولیس اپنے عملے کے ساتھ باقاعدگی سے نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ ڈاک خانہ اور تار کے حکام اور نہر کے محکمہ جات کے ملازمین بھی اس حکم کو احترام کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور کثرت سے شریک نماز ہوتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ شکوہ بھی کیا گیا کہ اس حکم پر کچھ نمائشی نمازی بھی پر پرزے نکالنے لگے ہیں۔

روزنامہ انقلاب میں مولانا غلام رسول مہر کا سکہ چلتا تھا۔ افکار و حوادث کے نام سے مولانا عبدالمجید سالک لکھا کرتے تھے۔ اس اخبار نے اس رپورٹ پر 14 جولائی 1948 کو افکار و حوادث میں مندرجہ ذیل تبصرہ کیا۔ ہم تو کم فہم ہیں، اندازہ نہیں لگا سکتے کہ یہ طنز ہے یا تحسین، آپ خود ہی پڑھ کر اس کا فیصلہ کر لیں۔


روزنامہ انقلاب  14 جولائی 1948

جھنگ کے متقی اور متشرع ڈپٹی کمشنر صاحب نے کم از کم ضلع جھنگ میں دینی حکومت قائم کر لی۔ آپ کا حکم ہے کہ جو مسلمان بغیر عذر شرعی روزہ ترک کرے گا اس کے خلاف استغاثہ دائر کیا جائے گا اور اسے جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔ جرمانہ ادا نہ کرے گا تو اس کا منہ کالا کر کے اسے شہر بھر میں تشہیر کیا جائے گا۔

ہر مسجد کے امام کو ”امیر شریعت حضرت ڈپٹی کمشنر صاحب“ کی طرف سے حکم موصول ہوا ہے کہ اپنے مقتدیوں کی فہرست تیار کرے اور جو مسلمان نماز میں غیر حاضر ہیں ان کو پکڑ کر حاکم کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اسے سزا دی جا سکے (یعنی منہ کالا کیا جائے، جوتے لگائے جا سکیں، درے مارے جا سکیں، گدھے پر الٹا سوار کرا کر شہر کے لونڈوں سے اس کا جلوس نکلوایا جا سکے)۔

ہمارے دل میں نوابزادہ فتح اللہ خان صاحب کی شریعت پروری کا بڑا احترام ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے تمام حاکم دین کے لئے ایسے ہی غیور ہو جائیں۔ لیکن گستاخی معاف یہ ”دین“ نہیں بلکہ ”ڈپٹی کمشنری مذہب“ ہے جس کا دائرہ صرف ایک ضلع تک محدود ہے۔ انگریزوں کے عہد می یہ حال تھا کہ جہاں نوابزادہ صاحب حاکم مقرر ہو کر گئے وہیں اہلکاروں، مقدمے والوں، چپراسیوں، اردلیوں نے نماز پڑھنی شروع کر دی۔ اور جونہی نوابزادہ صاحب کسی دوسرے شہر میں تبدیل ہوئے سو فیصدی لوگوں نے نماز چھوڑ دی۔ نعوذ باللہ گویا یہ نماز خدا اور رسول کی نماز نہ تھی بلکہ چار رکعت نماز فرض واسطے فتح اللہ خان کے۔ منہ طرف ڈپٹی کمشنر کے۔ اللہ اکبر۔ زبان سے یہ نیت نہ کی جاتی ہو، قلوب میں نیت کے الفاظ یہی ہوتے تھے۔

اب پاکستان قائم ہو گیا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب نے دینی احکام کی ترویج شروع کر دی اس لئے دنیاوی حکومت کچھ بھی کہے اللہ اور رسول کے احکام نافذ ہر کر رہیں گے۔ انگریز کے دور میں نواب صاحب نے ایسی سزاؤں کا اعلان کرنے کی کبھی جرات نہیں کی کیونکہ وہ انگریز کی حکومت تھی۔ نواب صاحب کو یہ حکومت الہیہ مبارک ہو لیکن ایک گزارش نہایت ضروری ہے کہ اس قسم کا احکام کسی ایک ضلع میں نافذ نہ ہونے چاہئیں بلکہ مرکزی حکومت کی طرف سے ساری مملکت پاکستان میں اس کا نفاذ ضروری ہے۔

یہ نہایت مہمل اور شرمناک بات ہو گی کہ ایک ضلع میں تو نماز اور روزہ ترک کرنے والے کا منہ کالا کر کے گدھے پر سوار کیا جا رہا ہے اور دوسرے ضلع کے حکام اور عوام دونوں ہی بے نماز اور روزہ شکن ہیں جنہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔ حالانک یہ دونوں اضلاع پاکستان میں واقع ہیں اور دونوں پر ”حضرت قائداعظم محمد علی جناح“ کا راج ہے۔

لاہور اور کراچی میں جوان جہان مسلمان لڑکیاں روزانہ مرد فوجیوں سے پریڈ کرنا اور رائفل چلانا سیکھ رہی ہیں اور اخباروں میں ان کی تصویریں چھپ رہی ہیں جن میں خواتین ننگے سر، خوبصورت چوٹیاں لٹکائے، دوپٹے گلے میں ڈالے، سینے ابھارے، قطار میں کھڑی ہیں یا پیٹ کے بل زمین پر ”پٹ“ پڑی ہوئی میجروں اور کپتانوں سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ کراچی میں اکابر پاکستان کے ”ڈنروں“ کی جو تفصیلات ہمارے پاس پہنچی ہیں وہ بڑی دردناک ہیں۔

خود ضلع جھنگ میں ہماری اطلاعات کے مطابق غلط الاٹمنٹیں، زمین کے بڑے بڑے ٹکڑوں پر ناجائز قبضے، بلیک مارکیٹ، خود رمضان المبارک کی وجہ سے بعض اشیائے خورد و نوش میں منافع اندوزی اور رشوت ستانی برابر جاری ہے۔ لیکن ساری آفت نماز اور روزہ کے تارک پر ہی ٹوٹ رہی ہے اور وہ بھی صرف ضلع جھنگ میں۔

ہم پھر یہی گزارش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو نماز اور روزہ پر مجبور کرنا بالکل صحیح اور مستحسن ہے لیکن یہ پالیسی پورے اسلامی ملک پر نافذ ہو۔ مرکزی اسلامی حکومت ڈپٹی کمشنروں کے نام احکام صادر کرے کہ نماز اور روزہ کی پابندی کراؤ۔ یہ نہ ہو کہ نوابزادہ فتح اللہ خان کے ضلع میں نماز روزہ اور مثلاً مسٹر ظفر الاحسن کے ضلع میں کچھ بھی نہیں۔ ممکن ہے کہ اس کا اثر یہ ہو کہ جو بد نصیب نماز روزہ میں اس جبر کو پسند نہ کرتے ہوں وہ ضلع جھنگ سے ہجرت کر کے کسی اور ضلع میں آباد ہو جائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 635 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar