لسانیت ، صوبائیت سے پہلے پاکستانیت


گزشتہ چند روز سے کچھ عناصر پٹھان اور پنجابی کا چورن بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے عزائم اس قدر ناپختہ تھے کہ اپنی موت آپ مر چکے ہیں ،اور عوام نے بھرپور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے تاثر دیا کہ بہت بیچ لیا یہ چورن چلو شاباش نکلو یہاں سے!
سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر دو خطوط نظر سے گزرے ایک میں قہوہ و دیگر اشیا ءبیچنے والے پٹھانوں پر نظر رکھنے جیسے جملے تحریر تھے دوسرا لاہور کے علاقہ بلال گنج میں انجمن تاجران کی جانب سے جاری کیا گیا جس میں پٹھان بھائیوں کو تھانوں میں اپنے کوائف جمع کروانے کو کہا گیا۔ اب دونوں خطوط پر غور فرمائیں تو کسی کے نیچے بھی پنجاب پولیس کی جانب سے کوئی ایسی مہر ثبت نہیں جو ثابت کرتی ہو کہ دونوں خطوط پولیس کی ہدایات کے مطابق جاری کیے گئے ہیں۔ یہاں پر ایک اور امر واضح رہے دہشت گردوں کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن ’ردالفساد‘ کی تمام تر معلومات اور ہدایات پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کی جاتی ہیں اگر اس کے علاوہ کوئی بھی ایسی چیز سامنے آتی ہے تو وہ یقینا ایک پراپیگنڈے کے علاوہ کچھ نہیں۔
چونکہ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس سوشل میڈیا کم اور ’سوشہ میڈیا‘ زیادہ ثابت ہوئیں ہیں لوگ آنکھیں بند کرکے کسی بھی قسم کی معلومات پر یقین کر لیتے ہیں۔ اس معاملے میں بھی یہی ہوا لیکن معاملہ کافی سنگین تھا اور پنجابی شروع سے پشتون، بلوچی اور سندھیوں کے ساتھ پیار اور محبت کا اظہار کرتے رہے ہیں اس دفعہ بھی کمال ایثار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کو ناکام بنایا ۔
پنجاب کس طرح دوسرے صوبوں کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کرتا ہے اس کی مثالیں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے میرے ایک دوست کو پنجاب کے میڈکل کالج میں نمبر کم ہونے کی بدولت داخلہ نہ مل سکا۔ اس نے بلوچستان کا ڈومیسائل بنوا کر بلوچی بھائیوں کے لئے مخصوص کوٹہ میں داخلہ لینے کی کوشش کی ۔ پنجاب کے تعلیمی اداروں سے لے کر مختلف محکموں میں ہونے والی بھرتیوں تک تمام صوبوں کے لئے مخصوص کوٹہ پنجابیوں کی دیگر صوبوں کے لئے محبت اور فراخ دلی کا واضح ثبوت ہیں ۔ بلوچستان سے نسلی تعصب اور انتشار پسند عناصر کی جانب سے پنجابیوں کے شناختی کارڈز دیکھ کر قتل کر دیا جاتا ۔ان کے تابوت پنجاب میں واپس آتے لیکن پنجاب نے کبھی اس پر ردعمل کا اظہار نہیں کیا ۔
پاکستان میں لسانیت اور صوبائیت کے نام پر لوگوں کو منتشر کرنے کا طریقہ بہت پرانا ہو چکا ہے ۔دقیق نظری سے دیکھا جائے تو کراچی کا امن تباہ کرنے والا بنیادی عنصر یہی تھا اس قوم پرستی کو بچاتے بچاتے ہم نے ملک کا امن خطرے میں ڈالے رکھا، موجودہ صورتحال سے واقف ہوکر ہمیں پٹھان کے دہشت گرد ہونے کے تاثر کو بھی ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ تاثر بالکل غلط ہے کہ پٹھان دہشت گرد ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ملک میں ایسے پٹھان حکمران بھی آئے ہیں جن کی حکمرانی میں ملک نے بے پناہ ترقی کی ہے۔ سندھی، بلوچی، اور پختون یا پنجابی نہیں دہشت گرد کی پہچان صرف دہشت گرد ہے۔ وہ کسی بھی روپ میں ہوسکتا ہے ، ہمیں ’ردالفساد ‘کے ساتھ ساتھ ایک اور آپریشن کی ضرورت ہے جو ’ردالاافواہ‘ کے نام سے ہونا چاہیے اور یہ آپریشن فورسز کو کم عوام کو زیادہ کرنا ہے۔ اس کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری براہ راست عوام پر ہے ۔ کامیاب آپریشن قوم پرستی نہیں وطن پرستی کی بنیاد پر ہونا چاہیے ۔

اسی بارے میں: ۔  ملک ملول کی دھوتی

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علی رضا شاف کی دیگر تحریریں
علی رضا شاف کی دیگر تحریریں