پارلیمانی جماعتیں فوجی عدالتوں میں 2 سال کی توسیع پر متفق


اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کا اجلاس ہوا تاہم پیپلز پارٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئی، اجلاس کے دوران پارلیمانی رہنماؤں نے فوجی عدالتوں کی مدت میں 2 سال کے لیے توسیع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ اس کے علاوہ پارٹی رہنماؤں نے فوجی عدالتوں سے متعلق آئینی ترمیم میں دیگر نکات پر بھی اتفاق کیا۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ  فوجی عدالتوں سےمتعلق تمام جماعتوں کا اجلاس ہوا تاہم پیپلز پارٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوئی۔ اجلاس میں سب نے متفقہ طور پر فوجی عدالتوں میں توسیع کا فیصلہ کیا ہے، توقع ہے کہ پیپلز پارٹی بھی 4 مارچ  کو ہونے والی اے پی سی کے ذریعے اس پر اتفاق کرلے گی اور  فوجی عدالتوں کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ فوجی عدالتوں میں توسیع کیلئے آئینی ترمیم کی ضرورت ہے، اس کےلیے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس بلائے جائیں گے جہاں فوجی عدالتوں کا معاملہ زیر غور لایا جائے گا اور کسی نکتے میں تبدیلی پر سب راضی ہوئے تو قومی اسمبلی میں حتمی مسودہ طے کر لیں گے۔

اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ڈپٹی چئیرمین شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے معاملے پر غور کے لیے 8 اجلاس ہوئے جس میں تمام جماعتوں نےاپنا موقف تحمل سےبیان کیا، دنیا میں دہشت گردوں سے مقابلے کے لئے فورس کی صلاحیت بڑھائی گئی، سب نے اتفاق کیا فوجی عدالتیں پسندیدہ راستہ نہیں فوجی عدالتوں کی مدت 2 سال رکھنے پر اتفاق ہوا ہے، 2 سال بعد یہ مقدمات انسداد دہشت گردی عدالتوں کو منتقل ہوجائیں گے۔ فوجی عدالتوں کا قیام 7جنوری 2017سے تصور کیاجائے گا۔

جماعت اسلامی کے رہنما صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ دہشت گرد دہشت گردہوتاہے، دہشت گردی کو مذہب سے نہ جوڑا جائے، ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں یہ معاملہ بنیادی انسانی حقوق کےمنافی ہے لیکن ہم نے مجبوری اورضرورت کےتحت فوجی عدالتوں کی حمایت کی ہے۔ قومی وطن پارٹی کے آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ اُمید کرتے ہیں اس بار فوجی عدالتوں کا قیام آخری بار ہوگا۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ فوجی عدالتوں کےمعاملےپرحکومت کے ساتھ ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔