داغستانی ماں کا خواب کیسے مرتا ہے؟


مادری زبانوں کے ادبی میلے کے لیے روانگی کے ارادے باندھ ہی رہی تھی کہ سیہون سے آنے والی خونی ہوا نے سانسیں آلودہ کر دیں پھر بھی اپنوں سے کہنے سننے کے شوق نے اور کچھ انڈس کلچرل فورم، لوک ورثہ اور ایس پی او کے احباب کے بلند حوصلوں نے مجھے آنے پر آمادہ کر ہی لیا مگراسلام آباد کی اپنائیت کے باوجود لوک ورثہ کی افتتاحی تقریب تک قدم بوجھل ہی تھے۔ افتتا حی تقریب میں جب گلاب آفریدی نے رباب پر قلندر کی دھن چھیڑی تو لگا دل کا لہو دوبارہ گردش میں آگیا ہو اور پھر جب نعیمہ اصفہانی نے مست قلندر کے دھمال کی اونچی تان لگائی توہر چہرے نے دمک کر اس کا ساتھ دیا ۔ یہی دھمال رجعت پسندوں کے اس خونی کھیل کا مکمل جواب ہے۔ دل کو پھر سے یقین ہوا کہ سچل سے بھٹائی تک ،میاں محمد بخش سے بابا بھلے شاہ تک، باہو سے رحمان بابا تک ، صوفیااور ان کے عشق کے اسباق ہی ہماری دھرتی کے زخموں کا مرہم ہیں۔
مادری زبا نوں کا یہ میلہ اپنی نوعیت کا منفرد میلہ ہے جہاں پاکستان کی علاقائی ثقافتوں اور مادری زبانوں کی ہماہمی اور تنوع پر گفتگو ہوتی ہے ۔ یاد دلاتی چلوں کہ پاکستان میں اس وقت آٹھ سے 12 زبانیں بولی جا رہی ہیں اور دیگر 70 زبانیں بھی ہیں جو اپنی شناخت کے سفر میں ہیں ۔
رسول حمزہ توف کا ’میرا داغستان ‘میں کہنا ہے ہمارے ہاں ایک گالی ایسی ہے جس پر قتل ہو جاتے ہیں کہ…. جا تواپنی مادری زبان بھول جائے۔ رسول حمزہ توف نے ایک اور جگہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ وہ پیرس کے کسی ادبی میلے میں شریک ہوئے اور ان کی آمد کی خبر پا کر ایک مصور ان سے ملنے آیا اور کہنے لگا کہ میں بھی داغستان کا ہوں، میری مادری زبان آوار ہے اور اب ایک مدت سے پیرس میں رہائش رکھتا ہوں۔ ایک فرانسیسی خاتون سے شادی کر کے یہیں کا ہو چکا ہوں۔ میں داغستان کے فلاں گاو¿ں کا رہنے والا ہوں لیکن تیس برس ہو گئے میں یہاں فرانس میں ہوں۔ جانے میری ماں زندہ ہے یا مر چکی ہے۔ رسول حمزہ توف نے داغستان واپسی پر اس کی ماں کو تلاش کر لیا اور اس بڑھیا کو علم ہی نہ تھا کہ اس کا بیٹا ابھی تک زندہ اور فرانس میں خوش و خرم ہے تو اس نے رو رو کر برا حال کر لیا۔ وہ رسول سے پوچھتی رہی کہ مجھے بتاو کہ اس کے بالوں کی رنگت کیسی ہے۔ اس کے رخسار پر جو تل تھا کیا اب بھی ہے، اس کے بچے کتنے ہیں اور پھر یکدم اس بڑھیا نے پوچھا ’رسول تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟‘۔ ’ہم صبح سے شام تک بیٹھے کھاتے پیتے رہے اور داغستان کی باتیں کرتے رہے، رسول نے جواب دیا‘۔ ’اورکیا تم یہ تمام عرصہ آوار زبان میں باتیں کرتے رہے؟‘۔ ’نہیں‘۔ رسول نے کہا ۔’ہم فرانسیسی میں باتیں کرتے رہے۔ وہ آوار زبان بھول چکا ہے‘۔ داغستانی بڑھیا نے اپنے سر پر بندھا رومال کھول کر اپنے چہرے پر کھینچ کر اسے روپوش کر لیا کہ وہاں روایت ہے کہ جب کسی ماں کو اپنے بیٹے کی موت کی خبر ملتی ہے تو وہ اپنا چہرہ ڈھانپ لیتی ہے۔ ’رسول…. اگر وہ اپنی مادری زبان بھول چکا ہے تو میرے لئے وہ زندہ نہیں، مر چکا ہے۔
مادری زبان کا جذباتی اور ازلی بندھن اپنی جگہ لیکن اب تو جدید دنیا کے تعلیمی ماہرین اور نفسیات داں بھی اس بات پر متفق ہیں کہ مادری زبانیں ہمارے خواب کی زبانیں ہیں ۔اسی زبان میں ابتدائی تعلیم ایک صحت مند تخلیقی ذہن کی پرورش کر سکتی ہے ۔جینیاتی علم کہتا ہے کہ مادری زبان رحم مادر سے بچے کے ساتھ رہتی ہے اور یہ انسانی وجود کا مستقل سوفٹ وئیر ہے جیسے کمپیوٹر کے کچھ حصے اس کا مستقل حصہ ہوتے ہیں ۔نئے سافٹ ویئر اسے جدید بناتے ہیں مگر اصل یادداشت مستقل اور بنیادی ہے سو ہمیں اگر اپنے سماج میں تخلیقی اورذہین افراد پیدا کرنے ہیں تو مادری زبان میں ابتدائی تعلیم پر توجہ دینا ہوگی۔ اور اس بات سے کسی تہذیب کو انکار نہیں کہ دوسری ثقافتیں اور زبانیں ہماری مٹی کو زرخیز کرتی ہیں ۔ یہ عمل دریاﺅں کے سمندر میں ملتے رہنے کاعمل ہونا چاہیے۔ کسی سیلاب کی طرح نہیں کیونکہ ہمیں زرخیزی ضرور چاہیے مگر کسی سیلاب کی تباہی کے بعد کی نہیں۔
مادری زبانوں کے اس میلے میں بھی ان پاکستانی مادری زبانوں نے اس تہذیبی ملن سے اپنی زر خیزی کا سامان کیا اور بہت خوب کیا ۔ انڈس کلچرل فورم کے نیاز ندیم ، منور حسن، نصیر میمن، زبیدہ بروانی اور نصرت زہرا نے لوک ورثہ کے ساتھ مل کر جس طرح اتنے مہمانوں کی آءو بھگت کی وہ دیدنی تھی ۔
میلے کے پرہال میں ملک کی 15سے زائد مادری زبانوں کے 150 ادیب، شاعر اور لکھاریوں نے اپنی اپنی بولیوں اور ثقافتوں کے پر حکمت قصے چھیڑ رکھے تھے۔ مشترکہ مسائل پر بات چیت جاری تھی، علمی مباحث کیے جا رہے تھے،گلے شکوے دور ہو رہے تھے۔ ثقافتی لباس میں ملبوس افراد اپنی ثقافتوں کے استعاروں کی صورت ایک دوسرے سے محبتیں بانٹ رہے تھے۔ مادری زبانوں میں جب خواتین کی کردار نگاری اور نمائندگی کی بات ہورہی تھی تو ڈاکٹر ایس ڈبلیو فیلن یاد آگئے جنہوں نے اٹھارہویں صدی میں پہلی مرتبہ ہر شعبے اور طبقے کی عورتوں کی بولی یا زنانی کو لغت میں شامل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کی بولی کو ہمیشہ نظر انداز کیاجاتا رہا ہے۔ جو فطری ہوتی ہے کیونکہ انہوں نے کتابیں نہیں پڑھیں اس لیے ان کی زبان میں نقالی نہیں ہوتی اور وہ سادہ اور دل میں اتر جانے والی ہوتی ہیں۔ ماں کی لوری کی چاشنی جیسے میرے کانوں میں گھلنے لگی تھی کہ محترمہ زاہدہ حنا کی آواز میں مجھے حقیقت کی دنیا میں لے آئی جو اس حوالے سے عورتوں کو درپیش مسائل پر بات کر رہی تھیں۔
نئے ناول اور شاعری کی کتابوں کے اجرا میں بھی سندھی نظموں کی ترجمہ شدہ کتاب ’کونج کر لائے ‘ میلے کے شرکا کا حصہ بنی۔ اسلم جاوید نے سرائیکی کی کتاب ست سرائی عطا کی اور نور العین سعیدہ نے پہلے اپنی محبت اور پھر اپنی کتاب ’مچ‘ سے مجھے اپنا گرویدہ کر لیا۔ پھراردو نظم کا مکمل حواالہ علی محمد فرشی سے ان کی کتاب اور نظم کے حوالے سے گفتگو سنی اور ان کی نئی کتاب ’محبت سے خالی دنوں ‘میں سے نظمیں سنیں ۔ مزاحمتی ادب پر مجاہد بریلوی کی نظامت میں حارث خلیق، مظہر لغاری ،عابد میر اور ظہیر نواز نے اپنی زبانوں کا تجزیہ پیش کیا ۔مادری زبانوں کے حوالے سے میڈیاکی ذمہ داریوں اور استعمال کے نئے ذرائع پر بھی بات ہوئی ۔
ہال سے باہر کتابوں کے سٹال پر مادری زبان کا لوک ادب سرائیکی، سندھی، پنجابی، بوملی‘ پشتو، براہوی اور پہاڑی کے تراجم اور اصل کی صورت میں روح کوتراوت دینے کو حاضر تھے۔ میں نے کئی لوک ادب کے تراجم وہاں سے لیے جس کی مجھے کئی دنوں سے تلاش تھی۔
میلے میں ایک متنوع زبانوں کا منفرد مشاعرہ بھی ہوا جس میں مختلف مادری زبانوں میں شاعروں نے اپنی تخلیقات پیش کیں اور داد وصول کی۔
میلے کے دوران مختلف زبانوں کے ادبا اس بات پر متفق نظر آ ئے کہ حسن جتنا متنوع ہوتا ہے اتنا ہی زیادہ اثر پذیر ہوتا ہے اور کسی بھی زبان بولنے والوں کو کسی دوسری زبان سے کوئی خطرہ نہیں ۔ ہماری قومی قوس و قزح اصل میں کئی رنگوں سے بنتی ہے۔ اس قوس و قزح میں کسی کو دوسرے سے کمتری یا برتری کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ذرہ جس جگہ ہے ، وہیں آفتاب ہے ۔
مجھے اس میلے میں مختلف زبانوں میں لکھنے والے ادیبوں کے چہرے اپنی زبان کی ترویج کے شوق اور حدت سے تمتاتے ہوئے ملے اور ان ادیبوں ،شاعروں کا زبان کی بقا اور ترویج کے حوالے سے سوالات کاسنا جانا اس میلے کی کل کمائی محسوس ہو ا۔ ایسے سوال جوحالیہ قومی و سیاسی منظر نامے میں کئی الجھی گتھیاں سلجھائیں گے ۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ڈاکٹر ثروت زہرا کی دیگر تحریریں
ڈاکٹر ثروت زہرا کی دیگر تحریریں