اے محبت زندہ باد


تحریر: محمد عادل۔۔۔

muhammad-adil

۔1931 میں بننے والی پہلی بولتی فلم عالم آراء سے لے کر آج پچاسی برس بعد تک بننے والی فلموں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پاک و ہند کی کامیاب ترین فلموں میں سرتاج رومانٹک فلمیں ہی نظر آتی ہیں۔ ایکشن، مار دھاڑ، معاشرتی مسائل اور بچوں پہ بننے والی بھی بہت ساری فلمیں نہایت قابلِ ذکر ہیں لیکن جومقام رومانوی فلموں کو ملا وہ اپنی مثال آپ ہے۔

اعلیٰ قسم کے سکرپٹس، بہترین اداکاری کے جلووں اور سریلے محبت بھرے ہلکے پھلکے اور غمگین گیتوں سے سجی ان فلموں نے ہر سال کامیابیوں کے نئے ریکارڈذ قائم کئے۔ ایک وقت تھا جب سرحد کے دونوں جانب ایک سے بڑھ کر ایک فلم بنائ جارہی تھی۔ موضوع محبت تھا اور ہر کوئ اسے اپنے انداز میں برت رہا تھا، پردہِ سیمیں محبت کے صدقے روشنیوں سے منور تھا۔ سنیما کے اندھیرے ہالز میں فلم بین، فلم کے کرداروں کے ساتھ ہنستے، روتے، ناچتے، گاتے تھے۔ سنیما سکرین پہ قلعے کی دیواروں پہ جب مجسمہ ساز رفیع کی آواز میں نعرہ، محبت بلند کرتا تو ہال میں بیٹھے لوگ کورس بن کر پکار اٹھتے ’اے محبت زندہ باد‘۔

فردوس اور اعجاز کی ہیر رانجھا، پاکستان کی عہد ساز فلم ثابت ہوئی، کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دیئے اس فلم نے۔ جواب میں بھارت میں ندا فاضلی سے ایک منظوم سکرپٹ تیار کرواکر مدن موہن کی سریلی دھنوں میں سجی ہیر رانجھا بنائی گئی۔ محبت بھری یہ داستان ایسی کامیاب ہوئی کہ پانچ سال تک سنیما گھروں کی زینت بنی رہی۔ صدیوں پرانی اس داستان میں نیا کیا تھا؟ سوچا جائے تو کچھ بھی نہیں۔ فلم کی کامیابی میں اس کے اچھوتے کلائمکس کا بہت کردار ہوتا ہے۔ لیکن ہیر رانجھا کا کلائیمکس تو بچہ بچہ جانتا تھا۔ پھر ایسا کیا تھا جو لوگوں کو اس بار بار سنی داستاں کو بار بار دیکھنے پہ مجبور کر رہا تھا۔ وہ چیز تھی محبت۔

برِصغیر ہو یا باقی ماندہ ایشیا، یورپ ہو یا امریکہ دنیا کا کون سا ایسا کونا ہوگا جہاں محبت کے مارے نا ہوں گے۔ جی ہاں محبت کے مارے چاروں دشاؤں میں بستے ہیں، محبت کے مارے ہیں، محبت میں مارے جاتے ہیں لیکن محبت نہیں مرتی۔ محبت زندہ باد رہتی ہے۔ اسے زندہ باد رکھے کے لئے لوگ محبت کرتے ہیں، محبت کرنے والوں کا ساتھ دیتے ہیں، کچھ نا کر پائیں تو محبت بھری شاعری، افسانوں اور فلموں سے لطف اٹھاتے ہیں، اور یومِ محبت مناتے ہیں۔ جی ہاں یومِ محبت، اگر محبت کے یہ دیوانے سال بھر میں ایک دن، صرف ایک دن ’بنامِ محبت‘ گزار لیں تو کیا قیامت آ جائے گی۔ کون سی ایسی عمارتیں ہیں جن میں دراڑیں پڑجائیں گی۔

یومِ محبت کے مخالفین شاید محبت اور مباشرت میں کنفیوزڈ ہیں۔ یہ لوگ شاید ان لطیف جذبوں سے ناآشنا ہیں جو محبت کرنے والوں کے رگِ جاں میں ضامنِ حیات ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی خاص دن پہ پابندی لگا دینے سے کیا وہ دن واقعہ ہی نہیں ہوگا؟ کیا چودہ فروری کے ظہور پہ بھی پابندی لگ جائے گی؟ کہتے ہیں امریکہ میں نمبر 13 کو منحوس سمجھا جاتا ہے، اکثر کثیر المنزلہ عمارات اور ہوٹلوں میں 12 کے بعد 14 نمبر منزل ٹیگ کی جاتی ہے، تو کیا ایسا کرنے کیا واقعی تیرھویں منزل چودھیں بن جاتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جیسے امریکہ میں کی جانے والی اس حرکت پہ ہنسا ہی جاسکتا ہے، اس لئے ایسے ہی کسی دن پہ پابندی لگادینے سے آپ کوئی قابلِ تقلید مثال قائم نہیں کررہے، گلوبل ویلج میں اپنی جگ ہنسائی کا باعث بن رہے ہیں۔

لیکن اگر ہر صورت اس اس یومِ محبت پہ آمرانہ پابندی لگانی ہی ہے تو ساتھ ساتھ ایک قدم اور بھی اٹھا لیا جائے کہ رومانی شاعری، رومانی ڈرامے، فلم، سٹیج، موسیقی پہ پابندی کا بھی تجربہ کر لیا جائے اور پھر دیکھا جائے کہ کیا ان سب پابندیوں کے بعد محبت مرگئی؟ کیا لوگوں نے محبت سے توبہ کرلی؟ کیا سرخ گلاب بکنا بند ہوگئے۔ اگر جواب مثبت آئے تو آپ جیت گئے، محبت ہار گئی۔ بصورتِ دیگر آپ کو بھی کورس میں شامل ہو کر باآوازِ بلند کہنا پڑے گا کہ ’اے محبت زندہ باد ۔ ۔ ۔‘
محمد عادل


Comments

FB Login Required - comments