بسنت گم گشتہ


 روشنی انصاری

\"APP46-15

فروری کے آغاز میں میرے پتنگ بازی کے شوقین چچا بہت ساری پتنگیں اور ڈور کے پنے ہمارے گھر رکھ جاتے۔ ان کی چھت دیواریں نا ہونے کے سبب پتنگ بازی کے لئے محفوظ نہ تھی۔ بڑی بڑی پتنگیں، جو میرے قد سے بھی بڑی ہوتی تھیں، خاص دلچسپی کا مرکز تھیں۔ پتنگ اڑانی تو نہ آتی تھی، لہذا صرف اپنی پسند کی پتنگ چچا یا ابو سے فرمائش کر کے اڑوائی جاتی تھی، اور اگر پتنگ کٹ جاتی تو اگلی من پسند پتنگ کی فرمائش۔

ہفتے کی رات سردی کی وجہ سے چھت پر رکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی، سو پی۔ٹی۔وی پر بسنت کے پروگرام دیکھے جاتے۔ لائٹ کا آنا جانا اور ساتھ ہی پانی کی بھی بندش، مہمانوں کی آمدورفت، ڈیک پر گانے، پتنگ کٹنے پر باجوں کا شور، پتنگ لوٹنے والوں کی سڑک پر ٹولیاں پھرنا،آتش بازی، پٹاخے۔۔۔۔ یہ سب اتوار کی رات تک جاری رھتا۔ کبھی کوئی پرندہ بھی ڈور سے کٹ کر گرتے نہ دیکھا، پھر قاتل ڈور آئی، لوگوں کے گلے کٹنے لگے، حکومت نے ایسی ڈور بنانے والوں کو پکڑنے کی بجائے پتنگ بازی پر پابندی لگا دی، اور پتنگ بازی کی صنعت سے وابستہ لوگوں کا معاشی قتل کر ڈالا۔

ان لوگوں کو متبادل روزگار ملا یا نھیں، لیکن نوجوانوں نے ایک نیا تہوار ڈھونڈ لیا۔ تشویش ہوئی، وہ جو پتنگ اڑاتے تھے، ’کھجور‘ اڑانے لگے۔ سنا ہے پتنگوں کے بعد پھولوں پر بھی عتاب نازل ہونے کو ہے۔ اب دیکھئے اس ویلنٹائن ڈے کی جگہ کون سا تہوار لیتا ہے۔۔۔۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments