بات ایک کیلنڈر کی


naseer nasirکیلنڈر وقت کو شمار کرنے یا وقت کے حساب کتاب کا ایک ایسا چارٹ، جنتری یا نظامِ تقویم یا رجسٹر ہوتا ہے جس میں سال کے مہینے، ہفتے، دن ترتیب سے لکھے جاتے ہیں۔ اس میں موسمی تہواروں، چھٹیوں اور دیگر کئی اہم واقعات اور تاریخی اہمیت کے حامل دنوں کو بھی نمایاں کیا جاتا ہے۔

قدیم یونانیوں میں تقویم رائج نہیں تھی۔ جولیئس سیزر نے 46 قبل مسیح میں ایک کیلنڈر متعارف کرایا جسے جولینی تقویم یا تقویمِ قیصری کہا جاتا تھا۔ لیکن پوپ گریگوری سیزدہم نے 1582ءمیں جولین کیلنڈر کی اصلاح کرنے کے بعد گریگورین کیلنڈر جاری کیا جو دنیا میں اب تک مستعمل ہے۔ یہ شمسی کیلنڈر ہے اور 365 دنوں پر مشتمل ہے۔ اسلامی کیلنڈر 622ءمیں رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کی مدینہ منورہ کو ہجرت سے شروع ہوا۔ اسے پہلی بار باقاعدہ طور پر حضرت عمرؓ کے دور میں متعارف کرایا گیا۔ اسلامی ہجری کیلنڈر 354 دنوں پر مشتمل ہے اور قمری کیلنڈر کہلاتا ہے۔ گریگورین کیلنڈر کے ساتھ ساتھ اسلامی کیلنڈر بھی دنیا کے کئی اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ ان کے علاوہ عبرانی یا عبری کیلنڈر بھی ہے جسے اب یہودی صرف اپنی مذہبی رسومات اور ثقافتی تہوار یاد رکھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ دیگر مذاہب جیسے ہندو اور بدھ مت کے شمسی و قمری ملے جلے کیلنڈر بھی علاقائی اور مقامی طور پر رائج ہیں لیکن ان کی تفصیل کا یہاں محل نہیں۔

کیلنڈر کی اصطلاح تعلیمی اداروں میں بھی استعمال ہوتی ہے جسے تعلیمی کیلنڈر، کیلنڈر بک، یونیورسٹی رولز بک یا یونیورسٹی کیلنڈر کہا جاتا ہے۔ یہ کیلنڈر ایک طالب علم سے لے کر پروفیسر تک اور ادارے کے انتظامی معاملات کے ذمہ داران سے سربراہان تک کے لیے مفید اور فوری حوالہ ہوتا ہے۔ اس میں تعلیمی اداروں کے روزمرہ کے تعلیمی معاملات، سالانہ قواعد و ضوابط، تعلیمی سال یا سیمیسٹر کے آغاز و اختتام، امتحانات ، سال بھر کے اہداف و معروضات کے شیڈول کا پتہ چلتا ہے۔ یہ ہر تعلیمی ادارے کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ کیلنڈر دراصل کسی بھی ادارے، اشخاص، اشیا اور باتوں یہاں تک کہ وقوعات و جرائم کی ایک مضمون وار فہرست یا شمار یا باترتیب جدول ہو سکتا ہے۔

یہ تو تھی کیلنڈر کی مختصر ترین تصریح اور تاریخ۔ اب ایک ایسے کیلنڈر کا احوال پڑھیے جو دنیا میں شاید اپنی نوعیت کا واحد کیلنڈر ہے، جس کی مثال وطنِ عزیز کے علاوہ کسی اور ملک میں ملنی مشکل ہے۔ قصہ اس امر کا یوں ہے کہ ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی کسی مقدمے کے سلسلے میں عدالتِ عالیہ میں پیشی تھی۔ دوران سماعت فاضل جج نے وی سی صاحب سے ان کی یونیورسٹی کا کیلنڈر پیش کرنے کے لیے کہا۔ وی سی صاحب بغلیں جھانکنے لگے اور ساتھ آئے ہوئے مصاحبین یعنی ماتحت عملے کی طرف دیکھنے لگے۔ ماتحت عملے نے وی سی صاحب کو بتایا کہ یونیورسٹی کا اپنا کوئی کیلنڈر ابھی تک نہیں بنا اور ایک دوسری یونیورسٹی کی رول بک آگے کر دی۔ اس پر محترم جج خاصے برہم ہوئے اور اگلی پیشی میں انہیں ان کی اپنی یونیورسٹی کا کیلنڈر لانے کا حکم دیا۔

calendar15_nوائس چانسلر نے یونیورسٹی آتے ہی کیلنڈر چھپوانے کا فرمان جاری کیا۔ وہ اپریل کا مہینہ تھا اور پیشی بھی اسی مہینے میں تھی اس لیے انہوں نے یہ حکم بھی دیا کہ کیلنڈر کو اپریل سے شروع کیا جائے تا کہ جج صاحب خوش ہو جائیں کہ جس “ماہِ سماعت” میں کیلنڈر پیش کرنے کا کہا گیا اسی میں تعمیل کی گئی ہے۔ مصاحبین، ڈیزائنر اور پرنٹر نے تجویز دی کہ سر کیلنڈر پہ کوئی تصویر بھی ہونی چاہیئے۔ سال کے آغاز میں شائع ہونے والے کئی کیلنڈر بطورِ نمونہ صاحب کی خدمت میں پیش کیے گئے۔ کسی پر سینری تھی، کسی پر میرا کسی پر ریما، کسی پر بابر کسی پر شان کی تصویر تھی، اور کچھ پر مختلف مصنوعات کے اشتہار تھے۔ بہت سے کیلنڈر دیکھنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ کیلنڈر پر وائس چانسلر صاحب کی تصویر ہونی چاہیئے۔ وائس چانسلر اس تجویز سے بڑے خوش ہوئے۔ فوٹو گرافر اور میک اپ آرٹسٹ کو بلایا گیا اور وائس چانسلر کی خصوصی تصویر بنائی گئی۔ المختصر کیلنڈر کی کئی سو یا ہزار کاپیاں (راقم کو درست تعداد معلوم نہیں) چَھپ کرآ گئیں۔ کیلنڈر پر سب سے اوپر انگریزی میں جلی حروف میں لکھا تھا “یونیورسٹی کیلنڈر” لیکن یونیورسٹی کا نام کہیں درج نہیں تھا۔ نیچے وائس چانسلر کی بڑی سی نمودیا قسم کی خوش باش چمک دمک والی تصویر تھی جیسے اکثر اشتہاروں میں فلمی ستاروں اور سپر ماڈلز کی تصویریں ہوتی ہیں یا جیسے کسی ٹوٹھ پیسٹ یا ڈینٹونک کے اشتہار میں بتیسی کی نمائش کی جاتی ہے۔ تصویر کے نیچے سال کے بارہ مہینے ہفتہ وار دنوں کے ساتھ، جیسا کہ عام کیلنڈر یا تقویم میں ہوتے ہیں، درج تھے لیکن جنوری تا دسمبر کے بجائے اپریل سے مارچ تک۔ وائس چانسلر کیلنڈر دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فوراً کیل اور ہتھوڑی لانے کا حکم دیا۔ سب حیران کہ ہتھوڑی اور کیلوں کا کیا کرنا ہے لیکن تعمیل کی گئی۔ حکم ہوا کہ یونیورسٹی کے ہر شعبے، ہر چیئر مین یا چیئر پرسن اور ہر ڈین کے دفتر میں اور ہر نمایاں جگہ پر دیواروں میں کیل ٹھوک کر یہ کیلنڈر آویزاں کیے جائں۔ کلرکوں اور نائب قاصدوں کی ایک ٹیم حکم ملتے ہی اس کام میں لگ گئی اور یونیورسٹی میں جگہ جگہ یہ کیلنڈر لٹکا دیے گئے۔ راقم نے خود اپنی ششدر آنکھوں سے ان کو لگے بلکہ لٹکے ہوئے دیکھا تھا۔ اس کے باوجود بہت سے کیلنڈر بچ گئے تو کسی مشیرِ با تدبیر نے مشورہ دیا کہ انہیں بک شاپس پہ فروخت کے لیے رکھ دیا جائے۔ اس طرح یونیورسٹی کو آمدنی بھی ہو گی، تشہیر بھی اور وائس چانسلر صاحب کی قابلیت کے چرچے بھی ہوں گے۔ اس پر بھی فوری عمل درآمد کیا گیا اور کیلنڈرز شہر کی بک شاپس پہ رکھوا دیے گئے۔

یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ فاضل جج کا یہ کیلنڈر دیکھ کر کیا ردِ عمل ہوا تھا لیکن اتنا ضرور پتا چلا کہ ان وی سی صاحب کے زمانے میں یونیورسٹی کی رینکنگ سب سے نچلی سطح یعنی زی سے بھی نیچے چلی گئی کیونکہ موصوف نے کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈین کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھا ہوا تھا۔ جیسے ہمارے وزیر اعظم ملک میں کوئی اور قابل شخص نہ ہونے کے باعث کچھ وزارتوں کے قلمدان اپنے پاس رکھتے ہیں۔ وائس چانسلر صاحب اپنی تعیناتی کی آدھی سے زیادہ مدت “کامیابی” سے پوری کرنے کے بعد بالآخر بدعنوانی کے کسی کیس میں عدالت سے اس عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیے گئے۔ لیکن جب تک رہے ڈٹ کر اس عہدے کی تمام مراعات اور خصوصی تنخواہ کا پیکج لیا اور جی بھر کر کرپشن کی۔ اپنی جیبیں بھی خوب بھریں اور اوپر والوں کی بھی۔ کون اوپر والے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ پھر باعزت طور پر تمام مراعات اور فوائد کے ساتھ ریٹائر ہو گئے۔ لیکن اصل المیہ بدعنوانی نہیں۔ اور نہ بات ایک کیلنڈر کی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ اتنے بڑے ادارے ہائر ایجوکیشن کمیشن کی موجودگی میں، سرچ کمیٹیوں، سینٹ ممبران، قوائد و ضوابط اور جامعات میں ماہر اور اہل اساتذہ کے ہوتے ہوئے ایسے اوسط سے بھی کم ذہنی استعداد رکھنے والے لوگ جامعات کے سربراہ بن جاتے ہیں جن کو یہ تک نہیں معلوم کہ یونیورسٹی کیلنڈر کیا ہوتا ہے۔ جن میں اتنی عقل نہیں ہوتی کہ ڈکشنری میں ہی کیلنڈر کے معانی دیکھ لیں یا کسی تجربہ کار قابل پروفیسر ہی سے پوچھ لیں۔ یہ کوئی لطیفہ یا فرضی بات یا کہانی نہیں بلکہ سچا واقعہ ہے، اس میں زیبِ داستان صرف راقم کے الفاظ ہیں، متن ہو بہو مبنی بر سچ ہے۔ سنداً کیلنڈر کی ایک کاپی راقم کے پاس محفوظ ہے جسے کوئی بھی، جب چاہے ملاحظہ کر سکتا ہے۔ اسے ایچ ای سی کے “مثلی” یا “کاغذی میوزیم” کے لیے عطیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بات ایک کیلنڈر کی

  • 14-02-2016 at 12:37 am
    Permalink

    Allah o Akbar. …

  • 15-02-2016 at 11:49 am
    Permalink

    نہایت ادب کے ساتھ عرض ہے کہ بات صرف اک کیلنڈر کی ہی نہیں بلکہ بات ہم عام جاہل عوام سے بڑھ کر اُن پڑھے لکھے لوگوں کی ہے جو سب جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان “مگرمجھوں” پر ہاتھ ڈالنے کاحوصلہ نہیں رکھتے اور صرف اپنی عزت بچانے کے لیے نہ صرف قوم کا پیسہ بلکہ اس کا مستقبل بھی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ ابھی اس لمحے بھی وہ صاحب “شاندار طریقے ” سے پنشن انجوائے کر رہے ہوں گے ۔۔۔اگر مکافاتِ عمل نے گھیرا تنگ نہ کیا ہو تو۔

Comments are closed.