پنجابی-پختون غیر حقیقی تضاد اور غلط شعور کی لبرل نمائش


عالمی شہرت یافتہ بنگالی ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کے افسانے “کابلی والا” کو جہاں ایک متاثر کن افسانہ مانا جاتا ہے وہاں اس پر بنی ہندی فلم “کابلی والا” کو بھی شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔ یہ تلاش معاش کے لئے افغانستان سے کلکتہ آنے والے ایک افغان کی کہانی ہے۔ کہانی میں دکھایا جاتا ہے کہ کلکتہ کا معاشرہ افغانوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا، ان کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ کابل سے آئے پختون بچوں کو اغوا کرکے دور پار کے دیسوں میں بیچ دیتے ہیں۔ معاشرے کے اس جعلی خوف کو بنیاد بنا کر بعض افراد افغانوں کے پیسے ہضم کرنے کے لئے انہیں گاہے پٹواتے اور گاہے جیل بجھواتے رہتے ہیں۔

“کابلی والا” اور کلکتہ کو چھوڑ کر آئیے نریندر مودی کے گجرات چلتے ہیں۔ جہاں ہندو مسلم فسادات ہوچکے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد ان فسادات کو برصغیر کی تاریخ میں بدترین سانحوں میں شمار کیا جارہا ہے۔

نندیتا داس کی گجرات فسادات پر بننے والی انسانیت دوست فلم “فراق” کا ایک منظر۔۔۔۔

ریڑھی بان ہندو ایک مڈل کلاس جوڑے (شوہر مسلم، بیوی ہندو) کو سمجھا رہا ہے۔۔۔”دنگا فساد میاں لوگوں (مسلمانوں) کے خون میں شامل ہے، ہم کو سکھایا جاتا ہے سہنا اور ان کو، ان کو جہادی بننا، جہادی”۔۔۔”میں نے بہت دیکھے ہیں میے (مسلمان) سب سالے کٹر ہوتے ہیں، کٹر”

مڈل کلاس نوجوان، ریڑھی بان کو بتاتا ہے کہ وہ بھی مسلمان ہے۔۔۔۔ریڑھی بان اس کی بات کو مذاق سمجھ کر کہتا ہے “صاحب، ایسے ٹائم پہ ایسا مذاق بھی ڈینجر ہوتا ہے، کچھ نہیں کہہ سکتے پتہ نہیں کب۔۔۔۔۔” ایسے میں پولیس آجاتی ہے۔

مختصراً، جب ہندو کو پتہ چلتا ہے کہ اس کا مستقل گاہک، سلجھا ہوا نظر آنے والا پڑھا لکھا نوجوان واقعی مسلمان ہے تو اس کا منہ حیرت سے کھلا کا کھلا رہ جاتا ہے۔۔

گجرات اور کلکتہ کو چھوڑ کر آئیے آن لائن میگزین “ہم سب” میں شائع ہونے والے ایک “طنز نگار” جناب عدنان خان کاکڑ کے کالم کا رخ کرتے ہیں۔ موصوف کا کالم اس روشن حقیقت کی رد میں لکھا گیا ہے کہ پنجاب میں ریاست کی ایما پر پختونوں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

مزکورہ “طنز نگار” ہمیں بتا رہے ہیں کہ “پشتون اسلام سے محبت میں پاکستان کی باقی سب قومیتوں سے آگے بڑھے دکھائی دیتے رہے ہیں۔ وہ جذباتی بھی جلدی ہوتے ہیں اور غصے میں بھی جلدی آتے ہیں۔ اس وجہ سے دہشت گردوں کے لئے ان کو ’غیر اسلامی جمہوری ریاست‘ کے خلاف جنگ کے لئے تیار کرنا بھی نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ پشتون لیڈروں کو بھی باچا خان کی فکر کا پرچار کرنا ہو گا کہ پشتون قوم کی عزت اور ترقی تعلیم اور امن میں ہے، ہتھیار پکڑنے میں صرف تباہی ہی ہے”

مزکورہ تینوں اقتباسات بظاہر مختلف جگہوں اور مختلف نوعیت کے معاملات پر مختلف ردعمل ہیں مگر ان میں ایک چیز مشترک ہے اور وہ ہے چیزوں کو ریاست اور سماج کے ایک مخصوص طبقے کی جانب سے پھیلائی گئی غلط معلومات کی عینک سے دیکھنا۔ کسی بھی قوم یا مذہبی گروہ کے اراکین مختلف مادی سماجی حالات، خاندانی پسِ منظر اور ماحول کے مطابق ایک بیانیہ تشکیل دے کر اسی بیانیے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ پختون بھی ایک پھیلی ہوئی قوم ہے جس میں کٹر مذہبی، معتدل، سیکولر، ملحد، اگنوسٹک، عدم تشدد کے پیروکار، لالچی، راست باز، مجرم الغرض ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں۔

بالادست قوتیں اپنے مفادات کے لئے گوں نا گوں بیانیے تشکیل دیتے ہیں اور پھر اس بیانیے کو مختلف پروپیگنڈہ مراکز کے ذریعے عوامی اذہان میں انڈیلا جاتا ہے۔ عوام اس بیانیے کو لاشعوری طور پر اپنا کر اس کے مطابق عمل کرنے لگ جاتے ہیں۔ عوام کی اس قبولیت کو سماجیات کے اساتذہ “غلط شعور” کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس غلط شعور کو بالادست قوتیں اپنے غیر انسانی مفادات کی تکمیل کے لئے استعمال کرتے ہیں جبکہ عوام یہی سمجھتی رہتی ہے کہ جو ہورہا ہے وہ عین فطری اور معمول کے مطابق ہے۔

عدنان خان کاکڑ صاحب نے پختونوں کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار فرمایا وہ اسی “غلط شعور” کی فخریہ نمائش ہے۔ یہ بیانیہ سرد جنگ کا تحفہ ہے جب روس کے خلاف پختونوں کو استعمال کرنے کے لئے ان کو مذہبی، تند خو، تشدد پسند اور بہادر وغیرہ کے القابات دیے گئے جنہیں رفتہ رفتہ پختونوں سمیت تقریباً پورے پاکستان نے سندِ قبولیت بخشی۔ اس بیانیے کے ذریعے پیٹرو ڈالر جہاد کے ذریعے “کیسے کیسے”، “ایسے ویسے” ہوگئے اور “ایسے ویسے”، “کیسے کیسے” بن گئے۔

اب ایک نیا نظریہ تراشا جارہا ہے جو اسی پرانے کا ہی تسلسل ہے لیکن انداز کچھ نیا ہے۔ اسی پرانے بیانیے کو استعمال کرکے غیر حقیقی پنجابی-پختون تضاد پیدا کرکے اس کی اوٹ میں ریاست ایک دفعہ پھر اپنے غیر انسانی مفادات کی تکمیل میں جت گئی ہے۔ پنجابی عوام کو تقریباً باور کرایا جاچکا ہے دہشت گردی کے پیچھے پختون ہیں کیونکہ “کٹر مذہبیت اور جہاد ان کے خون میں شامل ہے”۔ اس منفی اور غیر محسوس پروپیگنڈے کو پھیلانے میں عدنان خان کاکڑ جیسے لبرل بھی اپنا کندھا بخوشی یہ سوچ کر پیش کررہے ہیں کہ وہ “پاکستان کی خدمت” کررہے ہیں لیکن درحقیقت وہ اپنے “غلط شعور” کے باعث ایک مخصوص طبقے کے آلہ کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

عدنان خان کاکڑ اپنے غلط شعور کی نمائش میں اس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں کہ انہوں نے پنجابی عوام کو خوف کی نفسیاتی بیماری میں مبتلا بتاکر مستقبل کا اتنا خوفناک نقشہ کھینچا ہے کہ سوچ کر بدن لرز لرز جاتا ہے۔۔۔۔آئیے دیکھتے ہیں موصوف کیا فرماتے ہیں :۔

“پشتون لیڈروں کو خود کھڑے ہو کر دہشت گردی کے خلاف بلند آواز اٹھانی پڑے گی ورنہ اس وقت سے ڈرنا چاہیے جب یہ خوف پولیس کی صفوں سے نکل کر عام افراد تک پہنچ جائے۔ ہم اپنی وحشت پہلے بارہا دکھا چکے ہیں۔ ہندوؤں اور سکھوں کو مارنے کے واقعات تو پرانے ہوئے مگر ہجوم کے غیر مسلم آبادیوں پر حملے اور بربریت کی خبریں تو تواتر سے آتی ہی رہتی ہیں۔ سیالکوٹ کے دو معصوم بھائیوں کو غیر انسانی بہیمیت سے مارے جانے کا واقعہ بھی پرانا نہیں ہے۔ موبائل چھیننے کے شبے میں ہجوم کی جانب سے ڈاکوؤں کو مارے جانے حتی کہ زندہ جلا دینے تک کی خبریں بھی آتی رہی ہیں۔ جب ہجوم مارنے پر تل جائے تو صرف وحشت و بربریت ہی باقی بچتی ہے، انصاف اور عقل وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ ہجوم سے ڈرنا چاہیے، خاص طور پر جب وہ خوف کی گرفت میں ہو۔”

اب اندازہ لگائیے گجرات میں ہندووں نے ہجوم کی صورت مسلمان آبادیوں پر حملے کیوں کئے گئے ہوں گے۔ یا کلکتہ کے عوام نے کابلی والا پختونوں کو سرِبازار لہو لہان کیوں کیا گیا ہوگا۔ ان تمام واقعات بلکہ سانحات کے پیچھے خوف پھیلانے اور فرضی دشمن پیدا کرنے کے انہی ہتکھنڈوں سے کام لیا گیا تھا جو ہمارے بھولے لبرل بادشاہ جانے انجانے پنجاب میں دہرا رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔