خوش آمدید…. کیا آپ کو فارسی آتی ہے؟


mubashirوجاہت بھائی! کیا آپ کو فارسی آتی ہے؟

میں دو بار ایران جا چکا ہوں لیکن غالب کی طرح مکتبِ غمِ دل میں رفت گیا اور بود تھا سے زیادہ نہیں جانتا۔ ہر بار تھیلا بھر کے فارسی کتابیں بھی لایا لیکن انھیں پڑھے کون اور سمجھے کون؟ ہاں، ان میں رنگین تصویریں دیکھ کر بچوں کی طرح خوش ہوجاتا ہوں۔ ہم سب بچپن میں، جب ہمیں لفظ پڑھنے نہیں آتے، تصویریں پڑھ کر خوش ہوتے ہیں۔ میں اپنے بچپن کو نہ بھلانے کے لیے ان زبانوں کی تصویروں والی کتابیں خریدتا ہوں، جنھیں میں پڑھ نہیں سکتا۔ میں یہ نہیں بتانا چاہتا کہ میرے پاس ایسی کتنی کتابیں ہیں۔

آج صبح ہی میرے پاس تصویروں والی ایک کتاب پہنچی ہے۔ یہ ایرانی فوٹوگرافر رضا دقتی کی کتاب وار اینڈ پیس ہے۔ خوش قسمتی سے میں اس میں لکھی ہوئی کہانیاں پڑھ سکتا ہوں کیونکہ یہ انگریزی میں ہے۔ غالباً یہ رضا دقتی کی واحد کتاب ہے جو انگریزی میں شائع ہوئی ہے۔

reza-deghatiوجاہت بھائی! آس پاس کے ماحول سے آگہی رکھنے والے ہر پاکستانی کی طرح مجھے بھی ایران کے انقلاب سے دل چسپی ہے۔ برسوں پہلے مختار مسعود کی کتاب لوح ایام پڑھی تھی۔ وہ انقلابِ ایران کے ایک عینی شاہد کی ڈائری ہے۔ مختار مسعود صاحب نے لفظوں سے عکس بندی کردی ہے۔ لیکن یہ کس کا قول ہے کہ ایک تصویر ہزار لفظوں پر بھاری ہوتی ہے؟

میرے پاس ڈیوڈ برنیٹ کی کتاب 44 ڈیز ہے۔ یہ 26 دسمبر 1978 سے 7 فروری 1979 تک کی داستان ہے۔ ہمیں یاد ہے کہ محمد رضا پہلوی نے 16 جنوری کو ایران چھوڑا تھا اور روح اللہ خمینی یکم فروری کو تہران پہنچے تھے۔ مختار مسعود کی تحریر اور اس کتاب کی تصاویر کو ساتھ ملاکر دیکھیں تو نگاہوں کے سامنے پورا نقشہ کھنچ جاتا ہے۔

لیکن ڈیوڈ برنیٹ اور ان کے ساتھی فوٹوگرافر غیر ملکی تھے۔ رضا دقتی ایرانی ہیں۔ ان کے کیمرے نے صرف تاریخ رقم نہیں کی، ان کی آنکھوں سے ٹپکنے والے آنسوو¿ں کو بھی محفوظ کرلیا ہے۔

مہاتما گاندھی کے پوتے راج موہن دو سال پہلے کراچی لٹریچر فیسٹول میں آئے تو کسی نے ان سے پوچھا، ”آپ نے باچہ خان کی سوانح کیوں لکھی؟“ تاریخ داں راج موہن گاندھی نے کہا، ”بادشاہ خان انگریز کے دور میں بارہ سال اور پاکستان بننے کے بعد پندرہ سال جیل میں رہے۔ ان میں کوئی بات تو ہوگی۔“ رضا دقتی شاہ کے دور میں تین سال جیل میں رہے، تشدد برداشت کیا۔ انقلاب کے ایک سال بعد انھیں ملک چھوڑ کے بھاگنا پڑا۔ ان کے کیمرے میں کوئی بات تو ہوگی۔

Benazir

رضا کی جہازی سائز کتاب میں وہ سب رنگ ہیں، جن کا جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی اس جنگ زدہ پٹی میں آپ تصور کرسکتے ہیں۔ بے گھر خاندانوں کے سر پر سایہ فگن سرمئی بادل، ننگے جسموں پر پڑے ہوئے نیل، خوف سے سفید ہوئے چہرے، سرخ زخم اور اور سیاہ موت!

وجاہت بھائی! میرے پاس فوٹوگرافرز کی تنظیم میگنم کی بھی کئی کتابیں ہیں اور نیشنل جیوگرافک سوسائٹی کی بھی۔ ان میں صرف تصویریں نہیں ہوتیں، کہانیاں بھی ہوتی ہیں۔ فکشن نہیں، حقیقی زندگی کی کہانیاں۔ رضا کی کتاب میں بھی ہر تصویر کے ساتھ ایک کہانی ہے۔ وہ کہانی ہمیں کسی شخصیت، کسی خاندان یا کسی دوست سے ملاتی ہے۔ عموماً اس کہانی کا مرکزی کردار کوئی ہیرو ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی کسی ولن سے بھی ملاقات ہوجاتی ہے۔

ایک تصویر ہے جس میں خمینی صاحب خشمگیں نگاہوں سے کیمرے کو گھور رہے ہیں۔ ایک شبیہہ ہے کہ معمر قذافی کی آنکھوں میں ان جانے تفکرات ہیں۔ ایک عکس ہے کہ یاسر عرفات کی آنکھوں میں وحشت دکھائی دیتی ہے۔ ایک فوٹو ہے کہ احمد شاہ مسعود کی آنکھوں میں صحرا جیسی ویرانی ہے۔

ایک موقع ہے کہ اندرا گاندھی سکھ محافظوں کے ایک جتھے کی سلامی لے رہی ہیں۔ پہلی نظر میں ایسا دکھائی دیتا ہے جیسے سکھوں کا فائرنگ اسکواڈ کسی ملزمہ پر گولی چلانے والا ہے۔ اس تصویر کشی کے ایک سال بعد سچ مچ ایسا ہوگیا تھا۔

اسی کتاب کے ایک صفحے پر 1986 کا وہ لمحہ بھی نقش ہے کہ بینظیر بھٹو کی آنکھوں میں پانی ہے، ماتھے پر پسینہ ہے، دانتوں کو سختی Kurdسے بھینچا ہوا ہے اور چہرے پر غیر متزلزل عزم ہے۔

اس کتاب میں کئی مناظر ہیں جو بہت دنوں تک مجھے سونے نہیں دیں گے۔ اور نیند آئے گی تو خواب میں ڈرائیں گے۔ ایک کرد نوجوان ہے جو بم باری کے بعد اپنا کل سرمایہ حیات اٹھاکر بھاگ رہا ہے۔ یہ کوئی خاتون ہے۔ پتا نہیں، اس وقت بھی زندہ تھی یا نہیں۔ ایک صومالی شیر خوار ہے جس کے تن پر بھی کچھ نہیں اور یقیناً پیٹ میں بھی کچھ نہیں۔ تصویر دیکھ کر کوئی دعویٰ نہیں کرسکتا کہ وہ سانس لے رہا ہے یا آخری سانس لے چکا ہے۔ ایک کمبوڈیا کا کم سن فوجی ہے جس کے گلے میں کتابوں کا بستہ نہیں، بندوق ہے۔ ایک افغان جوڑا ہے جو شدید برف باری میں کہیں جارہا ہے۔ کمبل پوش خاتون ایک گدھے پر سوار ہے۔ عبا میں ملبوس مرد پیدل چل رہا ہے۔ میلوں دور تک سرد جہنم ہے۔ میں نہیں جانتا کہ ان کا سفر پہلے تمام ہوا یا زندگی۔

PlayAreaکیا میں یہ بتاوں کہ مجھے سب سے زیادہ کون سی تصاویر دیکھ کر تکلیف ہوئی؟ یہ صرف ہمارے خطے میں کھینچی جاسکتی تھیں۔ ایک تصویر قبائلی علاقے کی ہے جس میں کم سن مزدور مقامی اسلحہ ساز فیکٹری میں پستول بنارہے ہیں۔ دوسری تصویر سرحد پار کے کسی علاقے کی ہے جس میں آٹھ دس بچے کسی نام نہاد پلے لینڈ میں ڈوجنگ کارز چلارہے ہیں۔ یہ ویسی ڈوجنگ کارز نہیں جیسی ہم امریکا، یورپ یا اپنے ہاں بڑے شاپنگ مالز کے پلے ایریا میں دیکھتے ہیں۔ یہ ڈوجنگ کارز ٹینکوں کے روپ میں ہیں۔ اپنی اگلی نسل کو جنگ پر آمادہ کرنے
کے لیے اس سے بہتر کیا طریقہ ہوسکتا ہے؟

وجاہت بھائی! کیا آپ کو فارسی آتی ہے؟ مجھے نہیں آتی۔ لیکن اگلے ہفتے لاہور لٹریری فیسٹول میں آنے والے رضا دقتی کے لیے فارسی کے دو لفظ سیکھ لیے ہیں۔ خوش آمدید!


Comments

FB Login Required - comments

مبشر علی زیدی

مبشر علی زیدی جدید اردو نثر میں مختصر نویسی کے امام ہیں ۔ کتاب دوستی اور دوست نوازی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ تحریر میں سلاست اور لہجے میں شائستگی۔۔۔ مبشر علی زیدی نے نعرے کے عہد میں صحافت کی آبرو بڑھانے کا بیڑا اٹھایا ہے۔

mubashar-zaidi has 51 posts and counting.See all posts by mubashar-zaidi

One thought on “خوش آمدید…. کیا آپ کو فارسی آتی ہے؟

  • 13-02-2016 at 6:18 pm
    Permalink

    بہت خوبصورت لکها. …
    مطلب دولفظ فارسی کے یاد کیے تو مین بھی لاہور آنے کی حقدار ہون

Comments are closed.