رل مارئیے نعرہ کیدو دا …. اے محبت مردہ باد


wisi 2 babaشیخ نے آدھی رات کو بیگم کی اوٹ سے مردانہ وار لڑتے سر پر گولی کھا کر شہادت پائی۔ ان کی تنظیم کو سب سے بڑا شبہ ان کی نکی سے وڈی والی بیگم پر ہی رہا کہ شیخ کی جانب گولی سیدھی کرانے میں اسی کا ہاتھ ہے۔ مجاہدین نہایت انہماک سے بیواؤں کی تقسیم میں مصروف تھے جب کرنل امام ، خالد خواجہ کو معافی دلوانے وہاں پہنچے۔

انہماک نہ رہا تو شیر آپس میں لڑ پڑے۔ لڑائی اتنی بڑھی کہ کئی اہم لوگ مارے گئے۔ تحقیقات سے درست بات معلوم ہوئی کہ قصور ان کا تھا جو تقسیم کے وقت بلاوجہ وہاں پہنچے۔ ان دونوں کو گولی کھانی پڑی۔ اپنی بے وقت مداخلت پر کہانی انجام کو پہنچی۔ امیر محترم چھت پر اپنی نئی بیگم کے ساتھ تارے گن رہے تھے کہ ڈرون نے آ لیا۔ امیر صاحب کی ساری سسرال کو پھر مجاہدین کی تفتیش بھگتنی پڑی۔

ایک اور امیر صاحب نے جب ایک بہن کے بعد دوسری کو بھی دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر گھر لا بسایا تو علما کو بولنا پڑا۔ ان کی لعن طعن سے امیر صاحب پر ڈپریشن کا حملہ ہو گیا جو جادو قرار پایا جس کا پھر علاج ہوتا رہا۔ مجاہدین کی سرگرمیوں کو اتنا نقصان کسی فوجی آپریشن یو ڈرون حملوں نے نہیں پہنچایا جتنا خواتین نے پہنچایا جو سات پردوں میں چھپی بھی پسند آ جاتی رہیں اور بیچاروں کی شہادت میں مددگار بنتی رہیں۔

ہمارے ملک کی مشہور معروف دل دہلا دینے والی تنظیم کا جب بھی کوئی بڑا گرفتار ہوا، اللہ کے خاص فضل و کرم سے کسی کڑی کے ہاتھوں پکڑا گیا۔ جو بیچارہ خود کڑی کے ہاتھوں نہ پھڑا گیا، اس کو بھی پھڑایا کسی کڑی نے ہی۔ بار بار موقع دیا گیا طرح طرح سے آزمایا گیا لیکن یہ حسن والے زمین پر نرا فساد ہیں۔ نیک راہ پر چلنے والوں کی راہ کھوٹی کرتے ہیں۔ ابھی انہیں آزاد پھرنا ہوتا ہے ، لیکن پہلے زلف کے اسیر ہوتے ہیں اور جیل کی سلاخوں میں میں تاڑے جاتے ہیں، جن کو ابھی زندہ رہنا تھا، وہ شہید ہو گئے۔ زندہ رہتے تو طاقت بخشتے اپنی تنظیموں کو۔

یہ ساری تو پیار محبت کی داستانیں تھیں ان عظیم ہستیوں کی باتیں تھیں جو نیک راہوں پر چلے لیکن زمینی حسن نے انہیں آسمانوں پر پہنچا دیا۔ ایک کہانی ایسی بھی ہے ایک مرد مجاہد کی جو گرفتار ہوا اس کے بعد اس نے اپنے پھڑو ( گرفتار کرنے والے کو ) یقین دلایا …. قربان جائیے ان کی قائل کرنے والی باتوں اور دلائل پر کہ میں پھڑا ہوا کسی کام کا نہیں، مجھے رہا کرو، میں سب کو پھڑا دوں گا۔ پھڑو طبعیت کا سردار تھا۔ مان گیا اور ضمانت میں مرد مجاہد کی بیگم کو گروی رکھا جو ایک مجاہد کو جنم دینے ہی والی تھی۔

مرد مجاہد ایسا گیا کہ پھر ڈرون نے ہی اسے ڈھونڈا۔ تاریخ میں پہلا مرد، مجاہد ہو کر بھی جس نے اپنی گھر والی گروی رکھ کر سب نیک لوگوں کی بلے بلے کرائی لیکن دل ٹوٹ کر رہ گئے مجاہدین کے حسن والوں سے محبت سے۔ عشق محبت نے بھی انہیں جگہ جگہ مروایا۔

لعنت بھیجنی چاہئے پیار محبت پر جو راہیں کھوٹی کرے۔ اب تک آدھی دنیا فتح ہو بھی چکی ہوتی۔ پیار کا جو بھی نام لے اسے دو جوتے ضرور لگانے چاہئیں۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “رل مارئیے نعرہ کیدو دا …. اے محبت مردہ باد

  • 13-02-2016 at 7:35 pm
    Permalink

    ہاہاہاہاااااااااا۔ ۔ ۔ خوب لکھا ۔ ۔ ایسی کہانیاں لکھتے رہا کیجئے ۔ ظالمان کا جو ڈر باقی رہ گیا ہے وہ بھی دور ہو جائے گا ۔

Comments are closed.