انتظار حسین کا ریڈیو پاکستان کو دیا گیا آخری انٹرویو (2)


dpس۔ اگر ہم پاکستان میں صحافت کے میدان میں کالم نویسی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو آپ کا نام ان چند گنے چنے کالم نگاروں کی فہرست میں سر فہرست نظر آتا ہے جو ایک طویل عرصے سے کالم نگاری کے میدان میں براجمان ہیں تو آپ اپنے صحافتی سفر کو کس طرح بیان کرتے ہیں؟

ج۔ دیکھئے نا پیشے کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ایک تو یہ ہے کہ میں نے آغاز ”امروز“سے کیا اور صحافت کے جو مراحل ہوتے ہیں وہ سارے پورے کئے۔ کہ میں سب ایڈیٹر کی حیثیت سے وہاں ہوا اور وہ بڑا معیاری اخبار نکلا تھا۔ فیض صاحب اس کے ایڈیٹر انچیف تھے وہ توگویا لیکن اصل ایڈیٹرجو تھے اس کے وہ مولانا چراغ حسن حسرت تھے۔ اور اس میں ان کا ایک کالم چھپتا تھا۔ اور مجھے وہاں پر پتا چلاکہ کالم یہ ہوتا ہے اخباری کالم۔ کیونکہ واقعی زبان وبیاں آتا تھا ان کو۔ ایسی شخصیت تھے کہ زباں پر بھی اور کلاسیکی ادب پر بھی عبور تھا۔ اور یہ کہ وہ عام اخبار نویسوں سے بہت الگ شخصیت تھے، اچھا وہ بڑے ظالم ایڈیٹرتھے ویسے جبر اپنے سٹاف پر بہت کرتے تھے لیکن میری کچھ کہانیاں آ گئی تھیں اس وقت تک تو میرا وہ کچھ تھوڑا سا لحاظ کرتے تھے۔ مجھے احساس ہے کیونکہ انہوں نے مجھ سے جواب طلبی شاید کم ہی کی ہو۔ ایک مرتبہ خود ہی میں نے اپنے آپ کو جواب طلبی کے لئے پیش کر دیا تھا۔ لیکن وہ مجھے نظر انداز کر دیتے تھے کہ یار اسے بہت زیادہ لفٹ بھی نہیں دینی ہے۔ لیکن وہ مجھ سے شفقت بھی کرتے تھے۔ کہ بس ٹھیک ہے تو اس طریقے سے چل رہا تھا اور میں ان کا کالم پڑھ کر بہت کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ تو اس کے بعد جب میں” آفاق“ میں گیا تو” آ فا ق“ میں بھی میں باقاعدہ تقرر سب ایڈیٹر کی حیثیت سے ہوا۔ پھر رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ انہوں نے جو وہ مختلف ایڈیشنز نکالتے رہتے تھے تو ان ا یڈیشنز کا مجھے انچارج بنا دیا اور یوں مجھے ڈیسک سے اُ ٹھا دیا۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ انہیں وہ ایڈیشنز بند کرنا پڑے۔ تو اس کے جو مینجنگ ڈائریکٹر تھے سید نور احمد، وہ بھی ریٹائرڈ آفیسر تھے۔ پہلے وہ اخبار نویس رہ چکے تھے ” آﺅٹ لک“ کوئی اخبار نکلتا تھا۔ پھر اس کے بعد یہاں اخبار میں آئے، تو ان کا اخباری تجربہ تھا انہوں نے مجھے طلب کیا۔ اور کہا کہ تم تو سرپلس ہو گئے ہو۔ ایڈیشنز بند ہو گئے ہیں اب ہم تمھارا کریں کیا؟ تو ڈیسک پر تم واپس آ جاﺅ گے؟ میں نے کہا اب میں واپس نہیں جاﺅں گا۔ میں نے وہ مراحل طے کر لئے ہیں۔ تو کیا کریں؟ اس زمانے میں کالم ایک ہی ہوا کرتا تھا جیسے حسرت صاحب کا کالم ایک ہوتا تھا۔ ”آفاق“ میں بھی ایک کالم جو ہے، سالک صاحب لکھا کرتے تھے اور وہ بھی مشہور کالم نگار تھے اپنے عہد کے۔ اور مشہور شخصیت لاہور کی تو انہوں نے لکھنا چھوڑ دیا ان کی اور مصروفیات بہت سی تھیں۔ تویونہی مجھے خیا ل آیا کہ یہ کالم آج کل بند ہے ان کا تو میں لکھنا شروع کر دوں۔ اگر مجھے یہ ذمہ داری مل جائے۔ تو انہوں نے مجھے بڑے غور سے دیکھا کہ آپ کو یہ احساس ہے کہ یہ کالم مولانا عبدالمجیدسالک لکھا کرتے تھے۔ یعنی یہ جتانا کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور یہ جو نوخیز اخبار نویس ہے اس کے سپرد ہم کیسے کر دیں۔ پھر وہ سوچتے رہے۔ انہوں نے کہا اچھا ایڈیٹرتو مہر صاحب ہیں۔ مہرصاحب تو دفتر صبح ہی آتے تھے۔ اور جب ہم پہنچتے تھے دفتر میں ان کا کمرہ بند سا رہتا تھا اور پتا نہیں وہ کس وقت نکل جاتے تھے تو ہم نے مہر صاحب کو دیکھا ہی نہیں تھا۔ تو انہوں نے کہا کہ مہر صاحب کے تو آس پاس ہی تم کہیں رہتے ہو تو اپنا کالم لکھ کر ذرا دکھایا کر ان کو صبح چلے جایا کرو تو مجھے بھی شوق ہوا کہ ان کا نام محقق کی حیثیت سے بھی بڑا تھا۔ میں نے کہا کہ مہر صاحب سے مجھے ملاقات کا موقع ملے گا۔ تو میں نے کہا کہ بہت اچھا۔ تو میں نے صبح اٹھ کر اپنا کالم لکھا۔ اور ان کے پاس پہنچ گیا۔ اور وہ اس وقت DICTATION دے رہے تھے اور اتنی بلند آواز میں  DICTATION دے رہے تھے کہ میں دروازے پر تھا تو ان کی آواز آ رہی تھی مہر صاحب کی۔ اور ایک صاحب لکھ رہے تھے۔ اور جب میں پہنچا توانہوں نے کہا کہ بیٹھ جاﺅاور اب جب وہ اپنا کام مکمل کر چکے تو پھر انہوں نے کہا اچھا، کالم دیکھا اور کہا کہ کالم چھوڑ جائیے اور آپ جایئے تو میں آ گیا۔ تین چار پانچ دن تک یہ عمل ہوتا رہا۔ اس کے بعد انہوں نے کہا۔ عزیز اب آپ کوآنے کی ضرورت نہیں ہے میں مہر صاحب کولکھ کردے چکا ہوں اب کیا لکھ کر دے چکے ہو ں گے یہ مجھے پتہ نہیں ہے۔ خیر میں دفتر گیا تو مجھے انہوں نے مجھے مینجنگ ایڈیٹر سے ملوایا۔ اور انہوں نے کہا مبارک ہو تمہیں APPROVE کر دیا ہے مہر صاحب نے۔ تو ہم بہت خوش ہوئے کہ بھئی ایک بڑا محقق تھا اس نے ہماری تحریر کو پاس کر دیا۔ لیکن اس کے بعد بھی وہ کہہ رہے تھے یہ کالم جو تم لکھو گے پہلے میری ٹیبل پر آئے گا میں اس کو دیکھوں گا۔ اچھا وہ جب دیکھتے تھے اور انہوں نے بھی بڑی اچھی گائیڈنس دی کیونکہ وہ بھی منجھے ہوئے اخبار نویس تھے کسی زمانے کے تو وہ بہت آہستہ بولتے تھے کہنے لگے یہاں یہاں تک ٹھیک ہے اور انتظار صاحب یہ جو اگلا پیراگراف ہے بات تو آپ کی مکمل ہو گئی اور یہ تو فالتو ہے تو ایسا لکھنا چاہیئے جو بالکل ٹو دی پوائنٹ ہونا چاہیئے۔ تو ان سے بھی میں نے سیکھا۔ تو اس طریقے سے میں کالم وہاں لکھتا رہا۔ پھر وہ اخبار بند ہو گیا پھر ایک لمبا PERIOD چلتا ہے بے روزگاری کا تو اس کے بعد میں ”مشرق“ میں آیا تو”مشرق“ میں جب آیا میں تو محض کالم نگار کی حیثیت سے اور مجھے کچھ نہیں کرنا تھا۔ وہاں تو اور بھی ذمہ داریاں ہوتی تھیں تو کہا گیا کہ صرف آپ کو کالم لکھنا ہے اور روز لکھنا ہے تو میں نے کہا اچھا روز کالم؟ کہا کہ ایک کالم روز لکھا کریں گے اور میں نے ایک دو کالم لکھے تو انہوں نے کہا کہ دیکھئے ادبی کالم ایک ادیب کی حیثیت سے وہ ٹھیک ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ کالم ایسا ہو کہ جو ادبی حلقوں تک محدود نہ رہے اس سے آگے جانا چاہیئے اور تمھارے نام کے ساتھ چھپے گا میں نے کہا نام کے ساتھ تو چھپا نہیں کر تا کالم۔ کیونکہ میرے نام کے ساتھ میرے تو افسانے چھپتے ہیں جس طر ح حسرت صاحب کا نام کچھ اور ہے اور کالم سند باد جہازی کے نام سے ہوتا تھا تو یہ ہی روایت چلی آرہی ہے کہا کہ اب ہم اس روایت کو نہیں جانتے جو بھی کالم نگار اب آ رہے ہیں وہ نام کے ساتھ لکھ کر لاتے ہیں تو آپ کا

1نام بھی چھپے گا اور تصویر بھی چھپے گی میں اس سے خوف زدہ ہوا کہ روز میرا نام اور ساتھ میں میری تصویر۔ تو پھر میں نے کہا کہ اچھا۔ تو اس دن میں نے شام کوناصر کاظمی سے آ کر کہا کہ وہ تو مجھ سے کہہ رہے ہیں کہ کالم لکھو جو تمہارے نام کے ساتھ کالم لکھا جائے گا تو ناصر نے کہا کہ تم دوسرے احسان بی اے بن جاﺅ گے۔ احسان بی ا ے اس زمانے کے ایک مقبول کالم نگار تھے تومیں اورگھبرایا کہ میں اخبار نویس بن کر رہ جاﺅں گا میری افسانہ نگاری کا کیا بنے گا۔ جب اس نے دیکھا ناصر نے کہ یہ بہت ہی افسردہ ہو گیا ہے تو اس نے کہا کہ یہی تمھارے لئے چیلنج ہے کہ تم اپنی ادبی حیثیت کو صحافتی حیثیت سے کس طرح الگ رکھ سکتے ہو۔ پہچان تمہاری ادیب کی حیثیت سے ہونی چاہیئے اخبار نویس کی حیثیت سے نہیں۔ اور اب یہ ایک آزمائش ہے تمھارے لئے۔ تو میں نے سوچا کہ ہاں یہ بات بھی ہے مجھے ملازمت تو کرنی ہی ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ میں محض ادب کی طرف چلا جاﺅں۔ تو میں پھر دوسرے دن گیا اور میں نے کہا کہ اگر مجھے کالم لکھنا ہے اپنے نام کے ساتھ تو پھر ایک شرط میری ہے کہ میں سیاسی کالم نہیں لکھوں گا۔ کیونکہ دیکھئے مارشل لا تھا اس زمانے کا اور مجھے پتہ تھا کہ سیاسی کالم لکھنا جو ہے اس وقت کتنا مشکل کام تھا وہ تو وہاں سے ڈائریکٹو آتے تھے کہ آپ کو کیا لکھنا ہے اور توقع یہ ہوتی تھی کہ مارشل لا کے زمانے میں بہت سے موضوعات کی آپ پر پابندی ہوتی تھی اور آپ کو وہ لکھنا ہوتا تھا جو وہ کہیں۔ وہ ملک میں پہلی ڈکٹیٹر شپ تھی اور اس وقت بڑی ظالم ڈکٹیٹر شپ ہمیں نظر آ رہی تھی وہ۔ تو کہا کہ ہمیں اس سے غرض نہیں ہے کہ تم سیاسی لکھو یا غیر سیاسی لکھو۔ ہمیں اس سے غرض ہے کہ تمھارا کالم صرف ادبی حلقوں میں نہ پڑھا جائے وہ بھاٹی گیٹ کے تھڑوں تک پہنچ جائے۔ تو میں نے کہا کہ میں کوشش کرتا ہوں تو واقعی یہ ایک بڑا چیلنج تھا۔ لیکن میری مدد بڑے عجیب طریقے سے ہوتی تھی۔ میں بیٹھا ہوا تھا لارڈز میں، ہم چائے پیتے رہتے تھے فارغ اوقات میں ناصر کاظمی کے ہمراہ۔ میں نے دیکھا کہ وہ فوٹو گرافر جا رہے ہیں اوپر اور رپورٹربھی جا رہے ہیں۔ تو ہم نے ایک سے پوچھا کہ کیا ہو رہا ہے۔ کہا کہ نیلو پریس کانفرنس کر رہی ہے اور اس کے متعلق افواہ تھی کہ شادی کر رہی ہے دوسری۔ شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ تو میں نے کہا کہ یہ تو معاملہ اہم ہے۔ میں بھی گیا اور نیلو جس انداز میں تقریر کر رہی تھی اور وہ زبان اینگلو انڈین اردوبول رہی تھی تو مجھے بہت اچھا لگا میں نے آتے ہی اس پر کالم لکھا اور اس کی تصویر انہوں نے کالم میں شائع کی۔ جب میں دفتر پہنچا تو انہوں نے کہا مبارک مبارک جرمانہ ہو گیا ہے تم پر۔ میں نے کہا جرمانہ ہو گیا؟ جو ہمارے چیف تھے عنایت اللہ ان کے پاس گیا۔ میں پہنچا تو انہوں نے کہا جرمانہ ہو گیا۔ پھر دس روپے نکالے اور مٹھائی آئی اور کہا کہ تمھارا کالم جو ہے وہ بھاٹی گیٹ کے تھڑوں پر پہنچ چکا ہے۔ تو ایک اداکارہ کے واسطے سے اورمجھے اس وقت پتہ چلا کہ یہ عوامی کالم کس طریقے سے تھڑوں پر اور کون سی تحریریں پسند کی جاتی ہیں۔ تو پھر میں نے دیکھا کہ یہ شہری زندگی ہے کس طریقے سے اور ساتھ میں یہ بھی دیکھا کہ مجھے جو ادب ہے، آرٹ ہے، اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے۔ کیونکہ ان کی رپورٹنگ اخباروں میں ہوتی ہی نہیں تھی۔ آرٹس کونسل میں نمائش شروع ہے، کوئی تصویروں کی نمائش شروع ہے تو کوئی اس کی چھوٹی سی خبر آ جاتی تھی یا تھیٹر ہو رہا ہے، ڈرامہ ہو رہا ہے تو اس کا ذکر میں کالم میں کر دیتا تھا کہ بھئی نمائش ہوئی ہے، تھیٹر ہو رہا ہے یا ڈرامہ ہو رہا ہے یا ادبی محفل ہوئی ہے تو ساتھ میں یہ بھی لکھتا تھا تو اس طریقے سے پھر میرا کالم شروع ہوگیا اور میں نے کالم نگارکی حیثیث سے بہت جلد اپنا مقام پیدا کر لیا تھا۔

س۔ آپ کے اردو کالموں کا مجموعہ تو منظرعام پر آ چکا ہے۔ اپنے انگریزی کالموں کا انتخاب بھی کیا ترتیب دے رہے ہیں؟

ج۔ ابھی مجھے یقین نہیں ہے کہ میں جو انگریزی لکھ رہا ہوں وہ اس درجے کی ہے کہ میں اسے کتابی شکل میں پیش کرسکوں۔ لوگ کہہ رہے ہیں مجھ سے کہ بھئی یہ کالم ٹھیک ٹھاک ہوتے ہیں تمہارے۔ اس کا بھی آغاز عجیب طریقے ہوا۔ میں جب” آفاق“ میں تھا اور ایک ایک کرکے رخصت ہو رہے تھے لوگ اور میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں کیا کروں کیونکہ دوسرے اخبار میں جانے کے لئے آپ کو بہت جدوجہد کرنی پڑتی تھی تو میں نے دیکھا کہ سول اینڈ ملٹری گزٹ دوبارہ شروع ہوا ہے تو اس میں جو نئے ایڈیٹر آئے ہیں وہ بڑے نامی گرامی اخبار نویس تھے۔ پہلے ”پاکستان ٹائمز“ میں تھے اور BBC میں بھی رہے تھے اور میرا بس ان سے اس قسم کا تعلق تھا کہ وہ کبھی کبھی مجھ سے ملتے تھے، بس میں آتے ہوئے۔ ماڈل ٹاﺅن سے وہ آتے تھے۔ مسلم ٹاﺅن سے میں بیٹھتا تھا تو مسکرا کر کہتے تھے کہ تمھارا کالم آج کا اچھا ہے تو میں خوش ہو جاتا تھا۔ تو جب میں نے دیکھا کہ یہ ایڈیٹر بن گئے ہیں اور کچھ نئے نئے نام مجھے نظر آرہے تھے تو میں نے کہا کہ یہ نئے لوگ جو ہیں میں انہیں جانتا ہوں یہ انگریزی میں لکھ رہیں ہیں تو کیا میں انگریزی میں نہیں لکھ سکتا تو میں نے ایک روز انہیں فون کیا کہ میں بھی یہ دیکھ رہا ہوں اور میرا بھی جی چاہتا ہے کہ خامہ فرسائی کروں کچھ اردو کے ساتھ انگریزی میں کچھ لکھوں کیونکہ یہ اخبار جو ہے اب ڈانواڈول ہے یعنی تو کہا گیا کہ ہاں ہاں کوشش کرو ہم دیکھیں گے تمھاری تحریر۔ تو میں نے جو آغاز کیا اپنی انگریزی کا خوشونت سنگھ کا ایک ناول آیا ہوا تھا TRAIN TO PAKISTAN اور وہ مجھے بہت نا پسند تھا۔ میں نے کہا کہ یہ تو ”پشاور ایکسپریس “کی نقل ہے کرشن چندر کا افسانہ جس کی بہت دھوم ہوئی تھی۔ تو اس نے وہ ہی نسخہ لے کر بنایا ہے اور لکھ دیا ہے تو میں نے اس کے خلاف REVIEWلکھا اور بھیج دیا انہیں۔ آٹھ سات دن تک مجھے کچھ پتہ نہیں چلا ایک روز میں نے ان کو فون کیا کہ وہ میری تحریر آپ کو ملی تھی۔ کہا کہ تم کہاں سے بول رہے ہو؟ میں نے کہا کہ اس وقت تو میں ٹی ہاﺅس پر بیٹھا ہوں ناصر کاظمی کے ساتھ۔ کہا کہ یہاں آجاﺅجب اُٹھو وہاں سے تو میرے دفتر سے ہوتے ہوئے چلے جانا۔ تو میں دفتر سے ہوتا گیا۔ وہی مال روڈ تھا اس وقت مرکز سارا۔ تو اُنہوں نے اور کچھ نہیں کہا۔ میں نے کہا کہ یہ کتابیں اتنی پڑی ہیں اردو کی کہنے لگے ہمیں کوئی نہیں مل رہا ہے تمہیں جو کتابیں پسند ہیں لے جاﺅ اوران پر ریویو لکھو۔ میں نے کہا کہ وہ تحریر جو میں نے آپ کو بھیجی تھی آپ نے اس کو کیسا پایا؟ کہا کہ یہ ریویو کریں۔ اور آپ بھول جائیں وہ تحریر بھی ہے ہمارے پاس۔ تو میں نے کالم لکھے وہ تحریر بھی چھپ گئی اور یہ تحریریں بھی چھپتی رہیں۔ مجھے کوئی دو ہفتے ہو گئے کہ انہوں نے مجھے کہا کہ کالم جیسا لکھتے ہو” آ فاق“ میں وہ انگریزی میں لکھنا شروع کر دو۔ میں نے کہا کہ وہ میں نہیں لکھ سکتا۔ کہا کیوں؟ میں نے کہا کہ اس کے لئے تو انگریزی زبان پر بہت قدرت ہونا چاہیئے۔ کیونکہ اس میں تو زبان کا پورا استعمال ہوتا ہے کالم میں۔ اور ریویو میں تو صرف سادہ اظہار ہوتا ہے۔ تو میں اتنا منجھا ہوا اور انگریزی میں لکھنے والا نہیں ہوں۔ وہ

تو جو اتنی انگریزی پڑھی تھی کالج میں اس سے کام چلا رہا ہوں۔ کہتے چھوڑیں ان باتوں کو آپ فنکشن میں جائیں جو بھی کلچرل فنکشن ہوآرٹس کونسل میں۔ اور کالم لکھ کر آئیں تو خوش قسمتی سے ایک تقریب ایسی تھی جس میں ناصر کاظمی گفتگو کر رہا تھا اس کی گفتگو مجھے ویسے ہی انسپائر کرتی تھی اور اس کا مجھے آج تک یاد ہے کہ وہ کہہ رہا تھا درختوں کے متعلق کہ ایک درخت تو باہر ہے اور ایک درخت میرے اندر۔ میں نے کہا کہ یہی جملہ میرے کالم کا عنوان ہو گیا کہ A TREE WITHIN AND A TREE WITHOUT تو میں نے اپنا کالم شروع کر دیا۔ وہ گئے انہوں نے دیکھا اور کہا کہ ٹھیک ہے اور انہوں نے مارک کیا اور کہا کہ کس نام سے اسے شائع ہونا چاہیئے اور انہوں نے خود ہی نام لکھا Cadmus  اور اسی نام  سے میرا کالم چھپنے لگا تو اب رفتہ رفتہ یہ ہوا کہ اعجاز بٹالوی مجھ سے کہنے لگے کہ یار تم انگریزی میں بھی لکھ لیتے ہو ٹھیک ٹھاک تمہارا کالم جا رہا ہے تو تم مستقل وہاں کیوں نہیں ہو جاتے۔ میں نے کہا وہ حمید شیخ صاحب ہیں وہ تمہارے دوست ہیں تم ان سے کہو۔ تو کہا کہ ہم حمید صاحب سے کہہ دیتے ہیں۔ وہ گئے اعجاز بٹالوی پرانے ان کے جاننے والے تھے تو وہ گئے باتیں ہوتی رہیں کہ بھئی یہ انتظار تو بہت اچھا کالم لکھ رہا ہے تمھارے ہاں۔ کہنے لگے ہاں ہاں تو کہا کہ انہیں مستقل کر دو اسے۔ کہا کہ اتنی عجلت کیا ہے ابھی تو آغاز ہے ان کا ہو جائے گا تو انہوں نے اطمینان دلایا۔ لیکن میری بدقسمتی اگر وہ رہ جاتے تو شاید میں انگریزی صحافت میں آ ہی جاتا۔ وہ پڑ گئے بیمار، ہارٹ اٹیک ہو گیا اور پھر وہ بے چارے گزر گئے وہ جو دوسرے اسٹاف والے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کون آتا ہے جو سیدھا ایڈیٹر کے کمرے میں جاتا ہے۔ اپنا کالم اسے دیتا ہے اور چلا جاتا ہے ہم سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے تو وہ میرا کالم جو دیکھتے تھے نا تو سیدھا چلا جاتا تھا ایک آدھ جگہ وہ دیکھتے تھے جب سٹاف میں دوسرا بیٹھا ہوتا تھا، تو وہ میرے کالم کے ساتھ کاٹ پیٹ کرتا تھا اور میں سوچتا تھا کہ میرے کالم میں انہیں کوئی غلطی نظرنہیں آتی۔ اسے یہ غلطیاں نظر آ گئیں تو مجھے پتہ چل گیا تھا کہ یہ تو جب وہ بیمار پڑ ے تو انہوں نے میرا کالم گول کر دیا، لیکن اسی زمانے میں”مشرق “والوں سے ہمارا سودا ہو گیا اور ہم وہاں آ گئے تو اس طریقے سے وہ چھوٹ گیا جب میں ریٹائرڈ ہوا 25 برس کے بعد، تو میرے دوست تھے ایک دوسال جونیئر تھا ہمارا۔ ظفر صمدانی، اس نے اردو ناول بھی لکھے تھے اور اب وہ انگریزی صحافت میں چلا گیا تھا وہ ایک اخبار کا ایڈیٹر بن گیا تھا وہ ”فرنٹیئرپوسٹ “اخبار تھا اور اس نے مجھے فون کیا کہ انتظار صاحب آپ” مشرق“ میں ہیں تو میں نے کہا کہ ریٹائرڈ ہو گیا۔ کہنے لگے کہ کیا کر رہے ہو۔ میں نے کہا کچھ بھی نہیں کر رہا یار فری لانسنگ میں تھوڑی بہت کر لیتا ہوں۔ کہا کہ فری لانسنگ کر لیتے ہو تو کسی زمانے میں تم نے انگریزی میں بھی خامہ فرسائی کی تھی میں نے کہا کہ وہ تو میں بھول گیا اس زمانے میں کچھ پریکٹس تھوڑی تھی۔ نیا نیا کالج سے نکلا ہوا تھا اب تو بالکل ہی نہیں ہے کہا کہ نہیں نہیں لکھواس اخبار میں۔ تو میں نے دیکھا کہ ایک رات کو میں لکھتا رہا جلدی جلدی کہ میں انگریزی لکھ سکتا ہوں یا نہیں تو میں نے سوچا کہ لکھ سکتا ہوں میں۔ تو میں نے وہ کالم شروع کیا اس طریقے سے۔ یہ دوسرا دور جو چلا جو کالم پڑھ لیا کہیں انہوں نے احمد علی خان تھے اس زمانے میں ”ڈان“ کے ایڈیٹر۔ وہ بہت اچھے آدمی تھے ان کا میسج مجھے آیا کہ یہ کالم تم” ڈان“ میں لکھا کرو۔ حسن عابدی نے مجھے میسج دیا کہ بھئی خان صاحب یہ کہہ رہے تھے میں نے عابدی صاحب سے کہا کہ ابھی میں نے یہ جوائن کیا اور وہ میرا دوست ہے تو میں اس سے کیسے کہوں کہ اب میں جا ررہا ہوں”ڈان“ میں تو وہ کیا سوچے گا۔ تو فی الحال تو نہیں تو یہ ہواکہ ظفر صمدانی بھی چلا گیا کچھ لڑائی جھگڑے وہاں ہوئے تو تھوڑے دنوں کے بعد وہ اخبار جو ہے بند ہو گیا تو میں نے کہا کہ میں نے خوامخواہ انکار کیا۔ تو جب میں کراچی آیا تو چائے تھی وہاں احمد علی خان صاحب بھی تھے۔ حاجرہ بھی تھیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں تم کیوں نہیں لکھتے۔ اگر ہفتے وار نہیں لکھ سکتے ہو تو مہینے میں ایک دفعہ دو دفعہ۔ میں نے تمہارا کالم پڑھا ہے۔ میں نے کہا جی میں ویکلی لکھوں گا۔ کہا کہ یہ تو بڑی اچھی بات ہے۔ تو میں نے شروع کر دیا اور اس وقت سے پھر وہ تو اللہ کو پیارے ہو گئے۔ لیکن وہ وضع داری چلی آ رہی ہے کیونکہ اب صورت یہ ہے کہ اردو صحافت میں پیسہ بہت ہے یعنی مجھے اردو صحافت سے جو معاوضہ ملتا ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ کالم جو ہے” ڈان“ کا اس میں مجھے زیادہ سوچ سمجھ کر لکھنا ہوتا ہے اردو کا کالم تو رواں لکھ دیتے ہیں۔ لیکن میں اسے چھوڑنا نہیں چاہتا کہ ایک تو وضع داری چلی آ رہی ہے اور پھر یہ ہے کہ میں نے اب انگریزی میں اتنی مشق کر لی ہے لکھنے کی۔ تو جاری رکھوں جس حد تک ہو سکتا ہے اور اس کالم کو سیریس ریڈرز ملے ہوئے ہیں ایک بڑی بات یہ ہے اور اس میں یہ کہ اس قسم کا کالم نہیں ہوتا جیسے اردو کالم ہوتا ہے۔ اس میں سنجیدگی سے کوئی ادبی موضوع لیتا ہوں اور اس پر لکھتا ہوں تو یہ ایک طریقے سے سیمی پروفیشنل ہو گیا ہے کہ پروفیشنل تو میرا اردو کالم ہے تو یہ ہے صورت حال۔۔

(سجاد پرویز سے Cajjadparvez@gmail.com پر رابطہ کیا جا سکتا ہے )


Comments

FB Login Required - comments

سجاد پرویز

سجاد پرویز ریڈیو پاکستان میں نیوز ایڈیٹر ہیں۔ ان سےcajjadparvez@gmail.com پر بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

sajjadpervaiz has 14 posts and counting.See all posts by sajjadpervaiz