سیکولرازم …. چند غلط فہمیوں کا ازالہ


zeeshan hashimایک دوست کی “ہم سب” پر سیکولر ازم سے متعلق ایک تحریر شائع ہوئی جس میں سیکولر ازم بطور اصطلاح معانی پر بحث کی گئی۔  سیکولر نظریہ کی نفی کرنا بھی لبرل سیکولر اقدار سے متصادم نہیں۔  آپ کو حق حاصل ہے کہ کسی بھی رائے کو پسند کریں یا اس کا انکار کر دیں ، اس عمل سے بطور شہری آپ کے حقوق سلب نہیں ہوتے اگر آپ کسی دوسرے شہری کے بنیادی حقق سلب نہیں کر رہے۔

ویٹی کن آج بھی مغرب میں لبرل سیکولر اقدار کے خلاف محاذ گرم کئے ہوئے ہے۔  مغرب کی رجعت پسندقوتیں آج بھی وہاں لبرل اقدار سے برسر پیکار ہیں مگر بطور شہری ان کے حقوق سلب نہیں کئے گئے۔  وہ الیکشن میں حصہ لیتے ہیں حکومت سازی کا حصہ بنتے ہیں اور آزادی و مواقع کی مساوات سے ویسے ہی لطف اندوز ہو رہے ہیں جیسے باقی لبرل شہری۔

اسی مغرب میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد شریعت کے مطالبہ کے ساتھ سڑکوں پر مظاہرہ کرتی ہے۔  لبرل سیکولر اقدار میں مرتد یا کافر نام کی کوئی اصطلاح نہیں اسی لئے ان کے حقوق سلب نہیں کئے جاتے۔  متبادل سیاسی نظام پیش کرنا بطور شہری آپ کا حق ہے۔

اگر مغرب میں لبرل سیکولرازم کی تاریخ ملاحظہ کی جائے تو ہمارے لئے مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ ازم کی سیکولر ازم کے لئے جدوجہد کو فراموش کرنا ممکن نہیں۔  اگر مذہب و سیکولرازم باہم متصادم ہوتے تو کیا آج تک پروٹسٹنٹ اس سے بے خبر رہے ؟

جدید لبرل ازم کے بانی جان لاک الحاد کے خلاف مذہب کا مقدمہ لڑتے ہیں اور چرچ کو بطور ادارہ سپورٹ کرتے ہیں۔

ایسی ان گنت مثالیں دی جا سکتی ہیں جن سے واضح ہو جاتا ہے کہ مذہب سیکولر ازم کا موضوع ہی نہیں۔  موضوع شہریت کی مساوات اور بنیادی حقوق کی عالمگیر حیثیت ہے۔  لبرل ازم کی خواہش ہے کہ یہ دونوں آسائشیں دنیا کے ہر فرد کو میسر ہوں چاہے وہ لبرل سیکولر نظریہ کو مانتا ہے یا نہیں ، چاہے وہ مسیحی ہے مسلمان یا ہندو ، چاہے وہ ملحد ہے یا مذہبی ، بنیادی حقوق اور شہری انتظام میں سب کی برابر حیثیت مسلم ہے۔  یہ وہ آئیڈیا ہے جس کی بار بار بازگشت ہمیں جان لاک ، جان سٹارٹ مل اور دوسرے کلاسیکل عہد کے فلسفیوں و دانشوروں میں ملتی ہے جنہوں نے لبرل ازم کا مقدمہ علمی و فکری بنیادوں پر پیش کیا۔

سیکولر ازم مذہبی ریاست کو اس لئے سپورٹ نہیں کرتا کیونکہ اس کے خیال میں کسی ایک مذہب یا فرقہ کے بیانیہ سے جڑی ریاست فطری طور پر متعصب ہو جاتی ہے ، یوں ایک سماج میں دوسرے مذاہب ، یا ایک ہی مذہب کے مختلف فرقوں (جیسے پاکستان کی مذہبی جماعتیں سنی اسلام کو بطور ریاستی قانون کا درجہ دینا چاہتی ہیں ، اب سنی اسلام میں بھی کم ورژن نہیں ) ، یا مختلف نظریات کے لوگوں کے بنیادی حقوق سلب ہو جاتے ہیں۔

دیکھئے پہلے ہمیں ایک نقطہ سمجھا دیجئے کہ کیا آپ کی مجوزہ مذہبی ریاست میں مسلمان اور غیر مسلم حضرات برابر کے شہری ہوں گے یا غیر مسلموں کا درجہ ذمی کا ہو گا ؟ کیا عورت کو بھی مرد کے مساوی ایک ہی ووٹ اور مرد کی برابری کا استحقاق ملے گا ؟ کیا ایک غیر مسلم اور ایک عورت (مسلم اور غیر مسلم ) کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے وہی مواقع حاصل ہوں گے جو ایک مسلمان اور ایک مرد کو حاصل ہوں گے ؟ اسی طرح قانون سازی کے لئے قائم پارلیمان ایک خود مختار ادارہ ہو گا یا وہ اپنی قراداد پر فتویٰ حاصل کرنے کے لئے علما حضرات سے رجوع کرے گا ؟ اگر بالفرض پارلیمان بھی قرارداد پاس کر دیتی ہے مگر علما کے درمیان جائز ناجائز کی بحث چل پڑتی ہے تو اس صورت میں پارلیمان کیا کرے گی ؟ اگر پارلیمان علمائے کرام کے فتویٰ کی پابند ہے تو کیا اس سے جمہوریت اپنی موت آپ نہیں مر جاتی جیسا کہ ایرانی سیاسی نظام ہمارے سامنے ہے ؟ اگر علمائے کرام نہیں تو کس سے یہ سند لی جائے گی کہ آیا پارلیمان سے منظور شدہ قانون قرآن و سنت کے منافی تو نہیں ؟ یہ اور اس طرح کے سوالات کے جواب ہمیں مطلوب ہیں تاکہ ہم کسی مذہبی ریاست کا کوئی خاکہ تو سمجھ سکیں۔  ہمارے پاس فی الحال مذہبی ریاست کے درج ذیل خاکے ہیں۔

۔ سعودی ریاست

۔ ایرانی ریاست

۔ داعش / طالبان کی ریاست

اگر کوئی اور آج یا کل میں موجود رہی ہے تو براہ کرم ہماری رہنمائی فرمائیں۔  لبرل سیکولر حضرات مغربی لبرل ریاستوں کو بطور مثال پیش کر سکتے ہیں۔  جو صد فیصد پرفیکٹ نہیں کہی جا سکتیں کیونکہ ہر حال میں حسین جنت ارضی کا حصول انسانی سماج میں اس لئے بھی ممکن نہیں کہ انسانوں کے درمیان خیالات اور رجحانات میں تنوع موجود ہے جس کے سبب مسائل وہاں بھی پیدا ہوتے ہیں مگر ان مسائل کو جس خوش اسلوبی سے حل کیا جاتا ہے اس کی نظیر اب تک کی انسانی تاریخ میں ممکن نہیں (اگر ہے تو بتائیے )۔

دوسری بات یہ کہ اصطلاحات کے کوئی واحد متعین معانی ممکن نہیں۔  کسی بھی اصطلاح کے درجنوں معانی مل سکتے ہیں یا کسی بھی تصور کی ان گنت تشریحات مل سکتی ہیں۔  دور جانے کی ضرورت نہیں اسلام کے معانی اور اس کی تشریح کو دیکھتے ہیں۔  تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی کے ہاں اسلام کا اور مطلب ہے تو ابوبکر البغدادی کے ہاں اور۔  داعش افغانستان میں طالبان سے برسر پیکار ہے تو مسئلہ تصور دین میں ہی ہے۔  غامدی صاحب اور مولانا وحید الدین مولانا مودودی اور سید قطب کے تصور اسلام سے اتفاق نہیں کرتے۔  اسی طرح  منیر انکوائری کمیشن نے پاکستان کے تمام سرکردہ علما  سے گفتگو اور تجزیہ کے بعد یہ لکھا کہ مسلمان کی کوئی متعین تعریف ممکن نہیں جس پر تمام فرقے اتفاق کر سکیں۔  تو کیا اسلام یا مسلمان بطور ایک اصطلاح کے معانی محض تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی سے لینا قرین از انصاف ہے ؟ یا دوسرے لفظوں میں یہ کہنا جائز ہو گا کیونکہ اسلام کی کوئی ایک متفق تعریف نہیں جس پر تمام فرقے اتفاق کریں اس لئے اس اصطلاح کا استعمال کرنے والے شدت پسند ہیں اور انہیں یہ اصطلاح چھوڑ دینی چاہئے؟ اگر خفا نہ ہوں تو ایک سوال پوچھنے کی جسارت کروں گا کہ کیا کبھی آپ نے یہ پڑھا یا سنا کہ دو یا دو سے زیادہ سیکولر گروہ سیکولر ازم کے معانی و مفہوم پر آپس میں یوں لڑ پڑے ہوں کہ ایک دوسرے کو قتل کرتے پھر رہے ہوں ، خود کش حملوں میں اڑا رہے ہوں صرف اس بنیاد پر کہ میرا تصور سیکولر ازم صحیح ہے اور تمہارا غلط ؟

آئیے سیکولرازم کی چند رائج تعریفوں پر غور کرتے ہیں۔ مشہور بھارتی دانشور و مورخ رومیلا تھاپر کہتی ہیں

“Secularism is the curtailment of religious control over social institutions, not the absence of religion from society. It is when our primary identity (in political sphere) is of equal citizens of the nation, not as belonging to a particular religion or caste. ”

(انڈین ایکسپریس۔  August 20, 2015)

جواہر لال نہرو اس کی یوں تعریف کرتے ہیں۔

‘‘Equal protection by the State to all religions’. “protects all religions, but does not favour one at the expense of others and does not itself adopt any religion as the state religion”.

) Secularism Political Theory – Indian Institute of Technology, Chennai)

نوح Feldman کے مطابق۔

secularism is the separating religion from the public, governmental sphere is necessary to ensure full inclusion of all citizens

, Noah Feldman۔  Divided by God. Farrar, Straus and Giroux)

امریکی صدر جان ایف کینڈی کے مطابق

I believe in an America where the separation of church and state is absolute…. I believe in a president whose views on religion are his own private affair

)John F. Kennedy, Speech to the Greater Houston Ministerial Association, Houston, Texas, 1960۔ 09۔ 12(

جوزف لی کے مطابق

Secularism is not the opposite of religion, but the opposite of theocracy. Freedom from religion is also the guarantor of freedom of religion, in a world of mutually exclusive, competing beliefs.

باراک اوباما اپنی ایک تقریر میں سیکولرازم اور جمہوریت کی یکجائی کا دفاع کیسے کر رہے ہیں۔  ذرا غور فرمائیے

This separation [of church and state] is critical to our form of government because in the end, democracy demands that the religiously motivated translate their concerns into universal, rather than religion۔ specific, values. It requires that their proposals be subject to argument, and amenable to reason.

جیمز Madison لکھتے ہیں

“The purpose of separation of church and state (secularism ) is to keep forever from these shores the ceaseless strife that has soaked the soil of Europe in blood for centuries.

[Letter objecting to the use of government land for churches, 1803]”

اسی طرح اگر اگر سیکولرازم کی تعریف و تشریح کے حوالے دیئے جائیں تو انتہائی طویل مضمون بن جائے گا۔  قائد اعظم محمد علی جناح اپنے گیارہ اگست 1947 کے خطبہ میں سیکولرازم کا معانی و مفہوم متعین کر چکے ہیں، اگر اس کے فہم میں کوئی مشکل ہے تو بتایا جائے۔  وجاہت مسعود صاحب سیکولر ازم کی تعریف و تشریح پر ایک مکمل رسالہ لکھ چکے ہیں۔  جان لاک اور جان سٹارٹ مل سمیت تمام کلاسیکل لبرل فلسفی اسے ریاست و مذہب کو باہم جدا رکھنا سمجھتے ہیں۔  تمام مغربی لبرل ممالک کے قوانین مذہبی آزادی کو بنیادی انسانی حقوق میں شمار کرتے ہیں اور مذہبی تبلیغ و تشریح میں آزادی اظہار را? اور حق اجتماع کو بنیادی مانتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر آپ اصطلاحات کے لغوی معانی کے ابہام میں گرفتار ہیں تو یہ بات حیران کن ہے۔

دیکھئے ہمیں دراصل اصطلاحات کے لغوی معانی سے نہیں بنیادی تصور سے غرض ہے لفظ سیکولرازم کسی مقدس کتاب میں نہیں اترا کہ اس کے لغوی معانی پر وقت صرف کیا جائے۔ اصطلاحات کی بحث لغت کے ماہرین کے سپرد کیجئے ، مکالمہ فکر پر ہوتا ہے۔  کیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ مذہب اور ریاست جدا رہیں اور اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کریں۔ شہریت کی مساوات قائم ہو جس میں کسی بھی قسم کا مذہبی تعصب یا تفریق کارفرما نہ ہو۔  ریاستی انتظام میں مواقع کی مساوات قائم ہو کہ کسی بھی مذہب کا کوئی بھی فرد صدر یا وزیراعظم بن سکے۔  صنفی تفریق نہ ہو۔  پارلیمان کو قانون سازی کا غیر مشروط اختیار ہو۔  اگر آپ اس بنیادی تصور پر اتفاق کرتے ہیں تو آئیے سیکولرازم کے اسی معانی پر متفق ہو کر آگے بڑھتے ہیں یا آپ کوئی اور دیسی اصطلاح وضع کریں ہم بنیادی تصور کے اشتراک کے سبب آپ کے ساتھ ہوں گے۔  ہمارا آپ سے اختلاف لغت کا نہیں بنیادی تصور کا ہے جس طرح لفظ ڈیموکریسی لغت میں ابہام پیدا کر سکتی ہے مگر بنیادی تصور برائے جمہوریت میں ہم اور آپ جمہور کے اقتدار کے قائل ہیں۔  اور یہی بنیادی تصور میں مماثلت ہمیں جمہوریت پسند بناتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “سیکولرازم …. چند غلط فہمیوں کا ازالہ

  • 14-02-2016 at 10:57 am
    Permalink

    بہت خوب‘ ذیشان ہاشم۔ آپ نے جن صاحب کے جواب میں یہ مضمون لکھا ہے وہ کوئی مولوی نہیں ہیں لیکن انہوں نے سیکولرازم کولادین انتہا پسندی قراردیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہندوستان کے مسلمان‘ بشمول جماعت اسلامی ہند‘ سیکولرازم کی حمایت کرکے لادین اور انتہاپسند ہوگئے ہیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ چونکہ وہ تمام مسلمان جو غیرمسلم ممالک میں بطوراقلیت رہتے ہیں سیکولرازم کو پسندکرتے ہیں وہ سب بھی لادین اور انتہا پسند ہوگئے ہیں۔ انڈونیشیا اورترکی جیسے ممالک سیکولرازم اختیار کرکے مرتد ہوچکے ہیں۔ کیا پاکستان اور دیگر ملکوں میں اٹھتے بیٹھتے سیکولرازم کی مذمت کرنے والے اعتدال کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز ہوتے ہیں؟

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کتنے ملکوں میں سیکولرازم کو پاکستان کی طرح ایک گالی سمجھا جاتا ہے اور کتنے ملکوں میں اسے ایک مثبت قدر کے طورپر لیا جاتا ہے؟ ایک طرف تو ہمارے ہاں سیکولرازم کو ایک گالی سمجھاجاتا ہے لیکن جونہی ہندوستان اپنے آپ کو سیکولر قرار دیتا ہےتمام محب وطن پاکستانی فوراً حرکت میں آجاتے ہیں اور یہ ثابت کرنے میں جت جاتے ہیں کہ ہندوستان سیکولر نہیں ہے۔

    ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمیں اپنا یہ تضاد بلکہ intellectual schizophrenia کبھی نظر نہیں آتا۔

Comments are closed.