الو کا پٹھا۔۔۔۔۔!


farhana sadiqجس خدشے کے ساتھ اس نے فیس بک آن کِیا، وہی ہوا۔

اپنی پوسٹ پر سب سے پہلے اسی کا کمنٹ نظر آیا۔۔۔۔۔ کاٹ کھاتا ہوا، ہنسی اڑاتا ہوا

وہ تحریر پر بڑی محنت کرتی تھی۔۔۔۔۔

انہیں اچھے اچھے ڈیزائنز میں سجاتی۔۔۔۔۔

اپنے پیج پر پوسٹ کرتی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اسے پڑھیں اور اس کے پیج کی ترویح ہو۔۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں اس کے پاس سینکڑوں لائکس اور کمنٹس آجاتے۔۔۔۔۔

ہمیشہ اس کے کام کو سراہا گیا۔۔۔۔۔ تعریف کی گئی۔۔۔۔۔

کسی کمی طرف اشارہ بھی کیا گیا تو اس نے بڑی خوش دلی سے اسے قبول کیا اور شکر گزار ہوئی۔۔۔۔۔

مگر اب۔۔۔۔۔

جب سے وہ اس کی فرینڈ لسٹ میں ایڈ ہوا تھا۔۔۔۔۔

پہلے پہل تو اس نے نوٹس ہی نہیں لیا اور اس کے ہر کمنٹ کا جواب ایک مسکراتے آئکون سے دے دیا۔۔۔ شاید اسی سے اس کا حوصلہ بڑھا اوراس نے کھل کراس کی ہر تخلیق میں عیب نکالنا شروع کردیا۔۔۔۔

اگرچہ وہ تنقید سے نہیں گھبراتی تھی مگر اس کا لہجہ، اس کے نپے تلے طنزیہ جملے سیدھے دل پر وار کرتے۔۔۔۔ اس کا اپنی تحریر پر سے اعتماد اٹھنے لگتا۔۔۔۔۔

گو کہ وہ اسے نظر انداز کر کے اپنی پوسٹ پہ ہنسی مذاق کرتی رہتی مگر لاشعوری طور پر اس کے کمنٹ کی منتظر بھی رہتی۔۔۔۔۔ مگر ہر بار ہی اس کی تضحیک نما تنقید اس کو چڑا دیتی۔۔۔

کبھی کبھی اس کا جی چاہتا۔۔۔۔۔ پلٹ کر ایسا جواب دے کہ اس کی طبعیت صاف ہوجائے مگر ساتھ ہی اپنی ساکھ کا بھی خیال آجاتا۔۔۔۔ یہ احساس رہتا کہ فیس بک پر اس کی شخصیت کا تاثر ایک مہذب اور ادبی شخصیت کے طور پرموجود ہے۔۔۔۔۔

ان باکس کے استعمال میں اس کی اپنی انا آڑے آجاتی کہ اسے یہ کیوں کر احساس دلایا جائے کہ اس کی رائے کی بہت اہمیت ہے۔۔۔

آج کا افسانہ تو اس نے پوسٹ کرنے سے پہلے دو معتبر لوگوں کو دکھا کر اصلاح بھی لی تھی۔۔ معمولی سی تصحیح کے بعد دونوں نے ہی اسے بے حد پسند کیا اور شائع کرنے کی سند دے دی۔۔۔۔

مگر پھر بھی اس نے خامی نکالی۔۔۔۔

’گو کہ پوری کہانی شاندار ہے… بس آخری حصہ یا تو لکھا ہی نہیں جانا چاہیے تھا یا پھر کسی کردار کی انفرادی سوچ کے حوالے سے بیان ہونا چاہیے تھا -کہانی کار کو کہانی میں گھسنے کی کوشش بلا وجہ نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔۔ ‘

ہنہ !

بہت جھنجھلا کے اس نے سوچا۔۔۔ اچھا اگر یہ بات درست بھی ہو کیا ہمیشہ بالکل صحیح تجزیہ کر کے کمنٹ کرنا ضروری ہے۔۔۔

کبھی کسی خامی کو نظر انداز بھی تو کیا جاس کتا ہے۔۔۔

کچھ کمنٹس کے بعد اس کے اگلے کمنٹ نے تو آگ ہی لگا دی۔۔۔۔

’ویسے محترمہ سے اتنا اچھا لکھنے کی امید تو نہ تھی،غلب گمان ہے کہ یہ تحریر مسروقہ تو نہیں۔۔۔۔۔ یا کم سے کم چربہ۔۔۔۔ ‘

وہ غصے کی شدت سے کپکپا گئی۔۔۔۔ کپکپاتے ہوئے اس نے جواب ٹائپ کرنا چاہا مگر وفور جذبات سے آنکھیں بھر آئیں اور اس کرین دھندلا گئی ۔۔۔۔

اسے لگا جیسے اس کے چاروں طرف بہت ساری آوازیں جمع ہوگئی ہوں۔۔۔ آوازیں باہم گونجنے لگیں۔

یہ سرقہ تو نہیں ، یہ چربہ تو نہیں۔۔۔؟

ہر کمنٹ چیخ رہا تھا۔۔۔۔ سب کی پروفائل پکچرز اس کی طرف دیکھ دیکھ کر ہنس رہی تھی تھیں اور اشارے کر رہی تھی۔۔۔۔

بتا ؤ، بتا ؤ، یہ سرقہ تو نہیں ، یہ چربہ تو نہیں۔۔۔؟

اس نے گھبرا کر لیپ ٹاپ بند کردیا۔۔۔۔۔

اب میز پر ترتیب سے رکھی کتابوں نے ہوا میں رقص کرتے ہوئے پوچھنا شروع کردیا۔۔۔۔۔

سنو سنو یہ سرقہ تو نہیں، یہ چربہ تو نہیں۔۔۔؟

ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھی پرفیوم اور کاسمیٹک کی بوتلیں بھی شامل ہوگئیں

تھوڑی دیر میں کمرے کی ہر چیز اس کے چاروں طرف طواف کر رہی تھی اور ایک ہی سوال کر رہی تھی۔۔۔۔۔۔

یہ سرقہ تو نہیں ، یہ چربہ تو نہیں۔۔۔؟

نہیں ! اس نے بے آواز چیختے ہوئے جواب دیا۔۔۔۔

کمرے میں یکدم سکوت چھا گیا۔۔۔۔

اسے لگ رہا تھا نفرت کی شدت سے اس کا دل پھٹ جائے گا۔۔۔

کیا ایسا کروں کہ (ایسا کیا کروں جو) اس کو بھی ٹھیس پہنچے۔۔۔۔۔ اس نے انگلیاں تیزی سے چٹخانا شروع کردیں۔۔۔۔۔

کچھ سوچ کر اس نے دوبارہ لیپ ٹاپ آن کیا۔۔۔

اس کی وال پر پہنچی اور بلاک کا آپشن کلک کردیا۔۔۔

اس کرین پر تصدیق کے لئے لکھا گیا۔۔۔۔۔

Are you sure you want to block this person?

This person will no longer be able to:

Cancel Confirm

کنفرم پر کرسر رکھا تو بے اختیار دل بھر ایا اور جھر جھر آنسو بہنے لگے۔۔۔۔۔

الو کا پٹھا۔۔۔ اس نے سسکاری لی۔۔۔

ہاں ہاں الو کا پٹھا۔۔۔۔۔ قریب رکھے پین ہولڈر نے سرگوشی کی۔۔۔۔

پھر کیا تھا آہستہ اہستہ کمرے کی ہر چیز نے حمایت کردی۔۔۔۔

الو کا پٹھا۔۔۔۔۔

الو کا پٹھا۔۔۔۔۔

اس نے کینسل پہ کلک کیا اور کھلکھلا کے ہنس پڑی۔۔۔۔ دل کا سارا غبار چھٹ گیا تھا۔۔۔۔۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “الو کا پٹھا۔۔۔۔۔!

  • 15-02-2016 at 5:34 pm
    Permalink

    اس تحریر میں دیرینہ رفاقت اور ذہنی و فکری ہم آہنگی کے حوالے سے سماجی تعلقات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک اچھا نفسیاتی نکتہ اٹھایا گیا ہے ۔ سماجی تعلقات کا محور یا دائرہ وسیع تر انسانی سوچ جس میں مثبت اور منفی بھی ہے کن عوامل کے باعث انسان کو انسان سے قطع تعلق کرنے پر مجبور کرتا ہے ان نکات اور انکی تحلیل نفسی انتہائی ضروری سمجھتا ہوں ۔ تعلقات جب محبت کے دائرے میں داخل ہوجائیں اسوقت اگر دونوں میں سے کوئی کسی کو بلاک کرنے کی سوچتا بھی ہے تو جس نفسیاتی کیفیت سے وہ دوچار ہوتا ہے وہ لمحے بڑے بے سکون اور مضطرب ہوتے ہیں ۔ یہاں قلمکار جس مبہم طریقے سے سائکلوجسٹ کا رول ادا کرگیا وہ اس کہانی کو بہترین زاویئے فراہم کرگیا ۔ رائٹر کے لیئے نیک تمنائیں ۔ سید صداقت حیسن

  • 17-02-2016 at 1:42 pm
    Permalink

    خوبصورت و عمدہ تحریر ،
    جدید دور کی نئی کہانی ، کتابوں کے گھومنے کی منظر کشی ایسی کی گئی جیسے فلم کا سین آنکھوں کے سامنے چل رہا ہو

  • 10-03-2016 at 10:31 am
    Permalink

    Keep it up
    Good psychological analysis

  • 11-03-2016 at 1:47 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر. کیفیت کی عمدہ عکاسی ہوئی ہے. الو کے پٹهے کی کاوشوں کا کچه اثر تو ضرور ہوا ہوگا، کہ اس کہانی میں مصنف ہے بهی، اور نہیں بهی.
    مجهے فرحانہ کی تحریروں میں یہ سب سے زیادہ پسند آئی.

Comments are closed.