آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں


usman Qazi ویلنٹائن دے پر محترم عامر ہاشم خاکوانی کا مضمون پڑھ کر بے اختیار منہ سے نکلا۔۔۔۔ موذن مرحبا، بر وقت بولا۔۔۔۔ تیری آواز مکے اور مدینے۔۔۔۔ تعجب ہوتا ہے کہ استاذ ی محترم خاکوانی صاحب اس قدر تجزیاتی اور تاریخی پیرایہ فکر میں اظہار خیال بھی کرتے ہیں، اور خود کو ’رائٹ‘ کا آدمی بھی کہتے ہیں۔ یا تو ملامتی صوفیا کی اقتدا میں نظر بٹو کے طور پر یہ پردہ تانا ہے، وگرنہ اگر ان کی مراد اس ’رائٹ‘سے ہے جو ’رانگ‘ کا متضاد ہوتا ہے، تو ہم ان سے بڑھ چڑھ کر ’رائٹ‘ کا آدمی ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔۔۔۔ تم جہاں کے ہو، واں کے ہم بھی ہیں۔۔۔۔ غالبا کالم کی طوالت کے پیش نظر خاکوانی صاحب ایک نکتے کو محض مس کر کے بڑھ گئے، اور وہ ہے ’ہماری تہذیب، ہمارا تمدن، ہماری اقدار‘۔۔۔۔ درست کہ ویلنٹائن ڈے کا ظہور ہماری سرزمین پر نہیں ہوا، بلکہ ماضی قریب میں، صارفیت کی قوتوں کے زیر اثر یا ثقافتی خلا ملا کے تحت ہمارے ہاں آیا ہے۔

صرف یہ یاد دہانی کروانا چاہوں گا کہ شمسی (گریگورین) کیلنڈر، چوبیس گھنٹوں پر مشتمل روزانہ کا نظام الاوقات وغیرہ بھی مغربی بدعات ہیں جو، ابتدائی مخالفت کے بعد ہماری ’تہذیب، تمدن اور اقدار‘کا ایسا جزو لا ینفک بن چکی ہیں کہ انہیں مد نظر رکھے بغیر دین و دنیا کا کاروبار چلانا تقریبا نا ممکن ہو چکا ہے۔ احباب کو علم ہوگا اور اس خادم کی آنکھوں دیکھی اور خود بیتی بات ہے کہ سر پر ٹوپی، عمامہ رکھے بغیر لوگوں، خصوصاً بزرگوں کے سامنے جانا سخت بد تمیزی سمجھا جاتا تھا۔ آج کی صورت حال سب پر عیاں ہے۔ ڈولیوں اور چادر والے تانگوں کا رواج خادم کی پیدائش سے پہلے لد چکا تھا مگر یہ خوب یاد ہے کہ اوائل جوانی میں، جب ہم نے کویٹہ کی قدیمی روایت کے تحت جناح روڈ کے تھڑوں پر بیٹھنا شروع کیا تو ہر وہ خاتون جو بغیر برقع کے جاتی نظر آتی، لوگ باگ اس کے کردار کے بارے میں شکوک کا اظہار کرتے۔ پھر معزز گھرانوں میں برقع کی جگہ ایرانی “چادری” نے لی، جس پر ایک مہین سا نقاب سی لیا جاتا تھا۔ پھر محض سر ڈھکنے کا رواج کافی سمجھا جانے لگا۔ بلکہ نوبت بہ اینجا رسید کہ جو خاتون برقع، یا نقاب والی چادر اوڑھے جاتی دکھائی دیتی، وہ لوگوں کی نظر میں مشکوک ٹھہرتی۔ خادم کو وطن عزیز سے در بدر ہوئے ایک دہائی سے اوپر ہوچکا ہے۔ اب نجانے کیا صورت حال ہے۔

گرد و پیش پر نظر دوڑائیں تو بہت سے ایسے ہی تمدنی مظاہر ’تھا جو نا خوب، بتدریج وہی خوب ہو‘ اور اس کے بر عکس کی تفسیر دکھائی دیں گے۔ اس مثال سے یہ بتانا مقصود تھا کہ تہذیب، تمدن، اقدار وغیرہ کوئی جامد چیزیں نہیں ہیں ۔ ان میں مختلف اندرونی اور بیرونی عوامل کے زیر اثر تبدیلی آتی رہتی ہے۔ جس مظہر پر معاشرے میں ایک عمومی اتفاق قائم ہو جاتا ہے، وہ رہ جاتا ہے، ورنہ ’ملتیں جب مٹ گئیں، اجزائے ایماں ہو گئیں‘ کے مصداق اوراق پارینہ میں جا بیٹھتا ہے۔

خادم کی ذاتی رائے میں ماضی قریب اور حال کی سب سے اہم آویزش پدر سری اقدار اور فرد (مرد و زن) کی شخصی آزادی کی کشمکش ہے۔ تمام تاریخی ادوار میں غالب طبقہ اپنی بالا دستی کو قائم رکھنے کے لئے معاصر معاشرتی ڈھانچے کو جوں کا توں رکھنے کے لئے مذہب، روایت، اقدار وغیرہ کی موافق تعبیرات ڈھونڈتا ہے۔ جہاں یہ آویزش کھنچاو ¿ کی انتہا کو پہنچ جاتی ہے وہاں تصادم نا گزیر ہوجاتا ہے اور مغرب کے مانند انتہا پسند تانیثیت (برن دی برا ۔۔۔۔ محرم سوختن ) کی تحریکات چل پڑتی ہیں۔ اگر ان مسائل کے حل کی جانب مکالمے اور افہام و تفہیم کی راہ سے بڑھا جائے تو اسی احسن تجویز کو بروئے کار لانا پڑے گا جس کی جانب خاکوانی صاحب نے، ویلنٹائن ڈے کے باب میں، آخر میں اشارہ کیا ہے کہ’محبت جیسے حسین ترین جذبے کی توہین نہ کی جائے۔ عامیانہ، سطحی اور بازاری انداز سے اس کے اظہار کے بجائے مہذب، شائستہ انداز میں رشتوں کے تقدس اور نزاکتیں ملحوظ خاطررکھی جائیں‘۔ خادم اس پر محض اتنا اضافہ کرنا چاہے گا کہ ’رشتوں کے تقدس‘ وغیرہ کی نئی تفہیمات طے کرتے وقت فروع کی بجاے بنیادی اقدار کو مد نظر رکھا جاے، جن میں ان معاملات میں ایک جانب مادہ پرستانہ لالچ، اور دوسری طرف جبر اور طرز کہن کے ظواہر پر بے جا اصرار کے غبار سے صاف، باہمی احترام پر مبنی مکالمے کا پیرایہ ہو۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکوں

  • 15-02-2016 at 5:41 am
    Permalink

    Wonderful Khan Saheb

  • 19-02-2016 at 6:52 am
    Permalink

    عثمان قاضی کی حسبِ معمول ایک اور عمدہ تحریر۔

Comments are closed.