لنک ڈاؤن ہے…. انسانی رشتے


rafia naseerکچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ بجٹ کے حساب سے مہینے میں ایک بار بذریعہ چیک بینک سے پیسے نکلوا لیے جاتے اور اس کے مطابق مہینہ بھر اخراجات چلتے تھے۔ اسی میں سے کچھ پیسے بچا کر مہینے میں ایک آدھ بار بازار جا کر شاپنگ بھی کر لی جاتی اور خوشی خوشی پرسکون گھر آ جاتے۔ اب چند برسوں سے ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ الیکٹرانک بینکنگ کا آغاز ہوا ہے جسے عام اصطلاح میں ای بینکنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں اے ٹی ایم کارڈ، ڈیبٹ کارڈ اور کریڈٹ کارڈ استعمال ہوتے ہیں۔ اے ٹی ایم کارڈ سے ہم نہ صرف کیش نکلوا سکتے ہیں بلکہ اس کے ذریعے بجلی، گیس، فون کے بل بھی جمع کروائے جا سکتے ہیں اور ایک مخصوص حد تک فنڈز بھی ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔ اے ٹی ایم اور کریڈٹ کارڈ کے علاوہ ای بینکنگ کے دو اضافی ڈلیوری چینلز بھی ہیں اور وہ ہیں فون اور انٹر نیٹ بینکنگ۔

ای بینکنگ سے انسان کو سہولتیں تو حاصل ہوئیں کہ آپ جہاں بھی جائیں کریڈٹ کارڈ ساتھ رکھیں پیسے لے جانے کی ضرورت نہیں۔ جیب میں پیسے ہوں نہ ہوں حسبِ منشا خرچ کریں۔ جیب کتروں کا خوف نہ پیسے گرنے کا خطرہ۔ لیکن اس سے کچھ مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ کریڈٹ کارڈ کا ذکر آتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ زمانہ ہی کارڈز کا ہے۔ شناختی کارڈ، سروس کارڈ، وزیٹنگ کارڈ اور اب تو ڈرائیونگ لائسینس بھی کارڈ کی طرز پر بننے لگے ہیں۔ پرس میں کارڈز کی تعداد دیکھ کر لگتا ہے کہ آپ کی پہچان صرف کارڈ ہے۔ انسانی شخصیت تو کہیں کارڈز کے پیچھے چھپ گئی ہے۔ کسی زمانے میں انسان اپنی شناخت اپنی ذات اور خاندان سے کرواتا تھا مثلاً چوہدری، مغل، راجپوت وغیرہ۔ پھر اسلام آباد میں ہم نے یہ کلچر بھی دیکھا کہ انسانی پہچان گریڈوں اور عہدوں سے ہونے لگی۔ جس نے اب دوسرے شہروں کو بھی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کارڈ سسٹم نے اس میں بھی سہولت پیدا کر دی ہے۔ وہ جو پہلے ایک دوسرے سے باقاعدہ نام کے ساتھ تعارف ہوتا تھا اور دیر تک یاد بھی رہتا تھا کہ فلاں مینٹنگ یا فنکشن میں فلاں صاحب سے یا محترمہ سے ملاقات ہوئی تھی، کارڈ کے ساتھ وہ تعارف کا سلسلہ کہیں ڈسٹ بِن ہی میں چلا گیا ہے۔ انسانی شناخت کی مٹھاس اس میں سے ختم ہو گئی ہے۔ ہیلو ہائے کے بعد کارڈز کا آپس میں تبادلہ ہو جاتا ہے اور جب کچھ عرصہ بعد دیکھتے ہیں کہ والٹ میں بہت سے کارڈز جمع ہو گئے ہیں تو فالتو نکال کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے ہیں۔ ملاقاتوں پر اب گفتگو بھی اکثر یوں ہوتی ہے۔ آپ کون سا کریڈٹ کارڈ استعمال کرتے یا کرتی ہیں۔، میرے پاس تو اتنے کریڈٹ کارڈز ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہاں تک کہ اب دہشت گردی کے خطرے کی وجہ سے اپنے اپنے دفتروں اور کام کی جگہوں پہ شناخت کے لیے گلے میں لٹکائے پروفیشنل کارڈ سے یوں لگتا ہے جیسے آپ انسان نہیں چلتا پھرتا کارڈ ہیں۔ بات کہیں سے کہیں جا نکلی۔ ذکر ہو رہا تھا ای- بینکنگ کا جس کو انسانی سہولت کے لیے شروع کیا گیا تھا لیکن کیا یہ واقعی سہولت ہے؟ نہیں جناب ! یہ سہولت سے زیادہ دردِ سر ہے۔ ہائی بلڈ پریشر کا ایک بڑا سبب ہے۔ آپ کہیں گے وہ کیسے!

آپ اے ٹی ایم پہ گئے۔ کارڈ اندر ڈالا۔ یہ کیا لنک ڈاؤن ہو گیا۔ معذرت لکھی ہوئی سامنے آ گئی۔ دوسرے بینک میں گئے تو اے ٹی ایم مشین خراب ہے۔ پھر تیسرے میں گئے، آپ کی قسمت ہے کہ وہاں سے آپ کو پیسے مل گئے ورنہ کبھی کبھی اسی طرح پھرتے پھرتے آپ کا اپنا لنک ڈاؤن ہو جاتا ہے۔ اس پر ایک اور ستم کہ آپ اے ٹی ایم سے باہر نکلے تو آپ پر ایک خوف سوار ہے کہ جہاں پر لنک ڈاو¿ن ہوا تھا وہاں کہیں آپ کے اکاو¿نٹ سے رقم نکلنے کا عمل مکمل ہونے کے بعد تو لنک ڈاؤن نہیں ہوا۔ اگر ایسا ہوا ہے تو بھول جائیں کہ آپ کو وہ پیسے واپس مل سکتے ہیں۔ خود میرے ساتھ یہ ہو چکا ہے۔ ایک دن اے ٹی ایم جانا پڑا تو تیسرے اے ٹی ایم سے پیسے ملے۔ لیکن جب بینک سٹیٹمنٹ آئی تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوئی کہ ٹرانزیکشن دو دفعہ ہو گئی تھی۔ بینک منیجر سے شکایت کی تو پہلے مانے ہی نہیں ، جب زور دیا تو کہنے لگے ایک لیٹر لکھ دیں یہ ریورس (واپس) ہو جائیں گے۔ لیٹر لکھے کئی ماہ ہو گئے ہیں۔ جب بھی ان کو یاد دلاتی ہوں جواب ملتا ہے۔ ” میڈم آپ پریشان نہ ہوں، اصل میں یہ اب سٹیٹ بینک سے واپس ہوں گے۔ ” یہ کیسی ای بینکنگ ہے کہ ٹرانزیکشن میں تو ایک منٹ لگے اور ریورس ہوتے ہوتے سال ہونے کو ہے ابھی تک نہیں ہوئے۔ حالانکہ یہ خود بخود ریورس ہونے چاہیئے تھے۔ ایک دن میرے بیٹے کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کو بھی لنک ڈاؤن ہونے کے ساتھ پیسے نہیں ملے لیکن ٹرانزیکشن ہو گئی۔ سال گزر گیا لیکن ٹرانزیکشن ریورس نہیں ہوئی۔ تنگ آ کر اس نے بینک سے کہنا ہی چھوڑ دیا ہے۔

اے ٹی ایم کے باہر چور اچکے کھڑے ہوتے ہیں۔ ایک دھڑکا لگا رہتا ہے کہ باہر نکلیں گے تو کوئی پرس چھین کر بھاگ جائے گا۔ چھینا جھپٹی میں یا مزاحمت پرجان بھی جا سکتی ہے۔ یہ واقعہ بھی میرے ساتھ ہو چکا ہے۔ جوں ہی میں اے ٹی ایم سے باہر نکلی دو لڑکے موٹر بائیک پر آئے اور پرس ہاتھ سے چھین یہ جا وہ جا۔ خاموشی سے گھر آ گئی۔ رات گئے تک کارڈ کینسل کروانے کے لیے ہیلپ لائن پر کراچی فون کرتی رہی۔ یعنی پرس میں اور جو کچھ تھا اس کی فکر کے بجائے یہ فکر پڑ گئی کہ اگر کارڈ بلاک نہ ہوا تو کہیں مزید پیسے نہ نکلوا لیے جائیں۔ کیونکہ آپ کا پن کوڈ معلوم کرنا ان کے لیے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ ایسا کئی بینکوں میں ہو چکا ہے کہ ایک ہی دن میں اے ٹی ایم خالی کر لیے گئے۔ خیر شام سات بجے کا واقعہ تھا رات ساڑھے گیارہ بجے جا کر کراچی رابطہ ہوا اور بتایا گیا کہ صبح اپنے بینک جا کر ایک فارم فِل کر کے دیں گی تو کارڈ بلاک ہو جائے گا۔ اب بتائیں یہ کیسی سہولت ہے؟ ہے نا بلڈ پریشر بڑھانے والی بات! اسی طرح کریڈٹ کارڈ سے جب شاپنگ کرتے ہیں تو پتا نہیں چلتا بس گاڑی میں لفافوں کا اضافہ خوشی خوشی کرتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن پتا تو تب چلتا ہے جب بل آتا ہے۔ اور بل بھی بڑے پرکشش قسم کے پمفلٹس کے ساتھ موصول ہوتا ہے کہ فلاں جگہ، فلاں ہوٹل اور فلاں آؤٹ لیٹ میں اتنے فیصد ڈسکاؤنٹ ہے اور قسطوں میں خریداری کی سہولت بھی ہے۔ پھر جب بل ادا کرنے کے لیے بینک جانا پڑتا ہے تو لگتا ہے جیسے انسان اپنے لیے نہیں کماتا بس قسطیں ادا کرنے کے لیے ہی کماتا ہے۔ اور ان قسطوں کا حساب کرتے کرتے بلڈ پریشر بڑھنے کے ساتھ ساتھ نہ جانے کب چپکے سے ہارٹ اٹیک ہو جائے، اللہ ہی جانے!


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “لنک ڈاؤن ہے…. انسانی رشتے

  • 15-02-2016 at 1:05 am
    Permalink

    ایک ایسے اہم معاملے پر، جسےعموما درخورِآعتنا نہیں سمجھا جاتا،،، نہایت عمدہ اور جامع تحریر ہے۔
    بہت شکریہ بہن جی

  • 15-02-2016 at 1:12 am
    Permalink

    ایک ایسے اہم معاملے پر،،، ، جسےعموما درخورِاعتنا نہیں سمجھا جاتا،،، نہایت عمدہ اور جامع تحریر ہے۔
    بہت شکریہ بہن جی

  • 15-02-2016 at 5:29 am
    Permalink

    جس معاشرے میں کریڈٹ کارڈ یا دیگر بینکنگ کارڈ فیشن کے طور پر رکھے جائیں وہاں بنکنگ سسٹم میں جان بوجھ کر اسی کمزوریاں رکھی جاتی ہیں جس سے صارف کی رقم بنک کے جتنے استعمال میں رہے اس سے بنکوں کی دنیا میں بنک کے کریڈٹ میں اضافہ ھوتا ہے ۔ جبکہ یورپ یا برطانیہ میں بنکوں کا سسٹم بہت جدید ھونے کے ساتھ قانون کی بالادستی اور دیگر پرائیوٹ بنیکنگ کمپنیوں کی وجہ سے بنک صارف کو جتنی ھو سکے اچھی سروس مہیا کرتے ہیں اور ساتھ ساتھ مختلف نوعیت کے سروے بھی کرتے رہتے ہیں کہ صاف ھماری سروس سے کتنا مطم‏ئین ہے ۔۔ اگر کارڈ سے کوئی دوسرا بھی رقم نکال لے تو بھی بنک یا کریڈٹ کارڈ کمپنیاں پولیس کے ذریعۓ انکوائری کروا کے آپ کی رقم آپ کے اکاؤنٹ میں ڈالے دیتے ہیں ۔۔ اور اگر آپ کا کریڈٹ کارڈ یا اکاؤنٹ کارڈ چوری یا گم ھوجاتے ہیں تو ایک فون کال کرنے سے ہی آپ کے کارڈ بلاک کر دیۓ جاتے ہیں ۔ یہاں بھی بڑے بڑے فراڈ ھوتے ہیں مگر کسی عام شہری کو اس قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا ۔۔ پاکستانی معاشرے میں اب ہر کام میں خودنمائی اور بے ڈھنگا پن نمایاں ھوتا ہے اس لیے پاکستانی شہری خواہ وہ کسی طبقے یا درجے کا ھو اس کو پریشان رکھنے کے لیے بے تحاشا خواب اس کےدل کے دروازے پر ہر لمحہ دستک دیتے رہتے ہیں ۔ جتنے دروازے وہ کھولتا جاتا ہے اتنا ہی خود کے لیے عالم بززخ کی قید میں اضافہ کرتا جاتا ہے ۔

Comments are closed.