ویلن ٹائین ڈے سے یوم الودود تک


masood munawarجو بھی کہنا ہے کہوں گا خود سے
جاﺅ ، میں تم سے نہیں بولوں گا

کل میرے دوسرے وطن ناروے کے لوگ ویلن ٹائین ڈے منا رہے ہیں ۔ میرا پڑوسی رولف کسی گرجے کا رکن نہیں ، بلکہ وہ انسانی اخلاقیات کی تنظیم کا ممبر ہے ۔ اور وہ ویلن ٹائین ڈے کے خلاف نہیں ہے ۔ اُس نے مجھ کو سندیسہ دیا کہ کل کی شام تم میرے مہمان ہوگے اور ہم مل کر دنیا بھر کے محبّت کرنے والوں کے لیے بھجن گائیں گے ۔ اس نے ازرہِ تائید’سٹ پنجہ‘ کے انداز میں اپنا ہاتھ بڑھایا اور ہم نے ہاتھ سے ہاتھ ٹکرا کر ’اے محبت زندہ باد ‘کا نعرہ لگا کر اوپر تلے زوردار قہقہے لگائے ۔

پڑوسی کی خوشیوں میں شریک ہونے کی تعلیم مجھے اس روایت نے دی ہے جو میرے سابق وطن پاکستان میں اسلام کے نام پر رائج ہے ۔ پڑوسی کے حقوق اسلام کے حقوق العباد کے چارٹر کا بہت اہم حصّہ ہیں ۔

محبت زمین کے لوگوں کے لیے آسمان کا سب سے قیمتی تحفہ ہے ۔ ایک نعمتِ غیر مترقبہ ہے ۔ کیسے ؟

مجھے خانقاہِ فاضلیہ قادریہ کے بزرگانِ دین حضرت فضل شاہ علیہ رحمت نے بتایا تھا کہ اللہ کے ناموں میں سب سے بڑا نام ودود ہے ۔ ودود یعنی محبّت کرنے والا ۔ اور وہ جو ودود ہے ، رب العالمین ہے اور اپنی ساری مخلوق سے محبّت کرتا ہے ، چنانچہ جسے میرے نارویجن ہم وطن ویلن ٹائین ڈے کہتے ہیں ، میرے لیے یوم الودود ہے ۔ یوم الودود یعنی رب المحبت کا دن ۔

میرا رب رب المشرقین بھی ہے اور رب المغربین بھی ۔ اس کو محدود کر کے صرف رب المسلمین کہنا اور بنانا ، اس کی شان میں گستاخی کے مترادف ہے ۔ اس کے منصب کو محدود کرنے کا کفر ہے اور تم ہوتے کون ہو یہ کفر کرنے والے ؟

اب جبکہ فی زمانہ قانون کی حکمرانی کا سورج مغرب سے نکل رہا ہے ، تو یہ اہل مشرق کے لیے تشویش کی گھڑی ہے ۔ اپنی حالتِ زار پر نظرِ ثانی کا موقع ہے ۔ توبہ کا وقت ہے ۔ توبہ یعنی اپنی اصل کی طرف واپسی کا وقت ۔ یہ اہلِ مشرق کے لیے قیامت کی گھڑی ہے ۔ اور جن لوگوں پر قیامت کی یہ گھڑی گزر رہی ہے وہ مغرب کو اس بات پر صلواتیں سنا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ کیا فحاشی آ ٓمیز بدعت شروع کر رکھی ہے ؟

کون سی بدعت ؟ ویلن ٹائین ڈے ۔ ہاہاہاہا

مگر یہ تو میرے رب کا محبت بانٹنے اور پھیلانے کا دن ، یوم الودود ہے ۔ میں یہ بات پہلے بھی اوپر بیان کر چکا ہوں مگر تم کیا سمجھو گے ۔

انہی نا سمجھوں کو مدِ نظر رکھ کر میرے رب نے فرما دیا کہ اعرض عن الجاہلین ۔ جو لوگ بات کو نہیں سمجھتے اُن سے مت الجھو ۔ لہٰذا ، میں نہیں الجھتا ۔

میرے ایک دیرینہ رفیقِ کار اور شاعر دوست سید عباس اطہر نے کہا تھا :

کس کس کا دامن پکڑو گے ، کس کس کو سمجھاﺅ گے
اس طوفان کا رستہ کاٹ کے تن تنہا رہ جاﺅ گے
بند دریچے ، جلے ہوئے کاغذ اور گم سم دروازے
سارے مجھ سے پوچھ رہے تھے کس دن واپس ٓﺅ گے

لیکن محبّت کرنے والے لوٹ کر ان معاشروں میں واپس نہیں جانا چاہتے جہاں دہشت گردی ہو ، جہاں کرپشن ہو ، بھتہ خوری ہو ، اغوا برائے تاوان ہو ۔ ٹارگٹ کلنگ ہو ۔ میڈیا کے ذریعے لوگوں کی برین واشنگ کی جا رہی ہو ۔ اور جہاں مسلمان متقی یورپ اور امریکہ کے ویزوں کے عشق میں مبتلا ہوں اور لاکھوں روپے خرچ کر کے خود کو غیر قانونی طریقوں سے یورپ اور امریکہ سمگل کروانا چاہتے ہوں ، مگر ویلن ٹائین ڈے کی اس لیے مخالفت کریں کہ وہ مغربی ثقافت کا ٓئینہ دار ہے ، وہاں اس ضمن میں بہت سے دوسرے سوالات جنم لیتے ہیں جن کا تعلق ناموں سے ہے۔

ناموں کی بات چلی تو ریڈیو پر ایک مغربی سائینس دان مارکونی کا نام لکھا ہے ۔ اگر ایسا نام ناپاک ہے تو ریڈیو مت چلاﺅ اور مت سنو ۔ بجلی کے بلب پر ایک یہودی ایڈیسن کا نام لکھا ہے ، اُسے ہمیشہ کے لیے آف کردو ۔ کیوں اپنی پوتر ثقافت کی توہین کرتے ہو ؟ کیوں کیوں کیوں؟ اور یہ لاﺅڈ سپیکر جس سے دن رات چپکے رہتے ہو کسی دیوبندی مولوی کی ایجاد نہیں ، مغرب ہی کی خباثت ہے ۔ اور ٹی وی ٹاک شوز میں بیٹھ کر جن نا محرم خواتین سے زبان لڑا رہے ہوتے ہو ، وہ بھی مغرب ہی کی دین ہیں اور تم پر اسی طرح حرام ہیں جیسے ویلن ٹائین ڈے ۔ اور تو اور جدید ہسپتالوں کی جدید طبی مشینین بھی مولوی طارق جمیل کی ایجاد نہیں ہیں ، اُن کا استعمال بھی بند کرو ۔ یہ سب ہنود و یہود کی سازش ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ویلن ٹائین ڈے ۔


Comments

FB Login Required - comments

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 11 posts and counting.See all posts by masood-munawar

One thought on “ویلن ٹائین ڈے سے یوم الودود تک

  • 15-02-2016 at 1:38 am
    Permalink

    مسعود منور صاحب
    آپکی تمام باتیں درست مگر آپ نے آخر میں جو مثالیں دی ہیں وہ سائنسی ایجادات ہیں جبکہ ویلنٹائن کلچرل معاملہ ہے.

Comments are closed.