عدالت سے امامت تک


اقبال نے فرمایا تھا کہ اگر پھر سے صداقت ،عدالت اورشجاعت کا سبق پڑھ لیا جائے تو دنیا کی امامت کیلئے کوالیفائی کیا جا سکتا ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے مرحوم مردمومن نے آئین میں بھی صادق اور امین کے الفاظ کا اضافہ کیا اور اسمبلی کی رکنیت کے لیے اسے بنیادی شرط قرار دے دیا۔ ان کے مخالفین کا کہنا ہے کہ وہ اسی لئے خود انتخاب لڑنے کے خلاف تھے اور محض ریفرنڈم کو کافی سمجھتے تھے جس کیلئے ایسی کوئی کڑی شرط نہیں تھی بلکہ تمام کا تمام بارثبوت عوام کے کاندھوںپر تھا کہ وہ مسلمان ہیں تو وہ ضیا صاحب صدر ہیں۔

اپنے کشمیر کے آزاد حصے میں جو عبوری قانون نافذ ہے، اس کی کڑی مومنانہ شرائط کا تو ہمیں علم نہیں مگر ایسا لگتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کے منصف اعلیٰ نے ضرور اُس کا بغور جائزہ لیا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے انصاف کی فراہمی کا صدق دل سے حلف اُٹھانے کے بعد جن فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے، اُن میںسب سے نمایاں کوریج اُن کے نظام صلوٰة کی ترویج کو ملی ہے۔

نماز کی ادائیگی چونکہ ہمارے ہاں صاحب ایمان ہونے کی واحد ظاہری نشانی تسلیم کی جاتی ہے لہٰذا منصف اعلیٰ نے اِس بات کا پورا اہتمام کیا ہے کہ اِس کیلئے ایک نظم اجتماعی ترتیب دیا جائے۔ اِس بات میں تو کوئی شبہ نہیں کہ وہ صداقت اور شجاعت کے اعلیٰ معیار پہ پورا اُترنے کے بعد ہی عدالت کے بلند ترین رتبے پر فائز ہوئے ہیں لہٰذا اُنہوں نے مناسب خیال کیا کہ پہلے انتظامی حکم کے طور پر وہ خود کو امامت کا اہل بھی ثابت کر سکیں اور اُنہوں نے نماز کی بذاتِ خود قیادت کرنے کا ارادہ ظاہر کر دیا۔

صاحب کردار اور افسر با اختیار ہونے کے ساتھ ساتھ صاحب ریش ہوتے ہوئے اُن کی اقتدا پہ کس کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے لہٰذا تمام اسلامی ذہن والے شہریوں نے اس اقدام کو سراہا ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ بے نماز اور نمازی عدالتی اہلکاروں میں واضح فرق رکھا جائے گا اور کارکردگی کے لیے نمازوں کی شرح فیصدادائیگی کے الگ نمبر دیے جائیں گے۔ جدید انتظامی پیمانوں میں سالانہ کارکردگی کی جانچ کیلئے کے پی آئیز  Key Performance Indicators مقرر کیے جاتے ہیں جن کی بنیاد پہ سالانہ ترقی کا تعین کیا جاتا ہے اور کارکردگی کا بھی جائزہ لیا جا تا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ آزاد کشمیر کے عدالتی نظام میں اب ادائیگی نماز بھی سالانہ ترقی کا لازمہ سمجھی جائے گی۔

منصف اعلیٰ نے فرمایا کہ خفیہ طریقے سے نمازوں کی ادائیگی اور شرکت کا جائزہ لیا جائے گا۔ اِسی بات کی وضاحت ہونا فی الحال باقی ہے کہ عدالتی اوقات سے پہلے اور بعد کی نمازوں کی ادائیگی کے ثبوت کے طور پر محض بیان حلفی پر گزارا کرنا پڑے گا یا پھر اوتھ کمشنر کی تصدیق کے عمل سے بھی گزر نا ضروری ہوگا۔

اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلے میں اِس سے پہلے مسلم کانفرنس کی حکومتیں بھی کئی اقدامات کرتی رہی رہیں مگر حکومتی احکامات کے باعث عوام نے اِن اعلانات کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور خود کو سچے مسلمان نہ بنا سکے۔ عوام جب خود ہی نہ سدھرنا چاہیں تو حکومت کو الزام دینا زیادتی ہوگی۔ شاید چیف جسٹس صاحب نے بھی مجموعی اخلاقی انحطاط اور بے راہ روی دیکھ کر حکومت کی ناکامی کا تاثر لیا ہواور جوڈیشل ایکٹوازم کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے اصلاح احوال کا سوموٹو لیا ہے۔ ہم اُمید کرتے ہیں کہ عدلیہ اُن کی اقتدا میں پابندی سے سجدہ ریز رہے گی اور عوام اپنے اپنے فرقوں کی مساجد میں مقامی نظام الاوقات کے مطابق نماز ادا کرتے رہیں گے۔

نادان گر گئے سجدے میں جب وقت قیام آیا

جہاں تک فوری انصاف کی فراہمی کا معاملہ ہے تو عوام کو حکم امتناعی کی صورت میں ہر نئی تاریخ کو بلا تعطل یہ سہولت فرہم کی جاتی رہے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words
امجد ممتاز خواجہ کی دیگر تحریریں
امجد ممتاز خواجہ کی دیگر تحریریں

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں