کچھ بیان دعوت اور تبلیغ کا ….


salim javed“بھائی، آپ کے دنیا اورآخرت کے مسائل کا حل یہی ہے کہ آپ تبلیغ میں نکلو”

“میں تیار ہوں جناب، مگر میں نے نکل کر، کرنا کیا ہوگا؟”

“آپ دوسروں کو نکالو گے”

“اور وہ نکل کر کیا کریں گے؟”

“وہ، اوروں کو نکالیں گے”

“آخر اس نکلو، نکالو کا کوئی مقصد بھی ہے یا صرف گھر چھوڑ کر نکلنا ہے؟”

ضلع باغ (آزاد کشمیر) کے ایک کالج کے سٹاف روم میں دوستانہ قسم کی نشست تھی کہ ایک پروفیسر صاحب نے، ہمارے سامنے یہ سوال رکھ دیا۔

دراصل ہوا یوں کہ ہم تبلیغی جماعت کے ساتھ کشمیر گئے ہوئے تھے۔ مقامی دوست نے کالج کے پرنسپل سے صبح دس بجے کا وقت لیا ہوا تھا۔ چنانچہ ہم خصوصی گشت کرنے (یعنی سپیشل ملاقات کرنے) کالج پہنچے –

پرنسپل صاحب نے استقبال کیا اور فرمایا کہ بڑی کلاسوں کوایک ہال میں اکٹھا کر لیا ہے، اساتذہ بھی جمع ہیں، بس آپ کے بیان کا انتظار ہے۔

ہم نے عرض کیا کہ ہمیں تو یہ اجازت نہیں کہ بچوں کی پڑھائی میں خلل ڈالیں، ہم تو صرف اس سٹاف سے ملنے آئے ہیں جن کا پیریڈ خالی ہے۔ پس ان سے سٹاف روم میں ملاقات ہوسکتی ہے۔

پرنسپل صاحب، اس پر حیران ہوئے کیونکہ پہلے کئی تبلیغ والے، طلبا کو کلاس روم میں آکراپنی دعوت پیش کر چکے تھے اور بقول پرنسپل صاحب، طلبا پر بہت اچھے اثرات پڑے تھے۔

عرض کیا جن بزرگوں سے ہم نے تبلیغ سیکھی ہے، ان کا فرمان یہ تھا کہ یہ دعوت الہٰی والا سنجیدہ کام، بچوں کا کام ہی نہیں۔ سرکار دوعالم نے مسجد نبوی میں بچوں کے حلقے نہیں لگائے تھے، بڑوں کی تربیت فرمائی تھی تاکہ وہ اپنے بچوں کی خود تربیت کریں۔

اس دور میں تبلیغ والوں کا سلوگن یہ تھا کہ طلبا کو پڑھنے کے دوران چھیڑنا نہیں، اور چھٹیوں میں چھوڑنا نہیں۔ اور یہ بھی صرف یونیورسٹی کے طلبا کے لئے تھا۔ 18 سال سے کم عمر طلبا کو تبلیغ میں جانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔

ہم پہلی بار رائے ونڈ مرکز گئے تو ، باؤ بشیر صاحب (والد مولانا احسان الحق صاحب) نے ہم طلبا کو، پرانے رائے ونڈ مرکز کے مدرسہ کے برآمدے میں بیٹھ کر خصوصی بیان فرمایا۔

آج کل میڈیا کی وجہ سے لوگ مولانا طارق جمیل صاحب کو تبلیغی جماعت کا سربراہ سمجھتے ہیں، حالان کہ مولانا طارق جمیل صاحب تو تبلیغی قائدین کی دوسری صف میں بھی شمار نہیں ہوتے۔ پاکستان میں تبلیغی جماعت کے امیر، حاجی عبدالوہاب صاحب ہیں مگر ان سے پہلے باؤ بشیر صاحب ہوا کرتے تھے جوکل پاکستان ٹیلفون ڈیپارٹمنٹ کے ڈایئرکٹر جنرل تھے۔ ان کے متعلق سنا ہے کہ وہ دفتری اوقات میں تبلیغ کی بات نہیں سنتے تھے اور اس کے علاوہ اوقات میں، دفترکی بات نہیں سنتے تھے۔

بہرحال، ان کے بیان کا ایک جملہ میری یادداشت میں محفوظ ہے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اگر ذہن کی کارکردگی کا گراف بنایا جائے تو صبح سویرے، یہ اعلی ترین اور عشا کو، ادنیٰ ترین نقطہ پرہوتا ہے۔ پس آپ لوگ، بجائے رات گئے سٹڈی کرنے کے، تہجد کے وقت اٹھ کر پڑھا کریں تو اگر مطالعہ کم بھی ہوگا تب بھی ذہن میں رہ جائے گا۔

سچی بات یہ ہے کہ ہم کالج کے طلبا کو، ایک مولوی کے منہ سے ایسی نصیحت سن کربڑا تعجب ہوا تھا۔

اس کے بعد، مولانا عمر پالنپوری مرحوم نے بیان کیا۔ فرمایا ” ہم طلبا کو تبلیغ کا مقامی کام یہ بتاتے ہیں کہ وہ پڑھائی میں اوّل آ کر دکھائیں”۔ (پرانے تبلیغ والے، میری باتوں کی تائید کریں گے)۔

برسبیل تذکرہ، پنجاب حکومت نے تعلیمی اداروں میں تبلیغی جماعت کے داخلے پر پابندی عائد کی ہے۔ کم قسمتی سے یہ گناہ، پنجاب حکومت سے بھی پہلے یہ خاکسار کرچکا ہے۔ 80 کی دہائی میں، جب ہم کیڈٹ کالج کوہاٹ میں پڑھا کرتے تھے تو وہاں تبلیغ تو کیا ، داڑھی رکھنے پر بھی پابندی تھی۔ 2007 ءمیں کالج کے سالانہ اکٹھ میں شریک ہوا تو یہ جان کر حیرت ہوءی کہ اب کیڈٹس ، کالج کی مسجد میں تبلیغی تعلیم بھی کرتے ہیں اورعصر کے بعد گشت وغیرہ بھی کیا کرتے ہیں –

سٹیج پر اظہار خیال کا موقع ملا تو میں نے تفصیل سے عرض کیا کہ طلبا کو اس سے روکا جائے۔ ان کے ماں باپ نے ان کو سائنس پڑھانے یہاں بھیجا ہے نہ کہ فضائل اعمال پڑھانے، اور یہ کہ یہاں ہاسٹل میں یہ بچے آپ کے پاس امانت ہیں، ان کا بدن بھی اور ان کے ذہن بھی۔ ہاں، اپنے گھر میں ماں باپ کے ساتھ ہوں تو پھر والدین کی اپنی ذمہ داری ہے۔ میں نے سٹاف سے عرض کیا کہ تبلیغ میں نکلنے نکالنے کی دعوت آپ کے لئے ہے، بچوں کے لئے نہیں۔

کالج کے پرنسپل، بریگیڈئر اجمل صاحب نے خاکسار کا شکریہ اداکیا کہ آپ نے ہمارے ذہن سے بوجھ ہٹا دیا۔ پڑھائی کی وجہ سے منع کرنا چاہتے تھے لیکن اس نیک کام سے روکنے کو گناہ سمجھ کر، کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی۔

خیر، واپس کشمیر کے کالج چلتے ہیں، جہاں سٹاف روم میں ایک پروفیسر صاحب نے ” نکلو، نکالو” پر سوال کیا تھا۔

میں نے عرض کیا “حضور! اس کا درست جواب تو اہل علم ہی دے سکتے ہیں مگر خاکسار، اپنے فہم بھر کچھ تفصیل عرض کردے گا۔

دیکھئے، دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں جسے زندگی میں کسی نہ کسی مشکل سے نہ گذرنا پڑے۔ اگر کسی کو زندگی میں کوئی پرابلم ہی نہیں تو وہ انسان نہیں ہے۔ پھر تووہ خدا ہے یا فرشتہ۔

ہر انسان کے تین بڑے مسئلے ہیں۔ امن، عزت اور معاش۔

اب یوں ہے پروفیسر صاحب کہ میں اور آپ، خدا کی یکساں طور پر محبوب مخلوق ہیں۔ لیکن اگر عادل خدا نے میرے مسائل کا حل، آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا ہے تو پھر میرے ساتھ عدل نہیں کیا۔

پس، دنیا میں انبیا آیا کرتے تھے یہ بتانے کے لئے کہ اے انسانو! تمہاری انفردی مشکلات کا حل، تمہارے اپنے وجود کے اندر پوشیدہ ہے، اس کے باہر نہیں ہے۔

یہ بات، عقل کے لئے ہضم کرنا بہت مشکل ہے کہ کسی کے سارے ذاتی مسائل کا حل، اس کے وجود کے اندر موجود ہے۔ یہ بات بڑے بڑے دانشوروں کو ہضم نہیں ہوءتو وہ ابوجہل بن گئے اور سادہ دماغ لوگوں نے مان لیا تو وہ دنیا میں بھی بادشاہی کرگئے۔ اس بات کو سمجھنے، کوئی حسابی فارمولے کی ضرورت نہیں۔ اپنے محلے، گاو ¿ں میں دیکھ لیجئے۔ جو لوگ حقیقت میں اللہ سے لو لگائے ہوئے ہیں اور نیک اعمال کرتے ہیں، تو ہر عزت دار آدمی، بے ساختہ ان کی عزت کرتا ہے۔ ان کوایسی تنگدستی کا کبھی سامنا نہیں ہوتا جو انہیں مخلوق کے در پہ لے جائے اور ان کے چہروں کے اطمینان کو دیکھ کر، مضطرب دلوں کو بھی سکون و امن میسر آتا ہے۔

دوسروں کو چھوڑیئے، خود پہ تجربہ کر لیجئے۔ زندگی میں کوئی ایسے لمحے ضرور آتے ہیں جب انسان کا دل، خالق کی محبت میں ڈوب جاتا ہے۔ اس رات کو پچھلے پہر اٹھ کر، چار آنسو بہا لیجئے، اور صبح، اپنے ساتھ انجان لوگوں کے برتاو ¿ کا جائزہ لے لیجئے گا۔ آپ کو خود تجربہ ہوجائے گا کہ امن، معاش اور عزت تو آپ کے اپنے اندر سے پھوٹتی ہے۔

انسان کے اندر، اس کے انفرادی مسائل حل کرنے کا جو “سوفٹ ویئر” خدا نے رکھا ہے، اس کے پروگرامز کو “اعمال صالحہ” کہا جاتا ہے۔ اور تبلیغ والے، اس کو ایک جملے میں بیان کرتے ہیں کہ زندگی، اعمال سے بنتی ہے، مال سے نہیں۔

البتہ، انسانوں کے اجتماعی اور قومی مسائل کے حل کےلئے، فارمولا دیگر ہے اورجسکو سمجھنا قوم کے لیڈروں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے لئے ہر فرد مکلف نہیں۔ افراد کو مناسب لیڈر تلاش کرنااور اس کا کہا ماننا کافی ہے، باقی اجتماعی کام ان کے ذمہ ہے۔

اگر یہاں تک آپ متفق ہیں تو میں اگلی بات کروں ، ورنہ میرے پاس آپ کی بات کا جواب نہیں ہے”۔

فرمانے لگے”اس بات سے کون مسلمان متفق نہیں ہوگا کہ اعمال صالحہ سے دنیاوی کامیابی بھی میسر آتی ہے ؟ ہمارا ایمان ہے کہ نماز سے مسائل حل ہوتے ہیں لیکن اس کا تبلیغ میں جانے سے کیا تعلق ہے؟نماز گھر میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ “

عرض کیا” انسانی کمپیوٹرمیں اعمال کا پروگرام چلانے کےلئے جس کرنٹ کی ضرورت ہے، اسے ایمان بالغیب کہتے ہیں۔ ایمان کی طاقت ہی 80 سالہ بوڑھے کو سخت سردی میں تہجد کےلئے کھڑا کردیتی ہے، اوراسی کی کمزوری، 25 سالہ جوان کو فرض نماز کے لئے بستر سے نہیں اٹھا سکتی۔

محترم پروفیسر صاحب! ایمان بالغیب ایسی چیز ہے جو ماحول سے بنتا، پنپتااور بڑھتا ہے اور ماحول میسر نہ آنے سے گھٹتا اورکمزور ہوتا ہے۔

تبلیغ میں کیا ہوتا ہے؟ چند دنوں کےلئے، مسلسل ایمان بالغیب کا ماحول مہیا کیا جاتا ہے۔ انسان ، ماحول کا بندہ ہے، اسی سے تاثر لیتا ہے۔ مسجد کے ماحول میں، چاہے آپ صرف کھاتے پیتے اور سوتے رہیں پھر بھی دل، اس ماحول کا اثرپکڑتا ہے۔ دل کے کہنے پر ہی بدن حرکت میں آتا ہے اورپھربدن سے جو اعمال نکلتے ہیں، اسی سے، آپ کے مسائل حل ہوجاتے ہیں۔ یہ جتنے لوگ تبلیغ میں جاتے ہیں، ان کے دنیاوی مسائل حل ہوتے ہیں تو دوبارہ جاتے ہیں، ورنہ دوبارہ کیوں جاتے؟

لہذا اسی ایمانی ماحول میں لوگوں کو لانے کہا جاتا ہے کہ بس نکل جاو ¿ اور دوسروں کو نکال لو۔ اب آپ بتائیے، آپ کتنے دن کےلئے تیار ہیں؟”۔

پروفیسر صاحب نے قہقہہ لگایا”سلیم صاحب! تبلیغ میں نکلنا بھی تو ایک نیک عمل ہے، وہ بھی ایمان کی بنیاد پہ ہوگا، اورآپ فرماتے ہیں کہ ایمان تو نکلے بغیر بنتا نہیں۔ میں چونکہ نکلا نہیں ہوں تو تبلیغ والا نیک عمل کیسے کروں؟”

عرض کیا”آپ نے ایمان بننے کی بات درست طور پرنہیں سمجھی۔ دیکھئے، ہر مسلمان، ایمان والا ہی ہوتا ہے، مگر فرق بھی ہوتاہے۔ دو آدمیوں کے متعلق کہا جائے کہ یہ دونوں پیسے والے لوگ ہیں جبکہ ایک کے اکاو ¿نٹ میں ہزار روپے ہوں اور دوسرا کروڑ پتی ہو تو فرق تو ہوگا نا۔ کم پیسے والے کو زیادہ پیسہ والا بنانے کےلئے، اسے بزنس پارٹنر شپ آفر کی جاتی ہے۔ ایمان والوں کی مشترکہ مجلس، سب کو فائدہ دیتی ہے۔

چونکہ ہر مسلمان میں اتنا کم از کم ایمان بھی ہوتا ہے کہ استطاعت بھر، اپنے فالتو پیسہ اوروقت میں سے کچھ حصہ ، اپنے دین کو دے سکتا ہے، پس اس وقت تبلیغ والے، مسلمانوں سے ان کا فالتو وقت ہی مانگتے رہتے ہیں۔ “

چونکہ چائے اوربسکٹ آ گئے تھے، پس ہم مزید تبلیغ بھول کر “اصلی” تقاضے میں مصروف ہوگئے۔ خدا قبول کرے۔

پروفیسر صاحب کے سامنے تو مجھے یاد نہ آیا، لیکن انسان کے فارغ اوقات کے ضمن میں ، اب مجھے ایک بات یاد آئی ہے، سو آپ کوسنا دیتا ہوں۔

تبلیغی جماعت کے تیسرے امیر، مولانا انعام الحسن صاحب مرحوم بڑے کم گو آدمی تھے جوبہت مختصر سا بیان کیا کرتے تھے۔

ایک بار فرمانے لگے ” فراغت سے شہوت پیدا ہوتی ہے، شہوت سے گناہ سرزد ہوتے ہیں جس سے خدا ناراض ہوتا ہے اور انسان کی زندگی بگڑ جاتی ہے۔ پس خود کو مصروف رکھا کرو، دین کے کام میں نہ سہی ، دنیاکے کاموں میں ہی سہی”

گناہگار ہوں، تبلیغی بزرگوں کی باتوں پہ عمل کرنے سے خود کو قاصر پاتا ہوں مگران کی باتیں مزہ بہت کرتی ہیں۔

ذراحاجی عبدالوہاب صاحب کے اس سادہ جملہ کی گہرائی ملاحظہ کیجئے گا، اہل ذوق کی نذر ہے۔

ایک بار ہمیں کم خوراکی کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا۔ ” ہمارے زمانے میں روٹی کھایا کرتے تھے، سالن کے ساتھ، جب کہ تم لوگ سالن کھاتے ہو، روٹی کے ساتھ”

 


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “کچھ بیان دعوت اور تبلیغ کا ….

  • 15-02-2016 at 12:16 am
    Permalink

    بہت خوب.

  • 18-02-2016 at 12:10 pm
    Permalink

    Brother you are exactly right. But I want to add one thing expecially for university student (age above 18) that they should spent some spare time in tabligh as after this period they will become professional where it is very difficult to change your habit (e.g. name offering) .

  • 07-04-2016 at 3:24 pm
    Permalink

    محترم سلیم جاوید صاحب
    السّلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    آپ نے بہت خوب لکھا ہے

Comments are closed.