انتہاپسندی کے خاتمے کا خواب


riyaz ahmad najamریاض احمد نجم

سلطان محمود غزنوی حافظ قرآن تھا۔ فقہ، علم تفسیر اور حدیث کا ماہر تھا۔ مسند اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی فقہ پر ایک کتاب بھی لکھ چکا تھا۔ علم دوست تھا، نہ ہوتا تو فردوسی سے شاہنامہ کیسے لکھواتا؟ بیسیوں کی تعداد میں تعلیمی ادارے کیسے قائم کرتا؟ لیکن سرکاری سکولوں کی درسی کتب پڑھ کر جوان ہونے والے کتنے لوگ سبکتگین کے باصلاحیت بیٹے کی ان خوبیوں سے واقف ہیں؟ سوائے اس کہ وہ بت شکن تھا اور اس نے سومنات پر سترہ حملے کرتے ہوئے دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔

درسی کتب لکھ کر معصوم ذہنوں کی آبیاری کرنے والوں نے محمود غزنوی کو دشمنوں کے لئے خوف اور دہشت کے استعارے کے طور پر استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے کسی بڑے تعلیمی ادارے میں محمود غزنوی کے نام سے کوئی بلاک نہیں، البتہ فوج میں ایک کمپنی کا نام ضرور غزنوی رکھا گیا، ایک میزائل کو غزنوی کا نام دے کر اس کی عزت اور بڑھائی گئی۔ پاکستانی سوچ کے لئے، ایک عام پاکستانی کے ذہن کی درست عکاسی کے لئے کیا یہی بات کافی نہیں؟ ایک غیر ملکی حملہ آور کو اب بھی مقامی مسلمانوں کا ہیرو باور کرایا جاتا ہے۔ اور یہ صرف ایک مثال نہیں، احمد شاہ ابدالی اور شہاب الدین غوری بھی اس کی بڑی مثال ہیں، نہ ہوتے تو آج دشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے لئے بنائے گئے میزائلوں کے نام ابدالی اور غوری نہ ہوتے۔

ہمارا تعلیمی نصاب تیار کرنے والوں نے ان حملہ آوروں کو جن القابات سے نوازا، انہی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ نئی نسل کو ورثے میں کیسی سوچ اور ذہنیت دینے کی کوشش کی گئی۔ کیا کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ گزشتہ ادوار میں برصغیر کے علاقے میں تعلیمی، سائنسی، سماجی اور معاشی اصلاحات کون لوگ لائے؟ شاید کوئی نہیں، کیونکہ یہ کبھی ہمارا موضوع ہی نہیں رہا۔ غیر ملکی حملہ آوروں اور جنگجوو¿ں کو ہیرو بنا کر ہمارے معصوم ذہنوں پر مسلط کیا گیا۔ اس قوم کی نفسیات میں جنگ، جہاد، فتح، شکست، بدلہ، انتقام جیسے الفاظ کو اس طرح گھسیڑ دیا گیا کہ اب ہم ان سے ہٹ کر کچھ سوچنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھے ہیں۔ اردو جیسی نفیس زبان کے کتنے ہی محاورے ہیں جن میں اسی سوچ کو بار بار پیش کیا جاتا ہے۔ دشمن کی اینٹ سے اینٹ بجانا، ناکوں چنے چبوانا، کشتوں کے پشتے لگا دینا، لاشوں کے ڈھیر لگانا، انتقام کی آگ میں جلنا اور ان جیسے کتنے ہی محاورے ہیں جو ہماری نفسیات میں رچ بس گئے۔ یہی سوچ ہمارے ادب میں در آئی، فکشن کا حصہ بنی، فلموں، کہانیوں اور ٹی ڈراموں تک پہنچی اور اب ہمارا مزاج بن کر ہمارے رگ و پے میں دوڑتی ہے۔ ایسے میں کوئی جب یہ سوال کرتا ہے کہ ملک سے انتہا پسندی کا خاتمہ کب ہو گا، تو خیال آتا ہے:

اپنے خوابوں سے در وبام سجانے والے
داد دیتا ہوں تری بے سرو سامانی کی


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “انتہاپسندی کے خاتمے کا خواب

  • 03-05-2016 at 8:43 pm
    Permalink

    ایک اچھے ٹول باکس میں طرح طرح کے اوزار ہوتے ہیں کیونکہ ایک چابی سے سارے دروازے نہیں کھلتے اور ایک آلے سے سارے کام نہیں ہوسکتے ۔ اس لئیے سارے انسان اہم ہیں ، ہر عمر کے ، ہر جنس کے ، ہر رنگ کے ، ہر زبان کے اور ہر ہنر کے۔ اردو میں سے تعصب کو نکالنا ہوگا۔

    جب 1947 میں انڈیا نے برطانیہ سے آزادی حاصل کی تو انڈیا میں تعلیم کی شرح صرف 12٪ تھی۔ بارہ فیصد۔ جب اس سے سو سال پہلے انگریزوں نے حکومت کرنا شروع کی تھی تب کے حالات کا اندازہ لگائیں کہ بر صغیر کی تاریخ میں جن لوگوں نے جو بھی قبول کیا ،جو بھی رد کیا، فیصلے کئیے، جو سمجھا اس سمجھ کی حد کہاں تک ہوگی؟ اب انہی لوگوں کی جھوٹی سچی یکطرفہ کہانیوں سے ہماری تاریخ قلم ہے۔ اوٹ پٹانگ کہانیوں ، قصوں ، جھوٹی حدیثوں، تعصب، بیان بازی اور ڈراموں سے اردو زبان بھری پڑی ہے۔ اردو ہےمیر اور غالب کی زبان اور منٹو کی زبان۔ اردو ہمارا تحفہ بھی ہے اور ہمارے لئیے سزا بھی ۔ ہم اس سے بھاگ بھی نہیں سکتے اور اس کو مکمل طور پر گلے بھی نہیں لگا سکتے۔

    اب ضرورت ہے کہ جدید سائنسی معلومات کو آسان کرکے اردو میں لکھا جائے اور کتابوں کا پڑھنا اور خریدنا اتنا ہی اہم سمجھا جائے جیسے کہ کپڑے ، جوتے ، زیوراور دیگر لوازمات کو سمجھا جاتا ہے۔ جو کچھ بھی وقت کے ساتھ نہیں چلتا، وقت اس کو روندتا ہوا گذر جاتا ہے۔

Comments are closed.