’ہم سب‘ کی بولتی تصویریں


waqar-ahmad-malik-3 ’ہم سب‘ کے مضامین میں مصنف یا مصنفہ کی تصویر لگتی ہے ۔ مصنف یا مصنفہ کو پڑھتے پڑھتے ایک وقت آتا ہے جب اس کی تحریر اور تصویر میں دلچسپ مماثلت دکھائی دیتی ہے۔

اہم نوٹ: یہ مضمون کوئی سنجیدہ ، سائنسی، Physiognomy or personology یا چہر ہ شناسی سے متعلق نہیں ۔

مضمون کے شروع میں یہ فقرہ احتیا طاً درج کیا گیا ہے تا کہ اگر کوئی اس مضمون کو پڑھ کر ناراض یا ناخوش ہوا ، تو متذکرہ بالا فقرے کا حوالہ دیا
جا سکے ۔

’ہم سب‘ میں حد درجہ سنجیدہ مضامین پڑھ پڑھ کر یقین جانئیے میں آدمی ہوتا جا رہا ہوں۔ تارڑ صاحب کی کتاب میں جب اپنے لیے لفظ آدمی پڑھا تو دھچکا لگا، کہ بھلا ’آدمی ‘ تو بڑے بھائیے کو کہتے ہیں۔ بخدا آوارہ مزاج طبیعت کی وجہ سے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ کب لڑکے سے آدمی بن گئے۔ بہر حال تارڑ صاحب کی بات کا تو میں نے کوئی زیادہ اثر نہیں لیا کہ شاید لرزش قلم کی وجہ سے لفظ آدمی لکھا گیا ہوگا ، لیکن اب کچھ عرصہ سے جناب وجاہت مسعود، ذیشان ہاشم ، عدنان کاکڑ ، فرنود عالم ، حسنین جمال اور ظفر اللہ خاں صاحب کے سنجیدہ مضامین پڑھ پڑھ کہ میں باقاعدہ اپنے آپ کو آدمی آدمی محسوس کرنے لگا ہوں۔ ان کی تحریروں کو انسان برداشت کر بھی لے تو عاصم بخشی صاحب کی تحریر کی تاب کون لائے؟

اس لیے یہ تحریر ایک لڑکے کی تحریر ہے ، لڑکے لڑکیاں لطف اٹھائیں اور آدمی حضرات اس تحریر سے صرف نظر کریں۔

میری تصویر:اس تصویر کے پیچھے کوئی فلسفیانہ موشگافی کی تلاش اس لیے نہیں ہو سکتی کیونکہ مجھے یاد ہے جب یہ تصویر اتاری گئی۔ طویل سفر کے بعد ہم ایک ٹرک ہوٹل پر کمر سیدھی کر رہے تھے۔ رات کے جاگے ہوئے بھی تھے ۔ بمشکل ابھی آنکھ لگنے ہی والی تھی کہ ہوٹل والا چائے لے آیا اور ندیم
بھٹی نے تیسری دفعہ زور سے کہا کہ اٹھ جائیں چائے ٹھنڈی ہو جائے گی۔ چائے پی کر دوبارہ سو جائیں۔ میں
اٹھ بیٹھا اور بھٹی کو زہر آلود نظروں سے دیکھا اور کہا، بھاڑ میں گئی تمھاری گرم چائے…. پھر میں نے اسے بتایا کہ بچپن میں جب ہم سو رہے ہوتے تھے تو صبح صبح دادی شور مچاتی تھی ، کہ چائے ٹھنڈی ہو جائے گی اٹھ جاﺅ، چائے پی کہ بھلے سو جانا، ایک دن تو تنگ آ کر میں نے باقاعدہ دادی کو پاس بٹھایا اور کہا، ’میری عزیز دوست چائے پینے کے بعد نیند اڑ جاتی ہے۔ پھر کس کو نیند آتی ہے، فقط گرم چائے میرے حلق میں انڈیلنے کی خاطر ، میری نیند کا فالودہ کیوں کرتی ہو۔ چائے دوبارہ بھی گرم ہو سکتی ہے لیکن نیند دوبارہ نہیں آ سکتی‘ اور دادی کھلکھلا کہ ہنس دی اور دادی کبھی کبھار ہی یوں کھلکھلا کہ ہنستی تھی۔

خیر بھٹی کو یہ واقعہ سنانے کے بعد چائے پینے لگا اور بھٹی کیمرے سے کھیلنے لگا۔ عین اس لمحے جب یہ تصویر اتاری گئی میں قراقرم ہائی وے پر ، اٹکھیلیاں کرتے اور چھن چھن کرتے ہوئے ایک دلہن نما ٹرک کو دیکھ رہا ہوں کہ جمالیاتی ذوق کے مظہر ٹرک مجھے ہمیشہ حیرت زدہ کرتے ہیں۔

wajahat-5وجاہت مسعود: آپ جانتے ہیں کہ بچہ جب دکھی ہوتا ہے اور رونے پر بالکل آمادہ ہوتا ہے اور اس کے نتھنے پھڑپھڑا رہے ہوتے ہیں اور چہرے کی لکیریں گر جاتیں ہیں۔ تو یہ وہ نازک لمحہ ہوتا ہے کہ اگر آپ اس کو ڈانٹیں تو بھی وہ روئے گا اور اگر آپ اس کو دلاسہ دیں تب بھی ہچکیوں سے غم کا اظہار کرے گا۔

ایک ایسا وقت کہ رونے کے لیے تمام کوائف پورے ہیں اور ایک ہلکی سی تحریک (Stimuli) درکار ہے ۔

بس وجاہت صاحب کی تصویر کو دیکھ کر ایسے ہی لگتا ہے جیسے اگر میں نے کہا ، کہ سر انسان پہ بڑا ظلم ہو رہا ہے اور سمجھ نہیں آ رہی۔ پاکستان کے مستقبل کے ساتھ کیا ہو گا تو بھی وجاہت صاحب کی یہ تصویر رونے لگے گی ۔۔اور اگر میں نے کہا، سر انسان کے اندر مثبت رویے جنم لے رہے ہیں اور پاکستان کا شاندار مستقبل سامنے ہے تو بھی وجاہت صاحب کی تصویر برداشت کے بند توڑ دے گی اور رونے لگے گی چاہے آپ اس کو خوشی کا رونا کہہ لیں

اس لیے میں وجاہت صاحب کا مضمون شائع ہوتے ہی پڑھنے کے لیے کھولتا ہوں اور تصویر کی جانب نہیں دیکھتا کہ مبادا کہیں یہ رو پڑے۔

اور اپنی ساری توجہ اس مضمون کی جانب کرتا ہوں جو سرما کی دھوپ میں چمکتے سرسوں کے ان پھولوں جیسا ہے جو ہلکی سی ہوا سے ایک دوسرے کے کانوں میں اہم سرگوشیاں کرتے دکھائی دیتے ہیں اور کیا عجب بات ہے کہ ان کی سرگوشیاں مہک آور بھی ہوتیں ہیں۔

aasimعاصم بخشی: بخدا ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر لگتے ہیں جہاں ہماری تحریریں بچوں کی غوں غاں دکھائی دیتی ہیں۔

داڑھی چہرے کا لازمی جزو لگتی ہے، کمال جچتی ہے۔ آنکھوں اور ماتھے کے خدوخال تفکر کا نتیجہ لگتے ہیں۔
ان کی تصویر کو بھی کم دیکھتا ہوں کہ جب دیکھتا ہوں یہ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی دکھائی دیتی ہے اور بولتی بھی ہمیشہ صرف دو لفظ ہیں…. ” آئی سمجھ“

بعض اوقات تو فخر ہوتا ہے کہ ہماری تحریریں ایسے پلیٹ فارم پر چھپتی ہیں جہاں عاصم بخشی لکھتے ہیں اور بعض اوقات یقین جانئیے اپنی تحریر اور خیال کو دیکھیں تو شرمساری سی ہوتی ہے

کہ ایک ہی پلیٹ فارم پر معیارات میں کس قدر تغیر ہے۔ بہرحال یہاں بات تصویر کی ہو رہی ہے۔ یہ تصویر ہفتہ بھر کے مضامین پڑھتی ہے اور ایک ہفتہ کے بعد یہ بولتے ہوئے چھپتی ہے کہ…. ’آئی سمجھ‘

فرنود عالم: آپ کے علم میں نہیں تو کس کے علم میں ہو گا کہ ٹرین جب مضافات اور دیہی علاقوں
farnood01سے گزرتی ہے تو کچھ شریر باقاعدہ دھوتی اٹھا کر ٹرین کی طرف منہ کر کے ننگے ہوتے ہیں۔ جب فرنود عالم کی تحریر آتی ہے تو منظر الٹ ہو جاتا ہے ۔ یوں جانئے کہ ٹرین پر اکیلے فرنود عالم سوار ہیں اور کھڑکی سے باہر دیکھ رہے ہیں جہاں ٹرین کی تمام سواریں
باہر کھڑی ہیں اور ٹرین کو ننگ دکھا رہی ہیں۔ فرنود عالم اپنی تصویر میں اس سارے ننگے پن کو دیکھ کر طنزیہ مسکرا رہے ہیں۔

تصویر میں ہی نیچے ایک کاغذ قلم کا گمان پڑتا ہے جہاں وہ یہ سارا ننگ لکھ رہے ہیں اور لکھے کاغذ
ٹرین سے باہر کھڑی ننگی ہوتی سواریوں کی جانب جہاز بنا بنا کراڑا رہے ہیںکہ شاید کوئی اس ’جہاز ‘کو کھول کر تحریر پڑھے اور شرم کرے….

لیکن شریر ننگے وہی جہاز بغیر پڑھے کھولے واپس فرنود عالم صاحب کی جانب اڑانے میں مشغول ہیں۔


فرحانہ صادق
: ایک طبقہ کہتا ہے کہ کہانی اپنے امکانات کھو چکی ہے ، دوسرا طبقہ کہتا ہے کہ زندگی کے ساتھ ساتھ نت نئے امکانات رواں farhana sadiqرہتے ہیں۔ دوسرے طبقہ کے لیے فرحانہ صادق کیا مضبوط دلیل ہیں۔لیکن کہانی کی کاٹ کی پرچھائیں بھی ان کی تصویر میں نظر نہیں آتی ۔

تحریروں کو دیکھیں تو مسکراہٹ میں طنز قرین از قیاس ہونا چاہیے تھا لیکن صد شکر کہ ایسا نہیں ہے۔

مجھے وہ تمام مصنفین اچھے لگتے ہیں جو اپنی لکھی تحریروں کی شدت سے اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں یا رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر دکھ سے جان ہی دینا ٹھہرا تو آج کی اخبار اٹھا کر دیکھ لیجئے تھر میں فوت ہوئے ایک بچے کا غم ہی اتنا بڑاغم ہے کہ ہم سب کو خود کشی کر لینی چاہیے ۔ اگر آپ اپنی تحریروں یا آس پاس کے واقعات کے حوالے سے شدید حساس ہوتے چلے جائیں کہ مسکرانا ہی بھول جائیں اور ایسے روگ لگا لیں جن سے قبل از وقت مر جائیں تو انسانیت کو کیا فائدہ ہوا؟

اپنے من سے ساز باز کیجئے اسے دھوکہ دینا ضروری ہوتا ہے۔بعض اوقات تھوڑا بے وقوف بن کر رہنا ضروری ہوتا ہے۔۔

اپنے لیے نہیں…. تھر کے بچوں کے لیے۔

یہ بے وقوفیاں اور دھوکہ دہی بڑے مقصد کے حصول کے لیے دی گئی قربانیوں کے زمرے میں آتیں ہیں۔

صد شکر کہ فرحانہ صادق تصویر میں ایک کامیاب ’دھوکے باز‘ نظر آتی ہیں۔

husnain jamal (2)حسنین جمال: میں پچھلے دنوں ڈاکٹر کے پاس گیا کہ مجھے کندھوں اور گردن کے پیچھے درد محسوس ہو رہا تھا۔ ڈاکٹر قابل تھا ، کہنے لگا آپ حسنین جما ل کے مضامین ضرور پڑھا کریں کہ ہر مضمون سوچنے کے لیے وافر سمتیں ، زاویے اور علم مہیا کرتا ہے لیکن ان کی تصویر کو نہ دیکھا کریں جس میں گماں
ہوتا ہے کہ وہ صدیوں سے نیچے دیکھ رہے ہیں ۔

میں نے کہا ڈاکٹر صاحب آپ کو کیسے معلوم ہو ا کہ میرے درد کی یہی وجہ ہے ، فرمانے لگے جس طرح موسمی وائرس کے خدوخال اور اثرات ڈاکٹروں کے حلقہ میں تیزی سے زیر بحث آتے ہیں بالکل اسی طرح ڈاکٹروں کے حلقہ میں حسنین جمال کی تصویر زیر بحث ہے جس کی وجہ سے سے cervical pain کے مریضوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تصویر کو زیادہ دیکھنے سے برے نفسیاتی اثرات پڑتے ہیں۔

آپ جیسے مریضوں کو اصل میں cervical pain نہیں ہے بلکہ تصویر کو دیکھنے کا نفسیاتی اثر ہے جس کی وجہ سے درد محسوس ہوتا ہے ۔

چاہے آپ اس کو حسنین جمال سے ہم دلی کا نتیجہ کہہ لیں۔

جب سے ڈاکٹر کی نصیحت پر عمل کیا ہے …. افاقہ ہے۔

aniq najiانیق ناجی: اگر آپ کمرے میں بیٹھے ہیں اور آپ کو چھت پر رکا پنکھا ہلتا دکھائی دے ،

واٹر ڈسپنسر پر الٹی دھری بوتل کے پانیوں میں لہریں بنتی دکھائی دیں اور۔۔

کھڑکی کے پاس چڑھتا منی پلانٹ کا پودا دائیں بائیں جھولتا دکھائی دے ۔

تو جان لیں دو ہی وجوہات ہو سکتیں
ہیں۔ ایک زلزلہ اور …. دوسرا کہیں انیق ناجی آپ کے پاس بیٹھے ہیں اور انہوں نے قہقہہ لگایا ہے۔ انیق ناجی صاحب کا قہقہہ زندگی کی تمام تر توانائیاں لیے ہوتا ہے جبکہ ان کی تصویر میں ایسا نہیں دکھتا ۔ میں نے ناجی صاحب کی اس تصویر کو کبھی دل سے قبول نہیں کیا، ان کے مضمون پڑھتا ہوں اور تصویر دیکھنے کا من کرے تودل میں سجائی وہ تصویر دیکھتا ہوں جس میں قہقہہ لگانے کے بعد چہرہ فرط جذبات سے لال سرخ ہے۔

اور جذبات بھی وہ جو کائنات کا حسن ہیں ،

ایک زوردار ۔۔ دل کی گہرائیوں سے ابلتا قہقہہ ۔


masood qamarمسعود قمر
: میری سب سے پسندیدہ تصویر ہے ۔

واہ واہ کیا زندہ ، باتیں کرتی ، قہقہے لگاتی تصویر ہے۔

جب جب تصویر دیکھئیے ایک گدگدی سی محسوس ہوتی ہے۔

بس اسے میری حماقت کہیے یا کچھ بھی …. میں اپنے ملک کے مصنفین کی ایسی ہی تصویروں کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ خوشی کا بھرپور تاثر لیے ہوئے۔

جب آپ مصنف ہیں تو درد کو کس قدر جزیات میں جا کر سمجھتے اور محسوس کرتے ہیں ، تو اسی صلاحیت سے خوشی کو کیوں نہیں سمجھتے اور اپنی ذاتی زندگی میں اس کو ترجیح کیوں نہیں دیتے۔ میں چاہتا ہوں میرے ملک کے لکھاری خوش رہیں …. تا کہ وہ زیادہ دیر زندہ رہیں اور…. زیادہ نوحے اور زیادہ محبتوں کے قصے لکھیں۔

naseer nasirیہ کتنی عجیب بات ہے کہ بے وقوف زیادہ دیر زندہ رہیں اور عقل مند زندگی کی خوبی کو پس پشت ڈال کر جلد روانہ ہوں۔

نصیر احمد ناصر: دوسرے نمبر پر میری پسندیدہ تصویر۔ کیا شفیق مسکراہٹ ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ مسکراہٹ ایک ’کلک‘ کی
خاطر سجائی گئی ہے ، لیکن اس میں بھی کیا شک ہے کہ مسکراہٹ کے نتیجے میں بننے والی چہرے پر لکیریں ، چہرے پر اجنبی نہیں دکھائی دے رہیں، حصہ معلوم ہوتی ہیں اور یہ تب ہی حصہ معلوم ہوتیں ہیں جب یہ حصہ رہی ہوں۔


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 62 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

8 thoughts on “’ہم سب‘ کی بولتی تصویریں

  • 14-02-2016 at 11:10 pm
    Permalink

    ہاہاہا۔ بہت خوب وقار بھائی۔ آپ تو چھپے رستم ہیں صاحب۔ کیا چہرہ شناسی کی ہے۔ امید ہے اس مضمون کی دوسری قسط بھی آئے گی جس میں مزید انکشافات ہوں گے۔

  • 15-02-2016 at 1:00 am
    Permalink

    وقار صاحب! آپ کی “لکیر شناسی” قابلِ داد ہے۔ آپ نے صحیح فرمایا کہ یہ لکیریں چہرے کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔ دراصل یہ لکیریں، جو کبھی ڈمپل تھیں، پیدائشی ہیں۔ عمرِ رواں نے ڈمپلز کو لکیریں بنا دیا ہے۔ آپ کی تصویر شناسی پر ایک پرانی بات یاد آ گئی ہے، سرگوشی میں بتائے دیتا ہوں۔ کالج کے زمانے میں میری ایک دوست اور کلاس فیلو کو میرے ڈمپل بڑے پسند تھے۔ جی ہاں وہ کوایجوکیشن کا بھلا زمانہ تھا۔ ایک روز کہنے لگی کہ جی چاہتا ہے آپ کے ڈمپل میں چھلانگ لگا دوں۔ یہ سن کر ڈمپل کچھ اور گہرے ہو گئے 🙂 🙂
    اور ڈمپل سے مجھے اپنی ایک نظم ” چندھا ” بھی یاد آ گئی ہے۔ اسی بہانے وہ بھی پڑھ لیں:
    اگر کوئی اچانک روشنی کر دے
    تو کیا تم دیکھ پاؤ گے؟
    وہ سب چیزیں
    جو تاریکی کے گہرے اسودی
    محلول میں گم ہیں
    سراپا زندگی کا
    موت کا چہرہ
    اداسی کا بدن
    آواز کے لب
    درد کے ڈمپل
    خوشی کے مرمریں پاؤں
    محبت کی حنائی انگلیاں
    آفاق زلفوں کے
    خدا کو سرمدی سایہ ۔۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی اچانک روشنی کر دے
    تو کیا تم دیکھ پاؤ گے
    ابد کی دھند میں لپٹی
    ازل سے منتظر
    آنکھیں کسی کی ۔۔۔۔۔؟

  • 15-02-2016 at 9:58 am
    Permalink

    اگر رت جگے کے بعد اتنی شاندار تصویر بن سکتی ہے تو پھر حضرت آپ ایسے ہی موڈ میں تصویر بنوایا کیجئے ۔ کچھ بہتر نتیجہ نکل آتا ہے ۔۔ وجاھت مسعود نہایت عمدہ انسان ہیں اور مجھے تو جب بھی ملے ہنستے مسکراتے ہی ملے ۔ ان کی یہ تصویر شائد اس وقت کی ہو سکتی ہے جب وہ ہم سب پر کوئی فضول سی تحریر دیکھ کر آہیں بھر رہے ہوں گے ۔ باقی دلچسپ لکھا

  • 15-02-2016 at 3:37 pm
    Permalink

    زبردست وقار صاحب

  • 16-02-2016 at 8:21 pm
    Permalink

    شکسپئیر نے کہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ” مسکراؤ ۔۔۔ کیوں کہ دنیا کی نظریں تمھاری فلم لے رہی ہیں ”
    اب اگر شیکسپئیر کہے اور ہم نہ مانیں ایسے تو حالات نئیں 🙂

  • 16-02-2016 at 8:27 pm
    Permalink

    اور ویسے بھی بڑھاپے میں چہرے پہ لائنیں پڑنی چاہئیے تو فقط وہاں جہاں مسکراہٹ سے بنتی ہیں ۔
    🙂 🙂 🙂

  • 16-02-2016 at 11:37 pm
    Permalink

    یہ تحریر پڑھ کر شدت سے احساس ہوا کہ میں ہم سب کے لئے تواتر کے ساتھ کیوں نہیں لکھتا رہا، اگر ایسا ہوتا تو برادرم کی شگفتہ دلچسپ تحریر میں ہمارے لئے بھی شائد کوئی گوشہ برآمد ہوجاتا، پھر یہ خیال آیا کہ جو اکا دکا تحریریں شائع ہوئی ہیں، ان میں جو تصویر دی گئی ہے، شکر ہے کہ اس پر تبصرہ نہیں ہوا۔ یہ تصویر جو ہمارے کالم کے ساتھ ہم سب میں شائع ہوئی ، یہ اس وقت کھینچی گئی جب یہ خاکسار دھرم پورہ لاہور کے ایک مشہور پائے والے ڈھابے سے دو عدد روغنی نان کے ساتھ پائے کے دو پیالے نوش کرنے کے بعد طمانیت اور تشکر بھری مسکراہٹ کے ساتھ بل دینے والے دوست کو دیکھ رہا تھا۔
    بہرحال وقار صاحب کی تحریر پسند آئی۔ ان کے بارے میں ہماری پہلے ہی سے یہ رائے بن چکی ہے کہ موصوف کو اب مین سٹریم میڈیا میں شائع ہونا چاہیے۔ اور کوئی نہیں تو دنیا اخبار کا ڈائجسٹ ایڈیشن ان کے لئے کھلا ہے۔

    • 18-02-2016 at 5:01 pm
      Permalink

      بہت شکریہ خاکوانی صاحب ۔۔۔کرم نوازی آپ کی۔۔۔دل خوش ہوا آپ کی رائے پڑھ کر

Comments are closed.