نسلی تعصب کی شکایات پر سنجیدہ توجہ دی جائے


پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ پختون شہریوں کو پنجاب میں رہنے اور کاروبار کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔وہ ہمارے بھائی ہیں اور انہیں صوبے میں رہنے اور کاروبار کرنے کا ویسا ہی حق حاصل ہے جو دوسرے شہریوں کو میسر ہے۔ اس سے قبل مسلم لیگ (ن) کے پی کے کے لیڈر امیر مقام کی سربراہی میں پختونوں کے ایک وفد نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں سیکورٹی فورسز کی طرف سے پختونوں کو ہراساں کرنے کی کارروائیوں پر غور کیا گیا اور صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات زیر بحث آئے۔ سوموار کو خیبر پختون خوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرارداد میں پنجاب اور آزاد کشمیر میں پٹھان آبادیوں کے خلاف پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں کے نسلی سلوک کی مذمت کی تھی۔ لاہور میں 13 فروری کو ہونے والے دہشت گرد حملہ کے بعد پنجاب کی وزارت داخلہ نے ایک حکم نامہ میں خاص طور سے افغان اور پختون باشندوں کو کنٹرول کرنے کا ذکر کیا گیا تھا۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کے ساتھ پختون وفد کی ملاقات میں بھی اس حوالے سے سامنے آنے والی شکایات بیان کی گئی تھیں۔ تاہم اس ملاقات کے بعد وزیر قانون رانا ثنا اللہ نے نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی تردید کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختون خوا اور سندھ کے سیاست دان صورت حال کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن یہ بیان دیتے ہوئے وہ یہ فراموش کررہے تھے کہ گزشتہ دنوں دہشت گردوں کی تلاش میں ہونے والی کارروائیوں میں پختون باشندوں کو خاص طور سے نشانہ بنانے کی شکایات پنجاب کے علاوہ ملک کے دیگر حصوں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ کوئی بھی ملک کسی جرم کا خاتمہ کرنے کے لئے اپنے ہی شہریوں کو گروہوں میں نہیں بانٹ سکتا۔ اس قسم کا اقدام دراصل انتہا پسندوں کے مشن کی تکمیل کے مترادف ہوگا۔

رانا ثنا اللہ کو یہ بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خیبر پختون خوا اسمبلی نے متفقہ طور پر اس حوالے سے قرار داد منظور کی ہے ۔ یہ شکایات پہلی بار منظر عام پر آئی ہیں اور ان کا عملی طور پر پیش آنے والی مشکلات سے گہرا تعلق ہے۔ اس لئے پنجاب کے وزیر قانون کا یہ بیان درست نہیں ہو سکتا کہ دوسرے صوبوں کے سیاستدان اس سوال پر سیاست کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ درحقیقت رانا ثنا اللہ حقائق کو نظر انداز کرنے اور اپنی چکنی چپڑی باتوں سے پنجاب کی پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے امتیازی اور ظالمانہ طریقہ کار پر پردہ ڈالنے کی کو شش کررہے ہیں۔ اس طرح وہ مسئلہ کو سمجھنے اور اسے حل کرنے کے بارے میں کسی خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ رویہ ملک میں انتشار اور بد اعتمادی کی صورت حال پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے اور کسی صورت اس قسم کا سیاسی رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

خیبر پختون خوا کے لوگوں اور پختون باشندوں نے دہشت گردی کے نتیجہ میں سب سے زیادہ نقصان اٹھایا ہے۔ انہوں نے گزشتہ پندرہ برس کے دوران دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں بھی دی ہیں۔ ملک میں پائی جانے والی انتہا پسندی اور دہشت گردی کو کسی ایک نسلی گروہ یا علاقے سے منسلک کرکے لوگوں کو گمراہ کرنے اور غلط فہمیاں پیدا کرنے کا اہتمام تو کیا جا سکتا ہے لیکن اس سے مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ مذہبی بنیادوں پر شدت پسندی اور دہشت گردی سے کسی بھی علاقے کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ پنجاب سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گردوں نے ملک کے لوگوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن اس بنیاد پر تمام پنجابیوں پر دہشت گردی میں ملوث ہونے کا الزام عائد نہیں کیا جا سکتا۔ اب اگر بعض حلقوں کی جانب سے پختون باشندوں کے خلاف اس قسم کا رویہ اختیار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تو اسے سنجیدگی سے لینے اور ایسے نسلی اقدامات کا سد باب کرنے کی ضرورت ہے۔ دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے ملک کے تمام لوگوں کو ایک دوسرے پر اعتماد کرنے اور حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر ملک کی آبادی کے ایک گروہ کو اس حوالے سے نشانہ بنانے کی کوشش کی جائے گی تو اس کے دوررس مہلک اثرات سامنے آئیں گے۔

پختون باشندوں کے خلاف زیادتیوں اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایات پنجاب کے علاوہ ملک کے دوسرے علاقوں سے بھی موصول ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم اور پاک فوج کے سربراہ کو خاص طور پر ان شکایات کا نوٹس لیتے ہوئے اس صورت حال کو ختم کرنے میں کردار ادا کرنا چاہئے۔ ملک میں پختون اور پنجابی تصادم کی خبریں اور مباحث دہشت گردوں کے خلاف حکومت اور فوج کے تمام اقدامات کو ضائع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali