ویلنٹائین ڈے کا جنازہ


mujahid aliبالآخر ویلنٹائین رخصت ہؤا چاہتا ہے جس کا جنازہ نکالنے کے لئے پوری قوم کے مفتیان گرامی ، علمائے کرام اور مشائخ عظام کو دیگر اہم کام چھوڑ کر قوم کو اس خوفناک دن کے مضمرات سے آگاہ کرنے کے لئے دن رات ایک کرنا پڑا۔ لیکن دشمن قوتوں نے مسلمان ملکوں کے لوگوں کو عام طور سے اور پاکستان کے عوام کو خاص طور سے اس قدر گمراہ کردیا ہے کہ اس عظیم خطرے سے نمٹنے کے لئے جب ججوں کے احکامات اور ضلعی انتظامیہ کے سربراہان کی ہدایات بھی غیر مؤثر ہونے لگیں تو قوم کے ہمدردوں کو آخر میں مملکت کے صدر ممنون حسین کو میدان میں اتارنا پڑا ، تاکہ وہ اس قوم کے گمراہ لوگوں کو اس دن کی خرابیوں اور اپنے عقیدہ اور تہذیب پر اس کے برے اثرات سے آگاہ کرسکیں۔

تاہم ایسا کرتے ہوئے یہ انداہ نہیں کیا جا سکا کہ گو ممنون حسین ملک کے آئینی صدر ہیں لیکن ان کی بات تو وزیر اعظم سننے کا پابند نہیں ہے تو عام لوگ آخر کیو ں ان کی بات پر کان دھریں گے۔ البتہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک جج کی رولنگ سے شروع ہونے والی بحث کا یہ فائدہ ضرور ہوا کہ ملک کے خواص جن میں علما اور دانشور سر فہرست تھے ، دو ہفتے تک اس سوال پر دست و گریبان رہے کہ اس روز کسی ایسے شخص کو یہ کہہ دینا کہ وہ اسے عزیز ہے اور اس اظہار کے لئے پھول ، کارڈ ، غبارہ یا ٹیڈی بئیر تحفے کے طور پر پیش کرنا کس حد تک ہماری مشرقی اقدار اور ان کی بنیاد پر استوار ہمارے مقدس عقیدہ کے لئے خطرہ اور نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ ان مباحث کا یہ فائدہ بھی ضرور ہوا کہ قوم ان دنوں میں دنیا میں ابھرنے والے خطرات اور حوادث کے بارے میں خبریں سننے اور ان پر پریشان ہونے سے محفوظ رہی۔ ملک میں اسلام کی حفاظت کرنے والوں نے ایک ایسا پر لطف ماحول پیدا کردیا تھا کہ آخر صدر محترم کو بھی اس شو کا حصہ بننا پڑا۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ قوم کی خدمت کا یہی ایک موقع انہیں میسر آسکتا ہے۔ باقی سب شعبوں پر تو حکومت اور وزیر اعظم ان کی رائے سننے کے بھی روادار نہیں ہیں۔

خوشا ویلنٹائن ڈے۔ یہ دن نہ ہوتا تو قوم کو تفریح کا یہ نادر موقع آخر کیسے نصیب ہوتا۔ گو کہ ایک جج، ایک ناظم ، ایک صدر اور ملک کے تمام مذہبی ٹھیکیدار وں نے مل کر اس ایک دن کو دفن کرنے کے لئے اپنی سی کوشش کر لی۔ لیکن اس کا کیا جائے کہ پابندی لگے شہروں میں غریب پھول فروش بھی چھٹی والے دن آرام کرنے کی بجائے پھول بیچنے پر تلے ہیں اور ’مغرب زدہ‘ نوجوان جوڑے بھی نہ منصف کی سنتے ہیں نہ ناظم کے حکم کا خوف انہیں روکتا ہے اور صدر مملکت کی بات پر تو وہ بس مسکرا کررہ جاتے ہیں۔ جیسے کہہ رہے ہوں کہ ’آپ بھی‘۔

یہ ایک نیا زمانہ ہے۔ خون اور تباہ کاری سے تھکی نئی نسل خوش ہونے اور قلبی احساسات کا اظہار کرنے کا کوئی موقع بھی کھونا نہیں چاہتی۔ کیا یہ خواہش تبدیلی کی ہوا ہے۔ اگر ابھی نہیں تو بھی بہت جلد یہ موسم بدلنا تو ہے۔ آخر جبر اور ستم کا یہ عہد کب تک برداشت ہوگا۔ کسی کو اس کے خلاف اٹھنا تو ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 411 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali