سر بازار می رقصم….


zeeshan hashimمیرا چوہدری نثار، صدر ممنون، صوبہ کے پی کے چند ناظمین اور ان سب لوگوں کو جو ویلنٹائن ڈے یا یوم حیا پر محبت یا بے حیائی کے کھلے عام اظہار سے پریشان ہیں، کو مشورہ ہے کہ اس دن محبت محبت کھیلتے نوجوان بانکے لڑکے لڑکیوں کے خلاف طالبان کی خدمات مستعار لی جائیں کیونکہ آپ سب کا منشور تو ایک ہی ہے – شخصی آزادی کے وہ بھی دشمن ہیں اور آپ بھی – خوشی مسرت اور تفریح کے وہ بھی مخالف ہیں اور آپ بھی – جھومتے ناچتے مسکراہٹیں بکھیرتے اور پھولوں کے تحفے دیتے یہ نوجوان آپ کو بھی شر کے پتلے لگتے ہیں اور انہیں بھی – کوئی آپ سے یہ ہرگز نہ پوچھے کہ حضور شہریوں کی مسرت اور خوشحالی کے لئے آپ کی اب تک کارکردگی کیا ہے ، مگر آپ ہیں کہ زخموں سے چور ، دہشت گردی کے خوف سے سہمے شہریوں سے مسکرانے اور خوش ہونے کے چھوٹے چھوٹے مواقع بھی چھین لینا چاہتے ہیں – ہائے رے جمہوریت کیسی آفت آ پڑی ، ایک منتخب حکومت جمہور کی شخصی آزادی کو ریاستی جبر سے محبوس کرنا چاہتی ہے –

نیز وہ تمام لوگ جو اپنی بہنوں کے بارے میں پریشان ہیں کہ اگر انہوں نے ویلنٹائن ڈے منایا تو وہ بھی منائیں گی (جیسے پہلے وہ محبت الفت اور چاہت کے باب میں آپ لوگوں کے اشارہ ابرو کی منتظر رہتی تھیں ) وہ بھی طالبان سے اتحاد کر سکتے ہیں – ممکن ہے وہ آپ لوگوں کی نگرانی میں کوتاہی کے سبب مشرقی اقدار کو پامال کر رہی ہوں جیسے آپ کرتے ہیں۔ یوں حب طالبان کے کوڑے ان کی پیٹھ پر برسیں گے تب ہی محبت کا گرم مزاج فطری جذبہ کال کوٹھری کے سرد خانہ میں منتقل ہو جائے گا –

ارے ہاں اب تو داعش نامی مغربی تہذیب کی دشمن اور مشرقی و اسلامی تہذیب کے احیا کی علمبردار تنظیم بھی وجود رکھتی ہے ، اس سے رجوع کریں وہ تمام محبت کرنے والوں کے گلے کاٹ کر اسلامی و مشرقی تہذیب کا تقدس بحال کروا کر ہی دم لے گی –

مملکت پاکستان کا (سوشل و روایتی ) میڈیا ملاحظہ فرمائیں۔ یہاں گلے کاٹنے اور خود کش حملوں میں پھٹ جانے سے بھی بڑا گناہ کسی کو ایک عدد مسکراہٹ سے پھول پیش کرنا ، ثقافتی رقص کرنا ، اور دہشت گرد حملوں کے شکار معصوم شہریوں کی یاد میں موم بتی جلانا ہے –
ہر آتی جاتی خاتون کا نظروں سے ایکسرے کرنا یقینا مشرقی اقدار کے عین مطابق ہے مگر کسی خاتون کا ایکسرے میں آنا مشرقی اقدار کے غیر مطابق ہے – کے پی کے جو چند ناظمین ویلنٹائن ڈے کے سلسلے میں پریشان ہیں اگر وہ اغلام بازی (جن میں اکثر بچے پندرہ سال سے

بھی کم عمر کے ہوتے ہیں ) کے سلسلے میں بھی اتنا پریشان ہوتے تو صدیوں سے چلی آتی اس روایت کا قلع قمع کرنا آسان ہوتا –
جس مشرقی اقدار کے اجداد ہیرا منڈیوں کے پاسبان تھے ، ہندوستان کا طوائف کلچر شاہی محلات کی زینت تھا – اسلامی سلطنت کے سلاطین لونڈیوں سے حرم سرا سجاتے تھے – مسلمان اشرافیہ کے شب و روز طوائفوں کے کوچہ و بازار کے طواف میں بسر ہوتے تھے – سلاطین و اشرافیہ کی اولادیں ان طوائفوں سے زبان و ادب سیکھتی تھیں مگر اس وقت کسی کو کوئی تکلیف نہ تھی – تکلیف تب ہوئی جب ہر عام اور آزاد آدمی بھی اظہار محبت میں آزاد اور بانکا ہوا – سلاطین و اشرافیہ کے لئے سب جائز تھا مگر عام شہریوں کے لئے جائز بھی ناجائز ہے –

ارے عشق و محبت کی داستانیں تو ہماری ثقافت ہیں – ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال اور شیریں فرہاد کی لوک کہانیاں ہمارے رگ و پے میں دوڑ رہی ہیں – ان داستانوں کو صوفیا نے دہرایا – مرد و زن سب اسے خوش الحانی سے پڑھتے تھے، جھومتے تھے اور پیار انس ہمدردی انکساری اور انسانیت کے سبق اسی سے کشید کئے جاتے تھے – یہی تو ہماری ثقافت تھی جو اندھیروں میں جگنو کی طرح چمکتی تھی – جو محنت کشوں کو دھوپ کی تپش میں ٹھنڈک سے نوازتی تھی – جو جینے کی امنگ زندہ رکھتی تھی -اسی دھرتی کے حکمران اب پھول پیش کرنے اور مسکراہٹوں کے تبادلہ پر پہرا لگائے بیٹھے ہیں اس بنیاد پر کہ یہ ہماری ثقافت نہیں –

مسئلہ کہیں اور ہے اور وہ ہے ان کے ذہنوں پر حاوی تصور فحاشی -یہ جب دو افراد کو آپس میں پھولوں و مسکراہٹوں کا تبادلہ کرتے دیکھتے ہیں تو ان کے ذہن پر سوار بہتر حوروں کی فرسٹریشن باہر آ جاتی ہے – ان کے خیالات میں مرد و زن کی ہر ملاقات دراصل جنسی بے راہ روی ہے – کہتے ہیں ناں ہر شخص دوسرے میں اپنا عکس دیکھتا ہے – یہ مسکراتے چہروں اور دھڑکتے دلوں کو اپنے جنسی جذبات سے محسوس کرتے ہیں –

اگر ایسا ہی ہے تو ہم نے بھی تہیہ کر لیا ہے – تم نفرت سے گلے کاٹو۔ ہم محبت کے پھول پیش کرتے رہیں گے – تم مذہب کے نام پر مساجد اسکول اور بازاروں میں خود کش حملوں کا بیانیہ دہراو¿۔ ہم ثقافت کے نام پر رقص کرنے کو اس سے ہر حال میں بہتر ہی سمجھتے رہیں گے – تم کافر کافر ، مشرک مشرک اور فاسق فاسق کی زبان درازی جاری کرو۔ ہم انسانیت کے احترام اور معصوم شہریوں کے غم میں موم بتیاں اور شمعیں جلاتے رہیں گے –


Comments

FB Login Required - comments

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 92 posts and counting.See all posts by zeeshan

2 thoughts on “سر بازار می رقصم….

  • 15-02-2016 at 8:00 pm
    Permalink

    Keep it up.

  • 16-02-2016 at 3:27 pm
    Permalink

    If some one disagree with yours opinion then relates them to to the extremism and condemn them.Your argument will have special effect but will be only appreciated by those who already shares your opinion while others will stick to there opinion and will close there ears and minds to the arguments and will .certainly use other resources to suppress your voice and the society will be further polarize.

Comments are closed.