14 کا ہندسہ اور پاکستان کے اینگری سٹوڈنٹ


ghayمخلوقات عالم میں سے طلبا اور طلبا میں سے ہمارے وطن عزیز پاکستان کے طلبا ایسی مخلوق ہیں جن کو 14 کے ہندسے کی وجہ سے بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، بقول ان کے اس ہندسے کی وجہ سے انہیں ایسے ایسے التباسات اور اشتباہات پیش آتے ہیں کہ ان کے 14 طبق روشن ہو جاتے ہیں۔

ہمارے ہاں بنیادی طور پر طلبا کی 12 کم 14 اقسام ہیں:

1۔ مدارس کے طلبا

2۔ سکول و کالج کے طلبا

مدارس کے طلبا کی مشکلات:

کسی بھی طالب علم کو جب مدرسے میں داخل کیا جاتا ہے تو پہلے سال شیخ سعدی ؒکی مشہور عالم کتاب گلستان پڑھائی جاتی ہے۔ کتاب شروع کرنے سے پہلے شیخ سعدیؒ کے حالات میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی میں کل 14 حج کئے۔

درجہ اولیٰ میں حضرت تھانوی کی فن قرآت کی کتاب “جمال القرآن” پڑھائی جاتی ہے، جس میں حضرت نے فن قرآت کے قواعد وضوابط “14 لمعات” سے موسوم فصلوں میں بیان کئے ہیں۔اب ایک قدم اور آگے چلئے علم الصرف میں ماضی اور مضارع کی تمام گردانیں 14 صیغوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔ ہر لفظ کی 14 نئی شکلوں میں تشکیل بزاخفش کے طرح بلا سوچے سمجھے بجلی کی رفتار سے کئے جانے کو کمال سمجھا جاتا ہے۔

مدرسے میں کتاب اللہ اور حدیث نبویﷺ کے علوم فنون کے ساتھ ساتھ اسلام کی 14 سو سالہ تاریخ کا علم ہونا بھی از حد ضروری ہے۔ مدرسے سے فراغت کے بعد عوام و خواص میں خاص طور پر دیہاتوں میں طالب علم کا تعارف اس طرح کروایا جاتا ہے کہ موصوف فلاں مدرسہ سے فاضل ہیں اور 14 علوم و فنون پر دسترس رکھتے ہیں۔

تصوف کے طلبا بھی 14 سلاسل سلوک کی راہوں پر گامزن ہوتے ہوئے اللہ کے قرب کے متلاشی ہیں۔ ان کے ہاں ایک اصطلاح “تجلی” ہے۔ تجلی ( کسی اسم یا جسم ) نور کا روشنی کی صورت میں ظاہر ہونے کا نام ہے۔ ان تجلیات کی بھی چودہ اقسام ہیں، جو 14 مقامات پر ہوتی ہیں۔

سکول و کالج کے طلبا کی مشکلات:

طلبا کی یہ قسم بھی بہت ہی مظلوم مخلوق ہے اور ان کے خلاف برصغیری محاذ کی تاریخ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قدم جمنے سے شروع ہوئی۔ مرہٹوں کا بھرکس نکالنے اور ٹیپو سلطان کی انگریزوں کے خلاف جنگ اور بعد میں شہادت اس کے اہم سنگ میل ہیں۔

اس کا باقاعدہ آغاز جنگ آزادی 1857 کے بعد ہوا۔ انگریزوں کی مسلمان دشمنی اور ہندو نوازی کی وجہ سے مسلمانوں اور مسلم طلبا کی حالت کافی نازک ہوگئی۔ سر سید احمد خان نے یہ بیڑا یعنی مستقبل کے طلبا کی مشکلات میں اضافہ کرنے کا ایک نیا باب شروع کر دیا۔ انہوں نے علی گڑھ سکول و کالج بنا کر اس کو باقاعدہ ادارے کی شکل دے دی۔

قائداعظم نے جب 14 نکات پر مبنی مطالبات پیش کئے تو طلبا کی تعلیمی مراحل میں 14 مشکلات کا اضافہ ہو گیا۔ یہ مشکلات ان 14 نکات سے شروع ہو کر 14 اگست 1947ءکو اپنے عروج پر پہنچتی ہیں۔

کہتے ہیں کہ ان مشکلات کے پیچھے نہرو کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے کیونکہ نہرو کے ابا نے طلبا کے امتحانات کو مشکل سے مشکل تر بنانے کیلئے نہرو رپورٹ پیش کی تھی۔

گاندھی چونکہ عدم تشدد اور عدم لباس کے ساتھ ساتھ فلاح طلبا کے حامی تھے اس لئے انہوں نے ایسا کوئی خاص بیان نہیں دیا۔
برصغیر کے طلبا کی زندگی اجیرن کرنے کیلئے فرنگی کئی مشن پلان لے کر آئے جن میں سائمن کمیشن، ریڈکلف ایوارڈ اور منٹو مارلے اصلاحات جیسے غیر دلچسپ مضامین شامل ہیں۔

اس کے علاوہ دیگر مشکلات بھی سامنے آئی ہیں جیسا کہ پاکستان بننے کے بعد ہم نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے اور طلبا کی مشکلات بڑھانے کیلئے پانچ سالہ ترقیاتی منصوبے بنائے۔ پھر بعد میں آنے والی حکومتوں نے طلبا کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے ایسے ترقیاتی منصوبے بنانے پر پابندی لگا دی۔ لیکن چھوٹے میاں نے پھر سے اس سلسلے کی نئی کڑیاں بناتے حرکیاتی منصوبے بنائے ہیں۔ اور ہاں ان کی کوئی دستاویزی حیثیت اور واضح مقاصد نہ ہونے کی وجہ سے طلبا کے تعلیمی مدارج میں کوئی مشکل کھڑی نہیں ہوئی۔ یہ میاں برادران کے تعلیمی میدان میں کارہائے نمایاں ہیں۔

73 کے آئین کے تناظر میں پاکستان کے دستور کے تین ورژن قانون کی بالادستی کے لئے کم اور طلبا کی نیندیں اڑانے کے مقاصد پر زیادہ زور دیتے معلوم ہوتے ہیں۔

شاعری اور ادب کے طلبا بھی 14 کے ہندسے کے سحر سے محفوظ نہیں۔ میر تقی میر اور مرزا غالب سے لے کر اختر شیرانی تک سب شعراءکو 14 کے ہندسے سے بہت الفت رہی، کوئی چودہویں کے چاند کے پیچھے 14 قسم کے جراثیم کش صابن سے ہاتھ دھو کر پڑا ہے تو کوئی محبوب کے چودہویں سن کی رنگینیاں اور رعنائیاں بیان کرنے پر تلا ہے۔

ہندو مت کے طلبا بھی 14 کے ہندسے کے گھائل ہیں۔ وہ اس طرح کہ اپنیشد (Upaniad) ہندو مت کی متعدد مقدس اور نظری کتب کے مجموعے کا نام ہے جن میں سے پرانی ترین کتب زیادہ تر وید کی فلسفیانہ تشریح سے متعلق ہیں۔ یہ تمام کتب 14 اپنشد سری علوم پر مشتمل ہیں۔

میڈیکل کے طلبا ابھی اپنے نصاب کے ساتھ ہی نبرد آزما تھے کہ ایک نئی دریافت بھی آن پہنچی وہ یہ کہ کراچی کے ڈاکٹر عبدالصمد نے اپنی کتاب “سمدا ہیلنگ انرجی” میں انکشاف کیا ہے کہ سمدا ایک حیا تی اور شفائی انرجی ہے جو خلیہ کو شکل اور تازگی دیتی ہے۔ سمدا ایک خلیہ کی ذیل میں 14 اقسام کی حیاتیاتی اور شفائی توانائیاں ڈالتی ہے۔

14 کے ہندسے سے ملحق مذکورہ تمام مشکلات اور عجائب و غرائب کے بعد اب تک سب سے بڑا جو مسئلہ معرض وجود میں آیا ہے وہ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے منانے یا نہ منانے پر ہے۔ یہ ملا اور مسٹر کی روایتی اور تاریخی جنگ ہے۔ جو اس وقت سوشل میڈیا پر مدرسے اور سکول و کالج کے طلبا کے درمیان ایک مناظرہ بلکہ مجادلہ کی صورت زوروں پر ہے۔ ایک فریق اس کے منانے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے زمین و آسمان کے قلابے ملا رہا ہے کیونکہ 7 زمین اورسات آسمان کل ملا کر 14 ہو جاتے ہیں۔

جبکہ فریق مخالف قرآن اور صحاح ستہ کو ملا کر 14 کو 2 پر تقسیم کررہا ہے۔
جبکہ میں دونوں کو دیکھ کر حیراں ہوں بلکہ انگشت بدنداں ہونے کی بجائے بالشت بدنداں ہوں کہ کس کام کے خلاف یا دفاع میں دلائل دئیے جا رہے ہیں۔ اس صورت حال میں فریقین کو اتنا ہی کہوں گا :

آج ہم دونوں کو فرصت ہے چلو عشق کریں
عشق دونوں کی ضرورت ہے چلو عشق کریں
اس میں نقصان کا خطرہ ہی نہیں رہتا ہے
یہ منافع کی تجارت ہے چلو عشق کریں
آپ ہندو میں مسلماں یہ عیسائی وہ سکھ
یار چھوڑو یہ سیاست ہے چلو عشق کریں


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “14 کا ہندسہ اور پاکستان کے اینگری سٹوڈنٹ

  • 15-02-2016 at 12:47 am
    Permalink

    واہ بہت خوب گویا یہ چودہ کا ہندسہ ہی فساد کی جڑ ہے کیوں نہ اسے چودہویں کے چاند والی رات چودہ جوتے مار کر اعداد میں سے خارج کر دیا جائے ?
    بہت عمدہ لکھا ???

    • 15-02-2016 at 12:54 am
      Permalink

      14 نمبر کا جوتا ہم فراہم کر دیں گے البتہ 14 کے ہندسے کو 14 جوتے لگانا آپ کے ذمے ہو گا۔ 🙂

  • 15-02-2016 at 12:49 am
    Permalink

    جزاک اللہ

  • 15-02-2016 at 1:41 am
    Permalink

    مطلب جو مشکلات تھے چودہ علوم کے
    باب کتاب عشق کا اول مقالہ تھا
    نہ جانے کون صاحبِ دل کی یہ شعر آفرینی تھی پر ایک مدت سے اس پھانس میں دل کی طرح دھڑکتا تھا۔
    آج اس حکیم خانی کٹار نے اپنی تحریرسے یہ تکلیف بھی ٹال دی۔
    اِس ڈھونگی سے اپنی پہلی اور آخری ملاقات میں حکیم سومرو نے فرمایا تھا کہ نصابِ حکمت کا ایک اہم شعبہ جراحت بھی ہے۔ تاہم انہیں افسوس تھا کہ عملی زندگی میں اکثر حکما کا جراحت سے دور کا بھی علاقہ نہیں ہوتا۔ قرین قیاس ہے کہ نشتر سے محرومی نے اُن کے قلم کو کچھ جدا کاٹ دی جس کا نمونہ یہ تحریر ہے۔
    فاروق میاں لگتا ہے کہ یہ شعر کسی شاعر نے تمھارے واسطے ہی تولا تھا
    گلہائے جراحت کو عجب حسن سے بانٹا
    نکلی نہ کوئی شاخ نہ الجھا کوئی کانٹا

  • 15-02-2016 at 4:01 am
    Permalink

    Bhut acha likha maza aya parrhnay mn dilchasp andaz e bayan ha apka bhai
    Jeetay rhen Ap hamari dua ha

  • 21-03-2016 at 12:52 pm
    Permalink

    واہ واہ حکیم بھائی لطف آگیا

Comments are closed.