دبستان فیس بک


anis aliدلّی اور لکھنو کے دبستان تو اب قصہ پارینہ ہوئے۔

وہ شاعر بھی گئے جن کے دم سے یہ دبستان آباد تھے۔ وہ شاعری بھی نجانے کیا ہوئی اور اس کا ذوق رکھنے والے بھی۔

اب نئے دبستان ہیں اور نئے پنڈال۔ اور ان میں اتنے شاعر کہ تل دھرنے کو جگہ نہیں۔

آج ان میں سب سے بڑا دبستان ہے۔۔ دبستان فیس بک۔

کہتے ہیں اوک سے پانی پینے والے کسی گنوار کے ہاتھ چاندی کا کٹورہ لگاتو اتفاق سے ہاتھ آنے والی اس نعمت میں بھر بھر کر اتنا پانی پیا کہ اپھارے سے ہی مر گیا۔ لیکن فیس بک کا کٹورہ جن کے ہاتھ لگا ہے ، وہ ذرا سیانے ہیں۔ اس نقرئی کٹورے میں یہ دوسروں کو اپنی دانش کا امرت پلا پلا کر مارتے ہیں۔

ہلاہل ہم نے اس لئے نہیں لکھاکہ یہ خود اسے امرت ہی کا نام دیتے ہیں۔

ستم بالائے ستم، پھر اس امرت کو ” لائک “ کئے جانے پر اصرار بھی ہوتا ہے۔ اب اگر کوئی لائک کرنے سے پہلے اس میں شاعری یا نفس مضمون تلاش کرنے لگے تو اس کی مرضی۔ لیکن اگرفرد مذکورہ سے تعلقات ایسے ہیں کہ آپ انہیں ہر حالت میں برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو پھرلائک کر دینا ہی بھلا۔ اور کچھ منچلے تو ایسے بھی ہیں کہ شاعر تسلیم کئے جانے کے جنون میں کچھ بھی کر گزرنے کو تیار۔ اپنے الٹے سیدھے ”شیروں“ کے نیچے فیض ، فراز ، اقبال ،غالب لکھنے سے بھی نہیں چوکتے۔ لائک بھی مانگتے ہیں۔ اس امید پر کہ لوگ شاید بڑے نام دیکھ کر ہی لائک کر دیں۔ البتہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب انہیں بیسیوں لائک مل بھی جاتے ہیں۔ حیرت کیا ہوتی ہے۔ ڈیپریشن ہوتا ہے۔

ہمارے ایک مہرباں ہیں، پنکی مستانہ۔ خیر سے شاعر بھی ہیں۔ سردیوں کی شاموں میں ویران راہوں پر اکثر اداس پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ چند روز پہلے ملاقات ہوئی تو کچھ کھنچے کھنچے سے تھے۔ سبب جاننا چاہا تو ہونٹوں پر پھیکی سی مسکراہٹ لاتے ہو ئے اداس لہجے میں بولے: ” ارے کچھ نہیں۔ تمہیں کیا۔ کوئی جیئے یا مرے۔ بس خوش رہو۔ ہم تو جیسی تیسی گزار ہی لیں گے۔“

ہم نے اصرار کیا تو سر پر رہ جانے والے چند بالوں کو ایک جھٹکے سے پیچھے کرتے ہوئے بولے:

” بس دیکھ لی تمہاری دوستی۔ اور صرف تمہاری ہی کیوں۔ سبھی ایک سے ہیں۔ سامنے ہوں تو لگتا ہے ان سے زیادہ مخلص کوئی روئے زمین پر ہے ہی نہیں۔ اور پیٹھ پیچھے۔۔۔ خیر جانے دو۔“

انہیں اس قدر رنجیدہ دیکھ کر تشویش ہوئی کہ کہیں یاسیت کے عالم میں خود کشی ہی نہ کر لیں۔ اور حیرت بھی کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ اتنے آزردہ ہیں۔

جب بہت اصرار کیا تو رندھی ہوئی آواز میں بولے:

” میں دیکھ رہا ہوں کہ گزشتہ دو ہفتے میں تم نے ایک دفعہ بھی میری پوسٹ کو لائک نہیں کیا۔ البتہ غیروں کو تم دھڑا دھڑ لائک کر تے رہتے ہو۔ آخر سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپ کو۔“

اس سے پہلے کہ ہم اپنے دفاع میں کچھ کہتے۔ زہر بھرے لہجے میں بولے:

” لیکن اب تو تمہارا دماغ بھی ٹھکانے آ گیا ہو گا۔“

گھبرا کر پو چھا وہ کیوں۔

” میں نے لائک کرنا چھوڑ جودیا ہے تمہیں۔ بس! جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ اور کسی غلط فہمی میں بھی نہ رہنا۔ میں توتمہیں ” ان فرینڈ“ کرنے پر بھی غور کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے بلاک ہی کر دوں۔ اب بھی وقت ہے سدھر جاو ¿۔“

ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا ” حضور ایسا تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔“

لمحے بھر کو ششدر کھڑے ہمارا منہ تکتے رہے۔ پھر اداس راہوں پر اپنا شبینہ سفر جاری رکھنے سے پہلے غراتے ہوئے بولے:

” تم جیسے آستین کے سانپوں سے اور توقع بھی کیا کی جا سکتی ہے۔“

اگر سچ پوچھیں تو فیس بک کا یہ سار ڈرامہ ہمیں تو امّہ کو آپس میں لڑوانے کی امریکی سازش لگتی ہے۔

اب بھلا یہود و ہنود و نصاریٰ یہ کیسے دیکھ سکتے ہیں کہ اتنی محبت، اخوت اور بھائی چارے کی فضا میں رہتے ، ایک مٹھی کی طرح جڑے تقریبا ساٹھ ملکوں کے سادہ ، محنتی اور نئی نئی چیزیں ایجاد کرنے والے یہ ہونہارلوگ یونہی دنیا پر چھائے رہیں۔ جب سے یہاں لوٹا ایجاد ہوا ہے ان کے رویے میں تو اور بھی سختی آ گئی ہے۔ آخری تنکہ وہ خجالت تھی جو انہیں اس وقت اٹھانا پڑی جب وہ چاند پر پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ چرخہ کاتتی بڑھیا کے پہلو میں مصلے پر کچھ لوگ اکڑوں بیٹھے وہاں پہلے سے ہی موجود تھے اور اس بات پر فکرمند نطر آتے تھے کہ اب واپس کیسے جائیں گے۔ اونٹ تو بھاگ گئے۔۔ بس تلملا کر رہ گئے اور جی میں ٹھان لی کہ اب انہیں نیچا دکھا کر ہی رہنا ہے۔ اور نیچا دکھانے کا اس سے بہتر راستہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ انہیں تقسیم کر دیا جائے۔ کافی کامیاب نسخہ ہے۔ پہلے بھی آ زما چکے ہیں۔

تو حضور آپ چاہے تو ہنس لیں، لیکن ہماری سازشی تھیوری کے مطابق اس مقصد کے لئے اب فیس بک کا سہارا لیا جائے گا۔ اس موضوع پر بحث کے لئے ہم کسی ٹاک شو میں اس لئے جانا نہیں چاہتے کہ دانشورکھلے کیمرے کے سامنے کہیں آپس میں دست و گریبان نہ ہونے لگیں اور نوبت گالم گلوچ سے بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ جائے۔ حالانکہ یہ سب کچھ اخوت باہمی اور پیار محبت کے کھلے اظہار کیلئے ان شوز میں اکثر ہوتا رہتا ہے۔

بہر حال ہماری سازشی تھیوری کے مطابق ڈوبتے چاند کی کسی تاریخ کو آدھی رات کے بعد، امّہ کی ایک بڑی تعدا د جب فیس بک گزاری کے دوران بیہودہ سائٹس پر نفریں بھیجنے میں محو ہوتی ہے، اس پر لائک کے ساتھ ہی اچانک کچھ نئی آپشنز ڈال دی جائیں گی۔ ہمارے اندیشوں کے مطابق وہ یوں ہوں گی:

کافر۔ مومن۔ حرام۔ حلال۔ لبرل فاششسٹ۔ اسلام پسند۔ بھٹکے ہوئے بھائی۔ جھٹکے ہوئے بھائی۔ چمچہ۔ لوٹا وغیرہ وغیرہ۔

ان کے علاوہ کچھ دائرے بھی دستیاب ہوں گے جن میں آپ چاہیں تو کسی کو شامل کر لیں۔ چاہیں تو نکال دیں۔ نکالنے والے دائرے کے ساتھ لٹھ استعمال کرنے کا اضافی آپشن بھی موجود ہوگا۔

ہمارے مایہ ناز تاریخ سازوں کی تیار کردہ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی بھی ممکنہ سازش سے نمٹنے کے لئے اسلاف ہمیشہ اسکی پیش بندی کر لیا کرتے تھے۔ لہٰذاہ خطرے کی بو سونگھتے ہی یا تو محل سے فرار ہو جاتے تھے، یا پھر سازشیوں، یعنی بہن بھائیوں کو قتل کر دیتے تھے۔

پس ہمیں چاہیئے کہ ہم بھی اس ممکنہ خطرے کی پیش بندی کے طور پر اپنا فیس بک الگ سے بنا لیں۔

لیکن ہم فیس بک کے نام سے تو اسے بنا نہیں سکتے۔

ذہن میں ایک نام آتا تو ہے۔ ”مائی فٹ نوٹ بک“۔ My Footnote Book.

آپ بھی سوچئے۔

ہاں خیال رہے کہ ” فٹ “ کے بعد وقفہ نہیں ہے۔


Comments

FB Login Required - comments