غین سے عشق …. کیسے کرو گے ؟


abdul-Majeed-487x400

 ایام جوانی میں علیم الحق حقی صاحب کے عشقیہ ناول پڑھا کرتے تھے۔ کمرہ جماعت میں جب بھی عشق کا ذکر آتا، اردو کے اساتذہ عشق حقیقی کی طرف اشارہ کر دیا کرتے۔ ادھر دوست احباب نصرت فتح علی خان کی آواز میں ’تمہیں دل لگی بھول جانی پڑے گی‘ کی کیسٹ گھسانے کا تہیہ کئے بیٹھے تھے۔ بقول شاعر ’اس معرکے میں عشق بیچارہ کرے گا کیا،خود حسن کو ہیں جان کے لالے پڑے ہوئے‘۔ آج تک خاکسار یہ راز نہیں پا سکا کہ ہمارے تمام شعرا بقول اساتذہ عشق حقیقی کے قائل ہو گئے تو کیسے؟ مومن تو آخری عمر تک مسلمانی سے کتراتے رہے او ر غالب کو کعبے جاتے شرم آتی تھی جب کہ میر تقی میر قشقے جیسی غیر اسلامی چیز کھینچے بیٹھے تھے۔ اقبال نے چنوتی دے رکھی تھی کہ’ یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک‘۔ فیض صاحب کا دعویٰ تھا کہ
ہم اپنے وقت پہ پہنچے حضور یزداں میں
زباں پہ حمد لئے، ہاتھ میں شراب لئے
ساغر صدیقی کو تو حرف دعا بھی یاد نہیں تھا اور جان ایلیا کو تو خیر جانے ہی دیجئے۔ ادھر ہمارے احمد ندیم قاسمی حور کے وجود سے پہلے حسن انساں سے نمٹنا چاہتے تھے، ن م راشد کو ’بے ریا خدائی‘ سے سخت شکوہ تھا۔ محسن نقوی اک سجدہ خلوص کی قیمت پر رب کائنات کا در کھٹکھٹاتے پھرے اور فراز انسانوں کے مابین حجاب کا موازنہ خدا اور فرشتوں کے بیچ حجاب سے کرتے نظر آئے۔اس صورت حال کے پیش نظر یہ کہاں کا انصاف کہ نوخیز اذہان میں عشق مجازی اور حقیقی کی غیر فطری تفریق پیدا کر دی جائے؟ انسان سے محبت کا ذکر ہمارے معاشرے میں معیوب کیونکر ٹھہرا؟ زندگی میں تو سبھی پیار کیا کرتے ہیں، ہم کب تک اپنے بچوں کو اس فطری جذبے سے دور رکھ سکیں گے؟


Comments

FB Login Required - comments

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 19 posts and counting.See all posts by abdulmajeed