سندھ اسمبلی میں ہندو میرج بل منظور


hindu mariageسندھ اسمبلی میں ہندو برادری کی شادی کو رجسٹر کرنے کے حوالے سے ‘ہندو میرج’ بل منظور کرلیا گیا.سینئر پیپلز پارٹی رہنما اور صوبائی وزیر برائے قانون اور پارلیمانی امور نثار کھوڑو نے بل ایوان میں پیش کیا، جسے بحث کے بعد منظور کرلیا گیا.ایوان میں بحث کرتے ہوئے اقلیتی رکن نند کمار نے کہا کہ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہندو برادری کی شادیاں رجسٹرڈ نہیں ہو پارہی تھیں۔ بل کو پیش کرنے میں پہلے ہی بہت دیر ہوچکی ہے، اب اس معاملہ کو مزید طول نہ دیا جائے۔بعدازاں ایوان نے ہندو برادری کے حوالے سے ‘ہندو میرج’ بل منظور کرلیا۔
منظور شدہ بل کے متن کے مطابق دلہا اور دلہن کی عمر 18 سال سے کم نہیں ہوسکتی، جس سے ہندو برادری میں کم عمری کی شادیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے.بل کے مطابق شادی کی رجسٹریشن یونین کونسل میں کرانی لازمی قرار دی گئی ہے اور جو جوڑا رجسٹریشن نہیں کرائے گا ،اس پر ایک ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا.بل کے متن کے مطابق شادی میں 2 گواہوں کی موجودگی اور والدین کی رضامندی بھی ضروری قرار دی گئی ہے.جبکہ سکھ، پارسیوں اور دیگر اقلیتوں کی شادیاں بھی اسی بل کے تحت رجسٹرڈ ہوں گی.منظوری کے بعد 3 ماہ میں بل کے قوانین کا اجرا کردیا جائے گا.
مسلمانوں اور مسیحیوں کے برعکس پاکستان میں ہندوو¿ں کی شادی کو رجسٹر کروانے کے لیے کسی قسم کا قانونی فریم ورک موجود نہیں تھا اور نہ ہی وہ اپنی شادی کا کوئی قانونی ثبوت فراہم کرسکتے تھے.


Comments

FB Login Required - comments