شام کے دو ہسپتالوں پر فضائی حملے میں 10 افراد ہلاک


shamشام کے شمال مغربی علاقے میں دو ہسپتال فضائی حملوں کی زد میں آ گئے ہیں جس کی وجہ سے کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔
عینی شاہدین اور طبی عملے کے مطابق ترکی کی سرحد کے ساتھ شامی علاقے اعزاز میں ایک ہسپتال کی عمارت پر ہونے والے بم حملے میں کم از کم 10 افراد ہلاک ہو گئے۔
عالمی تنظیم میدساں سان فرنتیر کے مطابق مر النعمان کے علاقے میں فضائی حملے کے بعد سے اس کے عملے کے آٹھ افراد لاپتہ ہیں لیکن اس نے اس فضائی حملے کا ذمہ دار کسی کو نہیں ٹھہرایا۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ اس حملے میں کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ حملہ مبینہ طور پر روسی ہوائی لڑاکا طیاروں نے کیا تھا۔
یہ فضائی حملے روس اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان شام میں جنگ بندی پر اتفاق ہونے کے چند دن بعد ہوئے۔ شام میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی میں ڈھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
شام میں سرکاری افواج اور صدر بشار الاسد کی حکومت کے مخالفین کے درمیان جاری جنگ، جس میں شدت پسند تنظیمیں بھی شامل ہو گئی ہیں، اب سے ایک کروڑ دس لاکھ افراد گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔اس سے قبل بھی اس تنظیم کے ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا جا چکا ہے
میدساں ساں فرنتیر کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ قبضہ مرآ النعمان قصبے میں قائم اس کے ہسپتال پر چار راکٹ داغے گئے۔ یہ قصبہ ادلب کے شہر سے 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ امدادی تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے 30 بستروں پر مشتمل ہسپتال میں کام کرنے والے آٹھ ارکان لاپتہ ہیں۔
شام کے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس حملے میں نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس میں بچے بھی شامل ہیں۔ اس حملے میں بہت سے لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے شام میں تنظم کے سربراہ میسی میلانیو ریبودنگو کے حوالے سے کہا ہے کہ ’یہ ایک طبی ادارے کو نشانہ بنانے کی دانستہ کوشش ہے۔‘
اس حملے کے تباہ ہونے سے اس علاقے میں مقیم 40 ہزار سے زیادہ افراد علاج معالجے کی سہولت سے محروم ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی پانچ تاریخ کو دیرا کے علاقے میں قائم اسی تنظیم کے ہسپتال پر فضائی حملے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے تھے۔


Comments

FB Login Required - comments