ہماری سفارتی اُلجھنیں اور بیرونی دنیا


mujahid hussain01پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے بارے میں ایک بارپھر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے، جس کو الحمد اللہ ہماری وزارت خارجہ نے سختی سے مسترد کردیا ہے۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں نیوز بریفنگ کے موقع پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ہمیں اِن ہتھیاروں کی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے اور پاکستان کے ساتھ ہونے والی ہر بات چیت میں یہ ہماری بحث کا موضوع ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کا دعویٰ ہے کہ جانبدار امریکہ اور دیگر مغربی ممالک ایٹمی ہتھیاروں میں مبینہ اضافے اور اِن کی سیکورٹی کے حوالے سے ہندوستان کے ساتھ اپنی تشویش کا اظہار نہیں کرتے جب کہ پاکستان کو تعصب کی بنیاد پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ مطالبہ غلط نہیں کہ ہمارا ہمسایہ بھی اُسی قدر گوشمالی کا حقدار ہونا چاہیے جس قدر ہم ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات اورحیثیت ایک ایسی پیچ دار راہداری ہے جس کی تمام سمتوں اور اطراف کو سمجھنا ہمیشہ سے مشکل رہا ہے کیوں کہ اِس راستے پر افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ احتیاط ایک بنیادی عنصر کی سی اہمیت رکھتی ہے۔ سفارتی محاذ پر متحارب فریقین اُس یکسوئی کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جنہیں ریاست کے مفادات کا ضامن سمجھا جاتا ہے۔ معمولی سی سفارتی شد بد کے ساتھ بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ریاستیں بین الاقوامی سطح پر اپنے تعارف کے بارے میں بہت حساس ہوتی ہیں کیوں کہ تعارف ہی ریاستی مفادات کی سمت کا تعین کرتا ہے۔ یہاں یہ بات مدنظر رہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ہمارے دفاعی تعلقات کے اثر سے شاید ہی آزاد ہوسکی ہے ، اِس لیے ہم دفاعی سفارتی محاذوں پر اکثر حالت امن کے تقاضوں کی شکایت کرتے پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہمارا پڑوسی امریکہ کے ساتھ کسی قسم کے دفاعی خارجہ تعلقات کاتجربہ نہیں رکھتا جب کہ ہم گذشتہ تین دہائیوں سے امریکہ کے ساتھ ’گرم‘ دفاعی خارجہ تعلقات میں پیوست ہیں۔ اِن تعلقات میں اونچ نیچ کبھی ہمارے خرید کردہ ایف سولہ طیارے روک دیتی ہے اور کبھی ہمیں براﺅن ، اسٹیفن سولارز اور اس طرح کے کئی دوسرے امریکی عہدیداروں کی تیار کردہ جکڑبند ترمیموں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِنہی غیر متوازن تعلقات کا شاخسانہ ہے کہ ہمارے ہاں شک و شبہ اورسازشی نظریات پر من و عن یقین کر لینے والی سوچ پروان چڑھی ہے جب کہ دوسری طرف ہمارے بارے میں دوغلے پن اورمہم جویانہ تصور ات کی پرچھائیاں تیرتی نظر آتی ہیں۔ اغیار ہم پر ہنس دیتے ہیں جب کہ ہم غصے میں لال پیلے ہوتے رہتے ہیں۔

جس نکتے کو ہمیشہ ہمارے سفارتی دانش مندوں نے نظر انداز کیا ہے اور عوامی طورپر غصہ آمیز تذبذب صورت حال کو ریاستی حکمت عملی بنانے کی ناکام کوشش کی ہے، اُس پرتوجہ دینا ازحد ضروری ہے۔ مثال کے طور پر ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جہاں ریاستوں میں باہمی رقابت اور کشیدگی ہو وہاں سفارتی سطح پر تنہائی کا شکار ریاستیں مذاکرات کے دوران برابری اور خودمختاری کے اصول کا اطلاق نہیں کرپاتیں۔ یہ نظریہ محض الفاظی تک محدود ہوجاتا ہے اور اپنی معنویت ہی نہیں، وثوق بھی کھو دیتا ہے ۔ ایک ملک کی تنہائی کی انتہائی شکل وہ ہے جب اِسے ’منحرف ریاست‘ قرار دیا جائے۔ اس سفارتی ’اعزاز‘ کے بعد وہ ملک اپنے بارے میں باقاعدہ سافٹ امیج یا پرکشش تاثر سے محروم ہوجاتا ہے، جو اقتصادی ترقی اور بقا کے لیے ناگزیر ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اپنی ریاستی ہیئت و نوعیت کے حوالے سے اِسی دوراہے پر ایک طویل عرصے سے محو انتظار ہے۔

اس کی ایک بہت اہم وجہ سفارتی تصورات میں عسکری ذہن کی بالادستی کا لازمی جزو ہے، جس سے ہم دستبردار ہونے کو تیار نہیں۔ اگر پاکستان کو ایک ریاست کے طور پر بین الاقوامی سطح پر عدم اعتمادکا سامنا کرنا پڑتا ہے تو یہ بالکل فطری بات ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ہمارے علاقائی تنازعوں اور بالادستی کے مخصوص عسکری تصور کے زیر اثر پروان چڑھی ہے۔ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ خارجہ پالیسی تشکیل دیتے وقت سول حکومتوں کے معاشی مفادات کے تصورات اور ریاستی تنہائی کے تدارک کے لیے تجویز کیے گئے نکات انٹیلی جنس ایجنسیوں کے نکتہ نظر اور سفارشات کے نیچے دب گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انٹیلی جنس ایجنسیاں دنیا بھر میں تجزیہ اور پالیسی سازی کے لیے اہم معاونت فراہم کرتی ہیں۔ لیکن اکثر ان کے تجزیے اور تشخیص میں ان کے شک و شبہ والے کلچر کا رنگ حاوی ہوتا ہے اور پالیسی سازوں کو ان تجزیات کو بغیر ناقدانہ نگاہ کے نہیں مان لینا چاہیے۔ حکومتی سطح پر بنائی جانے والی پالیسی میں سیاسی بصیرت کو شامل ہونا چاہیے۔ سیاسی بصیرت دوستی کے بین الاقوامی تصور کے نیچے اپنے فطری دفاع کے احساس کو اُجاگر کرتی ہے جو کہ ایک ریاست کا پیدائشی حق ہے لیکن عسکری سوچ پیش قدمی کے سٹریٹیجک ڈیپتھ یا تزویراتی گہرائی کے تصور سے جڑی ہوتی ہے جو بین الاقوامی ذہن میں خطرات کے بیج بوتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر امریکی صدر اپنے اہم ترین خطاب میں یہ انکشاف کرتا ہے کہ مستقبل میں پاکستان اور افغانستان انتہا پسندوں کے لیے پسندیدہ مقامات بن سکتے ہیں تو اِس نکتے میں ہمارے لیے ایک حفظ ماتقدم کی گنجائش موجود ہے ،جو بین الاقوامی تعاون کے امکانات کو واضح کرنے میں معاون ہوسکتی ہے ۔ لیکن ہم سیخ پا ہوجاتے ہیں اور امریکی صدر کے خدشے کو اپنی طرف اُٹھی ہوئی تنقیدی اُنگلی تصور کرتے ہیں۔ اگلے روز ہمارے شاہین ذرائع ابلاغ امریکی صدر کے انتباہی اشارے کو پاکستان پر’سنگین الزام‘ کی شہ سرخی کے ساتھ نشر کرتے ہیں اورتبصرے کے لیے اسلم بیگ جیسے جذباتی افراد سے رابطہ کرکے وزارت خارجہ کے لیے گائیڈ لائن کا بندوبست کرتے ہیں۔ قومی سطح پر غصہ اور جھنجھلاہٹ کا کاروبار چل نکلتا ہے اور یوں معاشی امکانات اسقاط حمل کے دورانیوں سے گذرتے رہتے ہیں۔

پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کی سیکورٹی کے بارے میں تازہ ترین خدشات کسی طور بھی ریاست پر الزام کا درجہ نہیں رکھتے بلکہ ریاست کی طرف تعاون کا ایک سفارتی اشارہ ہیں۔ یقینی طور پر کوئی بھی ملک اپنے حساس نوعیت کے ہتھیاروں کی حتمی سیکورٹی کا خواہش مند ہوتا ہے، اسی طرح پاکستان بھی اِن ہتھیاروں کی مکمل اور فول پروف سیکورٹی چاہتا ہے تاکہ دشمن کسی موقع سے فائدہ نہ اُٹھا سکے۔ اس سیکورٹی کو بین الاقوامی مدد سے مزید مضبوط بنانے میں کیا امر مانع ہے؟ یہی وہ بنیادی نقطہ ہے جو ہمیں خودساختہ تنہائی کے تصور سے باہر کھینچ سکتا ہے اور ہمیں نہ صرف خوداحتسابی کے جاندار اور سودمند رویے کا حامل بنا سکتا ہے بلکہ سفارتی محاذ پر عسکری تصور کی چسپاں چھاپ سے نکال کر ایک پُرامن اور ترقی کی خواہاں ریاست کے تعارف میں بدل سکتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments