پنجاب کے پشتون اور قوم پرستوں کا ردعمل


کوئی بھی حادثہ یکطرفہ غلطی کے نتیجے میں رونما نہیں ہوتا کسی بھی حادثے کے لئے ایک فریق کی غلطی تو دوسرے فریق کی جانب سے کم ازکم بے احتیاطی کا ارتکاب ضروری ہوتاہے۔
ملک میں دہشت گردی کی تازہ لہر کے بعد ذمہ دار اتھارٹیز کی بدانتظامی کی وجہ سے دہشت گردی کی انسداد کی موضوع نے لسانی عصبیت کی شکل اختیار کرلی۔ یہ صورتحال ہر لحاظ سے ایک المیہ ہی ہے مگر اس المییے سے بھی بڑا المیہ اس صورتحال سے متعلق خیبر پختونخوا اسمبلی کا ردعمل ہے۔ یقین نہیں آتا کہ ایک ذمہ دار سیاسی پارٹی کا ایک ذمہ دار نمایندہ ایک ذمہ دار فورم پر اپنےجذبات کی اظہار کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ پر اس طرح اپنی گرفت کھو سکتا ہے۔

پیر کے دن کے پی کے اسمبلی میں پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر بحث کے لئے تحریک التواء پیش کرنے والے اے این پی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اگر پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ امتیازی سلوک بند نہیں کیا گیا تو ہم پنجاب کے ساتھ اپنے تمام راستے بند کرنے، پنجاب سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو صوبہ بدر کرنے اور تربیلاڈیم سے بجلی کی سپلائی بند کرنے جیسے اقدامات اٹھانے پر مجبور ہو جائیں گے۔

یہ صرف سردار بابک کے ذاتی خیالات اور پھر اس سلیقے کے ساتھ اپنے مافی الضمیر کے اظہار کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ پاکستان میں لسانی بنیاد پر سیاست کرنے والے حلقوں کا عمومی مزاج یہی ہے کہ وہ نتائج اور آثار سے بے پروا ہوکر اپنے قول وعمل دونوں میں انتہا پسند بن جاتے ہیں اور نتیجے میں نفرتوں کے فروغ، دوریوں میں اضافہ اور عملاً اپنے قوم کو اجنبیت اور پسماندگی کے دلدل میں دھنسانے کا سبب بن جاتے ہیں۔

ایچی سن سے پڑھنے والے شہید نواب اکبر بگٹی یا غالباً سردار عطا اللہ مینگل نے بلوچ علاقوں سے پنجابی اساتذہ کو نکال باہر کرنے کی مہم شروع کی تھی تو اس کی وجہ سے خود انہیں اور ان کے اہل و عیال کو تو کوئی فرق نہیں پڑا مگر جو بلوچ بچے کم از کم پرائمری کی حد تک حرف و قلم سے رشتہ استوار کرسکتے تھے انہیں ہمیشہ کے لئے جہالت کے اندھیروں میں دھکیل دیا گیا۔

محمود خان اچکزئی کی پارٹی نے سب سے پہلے ”پنجابی استعمار“ کا غلغلہ بلند کیا اور ایک مرتبہ تو نواز شریف کی کوئٹہ آمد کے موقع پر کالے جھنڈوں سے ان کا استقبال بھی کیا اس سے پہلے کوئٹہ میں پارٹی دفتر پر ہونے والے فائرنگ، جس کے نتیجے میں کئی افراد جاں بحق ہوئے، اس میں ملوث ہونے کا الزام براہ راست سردار ثنا اللہ پر عائد کرکے کوئٹہ شہر میں بلوچ پشتون منافرت کو اتنی ہوا دی گئی کہ شہر عام لوگوں کے لئے عملاً دو حصوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے لئے نو گو ایریا بن گیا لیکن آج اسی ”پنجابی استعمار“ کی نمائندگی کرنے والے میاں نواز شریف کو اچکزئی صاحب اسمبلی کے فلور پر شیر شاہ سوری کا خطاب عطا کرتے ہیں اور اسی سردار ثنا اللہ کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت سے بھی اپنا حصہ بقدر جثہ وصول کرنے میں مصروف عمل ہیں۔

پھر پچھلی دہائی میں بلوچ نوجوانوں کو اسی طرح ”آزادی“ کاسراب دکھا کر حریت کی اس تحریک کی قیادت کرنے والے خود تو کابل، سویٹزلینڈ اور انڈیا کے مہمان بن گئے اور عام بلوچ نوجوان کی مستقبل، ان کی صلاحیتیں اور زندگی تک کوداؤ پر لگا دیا گیا اور ان معصوم اور سیاست کے پیچیدہ داؤ پیچ سے بے خبر نوجوانوں کے جذبات میں اتنا ارتعاش پیدا ہو گیا کہ لاہور اور کراچی کے پبلشرز کسی بھی کتاب پر چے گویرا یا فیڈرل کاسترو کی تصویر لگا کر کوئٹہ بھجوا دیتے اور وہی کتاب یہاں بیسٹ سیلر بن جاتی۔ لیکن اس ہیجان کا انجام اور حاصل کیا نکلا وہ ہم سب کے سامنے ہیں۔

خود سردار حسین بابک کی پارٹی تو اس ایڈونچر ازم کا مزا بہت نزدیک سے چکھ چکی ہے۔ جمعہ خان صوفی کی ”فریب ناتمام“ اس کا اعتراف نامہ ہے مگر اس سب کچھ کے باوجود بھی تاریخ اور حالات سے سبق لینے کے بجائے وہ ہنوز پشتون قوم کے جذبات سے کھیلنے کا کاروبار جاری رکھنے پر مصر ہیں۔ ایک سرکاری حکم نامے یا پولیس کے رویے کے ردعمل میں لسانی بنیاد پر کسی کو صوبہ بدر کرنے، صوبے سے جانے والی بجلی منقطع کرنے یا عام راستے بند کرنا ملک کی وحدت سے کٹ کر اپنا الگ جزیرہ آباد کرنا نہیں تو کیا ہے۔

پاکستان میں سماجی سطح پر کسی بھی قوم کارویہ کسی بھی دوسری قوم کے خلاف معاندانہ نہیں رہا ہے مگر قوم پرست سیاست اور ناعاقبت اندیش سرکار دونوں نے وقتاً فوقتاً مل کر کئی بار ایسی فضا بنانے کی کو ششیں کی ہے کہ عوام کو ایک دوسرے کے مد مقابل لایا جائے۔ پنجاب میں پشتونوں کے ساتھ حالیہ امتیازی سلوک کا ذمہ دار بھی نہ عام پنجابی ہے اور نہ ہی اس کے ردعمل کے طور پر کسی بھی دوسرے صوبے میں پنجابی کے ساتھ محض لسانی بنیاد پر امتیازی سلوک اس مسئلے کا حل ہے۔ مسئلہ سیاسی لحاظ سے سرکاری سطح پر عوام فریبی اور سیاسی فورم سے غیر متوازن اور جذباتی ردعمل ہے۔ اتفاقاً کل ہی اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری آنتونیو گوترش نے انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق اجلاس میں ہونے والے اپنے خطاب میں بین الاقوامی سطح پر اس چیلنج کے درپیش ہونے کا بہت خوبصورت اور جامع الفاظ میں احاطہ کیا ہے۔ یہ الفاظ بہت ہی معمولی تبدیلی کے ساتھ ہمارے صورتحال پر بھی پوری طرح منطبق ہوتے ہیں اورمیں ان کی اسی تقریر کی ایک اقتباس پر یہ تحریر ختم کررہا ہوں۔

’ہم اس وقت دنیا میں پہلے کی نسبت ہر وقت سے زیادہ سرکاری سطح پر عوام فریبی اورانتہاپسندی کے فروغ کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے تقویت پاتی ہیں اور یہی چیزیں نسل پرستی کے جنون، بیگانہ پن، اور مسلمانوں سے متعلق نفرت اور غصے سمیت عدم برداشت کی مختلف صورتوں کو ہوا دے رہی ہیں‘


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔