فوجی عدالتیں قانون کی حکمرانی پر عدم اعتماد ہیں


 قومی اسمبلی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں نے ملک میں دہشت گردی کے مقدمات کی سماعت کےلئے فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔ 6 مارچ کو حکومت کی طرف سے اس سلسلہ میں 23 ویں آئینی ترمیم پیش کی جائے گی۔ اس طرح 7 جنوری 2017 کو فوجی عدالتوں کی ختم ہونے والی مدت میں اسی تاریخ سے مزید 2 برس کی توسیع کر دی جائے گی۔ آج پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی نے شرکت نہیں کی۔ آصف علی زرداری نے 4 مارچ کو اسلام آباد میں تمام سیاسی پارٹیوں کا اجلاس طلب کیا ہے۔ قیاس اغلب ہے کہ اس موقع پر فوجی عدالتوں کے سوال پر بھی بات کی جائے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آج کے اجلاس کے بعد اتفاق رائے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ پیپلز پارٹی بھی اس تجویز کی حمایت کرے گی۔ یہ امید بر آتی دکھائی دیتی ہے۔ تاہم آصف علی زرداری اپنی علیحدہ شناخت اور سیاسی اظہار کےلئے اس معاملہ کو اسلام آباد اجلاس تک ملتوی رکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے نمائندوں نے آج پارلیمانی لیڈروں کے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔ حکومت کو دوسری سیاسی جماعتوں کی حمایت کی صورت میں قومی اسمبلی میں آئینی ترمیم کےلئے دو تہائی اکثریت حاصل ہو جائے گی۔ اس لئے پیپلز پارٹی کے اختلافی ووٹ بھی بے معنی ہوں گے۔ تاہم اس کا امکان نہیں ہے کہ پیپلز پارٹی اس ترمیم کے خلاف ووٹ دینے کا حوصلہ کرے گی۔

اکیسویں آئینی ترمیم کے تحت جنوری 2015 میں ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی تھیں۔ اس وقت کیا جانے والا فیصلہ دسمبر 2014 میں آرمی پبلک اسکول پشاور پر دہشت گرد حملہ کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ فوج کی طرف سے دہشت گردوں کے مقدمات فوری طور سے نمٹانے کےلئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کےلئے زبردست دباؤ تھا۔ حکمران جماعت کے علاوہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس وقت فوج کے سامنے اختلاف رائے کا حوصلہ نہیں کر سکی تھی۔ اس طرح اکیسویں آئینی ترمیم کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا تھا۔ اس کے تحت فوجی عدالتوں میں دہشت گردوں کے مقدمات کی سماعت کا فیصلہ کرنے کے علاوہ قومی ایکشن پلان بھی منظور کیا گیا تھا۔ تاہم سیاسی حلقے اور تجزیہ کار اس بات پر متفق ہیں کہ اس اہم منصوبے کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس سال کے شروع میں کوئٹہ میں دہشت گردی کی تحقیقات کرنے والے ایک رکنی عدالتی کمیشن جسٹس فائز عیسیٰ کمیشن کی رپورٹ میں بھی یہی بات کی گئی تھی۔ اس بارے میں فوج کی طرف سے بھی تشویش کا اظہار سامنے آتا رہا ہے۔ تاہم وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ہر اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے سینہ ٹھونک کر یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان کی وزارت دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ ناکامیوں کا الزام وہ صوبائی حکومتوں کی ناقص کارکردگی پر دھر کر خود سرخرو رہتے ہیں۔

جنوری میں فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد حکمران مسلم لیگ (ن) نے فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کےلئے کام کا آغاز کیا اور اس سلسلہ میں سیاسی جماعتوں کے درمیان کھینچا تانی ہوتی رہی۔ حکومت کے دلائل وہی تھے جو 2015 میں سامنے لائے گئے تھے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالتیں خطرناک مجرموں کے خلاف مقدمات کی سماعت کرنے اور سرعت سے سزا دینے میں ناکام رہی ہیں۔ ملک میں دہشت گردوں کی حوصلہ شکنی کےلئے مختصر مدت کےلئے فوجی عدالتیں قائم کر دی جائیں اور اس دوران عدالتی نظام کو بہتر بنانے اور ملزموں کے خلاف شواہد کے حوالے سے قانونی سقم دور کرنے کےلئے کام کیا جائے۔ اس وقت بھی سب سیاستدان یہی کہہ رہے تھے کہ یہ غیر معمولی اقدام ملک کے غیر معمولی حالات کی وجہ سے ضروری ہے۔ انسانی حقوق کے حوالے سے آواز بلند کرنے والوں کو یہ کہہ کر چپ کروا دیا گیا کہ اس بات کا اختیار سیاسی حکومتوں کے ہاتھ میں ہ گا کہ کون سے معاملات فوجی عدالتوں میں روانہ کئے جائیں اور کن مقدمات پر انسداد دہشت گردی کی عدالتوں میں کارروائی مکمل کی جائے۔ اس دوران فوجی عدالتوں میں معاملات کی سماعت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔ سزا پانے والوں کو اپنی صفائی پیش کرنے اور وکیل کی خدمات حاصل کرنے کا موقع نہیں دیا گیا اور اکثر معاملوں میں موت کی سزا کا حکم دیا جاتا رہا ہے جن کی توثیق آرمی چیف کرتے رہے ہیں۔

فوجی عدالتوں کے طریقہ کار اور اس نظام سے ملک میں قانون پر عملدرآمد کے سول طریقہ کار پر پیدا ہونے والے عدم اعتماد کی وجہ سے اپوزیشن جماعتیں گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فوجی عدالتوں کی توسیع کے بارے میں آئینی ترمیم کو قبول کرنے سے انکار کرتی رہی ہیں۔ اس دوران فروری میں ملک میں درجن بھر دہشت گرد حملے ہوئے جن میں سیہون شریف میں ہونے والے خود کش حملہ میں 88 افراد جاں بحق ہو گئے۔ عوام جو آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کے اعلانات سن کر یہ یقین کئے بیٹھے تھے کہ اب ملک سے دہشت گردی کا صفایا ہو گیا اور ملک میں کوئی بڑا حملہ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔۔۔ ان دھماکوں کے بعد بدحواس اور پریشان ہو گئے۔ ملک بھر میں بے یقینی کی کیفیت دکھائی دینے لگی۔ کسی کے پاس اس بات کا جواب نہیں تھا کہ آخر ملک میں دہشت گردوں کا صفایا کیوں کر اور کیسے ہوگا۔ ان حالات میں فوج نے آپریشن رد الفساد شروع کرنے کا اعلان کیا اور پنجاب میں رینجرز کو کارروائی کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔ اس سے پہلے نواز شریف اور شہباز شریف کی حکومتیں پنجاب میں فوجی کارروائی کے خلاف مزاحمت کرتی رہی تھیں حالانکہ باقی تینوں صوبوں میں فوجی آپریشن جاری تھا۔ حکومت نے اس صورتحال پر پریشان ہونے یا حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کی بجائے چند دن کے توقف سے از سر نو اپنی کامیابی کے دعوے داغنے شروع کر دیئے۔ وزیر داخلہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں کم دھماکوں کا کریڈٹ لینے کی کوشش میں مصروف تھے اور وزیراعظم فوج کے نئے آپریشن اور اقدامات کا سہرا سیاسی حکومت کے سر باندھنے کی تگ و دو کر رہے تھے۔ اب اپوزیشن نے بھی ہتھیار پھینک دیئے ہیں اور فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق رائے کر لیا گیا ہے۔ دلائل اس بار بھی وہی ہیں کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔ حکومت اب بھی کامیابی کا اعلان کرنے میں مصروف ہے جبکہ 23 ویں ترمیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام پر اتفاق کرنے والی اپوزیشن جماعتیں حکومت پر تنقید کر رہی ہیں لیکن ملک کے حالات سے مجبور ہو کر فوجی عدالتوں کے ذریعے ملک کے عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے اور روایتی عدالتی نظام کو ناکارہ قرار دینے میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھتیں۔

ملک میں بظاہر جمہوری نظام کام کر رہا ہے۔ منتخب وزیراعظم تمام اہم فیصلے کرتا ہے اور عدالتیں حکومت کے جبر و زیادتی کے خلاف نگرانی کا کام کر رہی ہیں۔ پاناما کیس کی سماعت ملک کے عدالتی نظام کے موثر ہونے کی واضح مثال ہے۔ لیکن سارے سیاستدان جو عوام کے ووٹ لے کر عوام کے حقوق کی حفاظت کرنے کےلئے اسمبلیوں تک پہنچتے ہیں، ان ہی لوگوں کے بنیادی حقوق پر حملہ کرنے پر متفق ہوئے ہیں۔ ملک کے منتخب نمائندے 21 ویں اور اب 23 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے یہ اقرار کریں گے کہ سیاست دان ملک میں قانون کی عملداری نافذ کرنے کےلئے کام کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے اب وہ عدالتی اختیارات بھی فوج کے سپرد کر رہے ہیں۔ یہ ان قانون دانوں کی طرف سے ملک کے نظام قانون پر عدم اعتماد کا اظہار ہے جو قانون سازی کے ذریعے عوام کے حقوق کا بہتر تحفظ کرنے کا حلف لے کر اس مقام تک پہنچتے ہیں۔

یہ ملک میں جمہوری روایت اور نظام کے حوالے سے اندوہناک صورتحال ہے۔ ایسے میں عام لوگوں کی طرف سے اگر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے یا تقاضہ کیا جاتا ہے کہ نااہل سیاستدانوں کی بجائے فوج کا سربراہ ہی امور مملکت کی نگرانی کرے تو اسے کس دلیل اور شواہد کی بنیاد پر مسترد کیا جا سکے گا۔ حکومت اور اپوزیشن اس ملک میں جو سیاست کر رہے ہیں، وہ جمہوریت اور عوامی حکمرانی کے تصور کو مستحکم کرنے کی بجائے آہستہ آہستہ طبقاتی نظام کو مضبوط کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ انتخابات میں عوام کے نمائندے ووٹ لینے میں کامیاب نہیں ہوتے بلکہ دولت اور اختیار کی بنیاد پر لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ کسی خاص امیدوار کو ووٹ دے کر ہی اپنے مفادات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ مفادات کےلئے کی جانے والی یہ سیاست ملک میں جمہوری روایت اور عوام کی حقیقی حکمرانی پر استوار نظام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 672 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali