پوپ جان پال کے خاتون سے قریبی تعلقات کا انکشاف


pop3بی بی سی نے ایسے سینکڑوں خطوط اور تصاویر دیکھی ہیں جس سے پوپ جان پال دوم کے ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ قریبی تعلقات کی کہانی پر سے پردہ اٹھتا ہے۔
دونوں کے درمیان یہ تعلق 30 سال سے زائد عرصہ قائم رہا۔
پولینڈ نژاد امریکی فلسفی خاتون انا ٹریسا کو لکھے گئے خطوط کئی برسوں تک عوام کی نظروں سے دور پولینڈ کی قومی لائبریری میں بند تھے۔اِن دستاویزات کے ذریعے 2005 ءمیں دنیا سے رخصت ہونے والے پوپ کی زندگی کے ایک مخفی پہلو سے پردہ اٹھتا ہے۔ تاہم اِس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ پوپ نے اپنے کنوارپن کا عہد توڑا ہو۔
اس دوستی کا آغاز 1973 ءمیں اس وقت ہوا تھا جب انا ٹریسا نے مستقبل کے پوپ کارڈینل کارول وجتیا سے ان کی فلسفے پر تحریر کردہ ایک کتاب کے سلسلے میں رابطہ کیا، جس کے بعد 50 سالہ خاتون نے کام کے بارے میں گفتگو کے لیے امریکہ سے پولینڈ کا سفر کیا۔اِس کے فوراً بعد دونوں کے درمیان خط و کتابت کا آغاز ہو گیا۔ کارڈینل کی جانب سے لکھا گیا پہلا خط رسمی تھا، لیکن جیسے pop2جیسے دونوں کی دوستی مضبوط ہوتی گئی، اِن میں بے تکلفی بڑھتی چلی گئی۔
دونوں نے کارڈینل کی تحریر کردہ کتاب میں اضافے کے لیے کام کرنے کا فیصلہ کیا۔ اِس کے بعد کبھی سیکرٹری کی موجودگی میں، اور کبھی اکیلے ہی دونوں کے درمیان کئی ملاقاتیں ہوئیں، اور پھر خط و کتابت کا سلسلہ چل نکلا۔ 1974 میں انھوں نے لکھا کہ وہ انا ٹریسا کی جانب سے ایک مہینے میں لکھے گئے چار خطوط دوبارہ سے پڑھ رہے ہیں، کیونکہ ان میں ’خاصی بامعنی اور گہری باتیں‘ لکھی گئی ہیں۔
ایسی تصاویر سے، جو عوام نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ کارول وجتیا کافی پرسکون ہیں۔ ا±نھوں نے اناٹریسا کو ملک کی سیر کرنے اور چھٹیوں میں سکیٹنگ پر آنے کی دعوت دی تھی اور یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ آئی بھی تھیں۔ تصاویر سے یہ
بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ ان سے ملاقات کے لیے ویٹی کن بھی آئی تھیں۔
کیمبرج یونیورسٹی میں عیسائیت کی تاریخ کے پروفیسر ایمن ڈفی کا کہنا ہے کہ ’20ویں صدی میں عوامی زندگی کی عظیم مذہبی شخصیات میں سے ایک یعنی کیتھولک چرچ کے سربراہ کے ایک دِلکش خاتون کے ساتھ بے حد قریبی تعلقات تھے۔‘1976 میں کارڈینل کیتھولک کانفرنس میں شرکت کے لیے امریکہ گئے تھے۔ اسی دوران ٹریسانے ان کو نیو انگلینڈ کے علاقے کنٹری ہوم میں واقع اپنے pop1گھر میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہنے کی دعوت دی تھی۔
کارڈینل نے اناٹریسا کو اپنی سب سے قیمتی چیز کا تحفہ دیا تھا۔ یہ ایک چھوٹا مذہبی ہار تھا۔ا±نھوں نے پوپ کے بارے میں اپنے شدید جذبات کا اظہار بھی کیا تھا، کیونکہ اس کے فوراً بعد پوپ کی جانب سے لکھے گئے خطوط سے پتہ چلتا ہے کہ ایک شخص عیسائی اقدار کی روشنی میں دوستی کے جذبات کو واضح کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ستمبر 1976 میں لکھے گئے ایک خط میں پوپ نے لکھا: ’میری پیاری ٹیریسا، مجھے تینوں خط مل گئے ہیں۔ تم نے پریشانی کے بارے میں لکھا ہے لیکن مجھے اِن الفاظ کا کوئی جواب نہیں مل سکا۔‘
انھوں نے ٹریسا کو ’خدا کی طرف سے تحفہ‘ قرار دیا۔پولینڈ کی قومی لائبریری نے ٹریسا کے خطوط کی اپنے ریکارڈ میں ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments