مادری زبانوں کا ادبی میلہ


میں جس سے بھی اردو زبان میں بات کرتا ہوں پکڑا ہی جاتا ہوں، بات سننے والا مجھ سے پہلا سوال ہی یہ کرتا ہے کہ آپ سندھ کے کونسے علاقے سے ہیں۔ گویا اسے میرے لہجے سے ہی پتا لگ جاتا ہے کہ یہ میری مادری زبان نہیں، سوال کرنے والا بعد میں وضاحت کرتا ہے کہ آپ کے لہجے سے لگ رہا ہے کہ آپ سندھی ہیں۔ اسی طرح ہمارے پٹھان دوست بھی اردو بولتے ہوئے پکڑے جاتے ہیں کیوںکہ ان کی مادری زبان بھی پشتو ہے۔

میرے اردو، انگریزی، پنجابی، سرائکی بولنے کے پیچھے وہ لہجہ جھلکتا ہے جو میری پہچان ہے، یہ لہجہ نہیں لیکن یہ بچپن میں مجھے ملی ماں کی لوری ہے جس کی جھلک مجھ سے دوسری زبان میں بات کرنے والے کو نظر آ ہی جاتی ہے۔ وہ ماں کی لوری میری پہچان بنی ہوئی ہے، تومجھے اور کیا چاہیے؟سندھی میری ماں بولی ہے، مجھے کوئی میرے لہجے سے پہچان لیتا ہے اس سے مراد کہ میری زبان اور میری پہچان کو کوئی خطرہ نہیں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے، ایک اندازے کے مطابق ملک میں ساٹھ لاکھ سے ایک کروڑ لوگوں کی مادری زبان اردو ہے لیکن نوے فیصد لوگوں کی مادری زبانیں الگ ہیں، اس ملک میں ستر چھوٹی بڑی زبانیں بولیں جاتی ہیں جن میں بڑی زبانوں میں سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتون، بلوچی، براہوی، شینا ہیں۔

پاکستان میں آباد نوے فیصد سے زائد لوگوں کی مادری زبانیں الگ الگ ہیں۔

زبان کے حوالے سے ہم نے کچھ ایسی باتیں فرض کر لیں ہیں، جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، ہم نے یہ فرض کر لیا ہے کہ ایک ملک کی ایک زبان ہی اتحاد و استحکام کی ضمانت ہے، اگر زبانیں زیادہ ہوگئیں تو اس سے خطرات سامنے آئیں گے۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں، دنیا کے کئی ممالک ہیں جہاں ایک سے زیادہ زبانیں ہیں اور ایک سے زیادہ زبانیں قومی زبانوں کا درجہ رکھتی ہیں، وہ تمام ممالک پاکستان سے بڑے، مضبوط، ترقی یافتہ، تگڑے اور مستحکم ہیں، اور ان کے استحکام کو کوئی خطرہ بھی نہیں۔ بس ہم نے ہی فرض کر لیا ہے کہ یہاں اردو زبان کی جگہ اگر کسی بھی اور زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تو ملکی یکجھتی اور ہم آھنگی کو نقصان پہنچے گا، عوام بٹ جائیں گے، ہم نے یہ بھی فرض کر لیا ہے کہ اگر کسی اور زبان کو قومی زبان کا درجہ دیا گیا تو وہ اس سے اردو زوال پذیر ہوگی یا قومی زبان کے لیے چیلنج پیدا ہو جائیں گے۔ لیکن وقت نے ثابت کردیا ہے کہ اگر آپ مادری زبانوں کو نظرانداز کریں گے، ان کو اہمیت نہیں دیں گے تو ان کے نتائج خطرناک نکلتے ہیں۔

پوری دنیا میں 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، اب ذرا اس دن کے پس منظر کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

اگر پاکستان چاھیے تو اس عالمی دن کا کریڈٹ خود لے بھی سکتا ہے کیونکہ اس عالمی دن کے تانے بانے پاکستان سے جڑے تھے، یہ پاکستان ہی تھا جس کی پالیسیوں کی وجہ سے آج ساری دنیا میں مادری زبانوں کی اہمیت پر باتیں، تقریبات، جلسے، اجلاس اور مطالبات ہوتے ہیں۔

 مادری زبانوں کی طاقت کا اندازہ ہمیں تو سب سے زیادہ ہونا چاہیے کیونکہ ہم مادری زبانوں کے مطالبے کو نظرانداز کر کے اپنا وطن دولخت کروا کے بیٹھے ہیں، بنگال سانحے کے باوجود بھی ہم اس بات کو اہمیت دینے کو تیار نہیں، ھمیں بنگال سانحہ کو سامنے رکھ کر اس بات کا اندازہ کرلینا چاہیے کہ مادری زبانوں میں کتنی طاقت ہے۔

مادری زبانوں سے اسلام آباد کا ڈر آج کی بات نہیں، مشترکہ پاکستان میں تو بنگالی زبان اتنی خطرناک ہوگئی تھی کہ ساٹھ کی دہائی میں بنگال میں رابندرناتھ ٹیگور کی شاعری اورکہانیاں پڑھنے پر پابندی لگا دی گئی، پنجابی دانشور احمد سلیم مادری زبانوں کے میلے میں بتا رہے تھے کہ جب بنگال میں یہ پابندی لگی تو وہاں کے پڑھے لکھے اور دانشور لوگ کہنے لگے کہ اب ایسے ملک میں رہنے کا کیا فائدہ۔

 قائداعظم محمد علی جناح کی طرف سے ڈھاکا میں اردو زبان کو قومی زبان کا اعلان ہونے کے بعد بنگال میں زبان پر فساد بھڑک اٹھے، بنگالیوں کا مطالبہ تھا کہ اردو کے ساتھ بنگالی زبان کو بھی قومی زبان کا درجہ دیا جائے۔ 21 فروری 1952 کو ڈھاکا میں بنگالی نوجوانوں نے اپنی ماں بولی کو قومی زبان کا درجہ دلوانے کے لیے احتجاج کیا تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی جس کے نتیجے میں آٹھ طلبا جان بحق اور کئی زخمی ہوئے۔ اس کے ازالے کے طور پر چھپن کے آئین میں بنگالی زبان کو قومی زبان کا درجہ دینے کی شق رکھی گئی لیکن بات اب زبان سے بہت آگے نکل چکی تھی۔

 ڈھاکا میں زبان کے معاملے پر خونریزی کے واقع کے چھالیس برس بعد 1998 میں ایک بنگالی دانشور نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو خط لکھ کر تجویز دی کہ 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جایے، ایک سال بعد بنگلادیش کی سربراھی میں اٹھائیس ممالک نے یونیسکو میں ایک قرارداد پیش کرکے یہ ہی مطالبہ دہرایا، یہ قراداد منظور ہونے کے بعد سے لیکر آج تک پوری دنیا میں یہ دن مادری زبانوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے، لیکن انیس برس میں ایک بار بھی پاکستان میں یہ سرکاری سطح پراس خوف کی وجہ سے نہیں منایا جا سکا کہ کہیں قوم بکھر نہ جائے۔ لیکن مادری زبانوں سے اسلام آباد جتنا خوفزدہ رہتا ہے ان زبانوں کی ترقی اور فروغ دینے کا مطالبہ اس تیزی سے واضح ہوا چاہتا ہے۔

مادری زبانوں کے عالمی دن کی نسبت سے اسلام آباد میں دو بڑے میلے سجے، ایک ادبی میلا انڈس کلچرل فورم کی طرف سے سجایا گیا، جبکہ ایک میلہ سینیٹ کمیٹی کی مادری زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بل پر عوامی شنوائی کی شکل میں سجایا گیا۔

اسلام آباد کے کچھ ذی الشعور دوست دو برسوں سے مادری زبانوں کا میلہ لگا رہے ہیں۔ اس سال اٹھارہ اور انیس فروری کو لوک ورثا میں سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتو، بلوچی، اردو، براھوی، بروشسکی، شینا، ڈھاٹکی، ھندکو، گوجری، چھاچھی، ھزارگی، کھورا زبانوں کے اہل قلم، شاعر، دانشمندوں کا اکٹھ ہوا۔

لوک ورثا میں سجے اس ادبی میلے کی 22 مختلف نشستوں میں ملک کے کونے کونے سے آئے اہل قلم اوردانشوروں نے دل کھول کر اپنے خیالات کا اظھار کریا۔ مادری زبانوں پر تاریخ سے ہم کیا سیکھتے ہیں کے عنوان پر دانشور احمد سلیم نے اپنے افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ مادری زبانوں کو ہمیشہ پیچھے دھکیلا گیا ہے، مادری زبانوں کی ترقی وفاق کی مضبوطی کی ضمانت ہے۔ اس میلے میں مادری زبانوں میں طبع شدہ ناولوں کے اجرا، مادری زبانوں میں خواتین کی کردار نگاری اور نمائندگی، نظرانداززبانوں کا تحفظ اور فروغ، مادری زبانوں میں نئی طبع شدہ شاعری کی کتابوں کا اجرا، ناقدانہ سوچ کے فروغ میں مادری زبانوں کا کردار، مادری زبانوں میں تاریخ کا عوامی زاویہ، مادری زبانوں میں افسانہ نگاری، زبان اور ٹیکنالوجی، مادری زبانوں میں نئی طبع شدہ کتابوں کا اجرا، مادری زبانوں کے سینیما اور مزاحمتی ادب کے موضوعات پر نشستوں میں پورے ملک سے آئے شاعروں، دانشوروں، ادیبوں، ناول نگاروں اور لسانیات کے ماہریں نے اپنی آراء کا اظہار کیا۔ اس پروگرام میں شرکا اور مقررین اس بات پر متفق تھے کہ ریاست نے مادری زبانوں کی ترقی و فروغ کے لیے کبھی کچھ نہیں کیا۔ ادبی میلے کے پہلے دن خواتین کے مشاعرے کا اہتمام کیا گیا، جس میں سندھی، پنجابی، سرائیکی، پشتون، بلوچی، براہوی، کشمیری اور ہزارگی زبانوں میں خواتین شعرا نے اپنی شاعری پڑہ کر خوب داد حاصل کی۔ مادری زبانوں کے ادبی میلے کے دوسرے دن بھی اہم موضوعات پر نشستیں ہوئیں، جس میں مادری زبانوں کے ناول، منتخب تحریریں، لنگویج پالیسی اور پلاننگ، جنوبی ایشیائی تجربات۔ مادری زبانوں اور میڈیا کے اثرات پراظھار خیال کیا گیا۔ تانیہ پنجوانی کی طرف سے فنکارہ صنم ماروی اور سندہ کی صوفی موسیقی پر بنائی گئی دستاویزی فلم بھی دکھائی گئی جس میں صنم ماروی کے بچپن سے لیکر اب تک کے موسیقی کے سفر کو دکھایا گیا ۔ یہ میلہ قلندر کی دھمال سے شروع ہوکر دھمال پر اختتام پذیر ہوا۔

دوسرا میلہ اس اجلاس کی شکل میں تھا جو سنینٹ کی قانون و انصاف کمیٹی کی طرف سے بلایا گیا تھا، اس میں بھی پورے ملک سے آئے ماہرین، دانشوروں اور پروفیسروں نے مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا، سینیٹ کمیٹی دو الگ الگ ترامیمی بلز پر غور کر رہی ہی، ایک بل سینیٹر سسی پلیجو کا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ اردو کے ساتھ سندھی، پنجابی، پشتواور بلوچی زبانوں کو بھی قومی زبان تسلیم کیا جائے دوسرا بل ڈاکٹر کریم خواجہ کا ہے جس میں ان چار زبانوں کے ساتھ سرائیکی، ھندکواور براہوی کو بھی قومی زبان کا درجہ دینے کی بات کی گئی ہے۔ سینیٹ کمیٹی میں تمام زبانوں کے ماہرین اور دانشور حضرات اس خیال کے حامی تھے کہ مادری زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دینا ایک مطالبہ ہی نہیں لیکن ان لوگوں کا بنیادی حق ہے جو اس ملک میں رہتے ہیں، یہ زبانیں ملک بننے سے پہلی بھی موجود تھیں اس لیے ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا، ماہریں متفق تھے کہ ان زبانوں کو علاقائی زبان کہنے سے کام نہیں چلے گا ان کو پورا حق دیا جائے گا۔ مادری زبانوں پر ریاست رویے زبردستی کی اعلیٰ مثال ہے، ایک ملک، ایک نظریہ ایک قوم اور ایک زبان۔ اب ایسا نسخہ ہے جو مسلط تو کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے فائدہ کوئی نہیں، کیونکہ ریاست جتنا ایک قوم ایک زبان پر زور دے رہی ہی اتنے ہی زور سے مادری زبانوں کی ترقی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے، آج نہیں تو کل ماں بولی سے محبت کرنے والے یہ امید رکھے ہوئے ہیں کہ ان کی زبانوں کو ترقی ملے گی اور ان کو قومی زبان کا درجہ دے کر آئین میں ان کے تحفظ و ترویج کے لیے شق رکھی جائے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ابراہیم کنبھر

ابراھیم کنبھرموئن جو دڑو کی وارث سندھ دھرتی کے مٹی جیسے مانھو ہیں۔ کل وقتی صحافی ہیں۔ پیشہ ورانہ فرائض کے ضمن میں اسلام آباد میں مقیم ہیں۔ سندھی ٹی وی چینل کے ٹی این نیوز کے لئے کام کرتے ہیں اور سندھی روزنامے کاوش میں کالم لکھتے ہیں۔

abrahim-kimbhar has 31 posts and counting.See all posts by abrahim-kimbhar