شاہ عالمی کے ٹرانسفارمر تلے نسلی تعصب پر انٹرویوز


پچھلے سال بہار کے دن تھے، والد صاحب کے کہنے پر شاہ عالمی کا چکر لگا رہا تھا۔ ’چائنا‘ اور جاپان مارکیٹ سے کچھ امپورٹڈ سامان لینا تھا اور ادھر ادھر کی دیگر اشیا۔ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقے کے پختون تاجروں اور مزدوروں سے انٹرویو لینے لگ گیا۔ چائنا مارکیٹ سے تمباکو نوشی کا سامان مل جاتا ہے۔ یہاں سے میں نے چند دکانوں سے شروعات کی۔ مختلف سوال تھے جیسے آپ کہاں سے تعلق رکھتے ہیں، لاہور کے علاوہ کہاں کہاں آپ نے تجارت کی ہے اور ملک کے کس علاقے کو سب سے زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔ کامیاب تاجروں نے جہاں بیٹھے ہیں وہیں کی تعریف کرنی تھی۔ کچھ نے مثالیں بھی دیں کہ کیسے کوئٹہ یا کراچی میں ایک زمانے میں دوست، رشتے داروں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑا وغیرہ۔ سکیورٹی کے مسائل کسی بھی تاجر کے کاروبار کے لئے جان لیوا ہوتے ہیں سو ایسے جنگ زدہ علاقوں کا احوال بتاتے ہوئے تشویش کا اظہار بھی حسب توقع تھا۔ یہ بھی نہیں کہ سارے تاجر نسلوں سے لاہور میں آباد ہیں بلکہ اکثریت کا کاروبار نیا ہے اور بہت سے پچھلے چند برسوں میں یہاں آئے ہیں۔ ان سے جب نسلی تعصب کی بات کی تو کچھ نے کنی کترا کر بات ٹال دی، باقیوں نے چھوٹے موٹے واقعات کا ذکر کیا جن میں بات بے بات ’پٹھان‘ قومیت پر تضحیک شامل ہے۔ نسلی تضحیک اور تعصب کیسے کام کرتا ہے تب تک سمجھ نہیں آتا کہ جب تک خود پر نہ بیتے یا آپ ایسے ماحول میں مہاجرت نہ گزار رہے ہوں۔

اس کے بعد میں مزدوروں کی طرف چلا گیا۔ چائنا مارکیٹ کے سامنے چوک کے بیچ ایک ٹرانسفارمر کے سائے تلے کھوکھے کے پیچھے قطار در قطار پختون مزدور سستا رہے تھے۔ ان سے سوالات شروع کئے تو پہلے پہل تو تھوڑا سا اچنبھے میں پڑے پھر سب کے لئے یہ دلچسپ مشغلہ بن گیا۔ ان مزدوروں سے کئے گئے انٹرویو زیادہ دلچسپ تھے۔ یہ مزدور جو سارا دن چند روپوں کے لئے کام کرتے ہیں ان کے پاس سوائے گلے شکوؤں کے اور کچھ بھی نہیں تھا۔ ان میں سے بہت سوں کو پولیس سے گلہ تھا، ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ ہوتا ہے پولیس والے ان لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کے پاس سنی سنائی کی بجائے خود پر بیتی اور دوست یار پر گزری کہانیاں تھیں۔ کسی کو کرائے کے کمروں سے اٹھا  کر لے گئے تو کسی کو ناکوں پر پولیس نے دھر لیا، اس بات کے باوجود کہ ان کے پاس تمام شناختی دستاویز موجود تھیں۔ اس معاملے میں افغان مہاجرین کے ساتھ ساتھ سوات اور فاٹا کے مہاجرین خصوصاً پستے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی دھماکہ یا دہشت گردی کی کارروائی ہوتی ہے اپنی پھرتیاں دکھانے کے لئے پولیس انہیں اٹھا کر لے جاتی ہے۔ خبروں میں سینکڑوں کی تعداد بتا دی جاتی ہے۔ کسی کو پانچ تو کسی کو سات ہزار روپے لے کر چھوڑا۔

اس معاملے کے متعلق ٹی وی پر رانا ثنا اللہ صاحب کہتے ہیں کہ اگر ستر اسی لوگوں کو شبے کی بنیاد پر اٹھا کر لے بھی گئے تو کیا ہوا؟ صبح تصدیق ہونے پر چھوڑ بھی دیا گیا تھا نا۔ یعنی غریب کی بس یہی حیثیت ہے، رات کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک کر حوالات میں بند کر دیا۔ صبح پتہ چلا کہ بے گناہ ہیں تو چھوڑ دیا۔ رانا صاحب یہ نہیں بتاتے کہ صبح ان لوگوں کو چھڑوانے کا ریٹ کیا لگا، کس کس رشتے دار نے آ کر پولیس سے بھاؤ تاؤ کروایا اور منتیں ترلے کر کے پولیس کی ’ڈیمانڈ‘ کم کروائی اور کہاں کہاں سے مانگ کر پیسے جوڑے۔ ایسے میں جب نسلی پروفائلنگ کی بات چلتی ہے تو حیرت ہوتی ہے کہ یہ سب آج اتنے حساس کیوں ہوگئے۔ یا تو ڈانلڈ ٹرمپ کے آنے پر امریکہ میں نسلی پروفائلنگ کا نام سن لیا ہے یا سوشل میڈیا پر دو چار وائرل ویڈیوز کے آنے پر لوگوں کی توجہ اس طرف گئی ہے ورنہ اس پر پہلے بھی سنجیدہ حلقے لکھ رہے تھے اور اسی لئے میں نے یہ انٹرویوز کئے۔

ریاست کی ماضی کی پالیسیوں، پنجابی پختون دہشت گردوں کے اعداد و شمار کی بحث میں پھر کسی دن پڑیں گے۔ سردست عرض کر دوں کہ اس سب کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں لاہور کی مارکیٹوں کا نقشہ بدل گیا ہے۔ شاہ عالمی ہو، بلال گنج ہو یا سرکولر روڈ کے ارد گرد مارکیٹیں، دوکانیں، چھابڑیاں، ریہڑی والے یا دوکانوں کے باہر پھٹے والے، پختون اور افغان تاجروں اور مزدوروں کی ایک بہت بڑی تعداد ہے جو اپنے اپنے کام میں مگن نظر آتی ہے۔ مارکیٹوں کی ڈیموگرافی تبدیل ہوتی ہے تو رویوں میں تبدیلی بھی ہونے لگتی ہے۔ مقامی لوگ اپنے کاروبار یا نوکریوں کے چھن جانے پر شاکی نظر آتے ہیں۔ معیشت کی پیچیدگیوں کو عام آدمی نہیں سمجھتا کہ جب صنعت و تجارت بڑھتی ہے تو سب کو روٹی میں سے زیادہ حصہ ملتا ہے، روٹی کی مقدار یکساں نہیں رہتی بلکہ بڑھتی رہتی ہے۔ یہ پیچیدگیاں انتہائی غربت میں پروان چڑھتے معاشرے کو بٹوارے کے دوران معلوم ہوتی تو شاید اتنی قتل و غارت نہ ہوتی۔ یہی شیطانی چکر دوبارہ نئی نئی شکلوں میں اپنا ظہور کرتا ہے اور قبائلی تعصبات کی شکل میں کبھی پینوراما تو کبھی بلال گنج کے مقامی تاجروں کے نوٹسز کی شکل میں نظر آجاتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔