پھول کھلتے تھے ان مہینوں میں۔۔۔


آج صبح دروازے سے باہر نکلتے ہی پھولوں کی اس بیل پر نظر پڑی جسے دو برس قبل لگایا تھا۔ بہار آ چکی ہے۔ پیسی فلورا کے سرخ بڑے پھول اپنی تمام خوب صورتی کے ساتھ ادھر ادھر جھانک رہے تھے۔ کچھ کلیاں بھی منتظر تھیں۔ ایک آدھ دن بعد ان کا نمبر بھی آ جائے گا۔ یہ ہر بہار میں ہوتا ہے، دیکھا کم جاتا ہے۔ بسنت، بہار، چیت، وساکھ سبھی کچھ ٹی وی کے آگے بیٹھے بیٹھے آتے ہیں اور ویسے ہی دبے پاؤں گزر جاتے ہیں۔

گرمی کے رخصت ہونے اور سردی آنے کے بیچ کئی موسم ہیں، انہیں محسوس کرنا ذرا وقت چاہتا ہے۔ بھیگ گئے تو بارش کی خبر ہو گئی، پسینہ آیا تو معلوم ہوا حبس ہے، گرم ہوا چلی تو “بہت گرم” دن ظہور پذیر ہونے کا احساس ہوا، جوس پیا اور پاؤں ٹھنڈے ہو گئے تو گھر بیٹھے بیٹھے معلوم ہوا کہ سردی آ گئی۔ ایسا پہلے نہیں ہوتا تھا۔ پہلے جب پتے رنگ بدل کر گرتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کہ خزاں آئی ہے۔ نئی کونپلیں پھوٹنا بہار کی آمد کا اعلان ہوا کرتی تھیں۔ سٹور کی بجائے تازہ آئے خربوزے بتاتے تھے کہ گرمیاں آ چکیں، شدید گرمی کا اعلان تربوز کی ریڑھیاں کرتی تھیں اور سب سے آخر میں آم آتا تھا کہ لو بھئی اب گرمی کے جوبن کی بہاریں دیکھ لو۔ گھٹائیں دیکھ کر برسات کا اندازہ لگایا جاتا تھا، ایک چیز جمعرات کی جھڑی ہوا کرتی تھی جو اصولی طور پر اگلی جمعرات تک چلتی تھی، اس کا بیڑہ محکمہ موسمیات نے غرق کر دیا۔ وہ چلتی جھڑی میں ایسی خبر لگاتے ہیں کہ موسم تک سہم کر بھاگ جاتے ہیں۔ پھر جس دن صبح اٹھ کر سبزے پر کہرا جما نظر آتا تو اندازہ ہو جاتا کہ صندوقوں سے گرم کپڑے نکال لو، جاڑے آئے کہ آئے۔

اب ہم لوگ بڑی تبدیلیوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ہمارے بچوں تک کو علم ہے کہ گرم پانیوں سے کیا مراد ہے، ہمالیہ سے اونچی اور سمندروں سے گہری چیزیں کیا ہوتی ہیں، برادر اسلامی ممالک کون کون سے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ ایک ماہ سے بیٹھے کیا بیچ رہے ہیں، دنیا کی تہذیبیں کون کون سی ہیں، ان کا تصادم کیا ہوتا ہے، بہاریں تک یاد کرتے ہیں تو عرب سپرنگ یاد آتی ہے، امریکی طوفان کترینہ کے نام سے آتے ہیں اور دھوم مچ جاتی ہے، گھر میں سیلاب آیا، مٹی کے بنے کتنے مکان بیٹھ گئے کوئی خبر نہیں ہوتی۔ دنیا گلوبل ویلیج ہے اور اس گاؤں کا مکھیا وہ چوکور ڈبہ ہے جس کے آگے سرِ شام کچے ذہنوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں۔ سرپنچ اس موبائل کو سمجھ لیجیے جو پوری دنیا کو انگوٹھے کی ضرب پر رکھتا ہے۔

محسوس کرنے کی ایک حس ہوا کرتی تھی۔ اس سے عاری ہوئے چلا جانا ہمارے حصے کی بدنصیبی ہے۔ زلزلہ، آندھی، طوفان، گرمی، سردی، بارش سبھی کچھ خود محسوس کرتے ہوئے بھی ہم ٹی وی یا انٹرنیٹ کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے گمان کو یقین میں بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جس سے جدید دور کا ہر انسان متاثر ہے۔ خبروں اور اطلاعات کا ایک طوفان ہے جو چوبیس گھنٹے اپنی چیختی چنگھاڑتی آوازوں اور سرخ ٹکرز کے ساتھ ہمارے دماغوں میں گھستا چلا جاتا ہے جس کا نتیجہ ایک مجموعی بے حسی کی صورت میں نکلتا ہے۔

کسی دوسرے شہر میں دھماکا ہوا، کوئی جاننے والا اطلاع دیتا ہے، پہلا سوال یہ ہو گا کہ آدمی کتنے مرے؟ اب اگر مرنے والوں کی تعداد کم ہے تو شکر منایا جائے گا کہ نقصان کم ہوا اور زیادہ ہو گی تو معاملے کی سنگینی کا اندازہ لگاتے ہوئے گفتگو آگے بڑھے گی۔ دو چار جملے افسوس کے ادا ہوں گے اور بات چیت کا رخ پھر پسندیدہ موضوع کی طرف مڑ جائے گا۔ سوشل میڈیا پر موجود لاشوں کی تصویریں، زخمی بچے، پکارتی مائیں، مرنے والوں کے لواحقین کی اذیت ناک فوٹو گرافی سب کچھ دکھائی دے گا لیکن انگوٹھے کی ایک جنبش سے ہم اسے تیزی سے گزارتے ہوئے آگے بڑھ جائیں گے۔ وجہ یہی ہے کہ یہ سب روٹین میں شامل ہو چکا ہے۔ اور روٹین کا دوسرا نام بے حسی ہے۔

تو یہ بے حسی ہمارا آج ضائع کر رہی ہے۔ اتنی بڑی بڑی خبروں کے بیچ ایک چھوٹا سا پھول جو گھرکے باغ میں کھل جاتا ہے، وہ ہمیں نظر نہیں آتا۔ رت دبے پاؤں نہیں بدلتی بس اس کی آہٹ سننے والے کان اب ہمارے پاس نہیں رہ گئے۔ گلا خراب ہونے یا بخار کی آمد پر سننے کو ملتا ہے کہ موسم ہی بڑا خراب ہے، بھئی موسم تو ہر برس ان دنوں میں ایسا ہی خراب ہوتا ہے، ایک عرصے کا معمول ہے، سوال یہ ہے کہ ہم نے اس سے محفوظ رہنے کے لیے کیا کیا۔ خس کے عطر اور بھیگی مٹی کی خوشبو میں کس حد تک مماثلت ہے، یہ ہم میں سے کتنے جانتے ہیں، بدلتے موسموں کے تیور اب کیا خاک جانیں گے۔ زلزلے، بم دھماکے، خود کش حملے، ڈرون، جلسے، جلوس، ہڑتال، احتجاج، لاشیں اور لاشیں اور لاشیں اور لاشیں، یہ سب ہماری تہذیب نہیں تھی، نہ ہی بہار آنے پر ہمارا معمول یہ ہوتا تھا۔

بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں بہار کے استقبال کو طرح طرح کے میلے لگتے تھے۔ بسنت کا تیوہار مناتے تھے، رت جگا ہوتا تھا، نوروز کی تقریبات ہوتی تھیں، سلونو کا میلہ، پھول والوں کی سیر اور نہ جانے کیا کیا کچھ ہوتا تھا۔ یہ جو پھول والوں کا میلہ تھا یہ سیر گل فروشاں بھی کہلاتا تھا۔ بادشاہ ہر میلے کی تاریخ مقرر کر دیتے تھے، سارے علاقے میں نفیریاں بجا کر اس کا اعلان کر دیا جاتا تھا۔ آس پاس کے تمام لوگ مقرر کردہ وقت سے ایک رات پہلے ہی وہاں پہنچ جاتے تھے۔ سارا دن کھاتے پیتے، پتنگیں اڑاتے، مرغ یا بٹیر بازیاں ہوتیں، چوسر کھیلی جاتی، گپیں لگتیں، غرض بے فکری کا ماحول ہوتا، جو چاہے کرتے، گھومو، پھرو، میلہ ہے، کھیلو، کودو، ناچو، گاؤ، جشن مناؤ۔ باقاعدہ ایک سیلیبریشن ہوتی تھی۔ اب بہار آتی ہے تو پہلے لاہور کا دھماکہ اس کا رستہ روکتا ہے، پھر سیہون شریف خون میں نہا جاتا ہے، پھر ایک لہر سی چل پڑتی ہے۔ تو موسم اب بھی بدلتا ہے، رت بھی گدراتی ہے، اہل جنوں لیکن بیدار نہیں ہوتے۔ وہ بے چارے اپنے چاک گریبانوں سمیت پہلے ہی مر مرا چکے ہوتے ہیں۔ جو بچتے ہیں وہ اگلوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں اور آنکھیں موندھے کان لپیٹے بہار کیا تمام عمر گزار دیتے ہیں۔ رہے نام اللہ کا!

(بشکریہ: روزنامہ دنیا)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 352 posts and counting.See all posts by husnain