تو آپ جا رہے ہیں پی ایس ایل دیکھنے؟


پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے پاکستان میں ہونے پر پوری قوم کے مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کسی کے لیے یہ مثبت قدم ہے تو کوئی اس کی مخالفت میں ہے۔ میں ایک بات ضرور کہوں گی کہ کرکٹ ہماری پہچان ہے اور ہم اپنی پہچان کی بقا کے لیے تھوڑا بہت خطرہ مول لے بھی تو لیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ وہ کیا خوب کہا ہے کسی شاعر نے:
گر بازی عشق کی بازی ہے، جو چاہے لگا دو ڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے بھی تو بازی مات نہیں
اپنے پیارے ملک کی بقا کے لیے آپ سب تیار ہیں یہ بازی لگانے کو ؟ ہو سکتا ہے کہ پی ایس ایل ایک بہت چھوٹا ایونٹ ہو جس کے لیے حکمران ضد لگا رہے ہیں لیکن اس کے پیچھے وجہ بہت بڑی ہے۔ اور وہ ہے ملک کا تشخص۔ اس وقت ملک میں کرکٹ تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ دہشت گردوں کے اس ملک میں کوئی نہیں آنا چاہتا تو اس صورتحال میں پی ایس ایل کرکٹ کی بحالی کی وجہ بن سکتا ہے اور شاید اس کے ختم ہونے کی بھی۔ تو کیا کسی کے ڈر سے ہم کو شش ترک کر دیں؟؟
قیام پاکستان کے بعد ملک کی قومی ٹیم نے اپنا پہلا میچ 1952ء میں انڈیا کے خلاف اس کے شہر دہلی میں کھیلا۔ اگرچہ یہ ٹیسٹ سیریز انڈیا 1-2 سے جیت گیا لیکن پاکستان میں کرکٹ کا ایک دور شروع ہو گیا۔ اگر اس وقت کوئی یہ سوچتا کہ انڈیا سے آزاد ہوئے پانچ سال ہوئے ہیں اور وہاں جا کر کھیلنا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے تو ہماری ٹیم کا شمار کامیاب ترین ٹیموں کی فہرست میں کبھی نہ ہوتا۔
جنرل راحیل شریف کی ایک بات میری روح میں اتر گئی۔ وہ کہتے ہیں کہ زندگی تو نام ہی رسک لینے کا ہے۔ ڈر اور خوف کی وجہ سے ہم چوہے بن جائیں ؟ نہیں۔ خوف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے کھڑے ہونا ہے کہ اپنی سرزمین کے لیے سینے تان کے کھڑے ہیں۔ کیا ہو جائے گا زیادہ سے زیادہ ؟ موت تو برحق ہے وہ تو گھر پر بیٹھ کے بھی آنی ہے تو چلو میدان میں مرتے ہیں نا یار۔ ملک پر قربان ہو کے زندگی بھی کچھ قیمتی ہو جائے گی۔ اب میدان چھوڑ کے نہیں بھاگیں گے۔
اس وقت پوری دنیا کی نظریں ہم پر ہیں ۔کیا پی ایس ایل پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی راہ ہموار کر پائے گا یا نہیں ؟ تو چلو مل کر اس ایونٹ کو کامیاب بناتے ہیں۔ اور پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک اور باب رقم کرتے ہیں۔ یہ وقت ہے یک جہتی کا۔ سب کو مل کر کام کرنا ہے۔ جہاں حکومت اس ایونٹ کے لیے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے اقدامات کر رہی ہے تو ہمیں بھی بحیثیت قوم اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس میں شرکت کر کے اس ایونٹ کو سپورٹ کرنا چاہیے۔ ہمارے ملک کو اور ہماری کرکٹ کو ہمارے تعاون کی ضرورت ہے۔ تو پھر چلتے ہیں قذافی سٹیڈیم اور کرتے ہیں خیر مقدم کرکٹ کی ایک نئی اور شاندار صبح کا۔ انٹرنیشنل کرکٹ، پاکستان میں آوے ہی آوے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔