مسئلہ پشتون قومیت کا نہیں، کچھ اور ہے


(شاہجہان سالف)

مہاجر، بلوچ اور قبائلی قومیت کے مسئلے کے بعد آج پاکستانی ریاست کو ایک اور قومی مسئلے کا سامنا ہے اور وہ ہے پشتون قومیت۔ اگرچہ پشتون قومیت کا مسئلہ کوئی نئی بات نہیں ہے مگر اس بار یہ مسئلہ ایک نئی شکل میں ابھرا ہے۔ اس بار اس کی شکل کچھ زیادہ بھیانک ہے۔ پہلے پاکستان میں قومیت کے مسئلے کو حقوق کے ذیل میں زیر بحث لایا جاتا تھا لیکن آج پشتون قومیت کا مسئلہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ کی جانب داری و ظلم کے موضوع کو لے کر اٹھا ہے۔

پاکستانی ریاست کی حالیہ پالیسی کے مطابق پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں گھر گھر سرچ آپریشنز اور مشکوک لوگوں کو بغیر کسی وارنٹ اور اطلاع کے تفتیش کے لیے اٹھائے جانے کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ اگرچہ اس نئے آپریشن کی زد میں ہر قوم کے افراد و خاندان آئے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان سرچ آپریشنز اور دیگر آپریشنز کا نشانہ پشتون قوم کے لوگ زیادہ بنے ہیں۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی کسی خاص قوم سے مخصوص نہیں ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ دہشت گردی کے بیشتر واقعات میں پشتون قوم کے افراد ہی ملوث پائے گئے۔ خود کش حملہ آوروں میں تو شاید نوے فیصد سے زیادہ افراد پشتون ہی تھے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں افغان باشندوں کی بھی ایک کثیر تعداد ملوث پائی گئی۔ لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ پاکستان اور خاص کر پنجاب میں موجود ہر پشتون فرد اور ہر پشتون گھر دہشت گرد ہے یا اس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے امکانات ہیں۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ پاکستان میں بسنے والا ہر افغان فرد یا افغان نژاد فرد دہشت گرد ہے یا اس کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے امکانات ہیں۔ اور اسی لیے جب فوج، پولیس اور ایجنسیوں کی دس گاڑیاں بیس پچیس سرکاری افراد کو لے کر پنجاب کے کسی محلے میں بھاری اسلحے کے ساتھ گھستی ہیں اور ننانوے فیصد گھروں کو چھوڑ کر صرف پشتونوں، افغانوں اور افغان النسل لوگوں کے گھروں میں داخل ہو کر سرچ کے دوران پورا گھر الٹ پلٹ کر چلے جاتے ہیں تو اس کے بعد پشتونوں کے اندر قومی تعصب ابھرنا ایک قدرتی امر ہے۔

جب شہر میں موجود بیسیوں متعصب و شدت پسند ملاؤں و دیگر افراد کو چھوڑ کر شریف النفس پشتونوں کو ایجنسیاں یا پولیس تفتیش کے نام پر اٹھا لیتی ہیں تو پشتون قوم کے اندر قومی تعصب ابھرنا تو بنتا ہے۔ جب پورے پاکستان کو چھوڑ کر صرف قبائیلیوں اور افغان النسل لوگوں (وہ افغان جو پاکستان میں تقسیم سے پہلے کے آباد ہیں یا جن کو پاکستان میں بسے ہوئے کم از کم پچاس برس بیت گئے ہیں) کے شناختی کارڈ بلاک کر دیے جائیں اور برسوں ان کوائری کے نام پر بند رکھے جائیں اور ان پشتونوں کے بچے سکولوں اور تعلیمی بورڈز میں داخلے تک نہ بھجوا سکیں تو ایسی صورت میں پشتونوں کے اندر قومی حوالے سے احساس کمتری و تعصب نہ ابھرنا غیر فطری ہوگا۔

اس سب کے باوجود میرا خیال ہے کہ یہ کوئی قومی مسئلہ نہیں ہے۔ یا مسئلہ یہ بھی نہیں ہے کہ کسی مخصوص قوم کے ساتھ ظلم، جانب داری یا تعصب کا رویہ رکھا جا رہا ہے۔ اصل مسئلہ تو طبقاتی ہے۔ ابھی تک پاکستان اور بالخصوص پنجاب میں جتنے بھی پشتون افراد اور پشتون گھر سرچ کیے گئے ان میں سے ننانوے فیصد کا تعلق نچلے اور مزدور طبقے سے ہے۔ بیشتر غریب اور محنت کش طبقے کے افراد کو تفتیش کے نام پر ماورائے عدالت گرفتار و اغوا کیا گیا ہے۔ اور میرا نہیں خیال کہ پنجابی محنت کش طبقہ ان کارروائیوں سے زیادہ دیر محفوظ رہے۔ اگر بات استحصال اور ظلم کی جائے تو پاکستان بھر میں نچلا طبقہ اس کی زد میں ہے۔ اگر ظلم و استحصال کرنے والوں کا تعلق پنجابی قومیت سے ہے تو اس کا بالکل یہ مطلب نہیں کہ پنجابی قوم ظالم و متعصب ہے۔ جس طرح ظلم کی کوئی قومیت نہیں ہوتی اسی طرح ظالم کی بھی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔ یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ پاکستانی حکمران طبقے کی اکثریت استحصال پسند اور ظالم ہے لیکن طبقہ اشرافیہ کے کسی دھڑے کو کسی مخصوص قومیت سے جوڑنا بذات خود ایک ظلم ہے۔ آج اگر پشتون قوم نشانہ ہے تو کل کوئی اور قوم اس ظلم کا شکار ہوگی۔ پاکستان میں پنجابیوں و دیگر اقوام کے نچلے محنت کش طبقے کا اسی طرح استحصال ہو رہا ہے جس طرح یہاں پشتونوں کا ہو رہا ہے۔ بس فرق اتنا سا ہے کہ پشتون ابھی ’سرچ آپریشنز‘ اور شدت پسندی کے لیے ظلم کا نشانہ بن رہے ہیں جب کہ دیگر اقوام ابھی پائپ لائن میں ہیں۔

ایسے میں پشتون قومی مسئلے کو ہوا دینا ایک ظلم ہے۔ یہ مسئلہ سراسر طبقاتی نوعیت کا ہے۔ پوش علاقوں، مہنگے گھروں اور مہنگے شہروں میں رہنے والے افغان، قبائلی اور پشتون ہر قسم کی جانب داری، ظلم اور استحصال سے ماورا ہیں اور محفوظ ہیں۔ سیاسی مسندیں و مذہبی منبران سنبھالے پشتونوں کی عزت ابھی تک محفوظ ہے۔ پشتون دل چھوٹا نہ کریں ابھی پشتونوں کے مستند شدت پسند و مشکوک علما، سیاستدان، امیر طبقہ، مدرسہ مالکان، خانان، ملکان وغیرہ محفوظ ہیں اور عزت سے رہ رہے ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔