محترم نجم الدین کے لئے بیوی کی تلاش


پچھلے اتوار کو نجم الدین کی ماں اس کے لیے رشتہ ڈھونڈنے پاس والے گاﺅں گئی۔ پیشہ کے اعتبار سے نجم الدین گاﺅں کے پوسٹ آفس میں ’ڈاکیہ‘ کی پوسٹ پہ ملازم ہے۔ وہ ایف اے تک تعلیم یافتہ ہے۔ لیکن آج کل علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے بی اے کے اسائنمنٹس لکھ رہا ہے، جو کہ زیادہ تر اپنی بہن کلثوم سے لکھواتا ہے۔ کلثوم گورنمنٹ گرلز ہائر سیکنڈری سکول حاجی آباد میں جماعت نہم کی طالبہ ہے۔ نجم الدین رنگ روغن سے گہرا کالا، قد پانچ فٹ دو انچ اور پیٹ سبزی منڈی کے منشی کی طرح باہر نکلا ہوا ہے۔ نجم الدین کے پسندیدہ مشاغل میں کبوتربازی، پتنگ اڑانا، ٹیوب ویل پہ دوستوں کیساتھ پتے کھیلنا، کرکٹ دیکھنا اور شام کو سائیکل لے کر دوستوں کے ساتھ نہر کنارے بیٹھ کر سگریٹ پینا ہے۔ سر کے بال تقریبا ً گر گئے ہیں اور معدے کا دائمی مریض بھی ہے، جس کے لیے وہ قرشی دواخانہ کا ہاجمولہ اور دیگر دوائیوں کا کورس جاری رکھے ہوئے ہے۔
نجم الدین کی ماں اس کے لیے جس قسم کی لڑکی تلاش کررہی ہے، لڑکی گوری اور لمبی ہو۔ تعلیم یافتہ ہو، لیکن اتنی تعلیم یافتہ بھی نہیں۔ نوکر پیشہ ہو، لیکن پرائمری سکول میں استانی۔ لڑکی کی ذات پات اور قبیلہ بھی یکساں ہو۔ لڑکی کو گول روٹی، میانوالی ڈرائیور ہوٹل والی چائے، آٹا گوندھنا، دال گٹھالا، بریانی پکانا اور کڑوے کریلے کو میٹھا بنانا بھی آتا ہو۔ کپڑے دھونے سے لے کر استری اور ہینگر میں سلیقے کے ساتھ لٹکانا بھی آتا ہو۔ زمین پہ جھاڑو اور چھت میں سے عنکبوت والی جالیاں اتارنا بھی آتا ہو۔ لڑکی اسلامی شعائر اور پانچ وقت نماز کی پابند ہونے کے ساتھ ساتھ، ناز، انداز، رفتار اور گفتار کا بھی اعلیٰ نمونہ ہو۔ لڑکی کے والدین جہیز اور مشرقی روایات کے رکھوالے، اور لڑکی بذات خود شوہراور ساس سسر کی فرمانبردار ہو۔
ایک لمحے کے لیے ذہن میں یہ خیال آتا ہے، کہ کیا ہمارے سماج میں لوگ بہو ڈھونڈتے ہیں، یا شیخ محمد بن راشد المختوم کے محل کے لیے ایک نوکرانی۔ ایک وہ لڑکی جس کو ماں باپ نے اتنے نازوں سے پالا ہو، وہ اتنے مطالبات کے ساتھ بیاہ دی جاتی ہے۔ کل ہی ایک ویب سائٹ پہ پڑھ رہا تھا، کہ لاہور کی ایک لڑکی کا رشتہ اس لیے رد ہوا تھا، کیونکہ اس کے سامنے والے دانت سیدھے نہیں تھے۔ حالانکہ وہ پڑھی لکھی، جوان، خوبصورت اور نوکری پیشہ بھی تھی، لیکن قسمت نے سامنے والے دانتوں کے ساتھ وفا نہیں کی تھی۔
آہ! اسے وہ لڑکی چاہیے، جسے اس نے بھارتی فلموں میں دیکھا تھا۔ جو اس کے خوابوں کی شہزادی ہو اور اس کے والدین کے لیے کام کاج کرنے والے نوکرانی۔ یہاں آکر مشرقی روایات، سماج کو غیر متوازن کردیتی ہے۔ مثالی معاشروں میں سماجی پسماندگی کا اندازہ یہاں سے لگایا جاتا ہے، کہ لڑکی والوں کی رضامندی کے لیے یہ ایک سوال کافی ہے، کہ لڑکا سرکاری ملازم ہو، اور بس۔ پھر کیا، لڑکی کے گھر والے اسے اس بات پر آمادہ کرنے لگ جاتے ہیں، کہ تمہارا اصل گھر تمہارے خاوند کا گھر ہے۔ گھریلو کام کاج پہ ہاتھ بٹھانے لگ جاتے ہیں۔ لڑکی کا بیاہ ہوجاتا ہے اور وہ پیا گھر کی ہو جاتی ہے۔

اسی بارے میں: ۔  کراچی، ایم کیو ایم اور فاروق ستار

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔