عمران خان رہنمائی کا منصب اختیار کریں


obaidullah Khanہمارے کپتان سیاست دان نے ابھی حال ہی میں وزیرآباد میں ہونے والے ایک جلسے میں بیان داغ دیا کہ قائد اعظم کا مشن پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانا تھا۔ اس پر پہلا خیال جو میرے دماغ میں آیا وہ یہ تھا کہ شاید کپتان صاحب نے مودودی صاحب کو قائد اعظم قرار دے دیا ہے۔ کیونکہ اسلامی ریاست کا نعرہ تو مودودی صاحب کا تھا۔ اور یہی نعرہ جماعت اسلامی کی بنیاد بنا تھا کہ اسلام نافذ کرنے کےلئے ضروری ہے کہ کسی ریاست میں اقتدار حاصل کیا جائے اور پھر اپنی شرح کے مطابق ریاست میں اسلام ‘نافذ’ کیا جائے۔ لہٰذا جماعت اسلامی کا ہر نعرہ جتنا مرضی اسلامی ہو مگران کی ہر تان اقتدار اور اختیار کے حصول پر آکر ہی ٹوٹتی نظر آتی ہے۔ دوسری طرف قائد اعظم محمد علی جناح نے کبھی بھی اسلامی ریاست کی بات نہیں کی تھی۔ ہاں مسلم اکثریت والی ریاست کی بات کی تھی۔ کیونکہ اس زمانے میں مسلمانوں کے سیاسی ، معاشرتی اور معاشی حقوق کے تحفظ کا معاملہ تھا ، بالکل ایسے ہی جیسےآج پاکستان میں دیگر اقلیتوں کے حقوق کے لئے ہر ذی شعور پریشان ہے۔ ابھی حال ہی میں مکرم وجاہت مسعود صاحب مستند حوالہ جات پیش کرکے قائد اعظم کا نظریہ پاکستان صراحت سےبیان کرچکے ہیں۔ مولانا مودودی تو خود قیام پاکستان کے خلاف اسی لئے تھے کہ ان کے خیال میں محمد علی جناح جس طرح کے ملک کا قیام چاہتے ہیں وہ ان کی شرح ِ اسلام سے متصادم ہے۔ ہم آج جس حال کو پہنچ چکے ہیں وہ دراصل قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات سے روگردانی اور مودودی صاحب کے فلسفے کو ہی اپنانے کا نتیجہ ہے۔ ایسے میں اگر ہمارے صف اول کے سیاستدان اگر اس قسم کے گمراہ کن بیانات دے کر عوام کو مزید گمراہ کریں گے تو ہم بحرانوں سے نکلنے کی بجائے الٹا مزید دلدل میں پھنستے جائیں گے۔

ایک سیاستدان کے لئے سیاست کرنے کے دو ہی راستے ہوتے ہیں۔ یاتو راہنما بن جائے اور عوام کی راہنمائی کرے اور انہیں ایک استاد کی طرح ان کے اچھے برے کی تمیز سکھائے۔ یا پھرحصول اقتدار اور سیاسی فوائد کے ناجائز حصول کےلئے کوئی ایسا چورن بیچے جس کی بنیاد پر عوام کی ایک کثیر تعداد کو گمراہ کیا جاسکے اور پھر ان کے بے جا جذبات کو بھڑکائے اور جتھہ سازی کرکےاپنی سیاسی دکان چمکائے۔ قائد اعظم نے اول الذکرراستہ اختیار کیا تھا اور ہر قسم کی بے اصولی کو پس پشت ڈالتے ہوئے عوام کی راہنمائی کرنے کا قصد کیا تھا۔ انہوں نے کبھی عوام کو نمازیں پڑھ کے نہیں دکھائی تھیں۔ کبھی اپنے تئیں اچھا مسلمان ظاہر نہیں کیا تھا۔ حتیٰ کہ جب ان سے احمدیوں کو غیر مسلم کہنے یا مسلم لیگ سے نکالنے کا سوال ہوا تھا تو اس وقت بھی انہوں نے کوئی اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا تھا۔ حالان کہ احمدیوں کا وجود اس وقت بھی مسلمانوں کےلئے آسانی سے ہضم ہونے والی شے نہ تھی۔ قائد اعظم نے بحیثیت ایک کامیاب وکیل کے ایک ایسی مذہبی اقلیت کے حقوق کا مقدمہ لڑا تھا جو ایک دوسری مذہبی اکثریت کے غلبے تلے پسی جارہی تھی۔ اسی لئے تو جب قائد یہ مقدمہ جیت گئے تو 11اگست کی تقریر میں اعلان عام کردیا کہ اب ہمارے ملک میں کوئی مذہبی اقلیت نہ ہوگی۔ افسوس کے ہماری صفوں میں محمد علی جناح جیسے سپہ سالار کم ہی تھے جنہیں اسلام اور مسلمان میں سیاسی فرق کی خوب پہچان تھی۔ مگر جب قیادت کا علم ہمارے بعد کے سیاستدانوں کے ہاتھ آیا تو انہوں نے راہنمائی کے نام پر دوسرا راستہ اختیار کیا۔ یعنی عوامی جذبات کو بھڑکا کر اپنے سیاسی فوائد حاصل کرنے کا۔ اور اس کار سیاہ میں ان سیاستدانوں کی مدد ہمیشہ اسی طبقے نے کی جسے قائد اعظم کے ہوتے ہوئے اپنی دال گلتی نظر نہ آتی تھی۔ دوسری طرف اس طبقے کو جمہوریت کے استحکام میں بھی اپنی موت نظر آتی تھی۔ لہٰذا پاکستان میں پہلا مارشل لائ  ایسے ہی ناعاقبت اندیش اور مفاد پرست سیاستدانوں اور مودودی صاحب اور ان کے دیگر ہمنواو ¿ں کے ریاست پر پہلے حملے کے نتیجے میں لگا تھا۔ بعد ازاں یہی حیلہ بھٹو صاحب نے بھی اپنے اقتدار کی ڈوبتی نیا کو سہارا دینے کے لئے کیا اور ملاو ¿ں کے ذریعےعوام کے مذہبی جذبات کو نفرت کی عمل انگیزی سے انگیخت کیا گیا اور ریاست کی عوام کے مذہب میں دست درازی کرنے کا نہ صرف دروازہ کھولا گیا بلکہ اسے آئین کی رو سے جائز قرار دیا گیا۔ ریاست جسے عوام کے درمیان ایک منصف کا کردار ادا کرنا ہوتاہے وہ خود ایک فریق کے ساتھ مل کر کھیلنے لگی۔ اس کا وہی نتیجہ نکلنا تھا جو امپائر کو ساتھ ملا کرکھیلنے کا نکلا کرتا ہے۔

اور اس بات کو ہمارے کپتان صاحب سے زیادہ اچھا کون سمجھ سکتا ہے یاسمجھا سکتا ہے۔ جن کی صبح سے شام ہی میاں نواز شریف صاحب کو امپائر ساتھ ملا کرکھیلنے کے طعنے دینے سے ہوا کرتی ہے۔ تو جناب کپتان صاحب کیا پہلے ہم اس ریاست کے مذہب میں دخل اندازی سے کم جلے ہیں جو ہمیں اسلامی ریاست کا نام لے لے کر اور جلانے کی بات کرتے ہو۔ ہمارے ملک میں اسلام کون سے خطرے میں ہے جو آپ کو اسلامی ریاست کے سیاسی نعرے سوجھ رہے ہیں۔ گویا آپ کو درست تاریخی حقائق کا علم ہی نہیں ہے اور اسی کم علمی کا یہ نتیجہ ہے کہ جو تاریخ آپ کو پڑھا دی گئی ہے اسے ہی آپ حقیقت سمجھ رہے ہیں۔ آپ کو تاریخ کے نام پر یہ سب پڑھانے والے بھی وہی ہیں جو اس قسم کے فلسفے کو تاریخ بتا کر اپنا الو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ دوسری طرف آپ کی مبلغ بصیرت کا یہ حال ہے کہ آپ کے نزدیک اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ گویا دہشت گردی اور مذہبی انتہا پسندی آپ کے نزدیک اتنا بڑا مسئلہ ہے ہی نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک کینسر کا مریض ہو اور آپ کو اسکے نزلہ زکام کی فکر کھائے جائے۔ وہ تو بھلا ہو ”دھاندلی“ کا کہ وقت پر اپنا کام دکھا گئی وگرنہ ہم تو گئے تھے کام سے۔ شاید اللہ کو اس ملک کا مستقبل عزیز ہے جو “دھاندلی”کے سہارے ہی سہی مگر کپتان صاحب کو وزیر اعظم نہ بنوا کر ہمیں مزید تباہی سے بچا لیا۔ تو جناب آپ اپنی ناکامی ملبہ چاہے دھاندلی پر ڈالتے رہیں مگر حقیقت حال یہ ہے کہ پاکستان واقعی بدل رہا ہے۔ عوام کی اور ریاست کی ان کھیں کھلنے لگی ہیں۔ ان کھ والے آپ کی ایک ان کھ پر بھروسہ کرکے آپ کو اپنا راہنما نہیں بنا ئیں گے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں جن لوگوں نے آپ کو اسلامی ریاست والی پٹی پڑھائی ہے انہوں نے ایک ایسی ہی ٹرک کی بتی بھٹو صاحب کو بھی دکھائی تھی۔ مگر بعد میں یہی لوگ تھے جنہوں نے بھٹو صاحب کو اپنا کام نکلنے پر مکھن میں سے بال طرح نکال باہر کیا تھا۔ لہٰذا کچھ ہوش کے ناخن لیں مبادا اس قسم کی سیاست کے چکر میں نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم والی صورت حال ہوجائے جو اس قسم کے راستے کا مقدر ہوا کرتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “عمران خان رہنمائی کا منصب اختیار کریں

  • 16-02-2016 at 7:39 am
    Permalink

    ھمیں اسی لئے تو عمران سے پیار ھے

Comments are closed.